پی ٹی وی لاہور سینٹر اور دسمبر کی ایک سہ پہر

20161217_133349

ہر عمل کا ایک عدد رد عمل ہوتا ہے لیکن اس عمل اور رد عمل سے پہلے بھی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے جو اس عمل اور رد عمل سے پہلے کی کہانی ہوا کرتا ہے۔ دن تھا پیر کا اور مصنف اپنی فنی (یہ فنی اردو والا ہے نا کہ انگریزی والا) کی وجہ سے کراچی کے دورے پر تھے۔ ویسے دورے تو مصنف کو اکثر پڑتے رہتے لیکن کرکٹ بورڈ کی ملازمت کی وجہ سے گزشتہ برس ڈومیسٹک کرکٹ کی کورج کے بہانے مصنف کو پاکستان گھومنے کا موقع ملا۔ خیر کراچی کی قیام کے دوران جو ایک دن آرام کا تھا اس دن ہم نے ہوٹل سے ہی اپنے  وہ کام کرنے کی ٹھانی کہ جن کے بارے کسی سیانے نے کہا کہ آج کا کام اگر کل پر ڈال دیا تو پرسوں کیا کروں گے؟

ہم انہی کاموں میں مصروف تھے کہ ایک عدد انجان نمبر سے فون کال آئی، اول تو لگا کہ پھر اسی منہوس پبلک ریلیشن کمپنی کے نمائندہ کی کال ہو گی کہ جس کا کام بار بار فون کر کے یاد دلانا ہے کہ مصنف کو ان کے ادارہ نے ایک عدد پریس ریلیز ارسال فرما دی ہے۔ خیر ٹرو کالر نامی ایپ سے اتنا تو اندازہ ہو گیا کہ فون کرنے والے کا نام کیا ہے۔ تفصیلی تعارف دوسری جانب سے آنے والی نسوانی لیکن پر اعتماد آواز نے کروا دیا۔

یہ مصنف کا بیرسٹر فاطمہ شاہین سے بات کرنے کا پہلا موقع تھا۔ بیرسٹر صاحبہ قانون کی پریکٹس کے ساتھ ساتھ سرکاری ٹی وی چینل یعنی پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر ایک عدد قانونی مباحثہ کے شو کی میزبانی بھی کرتی ہیں۔ محترمہ کو اپنے شو قانون بولتا ہے پر سائبر و انٹرنیٹ قوانین اور سوشل میڈیا کے حوالہ سے بات کرنے کے لئے مندوبین درکار تھے (یہاں مندوبین کا لفظ استعمال کرنا کتنا مناسب ہے کوئی سیانہ بتا دے کہ اگر غلطی ہے تو مصنف ٹھیک کر مر لے)۔ بیرسٹر فاطمہ شاہین کے پاس میرا ایک محدود تعارف موجود تھا، لیکن شیخی بھگارنے کے عادی ہم نے بھی جب اپنا تعارف اور دس سالہ بلاگنگ اور نہ جانے کون کون سے کام گنوا دیے تو انہوں نے مصنف کو اپنے شو پر آنے کی باقاعدہ دعوت دے دی۔

20161217_142845

پاکستان ٹیلی وژن کے پروگرام قانون بولتا ہے کی میزبان، بیرسٹر فاطمہ شاہین۔

ہم نے شرکت کے حوالہ سے ایک مشروط سی ہاں تو کر دی جن میں ایک شرط تو مصنف کو اس کے ادارہ کی جانب سے میڈیا میں آنے کی اجازت ملنا اور دوسرا مصنف کے خانے میں شو کا فارمیٹ پڑنا تھا۔ بیرسٹر محترمہ کے فیس بک پیچ اور پی ٹی وی نیوز کی ویب سائیٹ سے شو کی گزشتہ اقساط دیکھیں اور شو کے مواد، شرکاء کی گفتگو اور میزبان کی موضوع پر گرفت سمیت ہمارے میڈیا میں ختم ہوتی شائستگی کی کافی ساری رمک اس شو میں دیکھی۔ یہ سب دیکھنے اور فارمیٹ کو سمجھمنے کے بعد مصنف کو لگا کہ اس شو میں مصنف کے شرکت کرنے سے شو کو واقعی فائدہ ہو گا کہ کہاں مصنف کو ٹی وی پر آنا ترک کر چکا ہے اس میں شرکت کرے گا (مصنف اپنے آپ پر طنز کرتے ہوئے۔۔۔)۔

20161217_133458

استقبالیہ ہال میں لگی خیال نامی پینٹنگ

اپنے ادارے سے اجازت لینے اور بولنا کیا ہے کی تیاری کرنے کے بعد دسمبر کے وسطی ہفتہ میں بروزہفتہ سہ پہر میں مصنف پی ٹی وی لاہور سینٹر پہنچا۔ ہم وہاں کیسے پہنچے یہ ایک الگ کہانی ہے لیکن مصنف سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ مصنف کو نام نمبر اور راستے یاد نہیں رہتے۔۔۔ مصنف جیسے عظیم لوگ اور ان کی باتیں۔

20161217_133449

پی ٹی وی لاہور سینٹر کی مین عمارت میں گھستے ہی بھٹو صاحب نے کچھ یوں ہمارا استقبال کیا۔

 شو کے  فارمیٹ کے مطابق مصنف جو کہ بڑا ہو کر سوپر مین بننے کا خواہاں ہے سب کچھ ہے لیکن وکیل نہیں ہے لہذا ہمارا کردار ریکارڈڈ سوال پوچھنے کا تھا اور رائے پیش کرنے کا تھا کہ جس پر شو میں موجود مہمان قانونی مہر بات کر سکیں اب مصنف کا تو نام بھی رائے ازلان ہے لہذا کون روک سکتا تھا ہمیں اس کام سے۔ جیب سے نوٹ نکالے (یہاں نوٹ سے مراد بینک نوٹ نہیں ہے) اور ایک نظر مار کر اپنے تیار ہونے کا اعلان کیا۔

20161217_143008

گیلری میں لگے تصویری سلسلوں میں سے ایک۔ کیا ہی شاندار و یادگار تصوایر ہو سکتی ہیں لیکن ہمارے ہاں آرکائونگ کے ساتھ یہی کچھ ہوتا ہے جو بحیثت مجموعی قابل افسوس ہے

کیمرے کی روح چیر کر گزر جانے والی لائیٹ آن ہوئی اور مصنف نے اپنے موضوع پر بولنا شروع کیا، اس دوران گفتگو کو ماڈریٹ  کرنے کے لئے شو کی میزبان ہم سے گاہے گاہے سوالات کرتی رہیں کہ جن سے اضافی مکالمہ و بحث آخز کی جا سکے۔ قانون بولتا ہے کی یہ قسط چونکہ ابھی نشر ہونا باقی ہے لہذا ہم نے کیا بولا یہ تفصیل پھر کبھی سہی اب ٹریلیر میں یہ کیا مصنف ساری فلم سنا ڈالے۔ شو کے اس حصہ کے لئے مذید دو خواتین بلاگرز بھی وہاں موجود تھیں کہ جنہوں نے سوشل میڈیا کے رجھانات اور بلاگنگ و سوشل میڈیا کے حوالہ سے کاپی رائیٹ کے مسائل پر بات کی۔

مصنف کے حصہ میں سوشل میڈیا اصلاحات، نیو اور کنوینشنل میڈیا میں موجود خلش اور سائبر لاز کے حوالہ سے قابل غور امور کی طرف توجہ دلانا تھا جو کہ ہم نے اپنی دانست کے مطابق بخوبی بیان کیا باقی آپ سب لوگوں کی دعا رہی تو مصنف ایک نہ ایک دن علاقہ کا کونسلر ضرور لگ جاوے گا۔

مصنف اور اس کہ نان سیریئس باتیں اپنی جگہ لیکن یہ ایک نہائت ہی اچھا تجربہ تھا اور اس شو میں شرکت کی دعوت کے لئے مصنف بیرسٹر فاطمہ شاہین کا مشکور ہے اور ان کی اس دور میں بھی کی جس میں شائستگی اور دلیل ہمارے میڈیا کی بحث میں ختم ہوتی جا رہی ہے ایک اہم اور جاندار شو گزشتہ اڑھائی سال سے بخوبی ہوسٹ کر رہی ہیں۔

20161217_142911

مصنف، قانون بولتا ہے کی میزبان بیرسٹر فاطمہ شاہین کے ساتھ پی ٹی وی لاہور سینٹر کے اسٹوڈیو میں

یہ تجربہ اس لئے بھی یادگار رہے گا کہ پرائیویٹ میڈیا پر متعدد بار آنے کے باوجود اس خوبصورت نوے کی دہائی والے بچپن کی وجہ سے پی ٹی وی کے لئے انس اپنی جگہ پر مقدم ہے۔ پی ٹی وہ کے پروگرام آنگن آنگن تارے میں شرکت کا ایک بار موقع ملا تھا لیکن طبیعت کی خرابی کی وجہ سے شرکت نہ کر سکا۔ لیکن بیس سال بعد بالآخر اس عمارت میں قدم رکھنا کہ جس کے پاس سے بچپن میں ایک بار گزرتے ہوئے والد صاحب نے بتایا تھا کہ یہ ٹی وی کا دفتر ہے، موٹر سائکل کی پچھلی نشست پر بیٹھے ننھے اور معصوم سے مصنف نے حیرت سے اس عمارت کی طرف دیکھا کہ جو عنک والا جن، چاچا جی کارٹونز، اور کیڑے مار ادویات کا گھر تھا۔ اب اسی عمارت میں قدم رکھنا اور اعتماد کے ساتھ زیر بحث موضوع پر بات کرنا ایک ایسی ہی خوشی دے گیا کہ جیسی بچپن میں چھوٹی  موٹی کامیابیوں پر ہوا کرتی تھی۔

نوٹ: قانون بولتا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے حوالہ س قسط دو ہفتوں میں نشر کی جائے گی اس شو کا لنک اور ویڈیو یہاں بھی جاری کر دی جائے گی اور اگر  ضرورت محسوس ہوئی تو جو نکات میں نے شو میں بولے تھے وہ یہاں بھی مصنف کے قارین کی خدمت میں لکھ دوں گا۔

Advertisements

Leave a comment

Filed under لاہور ڈائری, لاھور, ملے تھے جو راہ میں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s