آخری گرین بلیزر

dae7d057-0f3c-4ed9-9a8c-b576e82c48e6

 مصنف کو  اللہ نے ایسی نوکری دی کہ جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ بھائی جس چیز کا شوق تھا اب اسی کا کام کرتا ہے۔ سوچیں کہ کیا نوکری ہو گی کہ سارا وقت سوشل میڈیا استعمال کرنے اور کرکٹ میچ دیکھنے کے پیسے ملا کرتے ہیں مصنف کو ۔ خیر اسی نوکری کی وجہ سے مصنف کو قوم کے پسندیدہ کھیل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اس کھیل سے حاصل کی گئی تمام تر ٹرافیاں جس عجائب گھر میں موجود ہیں اس تک رسائی حاصل ہوئی۔

گزشتہ ہفتے اپنی افسری کا رعب دکھانے اور چھوٹے بہن بھائیوں کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی اور پاکستان کرکٹ بورڈ لائبریری و میوزیم دکھانے لے گیا۔ لائیبریری پہلے بھی ایک بار جانا ہوا تھا لیکن اس بار کا دورا کافی مختلف  تھا، تب پہلی بار گیا تھا اور ایک مداح کی حیثیت سے گیا تھا اس بار ایک گائیڈ کی حیثیت سے۔ نہرو کپ، 1997 کی ورلڈ سیریز کی ٹرافی، ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اور 1992 کے عالمی کپ کیd66754eb-d524-4a04-b290-27b6604880af زیارت کروانے کے بعد میں نے مہمانوں کی توجہ ایک میز کی جانب کروائی کہ جس کے سرہانے سجی کرسیوں  میں سے ایک کی ٹیک پر ایک گرین بلیزر سلیقے سے لٹک رہا ہے۔

کرکٹ سے بے حد دلچسپی رکھنے والے پاکستانی یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستا ن کرکٹ کے اولین سالوں میں پاکستان کی ٹیم کا نشان ستارہ نہیں بلکہ شاہین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میڈیا اپنے روز مرہ کے اصلوب میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے  شاہین اور پرواز وغیرہ سے متعلق استعارے استعمال کرتے ہیں۔

‘یہ دیکھو ‘ میں  نے مہمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔، اور ان کو توجہ ملتے ہی بات جاری رکھی، ‘یہ پاکستان ٹیم کے اولین سکواڈ کے رکن اور پہلے وکٹ کیپر امتیاز احمد صاحب کا بلیزر ہے۔ وہ جو سامنے دیوار پر تصویر لگی ہے نا اس میں دائیں جانب سب سے پہلے جو شخص کھڑے ہیں یہ ان کا بلیزر ہے اس تصویر میں موجود تمام ہستیوں میں یہ واحد ہیں جو ابھی بھی حیات ہیں۔  آج ہم سب صبح اظہر علی کی جانب سے جڑی ڈبل سینچری کی بات کر رہے تھے ، امتیاز احمد صاحب پاکستان کی جانب سے ڈبل سینچری کرنے والے سب سے پہلے کھلاڑی تھے۔’

میں نے ایک اچھے گائیڈ کی طرح تمام معلومات اپنی دانست کے مطابق ٹھیک ٹھیک فراہم کر دیں، جی وہ امتیاز احمد صاحب کا کوٹ تھا اور میں نے بڑے شوق سے اس کے بارے میں اپنے مہمانوں کو بتایا۔ پھر گزشتہ ہفتے فون ایک عدد ای میل کی نوٹیفیکیشن دینے کو بجا ابھی ای میل کھولنے ہی لگا تھا کہ فون پر کال آنا شروع ہو گئی دوسری جانب سے آواز نے کہا کہ ایک پریس ریلیز ویب سائیٹ پر لگانی ہے  اس کی سرخی بتا دیں میں نے کہا کہ باہر ہوں ابھی ای میل نہیں کھل رہی پریس ریلیز کس بارے میں ہے زبانی لکھوا دیتا ہوں۔ تو دوسری جانب سے سننے کو ملا کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر امتیاز احمد انتقال کر چکے ہیں اس پر تعزیتی  نوٹ ہے۔ سرخی لکھوائی  لیکن اچانک سے آن وارد ہوئے دکھ کے ساتھ الفاظ کیسے سوچے یہ ایک ناقابل بیان عمل تھا۔

فون بند کیا اور دل میں گزشتہ سال کو سلاواتیں سنائیں کہ جو جاتے جاتے اپنے آخری دن بھی ہم سے ایک اور ہیرا لے گیا۔ اب اگلی بار اگر کوئی لائبریری جائے گا تو اس آخری گرین بلیزر کا تعرف اب پہلے جیسا نہ رہے گا۔ پاکستان کے اولین ٹیسٹ ٹیم کے رکن اور وکٹ کیپر بلے باز امتیاز احمد مرحوم اب ہم میں نہیں لیکن ان کا وہ گرین بلیزر  دفتر کی جانب آتی راہ داری میں ان کی مسکراتی ہوئی تصویر ایک عمدہ، قابل فخر اور محب وطن کرکٹر کی  یاد دلاتی رہے گی۔

a36aa526-38b7-43ec-8d6f-ef161c42aec6

Standing: Shujauddin Butt, Muhammad Amin, Munawar Ali Khan, Khan Muhammad, Maqsood Ahmed, Muhammad Aslam, Imtiaz Ahmed Middle Row: M.E.Z. Ghazali, Nazar Muhammad, Mian Muhammad Saeed (Captain), Fazal Mahmood, Anwar Hussain Front Row: S.A. Rehman, Muhammad Hussain

امتیاز احمد کے ٹیسٹ کریر پر ایک نظر

امتیاز احمد مرحوم نے 1952 سے لے کر 1962 تک 41 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی تین سینچریز اور گیارہ نصف سینچریز کے ساتھ 2079 رنز اسکور کیا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور میں 1955 میں 209 رنز کی اننگز کی بہترین انفرادی اننگز تھی۔ بطور وکٹ کیپر 77 کیچ لیے اور 16 سٹمپ آوٹ کئے۔

امتیاز احمد 1976 سے 1978 تک پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بھی رہے اور 2005 سے 2008 تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے وومن کرکٹ ونگ کے کنسلٹنٹ بھی رہے۔

Advertisements

Leave a comment

Filed under Cricket, لاہور ڈائری

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s