الوداع لندن حصہ سوئم

نیلسن کی بحری جہاز والی بوتل


حصہ اول۔۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔

ڈی ایل آر کے ذریعے بنک کے اسٹیشن پہنچے، مجھے ایک عرصہ تک لگتا تھا کہ ٹیمز کے کنارے ہو گا یہ اسٹیشن شائد اس لئے بنک کہلاتا ہے کہ ہمشہ یہاں زیر زمین ہی آنا ہوا وہ تو بھلا ہو ہماری راستہ بھولنے کی عادت کا کہ ایک بار لیورپول اسٹریٹ کا اسٹیشن ڈھونڈھتے ہوئے بنک آف انگلینڈ پہنچ گئے اور ساتھ میں ہی بنک کا اسٹیشن دیکھ سمجھ آئی کہ یہ دریا والا نہیں ٹھبنٹو والا بنک ہے۔ بنک ڈی ایل آر سروس کا آخری اسٹیشن ہے یہاں سے وسطی لندن میں جانے کے لئے سینٹرل لائن پکڑی اور ہالبرن کے اسٹیشن پہنچے۔ ہالبرن سے ہماری منزل تھی برٹش میوزیم جس تک ہم نے پیدل سفر کیا اور راستے میں تن نئے عجوبے دیکھ کر سوچا کہ یقینا عجائب گھر سے بھاگے ہوئے قیدی ہیں۔

لندن کی المشہور لال بس کا نیا ماڈل

برٹش میوزیم پہنچ کر لگا کہ ساری دنیا ہی یہاں امڈ آئی ہے۔ مڈ ویک میں جانے اور رش کے کم ہونے کی امیدیں دروازے پر ہی دم توڑ گئیں جب درجنوں اسکولوں کے دورے وہاں پہنچتے ہوئے دیکھے ان میں سے ایک دورہ ہمسائہ ملک کے بھی ایک سکول سے تھا۔ پہلے سیکشن میں گھستے ہی گویا آنے کا مقصد پورا ہو گیا جب بی بی وینس کے مجسمے پر نظر پڑی (سنسر کے زیر اثر یہاں تصویر شامل نہیں کی جا رہی) وینس کا مجسمہ واقعی ایک زبردست چیز ہے اور اس زبردستی میں اس کی اصل “وجہ شہرت” کا عمل دخل کم ہی ہے کیوں کہ چہرے کے تاثرات زیادہ قابل دید ہیں (اس جملے کو مصنف کی صفائی نہ سمجھا جائے آئی مین اِٹ)۔

برٹش میوزیم کا صدر دروازہ

برٹش میوزیم کا اندرونی منظر
بی بی پیرس، اگر آپ نے ٹروئے فلم دیکھی ہے تو یہی وہ خاتون ہیں
مصر اور یونان کے مجسموں کے بعد افریقہ اور شمالی امریکہ کے سیکشن میں پہنچے افریقہ کا سیکشن افریقہ جیسا رنگا رنگ تھا وہاں اصلحے سے بنے فن پارے کافی دلچسپ ہیں جب کہ شمالی امریکہ میں زمانہ بت پرستی کے بت دیکھ عجیب سا لگا کہ انسان کی عقل کیسے مان سکتی ہے کہ یہ بھدا سا پتھر کا ٹکڑا خدا یا اس کا عکس ہے۔

شمالی امریکی خدا

افریقی آرٹ

 وہیں ایک جگہ رش لگا دیکھا تو ادھر چل دیئے تو معلوم ہوا کہ یہ روسیٹا اسٹون ہے۔  یہ ایک قدیم مصری نوادرات میں سے ہے جو کی 1802 سے برٹش میوزیم میں ہے یہ 196 قبل مسیح میں مصر کے شہر ممفس میں بادشاہ پٹولمی پنجم میں جاری کیا تھا اس کے تین حصے ہیں پہلا حصہ قدیم مصری میں لکھا ہے، دوسرا حصہ ڈیموٹک طرز کی مصری میں اور آخری حصہ یونانی میں لکھا ہے اب مصنف ان تمام زبانوں سے نا بلد ہے لہذا ہمیں ککھ سمجھ نہیں آئی کہ اس پتھ پر کیا کچ مچولا لکھا ہوا ہے۔

روسیٹا کا پتھر

اشوریہ تہذب کے سیکشن میں پڑا ایگل پراٹیکٹو اسپرٹ کا مجسمہ

اگلے حصوں میں بیبالونیئن اور اشوریہ نوادرات موجود تھے وہاں ایک مجسمہ دیکھ مصنف کا ساڑھے آٹھ سونواں کرش ہوتے ہوتے رہ گیا۔ یہ عجائب گھر چونکہ کئی منزلہ ہے اور ہر منزل ایک علیحدہ تحریر کی متقاضی ہے لہذا سمری کی طرف آتے ہیں۔ بتوں اور نوادرات کے بعد جو سیکشن سب سے زیادہ دلچسپ لگا وہ تھا روپے و پیسے کا وہاں اپنا روپیہ ڈھونڈھنے میں دقت ہوئی کہ بیچارہ ہو ہی اتنا چھوٹا گیا ہے کہ کہاں ملتا اس رش میں۔ گھڑیوں کا سیکشن بھی لا جواب تھا اور بعض گھڑیاں دیکھ تو انسانی عقل کو کھڑے ہو کر شاباش دینے کو جی چاہا۔ برٹش میوزیم آنے کی سب سے بڑی وجہ تھی یہاں موجود مصری ممیاں دیکھنا۔ لیکن ان کو دیکھ کر سارا شوق چلا گیا اور ایک ہیبت سی طاری ہو گئی۔ ان اپنے وقت کے پھنے خانوں کو یہ حال ہو گیا میں تو پھر بالکل ہی مویا مکا انسان ہوں۔

جن کو تھا زباں پہ ناز چپ ہیں وہ زباں دراز


شیر کے شکار کا منظر

عجیب بات ہے 1988 میں یہ بچہ مجاہد تھا آج دہشتگرد ہے

سیانتی ہنونیا ٹیسناسا

جاپانی اور چینی سیکشن میں میرے حساب سے تو برائے نام ہی اشیا تھیں اور جدید پینٹنگز پر زیادہ زور تھا۔ انڈیا کا سیکشن بھرا پڑا تھا اور کیوں نہ ہوتا جو ہاتھ لگا گورا صاحب خالہ کا مال سمجھ تو لے گئے تھے ساتھ۔ آخر میں اسلامی سیکشن پہنچا جہاں کے گائیڈڈ ٹور میں شامل ہونا تھا ٹور کی وجہ سے ہمارے فون بند کروا دئے گئے لہذا اس سیکشن کی کوئی بھی تصویر مصنف نہ کھینچ سکا۔ ٹور بہت دلچسپ تھا اور گائیڈ کا شوق اس کی باتوں سے ظاہر ہو رہا تھا نام سے عیسائی معلوم ہوتے گائیڈ نے کیا با کمال عربی پڑھی اور اسکا ترجمہ انگریزی میں بتایا اس کے علاوہ اسلامی خطاطی کی تاریخ اور خطاطی پر ہی اتنا زور کیوں ایسے سمجھایا کہ غیر مسلموں کو بھی سمجھ آ گیا۔ اچھا تجربہ تھا یہ جہاں کچھ فن پارے سختی سے تصویر کشی سے پاک تھے وہیں چند میں نہ صرف تصویر کشی تھی بلکہ بغداد سے ملے واٹر کولر کے سٹینڈ میں تو باقاعدہ سنگ مرمر سے مجسمے بنے تھے۔ گائیڈ نے بتایا کہ شیعہ اسلام میں آپ کو اس قسم کی چیزیں مل جائیں گی لیکن اس میں بھی جو اشیا دینی استعمال کی ہیں ان میں تصویر نہیں ہوگی اب واٹر کولر چونکہ سیکولر چیز ہے لہذا اس کی خیر ہے دوسرا یہ جتنا قیمتی وزنی اور مہنگا ہے یہ بس امرا ہی افورڈ کر سکتے ہیں۔ اس سیکشن میں تام چینی کے برتن یا سرامکس پر بڑا زور تھا دلچسپ چیز تھی کہ کیسے چینیوں کی نقل میں ترکی میں انتہائی بھدے رنگوں اور نقوش کے ساتھ سرامکس بناتے بناتے اس فن میں ایسے مہارت حاصل کی کہ یورپ بھر کو بیچنے والے بن گئے۔ اس کے علاوہ اس سیکشن میں یہ بھی پتا چلا کہ کیسے عربی نے انگریزی فونٹس پر اپنا اثر چھوڑا اور کیسے بعض فونٹ لاطینی اور انگریزی کو عربوں کی طرح  گول گول لکھنے کے چکر میں وجود میں آئے۔


برٹش میوزیم کا عقبی دروازہ


ترقی پسندوں کی کتابوں کی دکان

عجائب گھر سے باہر آنے کے بعد ہماری اگلی منزل تھی کووینٹ گارڈن کی مارکیٹ اس تک بھی ہم نے پیدل مارچ کیا اور مڈ ویک میں لوکل مارکیٹ میں اتنا رش دیکھ حیران ہوئے۔ وہیں پر دنیا کا سب سے بڑا ایپل اسٹور بھی واقع ہے اسے دیکھنے چل دئے اب مصنف ایپل فین بوئے تو ہے نہیں لہذا وہاں جا کر خاصہ بور ہوا اور اتنی بڑی دکان میں چاروں جانب ایپل کی مصنوعات دیکھ کہ جن سے اپنا کوئی لینا دینا نہیں عجیب سا لگنے لگا اور ہم باہر یہ کہتے ہوئے آ گئے کہ اس سے زیادہ تو ریجنٹ اسٹریٹ والا ایپل اسٹور مزے کا تھا۔

معلق


دنیا کا سب سے بڑا ایپل اسٹور

ہم نے ناشتہ نہ کیا ہوا تھا تو ہلکی سی بھوک لگنے لگی اب ہیں تو ہم یل بللڑ سے ہی لہذا آئیس کریم کھا لی کہ چلو آگے جا کر کچھ اچھا کھا لیں گے۔ وہاں جو قریبی زیر زمین ٹرین اسٹیشن تھا وہ بند تھا لہذا دوسرا ڈھونڈھنے کے چکر میں مصنف سوہو کے علاقے میں پہنچ گیا یہ بھی لندن کا ایک مشہور اور رنگین علاقہ ہے ویسے ایسے علاقوں میں شام میں بھی گھومے جانے میں کوئی ہرج نہیں لیکن مصنف کا شرمیلا پن آڑے آ گیا اور سوہو کا نام ہی دیکھ ہم بھری دوپہر تیز تیز قدم اٹھا غالبا رسل اسکوئیر کے اسٹیشن پہنچے وہاں سے ٹرین لی اور نائٹس برج پہنچے۔ نائیٹس برج کے اسٹیشن کے پاس ہی دیگر بہت سے ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کا بھی ہائی کمیشن موجود ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارا مین روڈ پر نہیں ہے کہ ہمیں شرم آتی ہے پیچھے لے جا کر ایسے بنایا ہے کہ جی پی ایس بھی چکرا جائے اور شرفا کو راستہ بھلا دے۔ خیر ہماری منزل ہمارا ہائی کمیشن نہ تھا ویسے بھی مومن کو ایک بار کا تجربہ کافی ہونا چاہئے۔

مصنف لنچ فرماتے ہوئے


سوہو کا کوئی کونا

سڑک کے ساتھ ساتھ چل دیئے تو راستے میں ایک دکان ملی جسکا دعوی تھا کہ یہ نایاب کتب کی دکان ہے وہاں چند منٹ گزارنے کے بعد اندازہ ہو گیا کہ وہ دعوی مارکیٹنگ گمک نہیں تھا واقعی وہاں موجود کتب نقشے اور پرنٹس نایاب تھے۔ چلتے چلتے بائیں ہاتھ ویکٹوریہ اینڈ ایلبرٹ میوزیم آ گیا۔


ویکٹوریہ اینڈ ایلبرٹ میوزیم

ارادہ تو تھا اندر جانے کا لیکن کچھ بھوک لگ رہی تھی کچھ صبح سے اتنے آثار قدیمہ دیکھ لیے تھے کہ اپنا آپ آثار قدیمہ لگنے لگا۔ لہذا عمارت کو ہمیشہ کی طرح باہر سے دیکھا اس کی تصویر کھینچی اور آگے چل دئے۔ وکٹوریہ ایلبرٹ عجائب گھر کے بالکل سامنے کرامویل گارڈن تھا۔ کرامویل وہی شخصیت ہے کہ جسکو بادشاہ کا تختہ الٹنے اور سول ڈیکٹیٹرشپ نافذ کرنے کی پاداش میں قبر سے نکال کر پھانسی دی گئی اس کے بعد کسی کو ہمت نہ ہوئی اس ملک میں ایوب، یحیی، ضیا و مشرف بننے کی۔

کیمونزیم کے ہاتھوں مرنے والوں کی یادگار


 کرامویل کی شخصیت بھی عجیب ہے جو اس کی عزت کرتے ہیں وہ شدید عزت کرتے ہیں اور جو اس سے نفرت کرتے ہیں وہ شدید نفرت یہی وجہ ہے کہ کیمبرج میں موصوف کی قبر کہاں ہے صرف 4 لوگوں کو معلوم ہے۔ وہ اس لئے کہ اگر جگہ معلوم ہو جائے تو ان دو شدتوں کے تصادم کا خطرہ ہے۔ ایک اور دلچسپ بات لندن اور کرامویل کے حوالے سے یہ ہے کہ ہاؤس آف لارڈز میں جہاں اس کا مجسمہ موجود ہے سڑک کے پار واقع چرچ کی دیوار میں عین کرامویل کے مجسمے کے سامنے اس شاہی خاندان کے رکن کا چہرہ کندہ ہے کہ جس سے متھا لگا ہوا تھا۔ خیر اس گارڈن میں گئے ہم بھی یہی سمجھ کر تھے کہ کرامویل کی کوئی یادگار ہو گی لیکن وہ یادگار ان خواتین و حضرات اور پارلیمنٹ کے میمبران کی تھی جو روس اور دیگر مشرقی یورپ کے ممالک میں  کیمونزم کی ظالم لہر کے ہاتھوں مارے گئے۔
جاری ہے۔۔۔
Advertisements

1 Comment

Filed under الوداع لندن

One response to “الوداع لندن حصہ سوئم

  1. بہت زبردست۔ تینوں اقساط ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالی ہیں اور یقین جانئے کہ بہت ہی مزہ آیا۔ بہت سی چیزوں کا مجھے پتا ہی نہیں تھا تو اب ان سب کو دیکھنا لازم ہو گیا ہے۔ مزید اقساط کا انتظار رہے گا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s