کھانے، مفقود ہوتا رواج اور ایک اشتہار

18157992_1495877683795926_3877510369067350287_n

 شائد پہلے بھی ایک بار لکھا تھا کہ اقوام اور معاشروں کی بھی ایک شخصیت ہوتی ہے۔ رواج، اقدار، رکھ رکھاؤ، اور ہاہمی میل جول کے طریقے اس شخصیت کا خاصا ہوتا ہے۔ شخصیت کے ان خاصوں میں کچھ خاص عوامل ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشرہ چونکہ ایک باہمی اکائی کا نام ہے کہ جس میں انفرادیت ایک باہمی دھارے میں ڈھل کر ایک بڑا منظر مرتب کرتی ہیں۔ کھانہ نہ صرف انفرادی زندگی کا ایک اہم جزو ہے بلکہ یہ انسان کی معاشرتی زندگی کا بھی ایک انتہائی اہم پہلو ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواہ خوشی کا موقع ہو یا غم کا جہاں انسانی اجتماع ہوگا وہاں کھانے کا ہونا لازم قرار پاتا ہے۔

کھانا نہ صرف انسان کی جسمانی ضروریات کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے انسان کی معاشرت بھی جھلکتی ہے، جیسا کہ کھانے کا ذائقہ اجزا کا چناؤ معاشرے کی روایات کا عکاس ہوتا ہے۔ کھانا کھایا کیسے جاتا ہے وہ بھی انسان کے طرز معاشرت کا اظہار کرتا ہے، جیسا کہ اپنے ہاں تمام تر تیزی اور مغرب سے مستعار لی گئی انفرادی آزادی کے باوجود کسی کو اکیلے کھاتا دیکھ ہم اس شخص کو اداس ہی مانتے ہیں ابھی بھی ہمارے لیے اس رویہ کو نارمل ماننا مشکل ہے۔

گزشتہ چند دنوں سے شان فوڈز کے حال ہی میں جاری کئے گئے اشتہار کا کافی چرچا رہا۔ سوشل میڈیا پر خاص طور پر یہ اشتہار موضوع سخن رہا۔ اشتہار ایک کہانی کی شکل میں ہے جو ایک اہم وجہ ہے اس اشتہار کے اس قدر مقبول ہونے کی، کہانی کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے وجہ ہے کہ بہت سے معاشروں میں بات کہنے، سمجھانے، حتاکہ کردار سازی کے لیے بھی کہانیوں کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اسٹوری اورینٹڈ یعنی کہانی کی شکل میں اشتہار بازی کا طریقہ قدرے نیا ہے لیکن اپنے با اثر ہونے کی وجہ سے بہت کامیاب جا رہا ہے۔

اشتہار کی وڈیو ذیل میں دی گئی ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ مختصر سا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ایک چینی خاندان پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں آکر آباد ہو تا ہے، مشرقی معاشروں تعلق رکھنے والے افراد کے لئے مشکل ہوتا ہے ایک معاشرے میں بھی تنہا رہنا اسی کے زیر اثر چینی خاتون خانہ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کس طرح سے ہمسایوں سے میل جول قائم کیا جائے۔ زبان الگ رہن سہن الگ حتا کہ کھانا بھی الگ ایسے میں رابطہ کیسے کیا جائے اس سب میں کھانا ہی ایک ایسی چیز ہو جو سب سے جلدی سیکھی جا سکتی ہے۔ لہذا چینی خاتون تیار مصالحہ جات کی مدد سے ساؤتھ ایشین کوزین کی من پسند سوغات بریانی تیار کر ہمسایوں کا دل جیتنے ان کے گھر جا پہنچتی ہے اس کے بعد جو بھی ہے انگریزی محاورہ کے مطابق تاریخ ہے۔

 

اشتہار میں موجود کلیثے اپنی جگہ، دکھائے گئے پاکستانی خاندان کی اوور ایکٹنگ اپنی جگہ لیکن اس سب کے باوجود اشتہار میں جو ایک ‘میک فیل گڈ’ والا عنصر ہے وہ کم از کم ایک بار تو ناظرین کو متاثر کر جاتا ہے۔ شان فوڈز نے بڑے عمدہ انداز میں ہمارے معاشرے کے مفقود ہوتے ہوئے ایک رواج کی یاد مین اسٹریم میڈیا پر کروا دی ہے اور اس کے بعد سوشل میڈیا تحریک (کیمپیں) سے اس کو دوعام بخشا ہے کہ جس  میں وقفہ وقفہ سے برانڈ اپنی سماجی روابط کی کمیونیٹی کو کوئی نہ کوئی ایسی سرگرمی پر اکساتا ہے کہ جس سے ہمسائگی کے ختم ہوتے رواج کو دوبارہ سے بحال کیا جا سکے۔

 ہمسائہ انسان کا سب سے قریبی رشتہ دار ہوتا ہے معاشرتی اور مذہبی دونوں تقاضوں میں ہمسائیوں سے حسن سلوک موجود ہے، لیکن محلوں کی جگہ سوسائیٹیز کے لے لینے اور ‘ہمسائے ماں جائے’ جیسے تصورات کی جگہ مائی لایف مائی رولز کے آجانے سے میل جول کا رواج مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ انسان چاہے جتنی بھی انفرادی آزادی کی بات کر لے حتاکہ اسے حاصل بھی کر لے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ انسان اکیلا نہیں رہ سکتا اسے سماج اور ہمسائیگی کی ضرورت رہتی ہے۔ شان فوڈز نے اس اشتہار سے یہ بات ایک کہانی کی شکل میں اپنی پراڈکٹ کے ارد گرد ایک پلاٹ تیار کر کے بخوبی سمجھائی ہے۔ اس اشتہار کی تعریف و تنقید اس کے بعد کراچی و لاہور کی بریانی وار اور اس اشتہار سے برامد ہونے والی انٹرنیٹ میمز کو بھی اس اشتہار کی کامیابی کہا جا سکتا ہے لیکن اس کی اصل کامیابی وہی ہے کہ دوبارہ سے پڑوس اور باہمی میل جول موضوع گفتگو بنا ہے، ویسے بھی گفتگو جاری رہے تو عمل پیرا ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں، دیکھتے ہیں کے شان فوڈز کی یہ کھانا ود پڑوسی مہم اپنی کامیابی کے ساتھ ساتھ عملی طور پر کتنے پڑوسیوں کو قریب لاتی ہے گھٹتے ہوئے سوسائٹیز کے ماحول کو ایک خوشگوار و زندہ دل محلہ میں بدلنے میں کتنا کامیاب ہوتی ہے۔

Advertisements

1 Comment

Filed under Advertising, Marketing, فلسفہ بازی

One response to “کھانے، مفقود ہوتا رواج اور ایک اشتہار

  1. Aamir

    Good job musannaf

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s