دیواریں شہر کی کہانی گو یا خوف کی علامت

14199166_1080405878679617_1481990016665695933_n.jpg

 شہر بےزبان ہوتے ہیں یہ بولا نہیں کرتے لیکن پھر بھی وہ اظہار کرتے ہیں کیونکہ ہر شہر کا اپنا ہی ایک فلیور ہوتا ہے جو احساس جتاتا ہے شہر کی شخصیت کا۔ انسان کی طرح شہر کا تشخص بھی اس کے حوالے سے اپنائیت پیدا کرتا ہے۔ شہر کا موسم، فن تعمیر، لوگ، روایات، اور ثقافت اس کا تشخص بناتا ہے۔

آرٹ انسانی جبلت کا وہ خاصہ ہے جو جو اظہار کو آسان بناتا ہے، ینٹنگ وہ پوری داستان بیان کر جاتی ہے جو شائد ایک پوری کتاب بھی نہ کر سکے۔ شہر کا آرٹ بھی کہانیاں بیان کرتا ہے۔ اپنے ارد گرد موجود عمارات پر نگاہ ڈالیں ہر ایک اپنے وقت کی کہانی بیان کرنے کو تیار ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں اندرون لاہور آج بھی اہمیت کا حامل ہے آرٹ نہیں مرتا، کہانیاں گونگی نہیں ہوا کرتیں۔

 جہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے وہیں یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ ہم نے اس کو خوف صورت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کی ایک مثال ہمارے ہاں جا بجا ملک و شہر کی خوبصورتی کو برباد کرنے کی ایک کوشش میں اچھی بھلی دیواروں کو وال چاکنک کی لعنت سے بھر ڈالنا ہے۔ ہمارے شہروں اور شاہراہوں کے کنارے پر دیواریں کم اور چلتے پھرے اشہار اور سیاسے پراپو گینڈہ زیادہ ہے۔ دیواریں جو خوبصوری کی علامت اور کہانی گو ہونی چاہییں ہم نے ان کو خوف کی علامت بنا ڈٖاالا ہے۔

لاہور میں تو کچھ سال قبل ایک تحریک شروع ہوئی جس کے بعد شہر سے وال چاکنگ کا خاتمہ ممکن ہوا، لیکن شہر قائد کی قسمت کو جاگنے میں وقت لگا۔ گزشتہ برس ای ایف یو لائف کی جانب سے میری شان میرا پاکستان تحریک کی صورت میں کراچی کی بھی سنی گئی، جب اس تحریک کے زیر اثر عائشہ منزل اور این سی سی اسپورٹس کاملیکس کی بالترتیب دو ہزار مربے فٹ اور تین ہزار مربع فٹ دیوار کو وال چاکنگ سے پاک کر کے اس پر خوشنما رنگوں سے بنی تصاویر سجا دی گئیں۔ وہ دیواریں جو عجیب منظر دیا کرتی تھیں اب ایک خوبصورت کہانی معلوم ہوتی ہیں۔

Ayesha-Manzil

عائشہ منزل کی دیوار

 گزشتہ برس کی طرح امسال بھی کراچی شہر کی انتظامیہ اور ای ایف یو لائف انشورنس کے تعاون سے میری شان میرا پاکستان ۔ تحریک کراچی کے ایک اور کونے کو خوشنما بنانے کو تیار ہے۔ ایسی تحاریک اور سرگرمیاں بہت ضروری ہیں تاکہ ہم اپنے  گھر کی طرح اپنے شہر کو بھی صاف کر سکیں اس کو صاف رکھ سکیں۔ یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جہاں ای ایف یو لائف جیسے ادارے ایسے کاموں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہیں شہری اس تحریک میں شامل ہو کر اس کو نا صرف کامیاب بنائیں بلکہ کو چند دن تک محدود نہ رکھیں اور شہر کی روح اور تخشص کو پورا سال خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

NCC

این سی سی کی دیوار

 

 

 

 

Advertisements

Leave a comment

Filed under Marketing, Reviews

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s