الوداع لندن حصہ دوم

ارادہ تو تھا کہ صبح جاگتے ہی باقی لندن فتح کرنے نکل کھڑے ہوں گے لیکن بیڑا غرق ہو اس سوشل میڈیا کی علت کا نقشہ دیکھنے کے لئے لیپ ٹاپ کھولا اور گھنٹوں سوشل میڈیا پر غارت کر دیئے. جب اس صبح 8 بجے کی سحر خیزی کی وجہ یاد آئی تو ایسا ہڑبڑا کر اٹھا کہ ناشتا کرنا بھی یاد نہیں رہا نقشہ اور نوٹس جیب میں رکھے اور نیوبری پارک اسٹیشن کی راہ لی وہاں سے سینٹرل لائن پر سٹریٹفرڈ اسٹیشن پہنچے۔


یہ سٹریٹفرڈ وہی علاقہ ہے جہاں 2012 کے لندن اولمپکس کے مقابلے منعقد ہوئے اولمپک اسٹیڈیم اسٹیشن کے بالکل ساتھ ہی ہے۔ اس کے علاوہ ہم عامیوں میں یہاں کی خاص بات ہے سٹریٹفرڈ لائبریری جو کہ بقول ہمارے سابق روم میٹ “جمال دہلوی” (اصل نام راز رکھا جا رہا ہے) کے اس لائبریری میں پڑھ کر آج تک کوئی پاس نہیں ہو سکا۔ خیر اس بات کی تصدیق میں نہیں کر سکتا کیوں کہ میں نیوپورٹ سینٹرل لائبریری میں بیٹھ کر پڑھنے والا غریب آدمی کیا جانوں لندن کی لائبریریوں کی تاثیریں۔ خیر یہ اسٹیشن بھی کسی خاص جگہ سے کم نہیں اتنا بڑا ہے کہ اپنے اسلام آباد کے ہوائی اڈے کو شرما دے مصنف بذات خود دو ایک بار اس میں گم ہو چکا ہے اور عقل مت کھو چکا ہے کہ جانا کدر نو سی۔

ٹیولپ اسٹیرز، کوئین ہاؤس، گرین ایچ۔ لندن۔
اسٹریٹفرڈ سے جوبلی لائن پکڑی اور نارتھ گرین ایچ اسٹیشن پہنچے۔ اگر آپ کو ڈبلیو ڈبلیو ای کی ریسلنگ دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے تو جب لندن میں ڈبلیو ڈبلیو ای جس او ٹو ارینا میں ہوتی ہے وہ اسی اسٹیشن کے ساتھ واقع ہے۔ خیر او ٹو کی رونق شام میں ہوتی ہے لہذا ہم نے بس کے اڈے کی راہ لی اور ایک عدد بس مس کر دی اپنے سیانے پن میں کہ اس کا نمبر وہ نہیں جو نیٹ پر دیکھا تھا۔ خیر دس منٹ بعد اگلی بس آ گئی اور اس میں سوار ہو گئے۔ یہ بھی لندن کے کمالات میں سے ایک ہے کہ یہاں تقریبا دس منٹ بعد دن کے وقت بس مل جایا کرتی ہے جب کہ اپنے نیوپورٹ میں گھنٹے میں ایک بار ہی بس آتی ہے، چھوٹے شہروں میں زندگی پر سکون تو ہوتی ہے لیکن اس قسم کے چند مسائل ضرور رہتے ہیں کہ جیسے ٹرانسپورٹ وغیرہ۔

 ہماری منزل گرین ایچ کا علاقہ تھا ہمارا مرحوم دفتر بھی اسی علاقے کے مضافات میں واقع تھا۔ گرین ایچ دریا کے چینل کے کنارے واقع ہے اور تاریخی اعتبار سے بحریہ کے لئے کافی خدمات دے چکا ہے ان خدمات کا اعتراف یہاں آج بھی موجود نیوی کا وار کالج، اور یہاں موجود نیشنل میری ٹائم عجائب گھر کرتے ہیں۔

رائل گرین ایچ نیول کالج، لندن

گرین ایچ کے علاقے میں مصنف کتے کھسی کرتے ہوئے
یہ تمام عمارات ساتھ ساتھ ہیں تو زیادہ خجل نہ ہونا پڑا اور کوئین ہاؤس کے سامنے ہم بس سے اتر آئے۔ کوئین ہاؤس میں گھسنے سے پہلے ہم نے نیوی کے کالج اور ہسپتال کی عمارت کا جائزہ لیا تو سمجھ میں آیا کہ جو دفتر کی کھڑکی سے دو عدد گمبد نما چیزیں نظر آتی تھیں وہ کیا بلا تھیں۔ اس ونڈو سائٹ سینگ سے فارغ ہو کر مصنف کوئین ہاؤس میں داخل ہوا۔
مصنف کوئین ہاؤس جاتے ہوئے۔
 کوئین ہاؤس کے نام سے یہی لگتا ہے کہ ملکہ یہاں رہتی ہو گی لیکن اس قسم کے کوئی بھی اثرات نہ ملے ہاں البتہ کوئین کا بیڈ چیمبر ضرور تھا اور اس کی چھت پر پینٹنگ وہی والی تھی کہ جن کے بارے میں مصنف کہتا ہے کہ اگر یہ پاکستان میں ہوں اور ان میں جان ڈل جائے تو یہ سب حدود کے کیس میں دھر لئے جائیں گے۔ کوین ہاؤس ایک عجائب گھر ہے جہاں شاہی خاندان کے چند تاریخی افراد کے پینٹ شدہ پورٹریٹ پڑے ہیں انہی پورٹریٹس میں سے ایک کو دیکھ کر 
مصنف کو 848واں کرش ہو گیا وہ پورٹریٹ تھا لیڈی ہیملٹن کا۔

مصنف کا کرش نمبر 848

 اس کے علاوہ وہاں کا بگ روم خاصہ کھلا روشن لیکن اتنا ہی ڈپریسو معلوم ہوا ہاں البتہ بحریہ کے حوالے سے وہاں چند شاندار پینٹنگز موجود تھیں۔ مصنف کو فن مصوری کا زیادہ تو نہیں پتا بس ہمیں دو ہی طرح کی پینٹنگز اچھی لگتی ہیں ایک وہ کہ جس میں بارش ہو رہی ہو یا پھر وہ کہ جس میں پرانے وقتوں کا بحری جہاز ہو۔ یہاں مصنف کے مطلب کے کافی فن پارے موجود تھے۔ لیکن پورے کوئین ہاؤس میں سب سے خوبصورت شے وہاں کی ٹیولپ اسٹیئرز ہی لگیں یا پھر کنگز پریزنس چیمبر۔

کنگز پریزنس چیمبر

کوئین ۔۔۔۔ اللہ جانے کون سے والی

باہر نکلنے کے بعد کوئین ہاؤس کے ساتھ ہی واقع نیشنل میری ٹائم عجایب گھر پہنچے۔ کوئین ہاؤس اندر سے جتنا بے رونق اور ڈیپریسو لگا یہ عجائب گھر اتنا ہے جاندار تھا وجہ وہی تھی کہ اس میں چہل پہل تھی جس نے اس میں جان ڈال دی ورنہ عمارتیں تو سب اینٹ پتھر کی ہی ہوا کرتی ہیں۔ عجائب گھر میں بحریہ کے حوالے سے کئی شاندار نوادرات پڑے ہوئے ہیں اس کے علاوہ تاریخ اور بحریہ کے حوالے سے بہت ساری معلومات اس عجائب گھر سے مل جاتی ہیں۔ وہاں جا کر خاص کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے سیکشن میں جا کر اپنے میٹرک کے زمانے میں سکول کے “بیٹل آن دی بورڈ” مقابلے کے پہلے دن کی ہدایات یاد آ گئیں کہ جب اس کھیل کے منظم ہارون گیلانی صاحب نے کہا کہ “آج بھی دنیا پر وہی حکومت کرتا ہے جس کا سمندر پر کنٹرول مضبوط ہو”۔ اس بات کی صداقت کا اندازہ تب ہی ہو گیا تھا جب پاکستان اور انگلستان کے درمیان موجود سمندری راستے کی لمبائی چوڑائی ایک عدد گلوب میں دیکھی اور اپنے بڑوں کی نا اہلی پر رونا آیا کہ اتنی دور سے آنے والے کے ہاتھوں مات کھا بیٹھے۔ بات پھر سمندر پر گرفت کی ہے تب گورا صاحب کی تھی خیر اب بھی گورا صاحب کی ہی ہے۔

گورا صاحب نے کہاں سے کیا لوٹا
لو جی مصنف یہی سمجھتا تھا کہ برسٹل صرف اس شہر کا نام ہے جہاں اس کی یونیورسٹی ہے یہ تو اب پتا چلا کہ پیرس اور وینس کی طرح یہ بھی کسی بی بی کا نام ہے۔
رائل براج
ایسٹ انڈیا کمپنی کے سیکشن میں جہاں کمپنی کی کامیابیوں اور کارناموں کی داستان رقم تھی وہاں حیرت انگیز اتفاق ایک جانی پہچانی شخصیت سے ملاقات کی صورت میں ہوا۔ وہ شخصیت تھی ٹیپو سلطان کی جو وہاں ایک مجسمے کی شکل میں اپنی کہانی کے ساتھ موجود ہے۔ انسان کو ویسے ہونا ایسا ہی چاہیے کہ دشمن بھی اس کی تعریف کریں یہاں ایک اور پرانی ٹیچر کی بات یاد آ گئی کہ “گھر والے تو آپ کی تعریف کرتے ہی ہیں کامیابی یہ ہے کہ باہر والے بھی آپ کی شرافت و لیاقت کی گواہی دیں۔” اب مصنف پر پہلی بات ہی صادق نہیں آتی کیا کسی باہر والے کو گواہ بنا مزید ذلیل ہونا۔

دی بگ میپ

رائل میری ٹائم میوزیم میں ٹیپو سلطان
اپنا چاچا ایڈمرل سر ویلیئم سڈنی سمتھ اور ہمنواء
اسی عجائب گھر میں ایک عدد لائبریری بھی واقع ہے۔ سائیرڈ لائبریری میں ایک لاکھ چھپی ہوئی کتب، 12 ہزار نایاب کتب، 80 ہزار نقشے و چارٹس، کے علاوہ 12 ہزار سے زائد لائنر میٹر کا سامان موجود تھا۔

ویلیم پنجم – یہ مجسمہ پہلے کنگ ویلیم اسٹریٹ سٹی آف لندن میں تھا 1936 میں گرین ایچ منتقل کیا گیا ادھر چاچے کو تنگ گلی میں گرمی لگتی تھی

عجائب گھر سے باہر نکلیں تو ساتھ ہی گرین ایچ پارک موجود ہے دن کے اس وقت پارک میں انسان کم اور کتے زیادہ پائے جاتے ہیں لہذا ہم نے پارک جانے سے گریز کی۔ ویسے یہ بھی عجیب لوگ ہیں اپنی اولاد سے زیادہ اپنے کتوں کی قدر کرتے ہیں جتنی خدمت اس بے زبان کی کرتے ہیں اتنی اپنے والدین کی کریں 
تو شائد اگلا جہاں کچھ آسان ہو جائے۔

گرین ایچ پارک کا صدر دروازہ

کٹی سارک
مصنف کا تقریبا کرش نمبر 849
یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات کا دلچسپ اشتہار
یہاں سے اگلی منزل تھی کٹی سارک کا ڈی ایل آر اسٹیشن، ڈی ایل آر یعنی ڈاک لائین لائیٹ ریلوے، یہ لندن کی ٹرانسپورٹ میں ایک نیا اضافہ ہے جو کہ قدرے سست رفتار ہے ہئ لیکن گھاٹ کے ساتھ ساتھ اور زمین کے اوپر چلنے کی وجہ سے آپ کو بور نہیں کرتی کہ آپ کھڑکی سے باہر دیکھ کر وقت ماری کر سکتے ہو۔ مجھے اس اسٹیشن کی وجہ تسمیہ کا کچھ علم نہیں تھا اور اس کا اندازہ راستے میں ہوا جب مصنف کا سامنا کٹی سارک نامی بحری جہاز سے ہوا۔ یہ مصنف کی زندگی کا پہلا واقع تھا کہ جس میں اس نے بحری جہاز کو اتنے قریب سے دیکھا۔ مصنف کی حالت وہی تھی جو کسی بچے کو ہیلی کاپٹر ملنے پر ہوتی ہے۔ اسٹیشن کی جانب رواں دواں تھے کے مصنف کو کرش نمبر 849 ہو گیا اور اس بار اس کی وجہ پرنسس لوئیس کی پینٹنگ بنا۔ خیر ڈی ایل آر اسٹیشن پہنچے اور بینک کے اسٹیشن کی راہ لی تحریر طول پکڑ چکی ہے لہذا باقی آئندہ۔۔۔۔

امید کی جاتی ہے کہ مصنف کی اپنی بکواس اگر کم رہی تو اگلے حصے میں برٹش میوزیم، سائینس میوزیم، ہیرڈز، سیلون اسکوئیر، کینزنگٹن گارڈنز اور پردیسی بھائی سے ملاقات کا احوال لکھا جائے گا پڑھ کر ثواب دارین حاصل کریں شکریہ۔ 
Advertisements

3 Comments

Filed under الوداع لندن

3 responses to “الوداع لندن حصہ دوم

  1. بہت اعلی سفرنامہ ۔۔اور اچھا انداز بیاں

  2. Bohat hi detailed aur zabrdast Safrnama ltahreer kia hai aapnay,,London kay trip pay aap ka safarnama print kar kay sath lay lay jana chahyay kub kaun si train,kaub si bus leni hai,sub ki detail mojood hai ,likhtay rahen aur alfaz ka jaddu jagatay rahen.

  3. زبردست تحریر۔ ۔ ۔ سفر میں اتنی حاضردماغی ۔ ۔ ۔ اور شگفتہ اندازبیان۔ ۔ ۔ خوش رہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s