اب میرے کپڑوں پر خون دیکھ کر رونا مت ماں!!!

 مجھے  ڈر تھا کہ میری یونیفارم پر سیاہی دیکھ کر ماں ڈانٹے گی۔ اب میرے کپڑوں پر خون دیکھ کر رونا  مت ماں


شائد کہ جو میں لکھنے جا رہا ہوں سنکی پن اور مایوسی کی ایک قسم ہی ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ جو پھول کل پھولوں کے شہر میں روند دیئے گئے ان کو اب ہمارے ان کھوکھلے جملوں، ٹویٹر پر ایک سو جالیس خطوط کی دانشوری، اور فیس بک پر اپنی وال کالی کرنے حتا کہ ان موم بتیوں کی بھی متقاضی نہیں جو ان کی یاد میں روشن کی جا رہی ہیں، بلکہ ان معصوموں کو تو ان سطروں کی بھی اب ضرورت نہیں جو میں بلا سوچے سمجھے لکھ رہا ہوں۔

جو سانحہ کل ہو گیا اس پر کیا کیا جائے یہ سوچنے کی نہ تو ہمت ہے اور نہ ہی صلاحیت۔
لیکن ایک بات حقیقت ہے کہ زندگی میں کنٹرول زیڈ کی سہولت نہیں ہوا کرتی۔ جو ہو چکا اس کو واپس جا کر بدلا نہیں جا سکتا ہاں آگے کی کہانی کو بہتر لکھا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے لئے یہ فیصلہ کر لینا پڑے گا کہ کون سگا ہے اور کون “ہمارا بھائی” عقل کے ان عناصر کو استعمال کرنا پڑے گا جو یہ سمجھا سکیں کہ اگر “یہ ہماری جنگ نہیں” تو پھر اس میں مر کیوں ہمارے بچے رہے ہیں۔

مصیبت کو حل کرنے کا پہلا قدم مصیبت کو مصیبت سمجھنا ہوتا ہے، مصیبت کے ساتھ اگر رشتہ داری کرو تو گلے مصیبت ہی پڑتی ہے۔ تیس سال سے زائد عرصہ سے گلے پڑی اس مصیبت کا کیا کرنا ہے شائد اب طے کر لینا چاہیئے کیوں کہ تیزی سے پھیلتی بے حصی کے اس دور میں اور سنکی ہوتے معاشرے میں وہ دن دور نہیں کہ جب 140 لاشیں گرنے پر بھی کوئی رد عمل ہو۔
شائد اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ یہ جھنڈ نما قوم کو بچانا اور بنانا ہے یا پھر “ہمارے بھائیوں” کا دفاع کرنا ہے؟ دنیا کی “نمبر ایک” خفیہ ایجنسی کو بھی شائد اب صحافیوں سیاست دانوں اور دیگر بلڈی سویلینز پر ہاتھ سیدھا کرنے کی بجائے اس کام پر کمر کسنی چاہیئے کہ جو اس کا کام ہے کہ جس کے کرنے پر اس پر فخر محسوس کیا جا سکے ویسے تو وہ اس ملک کی واحد اشرف المخلوقات ہیں کہ ہمیں ان پر فخر ہو کہ شرمندگی ان کو اس سے فرق نہیں پڑا کرتا۔

Advertisements

1 Comment

Filed under سوچ بچار

One response to “اب میرے کپڑوں پر خون دیکھ کر رونا مت ماں!!!

  1. گمنام

    ابّ ہمیں بحیثیت قوم یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کے ہمارے وہ لوگ جو طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کو بھی ختم کر دیا جائے . آپ یا تو پاکستان کی حمایت کرو یا طالبان کی . اچھے طالبان یا برے طالبان کا زمانہ چلا گیا . ہمارا مثلا یہی ہے کے ہمارے کچھ با اثر سیاستدان نہ صرف طالبان کی حمایت کرتے ہیں بلکہ ان کو درپردہ مدد بھی فراہم کرتے ہیں ، ایسے تمام عناصر کا خاتمہ بہت ضروری ہے.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s