الوداع لندن چوتھا حصہ

نیچرل ہسٹری عجائب گھر، لندن
کرام ویل گارڈن سے نکلنے کے بعد کچھ مزید چلنے پر نیچرل ہسٹری میوزیم نظر آیا اس کی طوالت دیکھ اور بھوک کی حالت دیکھ ہمت نہ ہوئی کہ اس کو اندر سے دیکھا جائے ویسے بھی مصنف کو اس بات کا بالکل کوئی شوق نہیں کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کے بڑے کون سے والے بندر تھے۔ ویسے بھی مصنف کو اس نظریہ میں یقین نہیں کہ انسان ایک بندر تھا۔ خیر اب جب یہ لکھ رہا ہوں تو ڈائناسارس کے پاؤں کا نشان اور وہاں لگی تتلیوں کی نمائش نہ دیکھنے کا افسوس سا محسوس ہو رہا ہے۔


سائینس عجائب گھر

ہماری منزل تھی سائنس میوزیم کے پرانی چیزیں دیکھ لیں اب کچھ جدت دیکھی جاوے اندر گھستے ہی لگا کہ یہ میوزیم مسلم لیگ ق نے فنڈ کیا ہے۔ خیر اگر میٹرک کے بعد مزید سائنس پڑھی ہوتی تو اس عجائب گھر کی سیر کا کچھ زیادہ مزا آتا ورنہ ہم نے گاؤں سے بتیاں دیکھنے آئے پینڈو کی طرح یہاں گاڑیاں، جہاز، مشینیں، اور خلائی جہاز دیکھے اور اتنے ہی متاثر ہوئے کہ جتنا ایک دیہاتی بھائی بتیاں دیکھ کر ہوتا ہے۔ تھری ڈی پرنٹگ والا سیکشن آج کے دن کا سب سے بہترین تجربہ تھا اب ہمارے دماغ میں اس پرنٹر کے کارنامے دیکھ جتنے بھی خیالات اور منصوبے آئے وہ سب کے سب تخریبی نوعیت کے تھے۔ مزید اس قسم کے خیالات آنے سے پہلے ہم وہاں سے چل دیئے اور عجائب گھر سے باہر آ گئے۔



ایپل کے اولین کمپیوٹرز میں سے ایک


گئے وقتوں کی لندن ٹیکسی جس میں ڈرائیور کے علاوہ صرف دو ہی سواریوں کی اجازت ہوا کرتی تھی

ہماری اگلی منزل ایلبرٹ ہال تھی جس تک جانے کے چکر میں ہم دو بار راستہ بھولے اور وہاں موجود تمام سفارت خانے دیکھ بیٹھے۔ بنگلادیش کی سفارت خانے سے گزرتے وقت جب وہاں جانے کا اتفاق اور شیخ مجیب کا دروازے پر لگا خوفناک قسم کا پورٹریٹ یاد آیا وہیں ایک بنگالی بابو اپنی تصویر بنواتے نظر آئے۔ کسی کی سادگی کا مذاق کیا اڑانا مگر ایک انتہائی گاڑھے رنگ کے گرے میں براؤن مکس رنگ کا کوٹ اس کے نیچے گاڑھے عنابی رنگ کی قمیض جس میں کالے رنگ کی پھانٹ تھی اس پر نہ جانے کیا سوچ کر نیلی ٹائی لگا رکھی تھی۔ اس سے پہلے ہم ان کا توا لگاتے ہمیں پنجاب یونیورسٹی کے زمانے کا وہ ماک انٹرویو یاد آ گیا کہ جس میں ہم جامنی قمیض پر یخ ہرے رنگ کی ٹائی لگا کر گئے تھے۔

شاہی کالج برائے موسیقی
پرنس ایلبرٹ ہال

ایلبرٹ ہال پہنچے اتنے بڑے ہال کو دیکھ کر سوچا کہ اگر یہاں نرگس اینڈ کمپنی کا ڈرامہ کرایا جائے تو خاصی کمائی ہو سکتی ہے مزید اس قسم کے خیالات آنے سے پہلے ہی یار لوگوں کی جگتیں ذہن میں آنے لگیں کہ انہوں نے کہنا ہے کہ لوگ گروپ دبئی کے کر جاتے تھے یہ لندن لے کر جاتا ہے۔ ہال کی باہر والی دیوار گھوم کر عقبی دروازے پر پہنچے تو کینزینگٹن گارڈنز اور اس میں واقع ایلبرٹ میموریل ہمارے سامنے تھا۔

پرنس ایلبرٹ میموریل

اس سونے سے بنے بیش قیمتی مجسمے اور ایک نہایت ہی شاندار کو میموریل دیکھ کر ایک خیال آیا کہ رن مریدی اتنی بھی بری چیز نہیں مانا کہ ملکہ وکٹوریہ کہ ڈاڈی طبیعت کی وجہ سے پورا دور وکٹورین کہلاتا ہے اور تاریخ میں پرنس ایلبرٹ کا نام خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس مرد مجاہد کو اپنی خاموشی اور ثابت قدمی کا کیا لاجواب بیش قیمتی تحفہ ملا کہ اس کی یاد میں ایسا میموریل بنایا گیا کہ جس میں ان تمام براعظموں سے لائی گئی دولت استعمال کی کہ جہاں جہاں تاج برطانیہ پہنچ چکا تھا۔ گورا صاحب کہ فراخدلی بھی پسند آئی کہ پرنس ایلبرٹ کے مجسمے کے چاروں جانب ان ممالک یا براعظموں کی یادگار میں بھی مجسمے بنا دیئے گئے کہ جنکی دولت نے یہ میموریل سپانسر کیا تھا۔ اس کی علاوہ جن چار ستونوں پر میموریل کو کون کھڑی ہے ان چار ستونوں کے ساتھ بھی چار چھوٹے مجسمے بنے ہوئے ہیں جو اس دور میں برطانیہ میں ہونے والی ترقی کو یاد کرتے ہیں ایک مجسمہ انجینرنگ کا ہے تو دوسرا تجارت کا، تیسرا زراعت کا تو چوتھا صنعت کی یادگارہے۔

ہندوستان والا کونا
 میوریل کا کچھ دیر طواف کرنے کے بعد کینزنگٹن گارڈن کے جاگنگ ٹریک پر چہل قدمی کرتے ہوئے باہر آگئے اور قریبی ٹیوب اسٹیشن ڈھونڈھنے لگے کہ اب مزید پیدل چلنے کی ہمت ختم ہوتی جا رہی تھی۔ چلتے چلتے ہائی اسٹریت کینزنگٹن پہنچے یہ علاقہ دیکھا بھالا سا تھا کہ یہاں ایک بار تحریک انصاف کے اسٹوڈنٹ ونگ کے زیر اہتمام عشائیہ میں مفتا توڑنے کا اتفاق ہوا تھا اس کے علاوہ بھی اس ہائی اسٹریٹ میں ایک بار خجل ہوئے تھے کہ جب کینزنگٹن محل دیکھنے کی کھرک ہوئی تھی اس بار معاملہ صرف ہائی اسٹریٹ کینزنگٹن کے انڈر گراؤنڈ اسٹیشن پہنچنے کا تھا۔ اب تک بھوک سے وہ حالت ہو چلی تھی کہ انتڑیوں کو جو کچھ آتا تھا وہ پڑھ کر اب اناللہ پڑھنے لگی تھیں اور جو چوہے دوڑا کرتے ہیں وہ بھی تھک ہار کر مر کھپ چکے تھے۔

چلو چلو کینزنگٹن گارڈن چلو
اسٹیشن پہنچے تو وہاں موجود ایک ہیلدی جوس شاپ سے ہیلدی ملک شیک لیا۔ اب یہ ہیلدی ملک شیک وہ ہوتا ہے کہ جس میں اضافی چینی شامل نہیں کی جاتی اور آپ کو پھل کی مٹھاس پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ اندر کچھ گیا تو جان میں جان آئی نائیٹس برج اسٹیشن کی ٹرین لی اور ایک بار پھر نائیٹس برج پہنچے۔ آج کے باقاعدہ پروگرام کی آخری منزل ہیرڈز تھا۔ ہیرڈز کی موجودہ ملکیت تو قطر کے شاہی خاندان کے پاس ہے لیکن اس سے پہلے اس کے مالک کا تعلق مصر سے تھا اور وہ انکل ڈوڈی الفراڈی کے ابا جی تھے جی وہی الٖفرڈی جو شہزادی ڈیانا کے ساتھ کار حادثہ میں مارے گئے۔ اب قطر کے شاہی خاندان کو کیوں بیچا گیا یہ تو پتا نہیں یکن یہ ضرور سن رکھا ہے کہ ان صاحب نے خود کبھی برطانیہ کی شہریت اختیار نہ کی۔ ویسے عجیب آدمی تھا ایک عرصے کے بعد تو شہریت لینا آپ کی مجبوری بن جاتی ہے میری بات پر یقین نہیں تو پوچھ لیں کسی ایم کیو ایم والے سے۔


لارڈ رابرٹ نيپيئر


ہیرڈز کا بیرونی منظر
ہیرڈز آنے کی واحد وجہ بس ایک مہر ہی لگانی تھی کہ ہاں بھائی لندن گیا تھا تو ہیرٹز بھی دیکھا۔ باقی اندر جا کر زیادہ تر طبیعت و کیفیت وہی رہی جو سیلفرجز میں تھی۔ اس کثیر منزلہ عمارت میں ایک منزل سے دوسری تک جانے کے لئے دو قسم کی خودکار سیڑھیاں موجود ہیں ایک سادہ اور ایک مصری طرز کی سیڑھیاں تو سادہ ہی تھیں لیکن ان کے ارد گرد کا ماحول ایسے ہی تھا کہ جیسے کسی فرعون کے دربار یا کسی مصری احرام کے اندر کا ہو۔ کتابوں کے سیکشن میں ایک عدد بک مارک پسند آ گیا اور اس کی قیمت بھی ایسی تھی کہ مصنف افورڈ کر سکتا تھا لہذا ہو خریدا جب رقم ادا کر دی تو کاؤنٹر پر کھڑے کیشیر نے بڑے ادب سے پوچھا کے کسی سیکشن کی جانب جانے کا راستہ سمجھنا چاہیں گے تب تو سر نفی میں ہلا دیا لیکن بعد میں راستہ بھول بیٹھے اور کافی دیر گمی ہوئی بھینس بنے گھومتے رہے۔ ارادہ تو تھا فوڈ سیکشن ڈھونڈھنے کا کہ جہاں کا بیف اپنے شہباز شریف صاحب کو بہت پسند ہے۔ خیر وہ تو نہ ملا قصائی کی دوکان مل گئی اور وہ بھی اچھا تجربہ تھا گاڑھے رنگوں کی ٹائلیں لگی دیواریں اور دائروی انداز میں لگے سبزی، پھل، گوشت، اور دیگر باورچی خانے کے سامان کے ٹھیلے کسی مخصوص یورپی اوپن مارکیٹ کا منظر پیش کر رہے تھے۔ 

ہیرڈز کی اس روز واحد سجی ہوئی کھڑکی
باہر نکلنے کی راہ لی تو ایک مدھر سی آواز نے مصنف کو اپنی جانب متوجہ کیا ایک خاصی قبول صورت لڑکی نے ہم سے یہ جاننا چاہا کہ کیا ہم چاکلیٹ ٹرائی کرنا پسند کریں گے۔ اب ایک خوبصورت لڑکی ہمیں زہر بھی آفر کرے تو ہم انکار نہ کریں یہ تو پھر چاکلیٹ تھی مصنف کی صدا کی کمزوری۔ ہیرڈز کی چاکلیٹ بھی ایک ایسی چیز ہے جو آپ افورڈ کر سکتے ہو اور جو ہمیں ٹرائی کرائی گئی وہ تو باقعدہ ایک سوغات تھی۔ کافی کے بھنے ہوئے دانے پر چاکلیٹ کی کوٹنگ اور اس پر کیپاچینو فلیور کی چاکلیٹ ائیسنگ کی تہہ۔ چیز چونکہ اچھی تھی لہذا ایک ڈبہ خرید لیا لیکن بھلا ہو پی آئی اے کی فلائٹ کا گھر آ کر جب ڈبہ کھولا تو  کافی بین اوپر جب کہ چاکلیٹ ساری پیندے میں جا لگی تھی۔

ان گلیوں میں سے ایک جہاں جیک رپر اپنے فن کا مظاہرہ کیا کرتا تھا

واپس نائٹس برج اسٹیشن سے آلڈ گیٹ ایسٹ اسٹیشن کی ٹرین لی۔ آلڈ گیٹ اصل میں اولڈ گیٹ ہے لیکن قدمی انگریزی میں اولڈ اے سے لکھا جا تا تھا نہ کہ او سے اور پڑھا بھی آلد ہی جاتا تھا۔ یہ آلڈ گیٹ کے اسٹیشن سے چلتے ہوئے آپ وائٹ چیپل کے اسٹیشن کی جانب چلو تو آپ کو دنیا بدلتی ہوئی محسوس ہو گی آلڈ گیٹ کا علاقہ تو انگلستان لیکن جوں جوں آپ وائٹ چیپل میں چلتے جائیں آپ کو اپنا آپ بنگلا دیش کے کسی بازار میں محسوس ہو گا۔ یہ علاقہ وہ جگہ ہے کہ جہاں بنگلادیش کے بعد سب سے زیادہ بنگالی پائے جاتے ہیں جن میں سے اکثر تو نصف صدی سے یہاں آباد ہیں۔ برطانوی تاریخ کے سب سے قابل نفرت کردار جیک دا رپر بھی اپنی قتل و غارت و کاٹ پیٹ اسی علاقے میں کرتا تھا۔ اب بھی شام کو ایک گائڈ ٹور ہوتا ہے نو بجے کہ جس میں وہ تمام گلی کوچے اور علاقے دکھائے جاتے ہیں کہ جہاں جیک دا رپر نے خواتین کو قتل کیا۔ وہ گودام تو مل گیا تھا پولیس کو کہ جہاں جیک کٹے ہوئے اعضاء رکھا کرتا تھا لیکن جیک بذات خود کبھی قابو نہ آیا اور آج سوا سو سال بعد بھی ایک معمہ ہی ہے۔

یورپ کی سب سے بڑی مسجد
یورپ کی سب سے بڑی فعال مسجد (فعال اس لئے کہ رقبے کے اعتبار سے اب بھی یورپ کی سب سے بڑی مسجد قرطبہ مسجد ہی ہے) وائٹ چیپل روڈ پر واقع ہے اور ایسٹ لنڈن ماسک کہلاتی ہے۔ میری منزل تھی مسجد کے عقب میں واقع طیب ریسوران جو کہ پاکستانی کھانوں کی وجہ سے کافی مشہور ہے اور اس علاقے میں واحد اتنا “آتھنٹک انڈین” ریستوران ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کھچا کھچ سے بھی زیادہ بھرا رہتا ہے۔ یہاں ہمارے ایک دوست جبران رفیق المعروف پردیسی بھائی نے ہماری دعوت کر رکھی تھی۔ چونکہ ڈنر ٹائم چل رہا تھا لہذا بکنگ ہونے کے باوجود ہمیں کافی دیر دروازے پر ہی انتظار کرنا پڑا اور وہیں پر پردیسی بھائی سے ملاقات ہوئی جو کہ وہاں بمعہ اہل و ایال موجود تھے یہ اہل و ایال کوئی زیادہ لمبا چوڑا نہیں بس اہلیہ تک ہی محیط ہے۔


 کافی دیر انتظار کے بعد جب میز کرسی میسر آیا تو انتظار کا ایک اور دور شروع ہوا لگ یہ رہا تھا کہ رش زیادہ ہے اور باورچی کم اسی لئے گھنٹوں کھانے کا انتظار کرنا پڑا۔ کھانے کی میز ہر سب سے اہم موضوع تھا مصنف کی پاکستان واپسی، اس کے ممکنہ نتائج، اور کسی طرح سے واپسی کو روک کر برطانیہ میں ہی کہانی لمبی کرنے کا کوئی طریقہ نکالنا۔ اب ادب میں چپ کر کے سنتا رہا ورنہ پرندہ تو اڑنے کا ارادہ مہینوں پہلے ہی کر چکا تھا بس صحیح وقت ک منتظر تھا اور جب پرندہ اڑنے کا فیصلہ کر لے تو اسے روکا نہیں جا سکتا پھر چاہے وہ پرندہ مصنف ہی کیوں نہ ہو اور اسے اس بات سے ہی کیوں نہ ڈرایا جائے کہ “بھائی واپس جاؤ گے تو گھر والے پکڑ کر شادی کر دیں گے تمھاری”۔

وائٹ چیپل مارکیٹ
کھانے سے فارغ ہونے اور دوبارہ کبھی طیب نہ آنے کی متفقہ قرارداد منظور کرنے کے بعد ہم باہر نکلے اور وائٹ چیپل اسٹیشن پہنچے۔ اب تک یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ ہم سیون کنگز سے اپنا سامان لے کر پردیسی بھائی کے گھر پہنچیں اور ان کو مزید شرف میزبانی بخشیں۔ ویسے بھی گزشتہ رات جو پلنگ پر ملے ڈیڑھ فٹ میں گزاری تھی کافی تھکانے کو کافی تھی۔ رات کی آخری ٹرینوں سے اپنا سامان اٹھا پردیسی بھائی کے علاقے میں پہنچے۔ رات کی چائے پر گپوں کا ایک اور لائٹ لائٹ سا دور چلا اور اس کے بعد سو گئے تھکاوٹ کی وجہ سے نیند بھی ٹھیک ٹھاک آئی۔

نیو بری پارک اسٹیشن کو الوداع کہتے ہوئے
لندن گردی کے آخری دن ارادہ تو تھا کہ صبح جلدی جاگ کر ساؤتھ بینک پر واک کی جائے اور لندن کی مشہور اوپن مارکیٹ اور ٹاٹ ماڈرن دیکھیں گے اور پھر وہیں سے وکٹوریہ کوچ اسٹیشن پہنچ جائیں گے لیکن تھکاوٹ اور اکتاہٹ نے مزید ہمت نہ ہونے دی۔ صبح ناشتے کے بعد پردیسی بھائی کے ساتھ ہی گھر سے نکلے ٹیوب اسٹیشن پر ان کو الوداع کہا اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔

نام میں کیا رکھا ہے۔۔۔ تایا شیکسپیئر کو سلام

جب بس اڈے پہنچا تو بس کے آنے میں ابھی کافی وقت تھا وہیں ایک بینچ پر بیٹھا لندن کے بارے میں سوچتا رہا۔ کہ کہاں میں اس شہر میں رہنے سے گھبراتا تھا اور کہاں میں اب اس شہر کے عشق میں مبتلا ہو چکا تھا۔ اپنے گھر اور پھر اس کے بعد اپنے ملک واپس جانے کی خوشی تو تھی لیکن ہلکا سا کرب بھی تھا لندن چھوڑنے کا۔ لندن جہاں سٹریس دیتا ہے اور توانائی نچوڑ لیتا ہے وہاں یہ آپ کو با ہمت بھی بنا دیتا ہے اور مضبوط بھی۔ زندگی میں اتنی تیزی لے آتا ہے کہ تیزی کا ڈر اتر جاتا ہے۔ چھوٹے موٹے مسائل کو انسان مسئلہ سمجھنا چھوڑ دیتا ہے اور ٹھنڈے دماغ سے ان کا حل نکال لیتا ہے۔ وہیں بس کے اڈے پر ایک فیصلہ کیا کہ پاکستان جانے کے لئے ہیتھرو ہوائی اڈے جانے کے لئے لندن آنا میرا لندن کا آخری دورہ نہیں ہوگا میں جب بھی موقع ملا لندن ضرور آؤں گا اور یہ جاننے کی کوشش کروں گا کہ لندن بارے یہ بات کس حد تک درست ہے کہ لندن ہمیشہ ہی ایک نئی جگہ ہوتا ہے۔۔۔
London is always a changed place…



لگا تو تھا کہ فیصل آباد اور لاہور کے بعد شاید اب کسی اور شہر سے عشق و محبت نہ ہو گی لیکن لندن سے ہو گئی اور اس بینچ پر بیٹھے وقت کی طرح اب اس سب کو کی بورڈ بند کرتے ہوئے بھی دماغ میں احمد رشدی کی آواز گونج رہی ہے کہ سوچا تھا پیار نہ کریں گے۔۔۔۔



(ویسے تو اسی کو الوداع لندن کی آخری قسط ہونا چاہیے لیکن مصنف اپنی صوابدید استعمال کرتے ہوئے ایک اور قسط لکھے گا۔ اگلی اور آخری قسط میں ہیتھرو پہنچنے اور لندن و برطانیہ کو باقائدہ الوداع کہنے کا احوال لکھا جائے گا پڑھ کر ثواب دارین حاصل کریں شکریہ)۔
Advertisements

Leave a comment

Filed under الوداع لندن, ادھار کی شاعری

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s