Category Archives: فلسفہ بازی

کھانے، مفقود ہوتا رواج اور ایک اشتہار

18157992_1495877683795926_3877510369067350287_n

Continue reading

1 Comment

Filed under Advertising, Marketing, فلسفہ بازی

Dowry and Innovation

76c98690-0c82-11e6-96c0-67356a4ec227

Picture Courtesy: hindustantimes.com

Continue reading

Leave a comment

Filed under Advertising, Marketing, Reviews, فلسفہ بازی, سوچ بچار

میلے اور اقوام

لانگ سائیٹ مارکیٹ جہاں عید  پر لانگ سائیٹ میلہ منعقد ہوتا ہے۔




قوم ایک لفظ نہیں پوری سوچ یا ایک باقائدہ فلسفے کا نام ہے. کچھ کے نزدیک یہ ایک کھوکھلہ جزبہ ہے جووقتی تقاضوں کے زیراثر عمل میں لایا جاتا ہے. مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کیسے یہی کھوکھلہ جزبہ مرنے مارنے پر بھی مجبور کر دیتا ہے. قوم ایک ایسی حقیقت ہے جس سے اختلاف لاکھ سہی انکار کرنے کا کوئی ٹھوس جواز ہے نہیں.جسیے یہ ایک سچ کا نام ہےلہزا اس لفظ کی تعریف بھی انفرادی سطح پر مختلف ہوگی. جب یہی انفرادی سوچیں ایک سماجی معاہدے کے تحت ایک ہوجایا کرتی ہیں قوم کہلانے لگتی ہیں.

انسانوں کی طرح اقوام کا بھی مزاج ہوتا ہے طریقہ ہوتا جو کہ انفرادی سوچوں اور رویوں کی عکاسی کرتا ہے. انسانوں کے برے رویے کے لئے تو اسکی بری تربیت کو الزام دیا جاتا ہے لیکن اقوام کے معاملے میں نزلہ کس پر گرایا جائے یہ آج تک سمجھ میں نہیں آ سکا. اور مسئلہ تب بگڑ جاتا ہے جب اقوام خبط عظمت 
میں مبتلا ہوں۔

مصنف کیمپٹن پارک میں


میں بھی ایک قوم کا فرد ہوں اور وہ بھی ایسی کہ جو بری طرح خبط عظمت میں مبتلا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے پروگرام میں غلطی کو غلطی ماننے اور اسکو درست کرنے کا کوڈ نہیں ہے ہم الزام کی انگلی تیار رکھتے ہیں۔
بہت جھاڑ لیا اقوام پر فلسفہ بات ہو جائے میلے کی ویسے بھی قوم جیسے خشک موضوع کو گھاس بھی کون ڈالے گا جب ساتھ ہی میلے کا لفظ پڑھنے کو ملے. میلہ لفظ ہی ایسا ہے لوگ، خوشی سے دمکتے چہرے، رنگ برنگے ملبوسات کا سیلاب، کھانے پینے کی سوغاتیں طرح طرح کی موسیقی کا شور اور معاشرتی اقدار و ثقافت کا اثر اس میں ایک جان ڈال دیتا ہے۔.
اگست کے مہینے میں مصنف کو تین مختلف میلوں پر جانے کا اتفاق ہوا. مصنف ان میلوں میں قومی اقدار کے ایک رنگ مشاہدہ کرتا رہا۔
پطرس صاحب نے تو دور پار کے ماموں بارے لکھا تھا مصنف کے کیس میں تو اس ملک میں سرپرست ماموں سگے ہیں. عید پر انکے ہاں جانے کا اتفاق ہوا تو حکم ملا کہ عید مانچسٹر میں ہوگی. مانچسٹر بارے تفصیل سے کبھی کسی سفر نامے میں لکھیں گے سیدھے آتے ہیں عید کی نماز پر. عید کا دن کوئی تہوار نہیں ایک احساس اور جزبہ ہے اگر یہ مفقود ہو چکا ہے تو اس میں اور اتوار کے دن میں فرق کچھ زیادہ نہیں رہتا. عید کی نماز مسجد نورمیں ادا کی اچھی خاصی صاف ستھری مسجد دیکھ یقین ہو گیا کہ “اپنی” نہیں ہو سکتی تھوڑا پوچھا تو پتا چلا کہ بارڈر کے پرلے پاسے والے گجراتیوں کی ہے.

عید کی نماز کے بعد اپنی ایک دوست کو میسج کیا کہ جسکی غربالوطنی کی پہلی عید تھی کہ پتا کر لیں محترمہ رو چکی ہیں یا ابھی  پروغرام جاری ہے. جو جواب آیا وہ کچھ یوں تھا کہ “بڑی عجیب عورتیں ہیں یہاں کی، عید کی نماز کے لیے گئی کسی عورت نے گلے نہ لگایا۔” اب مصنف اس بے چاری کو کیا دلاسہ دیتا کیونکہ مصنف کو بھی کسی خاتون نے گلے نہ لگایا.
اپنے آپ کو گالیاں دینے کو دل کرنے سے پہلے۔۔۔

بات کرتے ہیں لانگسائیٹ میلے کی، لانگ سائیٹ مانچسٹر کا ایک علاقہ ہے جہاں پاکستانیوں کی تعداد انے وا ہے. میلے پر ہم گئے نہیں تھے لے جائے گئے تھے کہ بچے جھولے انجوئے فرما لیں گے ہماری آؤٹنگ ہو جائے گی اور مصنف “عوام” دیکھ لے گا. اب دنیامصنف کی شکل پر جاتی ہے کہ شکل سے ہی چول لگتا ہےورنہ مصنف شور، رش اور “عوام” کی بھرمار والی جگہوں سے کتراتا ہے۔
میلے پر وہی ہڑبونگ جو ہمارا قومی وتیرہ ہے وہاں بھی دیکھنے ک ملی، آزادی کو ہم جس طرح سے بے جا استعمال کرتے ہیں وہ بھی دیکھنے کو ملا ثقافت ے نام پر ہم کیا کیا چولیں مارتے ہیں اسکا بھی مشاہدہ کیا. جگہ جگہ مختلف اسٹال لگے ہوئے تھے جہاں بے تحاشہ رش تھا اگر رش نہیں تھا تو ایک ایسے اسٹال پر جو ایک اسلامک چیریٹیی نے لگا رکھا تھا۔
اسکے علاوہ جس عادت نے مجھے اس عںظیم قوم کو سلام کرنے پر مجبور کیا وہ تھی ہماری جزوی طرز کی اخلاقیات کہ جس میں گھر سے باہر نکلتے ہی ہم پر “سب” اور “ہر کوئی” حلال ہو جاتا ہے. نظر کی ایسی تیزی کی تیز نظر پرندے حاسد ہو جائیں۔
اس تمام تماشے کے بعد دلبرداشتہ ہوکر مصنف اس طرف گیا جہاں پر ڈانس پرفارمنس کا اعلان ہوا تھا کہ ‘ہماری اگلی پرفارمر بڑی شائے  (شرمیلی) ہے انکا حوصلہ بڑھائے گاـ”  ہم بھی چلے گئے بڑھانے حوصلہ۔ کوئی تیس سیکنڈ اس فن کا مظاہرہ دیکھنے کے مصنف کو یقین ہونے لگا کہ یہ ڈانسر نہیں مزدور ہے جو منیمم ویج ریٹ یعنی سرکار کی جانب سے لاگو کم از کم اجرت کی شرح پر لائی گئی ہے. اس سستے مجرے سے اکتا کر ہم نے مصنف کو چند گالیاں دیں اتنے میں بارش ہونے لگی اور مصنف نے کہا “ایسا رقص دیکھ آسمان 

بھی دیکھو رو دیا۔”

نیپالی میلے پر آتی ہوئی عوام۔


دوسرا میلا تھا  دو ہفتے قبل ہفتہ کے روز دفتر کی جانب سے اپنی پراڈکٹ کا تعارفی اسٹال لگانے ہم سرے میں واقعہ کیمپٹن پارک ریسکورس پہنچے جہاں نیپالی کمیونیٹی کا بہت بڑا اجتماع تھا۔
میلے کا انتظام اور نظم و نسق پہلی نظر میں ہی متاثر کر گیا.  قطار کا استعمال دعوت نامہ دکھانے پر اندرجانے کی اجازت ملنا. لوگ کا کھا جانے والی نظروں سے نہیں بلکہ خلوص سے مل رہے تھے۔ صفائی پسند روئے کا یہ عالم تھا زمین پر میلہ ختم ہوجانے کے بعد بھی کوئی کاغذ، کوئی خالی لفافہ یا کسی اور قسم کا کچرہ نہی‍ تھا. یہ اس قسم کے ایونٹس پر میرے لئے حیرت کی بات تھی کہ لوگوں نے پمفلٹس لے کر زمین پر نہیں پھینکے.


سیلی روٹی اور الو بھاجی- روائیتی نیپالی کھانا جس میں روٹی میٹھی اور سبزی تیز مرچوں والی ہوتی ہے۔
ایک اور چیز جو مصنف کے مشاہدے میں آئی وہ تھی نیپالی روائیتی ساڑھی جوخوتین نے پہن رکھی تھی. اسے دیکھ کر یقین اور پختہ ہو گیا کہ دیگر مشرقی پہناووں کی طرح ساڑھی بھی خاصہ باوقار پہناوا ہے جسے ہم نے کمرشل تقاضوں کے تحت واحیات کرنا لگایا ہوا ہے. اس میلے میں ایک چیز یہ سیکھی کہ 
ہلڑبازی کئے بغیر بھی تمیز اور طریقے سے تفریح کو ملے موقع کا فائدہ اٹھا جا سکتا ہے۔

 دیگر مشرقی پہناووں کی طرح ساڑھی بھی خاصہ باوقار پہناوا ہے جسے ہم نے کمرشل تقاضوں کے تحت واحیات کرنا لگایا ہوا ہے۔


خلیجِ کارڈف پر منعقد آختتام گرما میلے کا منظر


تیسرا تجربہ تھا اگست کے آخری پیر کے روز ہوا جو کہ موسم گرما کا آخری پیر ہونے کی وجہ سے بینک ہالیڈے تھا. اور مصنف ایک بار پھر ماموں کے منصوبوں کے رحم و کرم پر تھا. سہ پہر میں کارڈف بے جانے کا اتفاق اسی منصوبے کے تحت ہوا. وہاں پر بھی ایک میلہ برپا تھا دنیا بھر کے پکوانوں کے اسٹال، قسم قسم کی مصنوعات کے اسٹال، بچوں کے لئے جھولے اور یہ سب کارڈف بے کی عام اٹریکشنز کے علاوہ تھا. سورج پوری طرح چمک رھا تھا اور خلیج کی جانب سے آنے والی ہوا 

نے ماحول زبردست کر دیا تھا۔


وہیں ایک جگہ مجمع لگا ہوا تھا لیکن وہ مجمع بے ہنگم نہیں تھا سب قرینے سے بیٹھے ایک لوکل بینڈ کے ریگی طرز کی موسیقی سے محظوظ ہو رہے تھے. ہم نے بھی مسمی کے جوس کا گلاس پکڑا اور جا کھڑے ہوئے. وہاں پر گزرے بیس منٹ میں مجھے ایک مرتبہ بھی ہلڑبازی دیکھنے کو نہیں ملی. غالباً اہل مغرب بھی جان گئے ہیں کہ فیملی ساتھ ہو تو تفریح کے تقاضے اور اطوار بدل جاتے ہیں۔



وہاں بجائے گئے گانوں میں سے ایک جو مصنف کو کافی پسند آیا، یو ٹیوب کے لنک کے لئے معزرت یہاں پر اسکو شامل کیا گیا ہے کہ سند رہے وغیرہ وغیرہ

میں ان مشاہدوں کے بعد مرعوب ہو گیا ہوں یا نہیں یہ ایک علیحدہ بحث ہے لیکن یہ بات ضرور ہے کہ تفریح کے نام سے اور عوامی اکٹھ کے دوران جو ہمارا اصل قومی وتیرہ ہے اور وہ جو ہم اپنی پارسائی کے دعوے کرتے ہیں ان میں بڑا فرق ہے۔

خلیجِ کارڈف پر اترتی شام کا منظر
تفریح اور آزادی ہم سب کا حق ہے لیکن جس برے طریقے سے ہم اسکو استعمال کرتے ہیں وہ مقام افسوس ہے. مقام افسوس اس لئے کہ وہ جنہیں ہم برا گردانتے ہیں وہ کئی معاملوں میں ہم سے بہتر ہورہے ہیں اور ہم برائی کو دور کرنا تو کجا اس کی موجودگی سے ہی انکاری ہیں. شائد اسی کا نام خبط عظمت ہے. کسی نے کہا تھا ک مسئلے کے موجود ہونے کا احساس اور اقرار اسے حل کرنے کا پہلا قدم ہے اور اسے حل کرنے کی نیت دوسرا. ہمارا کیا ہوگا کہ جب ہم اپنے برے پر آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں اور بری نیت تو ویسے ہی ہمارا ازلی خاصہ ہے۔

14 Comments

Filed under فلسفہ بازی, انگلستان