Tag Archives: History

Coffeehouse Tour

Continue reading

Leave a comment

Filed under History

Shroud of Turin – A Documentary

Shroud of Turin

Continue reading

2 Comments

Filed under Movies

Tomb of Mother Eve

Tomb of Mother Eve in Jeddah

The mankind starts from here the religion starts from here.This is the starting point of humanity.If one wished to know about religion he or she should start his /her travel from here towards the right path.More information is available in many books and on NET.According to Arab tradition, Eve, the mother of all mankind, is buried near Jeddah, along the Red Sea. The site has been revered for such a long time that it’s origin is shrouded in legend and mystery. The tradition pre-dates Mohammed by many centuries. It seems Adam and Eve lived the last part of their lives separated, and Adam ended up in Ceylon, where the faithful can find his tomb. Adam had something to do with the erection of the shrine at Mecca, then he left for other parts of the world. Eve came here to Jeddah, the port for pilgrims heading to Mecca, 38 miles away to the east. She was buried about a mile north of town.

The tomb is of an unusual shape, being almost 400 feet long and only ten feet wide. The common legend has it that Eve was one hundred and eighteen feet tall. The proportions of the burial tomb causes problems unless Eve was exceedingly thin. In any case, there is a small whitewashed shrine at each end of the site, with a third small shrine in the center. The central shrine is also whitewashed, and the faithful have penciled in their names. The thousands of names extend as high as a man can reach and covers the entire outer surface.

This tomb is readily accessible to the Muslims. The few Christians living in Jeddah are, for all practical purposes, confined to their neighborhood during the pilgrimage season [all summer]. While there is no restriction against a Christian entering the temenos of Eve’s Tomb, it certainly is not encouraged.

1 Comment

Filed under Great People, My Reading Shelf

فوجی حکمت سے پتنگ بازی کا جنم

تاریخِ عالم میں پتنگ اڑانے کا اولّین تحریری حوالہ سن 200 قبل مسیح میں ملتا ہے جب چین میں سپہ سالار ہان سینگ نے دشمن کے ایک شہر کے باہر پڑاؤ ڈال رکھا تھا لیکن وہ براہِ راست حملے کا خطرہ مول لینے کی بجائے ایک سرنگ کھود کر شہر میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کتنی لمبی سرنگ کھودنی پڑے گی؟

اپنے پڑاؤ کے مقام سے شہر کی فصیل تک کا فاصلہ ناپنے کے لئے چینی سپہ سالار نے ایک پتنگ اڑائی اور ڈور کو ناپ کر فاصلہ معلوم کر لیا۔

چین سے پتنگ سازی کا یہ فن کوریا پہنچا۔ وہاں بھی ایک جرنیل کی کہانی ملتی ہے جسکی فوج نے آسمان پر ایک تارا ٹوٹتے دیکھا اور اسے برا شگون سمجھ کر میدانِ جنگ سے منہ موڑ لیا۔

جرنیل نے اپنی فوج کا وہم دور کرنے کے لئے سپاہیوں کو بہت سمجھایا بجھایا لیکن وہ مان کے نہ دئیے۔

آخر جرنیل نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے ایک بڑی سی سیاہ پتنگ تیار کی اور اسکی دم سے ایک شعلہ باندھ کر رات کے اندھیرے میں اسے اڑایا تو فوج کو یقین آگیا کہ آسمان سے جو تارا ٹوٹا تھا وہ واپس آسمان کی طرف لوٹ گیا ہے، اور اسطرح محض ایک پتنگ کے زور پر جرنیل نے اپنی فوج کا حوصلہ اتنا بلند کر دیا کہ وہ لڑائی جیت گئی۔

فوج کے بعد یہ کارگر نسخہ بودھ راہبوں کے ہاتھ لگا جو بدروحوں کو بھگانے کے لئے عرصہء دراز تک پتنگوں کا استعمال کرتے رہے۔

قرون وسطیٰ کی پتنگ بازی
قرون وسطیٰ کی پتنگ بازی

چین اور کوریا سے ہوتا ہوا جب پتنگ بازی کا یہ فن جاپان پہنچا تو عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ وہ دن رات اسی میں مشغول نظر آنے لگے۔

چنانچہ اُس زمانے میں جاپان میںایک سخت قانون نافذ ہوگیا جس کے تحت صرف شاہی خاندان کے افراد، اعٰلی سِول اور فوجی افسران اور چند مراعات یافتہ معزز شہریوں کو پتنگ اڑانے کی اجازت دی گئی ۔

مشرقِ بعید سے پتنگ بازی کا مشغلہ کب اور کسطرح ہندوستان پہنچا، اس بارے میں تاریخ کوئی واضح اشارہ نہیں دیتی البتہ اس ملک میں پتنگ بازی کی اولّین دستاویزی شہادتیں مغل دور کی مصوری میں دکھائی دیتی ہیں۔

سولھویں صدی کی ان تصویروں میں اکثر یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے کہ عاشقِ زار اپنے دل کا احوال کاغذ پر لکھ کر ایک پتنگ سے باندھتا ہے ، پھر یہ پتنگ ہوا کے دوش پر سوار ہوکر کوچہء محبوب کی فضاؤں میں پہنچتی ہے اور معشوقہء دلنواز کی چھت پر منڈلانے لگتی ہے۔

اہلِ یورپ نے پتنگوں کا احوال پہلی مرتبہ تیرھویں صدی میں مارکو پولو کے سفر ناموں میں پڑھا۔ اس کے بعد سترھویں صدی میں جاپان سے لوٹنے والے یورپی سیاحوں نے بھی پتنگ بازی کے رنگین قِصے بیان کئے۔

ایشا کے برعکس یورپ اور امریکہ میں بیسویں صدی کے آغاز تک پتنگوں کا استعمال تفریح کی بجائے موسمیاتی تحقیق اور جنگی جاسوسی کے لئے ہوتا رہا البتہ پچھلے بیس پچیس برس کے دوران مغربی ملکوں میں اسے تفریح کے طور پر بھی اپنایا گیا ہے اور امریکہ میں تو اب پتنگ بازوں کی ایک قومی انجمن بھی بن چکی ہے۔

لیکن گزشتہ ربع صدی کے دوران جس ملک میں یہ تفریح ایک صنعت کی شکل اختیار کر گئی ہے وہ ہے پاکستان ۔

پاکستانی پنجاب میں اس وقت لاکھوں افراد کا روزگار “گُڈی کاغذ” بانس‘ دھاگے اور مانجھے سے وابستہ ہے اور لاہور شہر اس وقت دنیا بھر میں بسنت کی تقریبات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

ابھی کل کی بات ہے کہ معززینِ لاہور پتنگ بازی کو گلی محلے کے آوارہ گردوں کا شغلِ بیکاری کہہ کر مسترد کر دیا کرتے تھے لیکن پھر وہ وقت بھی آیا کہ محلّے کی تاریکی سے نکل کر یہ کھیل محل کی نورانی چھت تک جا پہنچا۔

لاہور کی ” نائٹ بسنت ” ایک عجوبہء روزگار چیز بن چکی ہے جب سرچ لائٹوں کی روشنی میں شہر کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا ہے۔ اس منظر کو دیکھنے کے لئے بیرونی ملکوں سے اتنی تعداد میں لوگ لاہور آتے ہیں کہ پنجتارے ہوٹلوں میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔

گلی محلّے کے کھیل کو عمائدین میں اتنی پذیرائی کیسے مل گئی؟

اسکا جواب شاید ملک کی حالیہ تاریخ میں مل سکتا ہے۔

بھٹو دور کے خاتمے پر‘ سن اسّی کی دہائی میں ادب‘ آرٹ‘ کلچر اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد ہو چکی تھیں۔ فلم اور تھیٹر بھی سخت ترین سینسر کی زد میں تھے۔

گھٹن کے اس ماحول میں تفریح کی فطری خواہش اتنی شدید تھی کہ پتنگ بازی

کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور یوں گلیوں کی یہ بھکارن محلوں کی رانی بن گئی۔

Leave a comment

Filed under History