الوداع لندن – حصہ اول

لندن کے تھکا دینے والے دن کے بعد شام کا ایک منظر (ریجنٹ پارک، لندن)۔

اب سے چند ماہ پہلے جب میری نوکری چلی گئی تھی تو زندگی اتنی ہی اندھیری معلوم ہوتی تھی کی جتنی کہ ایک کیمرہ پرنٹ والی فلم، اس شہر سے اور وہاں کے لوگوں سے دل ایسا برا ہوا کہ لوٹ کے بدھو لاہور کو آنے سے پہلے صبح کا بھولا نیوپورٹ واپس جا پہنچا کہ اس ملک میں قیام کی اپنی شام یہاں بسر کی جاوے۔ نیوپورٹ نے اس بار بھی کمال شفقت اور مہمان نوازی کی لیکن دل کے منہ کو لندن لگ چکا تھا سو واپس پاکستان جانے سے پہلے ایک بار اسے الوداع کہنا ضروری محسوس ہو رہا تھا۔ ویسے بھی مصنف نے آنے سے پہلے “تیری گلیوں میں نہ رکھیں گے قدم آج کے بعد” قسم کی کوئی حرکت نہیں کی تھی لہذا جون کے آخری ہفتے کی ایک صبح سویرے نیوپورٹ کے بس اڈے پر جا بیٹھے۔


 اس بار ارادہ تھا باقاعدہ آوارہ قسم کا سفر و تفریح کرنے کا لہذا اپنے چھوٹے سے بستے میں اپنی ڈائیری لیپ ٹاپ لندن کی زیر
وکٹوریہ کوچ اسٹیشن پر مختف زبانوں میں لکھا ہوا “لندن میں خوش آمدید”

زمین ٹرین کا نقشہ پانی کی بوتل رکھی اب ہم میر کارواں تو ہیں نہیں کہ ہمیں نگاہ بلند اور سخن دلنواز جیسی چیزوں کی ضرورت پیش آتی ویسے بھی اللہ جانتا ہے ان الفاظ سے مراد کیا ہے یہ آج تک مصنف کے پلے نہ پڑی۔ بس کے آنے میں وقت تھا اور ہم بس اڈے کے اکلوتے بینچ پر بیٹھے فون میں اگلیاں دینے میں مشغول تھے کہ ایک بڑی عمر کی خاتون اپنے سامان کے ساتھ اسی جگہ آن کھڑی ہوئیں۔ ویسے تو ہم بلا کے بد تمیز و نا ہنجار ہیں لیکن نہ جانے کس وجہ سے بینچ سے اٹھک کھڑے ہوئے اور خاتون کو بیٹھنے کے لئے کہا۔ خاتون نے بیٹھتے ہی جو کہا اس کی کم از کم مجھے امید نہیں تھی کہ آج تک ہمارے گھر والوں نے کبھی ہمارے حسن سلوک کی تعریف نہ کی کجا کہ ایک پرائے ملک میں ایک انجان خاتون وہ بھی جنکا یہ اپنا ملک ہے ہمیں یہ کہتی کہ “دیٹس ویری جینٹلمین لائک، وی ڈونٹ ہیو مینی جینٹلمین لیفٹ دیز ڈیز”۔ اگر سمجھ نہیں آئی تو سر نہ کھپائیں اور نہ ہی ہم سے ترجمے کے لئے اسرار کریں کہ بس آ گئی ہے اور ہمیں پوری توجہ سے بس پکڑ لینے دیں۔ بس میں بیٹھنے کے بعد اور چاچے ڈرائیور کی رسمی باتیں اور اعلانات سننے کے بعد ہم نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا تاکہ جو فلمیں راستے کے لئے رکھی ہیں وہ دیکھی جا سکیں۔


نائیک ٹاؤن، آکسفورڈ اسٹریٹ۔ لندن
انسان کے حق میں بہتر ہے کہ اس کو اس کے کئے کی سزا دنیا میں ہی مل جائے کہ جو دکھ تکلیف ہونی ہے وہ یہیں ہو جائے تاکہ اگلا جہاں آسان ہو۔ مجھے جو تکلیف ہوئی اس کا درد تو ہے لیکن ایک طرح کی خوشی بھی ہے کہ سزا اسی دنیا میں مل گئی۔ جو فلمیں میں نے راستے میں دیکھیں وہ اتنی بکواس تھیں کہ مجھے یہی لگا کہ میرے چند گناہوں کی سزا میری دیکھنے اور سننے کی حس پر طاری ہے۔ فلموں کا نام میں نہیں بتاؤں گا لیکن ساجد خان اس قسم کی فلم بنانے اور پھر اسے کامیڈی کہہ کر پرموٹ کرنے پر تمہیں “جنتا معاف نہیں کرے گی”۔

صبح قریب ساڑھے دس بجے بس لندن کے وکٹوریہ بس اڈے پر پہنچی بس سے نکلنے کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے کہ یا تو اس سامان سمیت کہ جس میں آدھا ہمارے سابق روم میٹ رحمت اللہ علیہ کا تھا لندن کھجل کیا جائے یا پھر مرحومہ 124 آلڈبرو روڈ چلا جائے کہ جہاں ہمارا ایام لندن میں قیام تھا اور اب بھی شب بسری کا وہیں ارادہ تھا۔ دوسری ترکیب خاصی منہ متھے لگتی معلوم ہوئی اور ہم چل دیئے وکٹوریہ کے ٹرین اسٹیشن کی جانب کے جس کے ساتھ ہی وکٹوریہ کا زیر زمین ریل کا اسٹیشن بھی تھا۔

وکٹوریہ انڈر گراؤنڈ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹائلوں نے بنا ملکہ وکٹوریہ المشہور گرینڈ ما آف یورپ کا عکس

 وکٹوریہ وہی اسٹیشن ہے کہ جہاں پر ‘دل والے دلہنیا لے جائیں گے’ کے لندن اسٹیشن والے سین فلم بند کئے گئے تھے۔ ویسے

برٹانیہ کو مجسمہ لفظ برطانیہ اسی کی تبدیل شدہ شکل ہے

آج تک سمجھ نہ آیا کہ اس سین میں آس باس اتنا رش کیوں نہ تھا ورنہ مجھے تو وکٹوریہ کا اسٹیشن ہمیشہ ایسے ہی لگا کہ یا تو ساری دنیا لندن پہنچ رہی ہے یا پھر واپس جا رہی ہے۔ ہمیشہ یہ کہہ کر دل کو تسلی دی کہ میاں ہو سکتا ہے 1995 میں لندن کی آباد بہت ہی کم ہو۔ خیر ڈسٹرکٹ لائن کی ٹرین پکڑی اور راہ لی نیوبری پارک کی۔ اپنی سابقہ رہائش گاہ پہنچے سامان رکھا فاتحہ پڑھی اور لیپ ٹاپ کھول کر نقشوں اور جن جن جگہوں پر جانا تھا ان کے نوٹس بنانے لگے۔ انٹرنیٹ پر سارا لندن گھوم لینے کے بعد ہم نے اپنا فون ڈائیری قلم اور نقشہ سنبھالا اور چل دیئے لندن فتح کرنے۔


صبح سے چونکہ مصنف کا گزارہ پانی پر تھا تو لندن گردی کا آغاز سوچا کچھ کھا پی کر کیا جائے، یہاں میں ایک وضاحت کرنا چاہوں گا کہ اگر اس سفرنامے میں آپ سوچ رہے ہیں کہ لندن کی تاریخ اور وجہ تسمیہ کا ذکر ہوگا تو آپ سے گزارش ہے کہ وہ ابھی وکی پیڈیا پر پڑھ لیں۔ اور یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ اس میں آپ کو نہ تو بکنگم پیلس کے بارے میں پڑھنے کو ملے گا، نہ ٹاور آف لندن، نہ ونڈسر کاسل، نہ ٹیمز کے پل، اور نہ ہی لندن آئی ان کے بارے میں جاننے کے لئے آپ لندن پر بنی  کوئی دستاویزی فلم دیکھ لیں۔

کاٹھی رول کمپنی، لندن۔
کاٹھی رول کمپنی، لندن۔
نیوبری پارک سے سینٹرل لائن پکڑی اور آکسفورڈ سرکس کو چل دیئے آکسفورڈ سرکس اسٹیشن سے باہر نکلے تو سامنے نائیک ٹاؤن تھا، یہ لندن بلکہ برطانیہ میں نائیک کا سب سے بڑا فلیگ شپ اسٹور ہے ونڈو شاپنگ کرتے ہوئے اچانک انگلستان کی فٹبال کٹ پر نظر پڑی تو دل میں خیال آیا کہ امبرو اچھا خاصہ چل رہا تھا یہ نائیک کی کٹ انگلستان کی ٹیم کو راس نہ آئی۔ اس وقت آکسفورڈ اسٹریٹ کا جو عالم تھا اس سے یہی معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا میں بس ایک ہی کام ہے اور وہ ہے شاپنگ کرنا ہر کوئی یا تو کسی دکان میں داخل ہو رہا تھا یا پھر باہر آ رہا تھا جو سڑک پر چل پھر رہے تھے ان کے بھی ہاتھ میں رنگ برنگے “شاپر” تھے جو ان کی کارستانیوں کی داستان کہہ رہے تھے۔ لندن میں باقیوں کا تو پتہ نہیں لیکن میں کم از کم ان شاپنگ بیگوں سے لوگوں کی معاشی حالت کا اندازہ لگاتا ہوں اگر شاپنگ بیگ سیلفرجز کا ہے تو سمجھ لو کہ اگلا بندہ کافی سوکھا ہے، مارکس اینڈ سپینسرز کا بیگ ہائیر مڈل کلاس اور اگر پرائم مارک کا بیگ ہو تو سمجھ لیں کہ یہ بھی “قناعت پسند” ہے۔ 

خیر میرا لینا دینا خریداری سے بالکل نہیں ویسے بھی مصنف کے نزدیک شیو کرنے اور کپڑے استری کرنے کے بعد دنیا کا فضول ترین کا شاپنگ کرنا ہے۔ مصنف کی منزل تھی دی کاٹھی رول کمپنی کا سٹور جو کہ پولینڈ اسٹریٹ میں واقع ہے۔ گھر سے چلنے سے پہلے کاٹھی رول کمپنی کی ویب سائٹدیکھی تاکہ پتہ دیکھ اسے نقشے میں نوٹ کیا جاسکے۔ ویب سائٹ بہت ہی دلچسپ اور قبل دید ہے ایک لفظ میں اسے ونٹج کہا جا سکتا ہے۔ دکان بھی بڑی دلچسپ تھی جگہ جگہ لگے ہاتھ سے بنے فلمی پوسٹر دیواروں پر نارنجی رنگ، اور ٹین کی چھت سے ٹنگے بلب۔ خاصہ صاف ستھرا ماحول تھا جو کہ اکثر دیسی دکانوں پر دیکھنے کو نہیں ملتا مصنف نے بھی چکن تکہ انڈا رول خریدا اور پینے کو مصالحہ چائے لی اور لگ گئے پیٹ پوجا 
کرنے اور دن کا ایجنڈا دیکھنے۔

سیلفریجز کے مرکزی دروازے پر لگا مجسمہ
کھانے سے فارغ ہو کر سب سے پہلے مارلےبون چہل قدمی کا ارادہ تھا لیکن یہ پروگرام ٹکڑوں میں ہوا سب سے پہلے سیلفرجز اسٹور جا گھسے اب ایک تو وہاں سے لینا کچھ نہیں تھا دوسرا ویسے ہی اتنی مہنگی جگہ جا کر عجیب سی کیفیت ہوتی ہے کہ یا تو انسان کے پاس بہت سارے پیسے ہوں یا پھر بالکل ہی نہ ہوں یہ جو درمیان کی ملک شیک حالت ہے یہ بہت تنگ کرتی ہے۔ جس دروازے سے داخل ہوئے سامنے کاسمیٹنکس سیکشن تھا اب وہاں ہمارے مطلب کی کوئی چیز تو تھی نہیں لیکن پھر بھی مصنف خاصہ فریش فریش محسوس کرنے لگا اس سیکشن سے گزرنے کے بعد، تقریبا تمام تر سیکشن گھومے لیکن ککھ سمجھ نہ آئی کہ اس نظری خریداری کا حاصل کیا ہے جب اپنی غربت کا احساس شدت پکڑنے لگا ہم واپس باہر آکسفورڈ اسٹریٹ پر تھے۔
سیلفریجز کے ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پڑا فٹ بال ورلڈ کپ کا ماڈل
آکسفورڈ اسٹریٹ میں ہمارا استقبال اس گھوری نے کیا

اب ہماری اگلی منزل ریجنٹ اسٹریٹ پر واقع لندن کی سب سے بہترین کھلونوں کی دکان تھی۔ ہیملیز میں گھستے ہی لگا کہ یہ ایک الگ دنیا ہے چار منزلہ دکان جو طرح طرح کے کھلونوں سے بھری ہوئی تھی۔ یہ غالبا انگلستان کی قدیم ترین کھلونوں کی دکان ہے جو اب بھی فعال ہے اور یہ دکان اٹھارویں صدی سے موجود ہے اور اب باقاعدہ چین کی شکل میں ہر بڑے شہر میں موجود ہے۔

لیگو سے بنی شاہی فیملی
 مصنف کی شخصیت میں موجود بچوں والا پہلو ابھی زندہ ہے اس بات کا احساس اس دکان پر جا کر ہوا جب ہر  کھلونا ہماری توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ جہاں سوچا تھا کی صرف پانچ دس منٹ گزاروں گا وہیں تقریبان آدھ گھنٹا اسی دکان میں گھومتا رہا۔ وہاں سے نکلنے کے بعد اگلی منزل تھی واٹر اسٹون پکاڈلی تھی۔ واٹر سٹون کی یہ دوکان یورپ میں سب سے بڑی کتابوں کی دکان ہے اپنے ہجم کے حساب سے تو سیلفریجز سے کچھ ہی چھوٹی ہے لیکن وہاں بس اکا دکا لوگ ہی تھے جبکہ سیلفریجز میں خاصی چہل پہل تھی۔ مجھے چار بجے سے پہلے ایک جگہ پہنچنا تھا اس کے لئے ہم صراط مستقیم پر چلتے ہوئے پکاڈلی سرکس پہنچے، یہ بھی ایک مشہور چوراہا ہے جو کہ لندن میں بنی تقریبا ہر فلم میں نظر آتا ہے۔


ہوش ربا قسم کی قیمتوں والے قلم

سامان برائے لترول

پکاڈلی سرکس کا گول چکر

مصف پکاڈلی سرکس میں

لندن میں واقع یورپ کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان


پکاڈلی سرکس سے ہم نے بیکرلولائن پکڑی اور بیکر اسٹریٹ پہنچے، بیکر اسٹریٹ لندن کا پہلا زیر زمین ٹیوب اسٹیشن تھا۔ بیکر اسٹریٹ شرلاک ہولمز کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے کیونکہ کہانی میں شرلاک کے گھر کا پتہ 221 بی بیکر اسٹریٹ ہے جو کہ دنیا کا سب سے مشہور پتہ ہے اسٹیشن سے باہر آتے ہی آپ کو سامنے شرلاک ہولمز کا ایک لمبا چوڑا 
مجسمہ دیکھنے کو ملے گا جس میں شرلاک مزے سے پائپ پیتے ہوئے آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہا ہے۔
دی گریٹ ڈیٹیکٹیو

 ہماری منزل اس مجسمے سے کچھ آگے مادام تساوت کا عجائب گھرتھا جس کی سہہ پہر چار بجے والی اینٹری کی ٹکٹ ہم نے
مادام تساؤت کا عجائب گھر، لندن۔

بک کر رکھی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ چار بجے یا اس کے بعد ٹکٹ سستی ہو جاتی ہے۔ 30 پاؤنڈ والی ٹکٹ 22 کی مل گئی تھی۔ یہ ایک دلچسپ تجربہ تھا بعض مجسمے بہت ہی شاندار بنے ہوئے تھے جبکہ وہ مجسمے جن کے پاس سب سے زیادہ رش تھا وہ مجھے بس خانہ پوری پروگرام ہی لگا یانی بالی وڈ سیکشن۔ جو مجسمہ مجھے سب سے زیادہ پسند آیا وہ پکاسو کا مجسمہ تھا۔ یہ عجائب گھر مختلف حصوں میں ہے سب سے پہلا حصہ مومی مجسموں کا ہے اگلے حصہ میں لندن کی تاریخ کی سیر کرائی جاتی ہے۔ لندن کی مشہور بلیک کیب کی شکل میں ٹرین بنی ہوتی ہے جو کہ لندن کی 400 سالہ تاریخ کے سفر پر لے جاتی ہے کہ ملکہ الزبتھ اول کے دور سے شروع ہوتا ہے لندن کا عظیم قحط، لندن کی آگ، عظیم جنگوں کے ادوار سے گزر کر آج کے لندن پر آ کر سفر ختم ہوتا ہے۔ اگلا حصہ اپنی طرف سے انہوں نے ڈراؤنہ بنایا ہوا تھا یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ اپنے لاہور کے سوزو واٹر پارک کا بھوت بنگلہ فرق صرف اتنا تھا کہ اس میں اچانک سے آ کر ڈرانے والے جیتے جاگتے انسان تھے۔ آخری حصہ مارول کامک کا ہے جس میں مارول کامک کے کرداروں کے مجسمے موجود ہیں اور ایک عدد فور ڈی فلم دکھائی جاتی ہے جس میں اسپائیڈر مین، وولورین، آئرن مین اور ہلک لندن کو ایک حملے سے بچاتے ہیں۔

اؤڈرے ہیپ برن کا مجسمہ جس کو مصنف بڑی دیر تک تاکتا رہا

سر ایلفرڈ ہچکاک بچے ڈراتے ہوئے

مصنف اپنے پسندیدہ بلے باز کے ساتھ

ویلز سے آیا ہوا مصنف پرنسس آف ویلز (لیڈی ڈیانا) کے ساتھ
  یہ ایک عمدہ تجربہ تھا مادام تساؤت کا یہ عجائب گھر یقینا فلمی و شو بز شخصیات کے مجسموں کے لئے مشہور ہے لیکن یہ صرف اس تک ہی محدود نہیں سائینس، ادب، فن، میں کام کرنے والوں کے مجسموں کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی حکومتی تاریخ کے کرداروں کے بھی مجسمے موجود ہیں۔ ہاں رش اور رونق شوبز کھیل اور فلم وغیرہ کے مجسموں کے گرد ہوتی ہے لیکن اس عجائب گھر کی کاوش کہ جنہوں نے اہم کام کئے ان کو اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کرنے کا انداز خاصہ قابل تحسین ہے۔ باقی چارلس ڈکنز، آسکر وائیلڈ، اور شیکسپیئر کے مجسمے دیکھ ایک احساس سا ہوا کہ اگر ان کا تعلق برطانیہ کی بجائے پاکستان سے ہوتا تو ان لوگوں کو پڑھنا یا یاد کرنا اتنا ہی آؤٹ آف فیشن ہوتا کہ جتنا اپنے وارث شاہ اور میاں محمد بخش وغیرہ کو۔

مصنف کو یہ گماں سا ہو گیا کہ آسکر وائیلڈ کی شکل مصنف جیسی ہے

میڈم ٹساؤٹ بقلم خود
پکاسو، میری رائے میں سب سے زبردست مجسمہ
کیونکہ مصنف خود بڑا فنکار ہے

واحد پاکستانی شخصیت کا مجسمہ۔۔۔ بیکاز آئی واز ریزڈ ایز جیالہ

مصنف اولین جیمز بانڈ شین کانری کے ساتھ
اب چونکہ شام ہو رہی تھی لہذا دن کی باقی کاروئیاں مکمل کرنی تھیں۔ اب اگلی منزل مارلے بون ہائی اسٹریٹ اور اس میں واقع

مارے بون ھائی اسٹریٹ

ڈانٹ بک شاپ تھی۔ مارلے بون کی ہائی اسٹریٹ تھی تو باقی ہائی اسٹریٹس جیسی لیکن لندن کے وسط میں اتنی خاموش اور پر سکون ہائی اسٹریٹ ایک دلچسپ چیز تھی لیکن حیران کن نہیں کہ جب تمام تر رش آکسفورڈ اسٹریٹ پر طاری ہو تو اس چھوٹی سی اسٹریٹ کو کون پوچھتا ہے۔ ڈانٹ بک ایک چھوٹی مگر قابل دید دکان تھی ویسے بھی اگر آپ مارلے بون کے علاقے میں گھوم رہے ہوں اور آپ نے اس دکان کو نہ دیکھا تو آپ کی مارلے بون کی آوارہ گردی نامکمل ہے۔ اس دکان میں کتب ممالک کے نام سے لگائی گئی ہیں۔ ہندوستانی لکھاریوں کی کتابوں کے مقابلے میں پاکستانی لکھاریوں کی کتابوں کی تعداد نہایت ہی کم تھی۔ تھوڑا عجیب لگا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں سے بے شمار کام انگریزی میں لکھا گیا ہے اور لوگ بھی اکثر گلا کرتے ہیں کہ انگریزی پر زور زیادہ ہے  مگر پھر بھی سارا خانہ کل ایک فٹ چوڑا تھا۔ ایک تھوڑی سی خوشی بھی ہوئی کہ وہاں موجود کتابوں میں سے اکثریت میں پڑھ چکا ہوں۔ جب وہاں سے باہر آنے کو مڑنے لگا تو دیکھا کہ پاکستان کے خانے کے عین سامنے اسرائیل کا خانہ تھا۔ مسکرا کر گردن جھٹکی اور اسے بھی یہودی سازش قرار دے کر باہر نکل آئے۔




ڈانٹ بک شاپ کا اندرونی منظر

دی گارڈن آف ریسٹ، مارلےبون، لندن۔

شام کے وقت پروگرام میں خاص طور پر ریجنٹ پارک شامل کیا تھا۔ وہاں جاتے ہی ایک احساس نے آ لیا کہ کون کہتا ہے

ریجنٹ پارک میں لگے بل دار درخت

 کہ لندن میں بہت سٹریس ہے لندن تو بھائی خاصی پر سکون جگہ ہے۔ ایک جانب جھیل بہہ رہی تھی تو دوسری جانب گھاس پر لوگ دراز ہوئے پڑے تھے کوئی کتاب پڑھ رھا تھا تو کوئی ورزش کر رہا تھا کوئی بس یوں ہی لیٹا “چل” فرما رھا تھا۔ ریجنٹ پارک بھی لندن کے ان باغوں میں سے ہے کہ جن کو شاہی باغ کا درجہ حاصل ہے۔ اس باغ ہی میں ایک شاہی اوپن تھیٹر موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریجنٹ مسجد اور اسلامی سینٹر واقع ہے جو کہ لندن کی بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔  اسی پارک کی ایک جانب کوئین گارڈن ہے اب اسے کوئین گارڈن کیوں کہتے ہیں یہ تو پتہ نہیں لیکن اس میں پھول بوٹے کافی خوبصورت لگے ہوئے تھے۔ پارک سے واپس آنے کا سوچا تو پتہ چلا کہ ہم راستہ بھول چکے ہیں اوپر سے ایک سابق ہاؤس میٹ کا میسج آنے لگا کہ جو کھانے پر میرا انتظار کر رہا تھا اور میری وجہ سے اپنا ایک پروگرام کینسل کر چکا تھا۔ اور مجھے گھر جلدی بلانے کے لئے طرح طرح کی پر کشش آفرز کر رہا تھا کہ جس میں سے ایک یہ تھی کہ “جلدی آ عامر بھائی “حلال ووڈکا” لے کر آئے ہیں”۔ اب اس دعوت کی حقیقت کا تو ہمیں اندازہ تھا لیکن ویسے ایک خیال آیا کہ جہاں آلو کی بنی تمام حلال اشیاء چھک لی ہیں وہاں یہ بھی سہی۔


ریجنٹ  مسجد کا مینار
گھر پہنچے تو پینے کو صرف چائے ملی اور دیکھنے کو چند سر درد افزا مہمان اور ان کی کاروباری گفتگو۔ کئی گھنٹوں بعد جب مہمان جا چکے تو پیزا آرڈر کیا گیا تب تک ہمارے سابق روم میٹ رحمت اللہ علیہ بھی اپنا سامان لینے پہنچ چکے تھے۔ کھانے کی میز پر بحث کا موضوع تھا منشیات۔ پارٹی ڈرگز کے استعمال اور ان کے نقائص پر سیر حاصل بحث ہوئی جو کہ مائکل جارڈن کے کھیل کے تجزیہ پر ختم ہوئی۔ دیر رات جب نشست برخاصت ہوئی تو مصنف اگلے دن کا پلان بناتے بناتے سو گیا۔
ریجنٹ پارک جھیل، لندن۔
اگلے دن جب آنکھ کھلی تو ارادہ صبح ہی گھر سے نکل جانے کا تھا مگر وہ ارادہ ہی کیا جو وفا ہوا۔۔۔ (جاری ہے!)

اگلے حصہ میں گرینایچ کی آوارہ گردی، برٹش اور سائینس میوزیم ، کینزنگٹن گارڈن اور پردیسی بھائی سے ملاقات کا احوال ہو گا۔
Advertisements

11 Comments

Filed under الوداع لندن

11 responses to “الوداع لندن – حصہ اول

  1. تصاویر کے کیپشن پڑھ کر “بھی” بہت مزا آیا :ڈ

  2. boht he khoobsurat tehreer. straight from the heart and your love for London is visible along with the greater love or understanding of the fact that it is time to go back

  3. بہت اعلیٰ۔ بہت ہی دلچسپ سفرنامہ لکھا آپ نے۔ خاص کر تصویروں کے کیپشن لاجواب ہیں خاص کر ’’ریزڈ ایز جیالہ‘‘ 😀
    کافی طویل تحریر ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالی، اسی سے اندازہ لگا لیں کہ کتنی پسند آئی۔ اگلی قسط کا انتظار ہے۔

  4. روزے میں اچھا ٹائم پاس کروادیا۔۔۔لیکن مصنف کا شہزادی ڈیانا سے ڈھٹائی کی حد تک چمٹنا انتہائی شرمناک لگا 😀

  5. رمضان کےمہینے میں لندن کی خوبصورت سیر وہ بھی مُفت میں ۔ موجاں ہوگیا ساڈی تے ۔

  6. مصنف کو لکھتے وقت بھی کافی مزا آیا تھا :پ

  7. well i would say that i have left a piece of heart of mine there in london perhaps after lahore and faisalabad london is the city i love a lot

  8. مجھے بھی طوالت کا اندازہ ہو گیا تھا اس لئے باقی اقساط کو کم طویل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگلی دو اقساط شائع ہو چکی ہیں

  9. اب آپ اس قسم کے الفاظ استعمال کر کے توہین مصنف کریں گے؟؟؟

  10. پرھنے کا شکریہ امید ہے اگلا حصہ بھی پسند آئے گا آپ کو۔

  11. دو باتیں۔۔۔
    ایک تو گہرے پس منظر پر سفید لکھائی۔۔ پڑھنے میں دشواری
    اور دوسری بات، فقرے چھوٹے لکھنے سے تحریر میں روانی آجاتی ہے۔
    مزے کا لکھا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s