ہم، ہمارے پیغامات اور یومِ ابا جی

کمرہ جماعت میں وہی ہڑبونگ تھی جو عام طور پر جماعت دہم میں استاد کی غیر موجودگی میں ہونی چاہیے تب ہی شاہد صاحب کمرے میں داخل ہوئے مصنف ایک عرصہ تک یہی سمجھتا رہا ہے ان کا نام شاد ہے جس کی وجہ یہ تھی کہ شاہد صاحب اپنے نام میں موجود ‘ہ’ پر زبر کے استعمال پر اصرار کرتے تھے اور اکثر شاد ہی سنائی دیتا ہے. خیر کیا رکھا ہے اردو ب کے استاد کے نام میں زیادہ دلچسپ تو وہ نام ہوتا ہے جو ہم جیسے نا ہنجار شاگرد اپنے استادوں کو دے ڈالتے ہیں لہذا روایات کے زیر اثر ہم نے انکو متھن کا نام دے رکھا تھا جس کی وجہ ان کے ماتھے کی بے جا کشادگی اور ہر جگہ اس ماتھے کو لگا دینے کا ذوق تھا۔

یہ بات زمانہ اسکول بازی کے ان ایام کا ہے کہ جن میں علم مٹی کا تیل لینے چلا جاتا ہے اور ساری توانائیاں کمر کس کے اس کام میں لگا دی جاتی ہیں کہ پانچ سالہ پیپرز کو رٹ لیا جائے علم و تعلیم کا کیا ہے ساری عمر ہوتی رہے گی میٹرک میں اچھے نمبر نہ آئے تو سکول کے نام کا کیا ہو گا اسکو چھوڑو وہ جو بینر پر ٹاپرز کا نام لکھ  کر سکول کے باہر والی سڑک پر لگایا جاتا ہے اس کا کیا بنے گا،  اور سب سے اہم بات شریکہ برادری کیا کہے گی گر اچھے کالج میں داخلہ نہ ملا تو۔

خیر اردو بے کا کوئی پاٹا پرانا پرچہ نکالا گیا اور اس میں دیے گئے سوال کے عین مطابق ہمسائے کے نام خط لکھنے کو کہا گیا تو ثاقب اسلم نے انتہائی معقول بات کہی کہ سر میں خط کیوں لکھوں دروازہ کھٹکھٹا کر بھی تو پیغام دے سکتا ہوں. سادہ بندہ تھا ثاقب بھی، جو سر کی ایک گھوری کے بعد ہی اپنے دستے پر جھک گیا. ساری جماعت رٹا رٹایا کاغذ پر الٹ رہی تھی اور مصنف اپنے ایک دوست جسکا نام تو وقاص احمد تھا ہم نے ساتھ خان کا اضافہ کر رکھا تھا کہ مصنف کا نام اتنا لمبا اور اس کے جگری کا نام بس دو لفظی. خیر اس خوبصورت نام کے علاوہ اس کا ایک واحیات سا نام بھی تھا جس کا خوبصورت ترین ترجمہ لالی پاپ پڑتا ہے اور اس نام کی وجہ داخلے کے لیے لی گئی تصویر میں خان صاحب کی بنی ہوئی شکل تھی۔

اس وقت ہم دونوں کا موڈ نہیں تھا کچھ بھی بور کام کرنے کا. وقاص اور مصنف ویسے ہی تمام اساتذہ میں بدنام تھے کہ یہ دونوں کاغذوں کا پلندہ بھر ڈالتے ہیں لیکن کام کی باتیں ان  میں کم جبکہ فکشن، لفاظی، اور گپوں کی بھرمار ہوتی ہے. مصنف اکثر بچ نکلتا تھا لیکن وقاص پکڑا جاتا تھا جذباتی سا بندہ تھا ایک بار مطالعہ پاکستان کے لئے پارلیمنٹ کے کردار پر لکھے مضمون کا اختتام ‘اور ان کو شرم بھی نہیں آتی’ پر کر بیٹھا اور پکڑا گیا۔

واپس آتے ہیں ہمسائے کے نام خط پر، واپس کیا آنا ہے جتنی دیر آپ لوگ باتوں میں لگے ہوئے تھے ہم دو چیتوں نے خط لکھ بھی ڈالا. اب اس میں ہم دو شٹلیوں نے جو لکھا وہ ہمسائے کے نام خط سے زیادہ ہمسائی کے نام خط تھا خیر ہم نے شکائتیں وہی کی جو باقی جماعت نے کی کہ پڑھائی میں خلل آتا ہے وجہ البتہ ہم نے گھر سے آنے والی موسیقی کی آواز کی بجائے کھڑکی میں آنے والی کو گردان دیا. اب خط میں ہے کیا یہ تو عام طور پر اساتذہ نہیں پڑھتے سٹرکچر دیکھا جاتا ہے وہ پاس تو خط پاس. مصنف کی کاپی تو متھن صاحب نے پاس کر دی جب باری آئی وقاص کی تو ہماری کمینی قسم کی دبی دبی ہنسی کو بھانپتے ہوئے حسن خالد نے سر سے کہا کہ سر اسکا پڑھ بھی لیں کہ اس میں ہے کیا. اگر حسن خالد صنف نازک ہوتا تو یقیناً محلے میں سیاپا کرانے والی مائی ہوتا. سر نے پڑھنا شروع کیا اور ہنسی کو قابو کرنے کی کوشش کرتے ہوئے غصہ ہونے لگے وقاص کی کاپی کے بعد دوبارہ میری کاپی دیکھی کہ ہو نہیں سکتا کہ جینگو نے جو کیا ہو وہ مینگو نے نہ کیا ہو۔

قصہ مختصر کچھ دیر میں ہم دونوں پرنسپل صاحب کے دفتر میں پائے گئے اور اصغر صاحب کی غضب ناک گھوریاں انجوائے فرما رہے تھے.  دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ سر نے آج  اپنے کیری ڈبے کا سارا غصہ ہم پر نکال دینا ہے جو کہ ہم شاگردوں سے زیادہ ناہنجار تھا۔

اکثر دیکھا ہے کہ اگر پرنسپل کسی کے والد کا واقف کار یا ہم جماعت ہو تو رعایت ملتی ہے اپنا کیس ہی عجیب تھا. اصغر صاحب نے چنگھاڑ کر کہا رائے، شاہد کا نمبر بتاؤ( یہاں شاہد سے مراد مصنف کے والد صاحب ہیں، ویسے یہ عجیب بات ہے سر مجھے یعنی اپنے شاگرد کو اسکے سر نیم سے بلاتے تھے اور اپنے ہم جماعت جو کہ ایک شاگرد کے والد بھی ہیں کو فرسٹ نیم سے بلاتے). بڑی ہی نازک صورتحال تھی لیکن سارے جہاں کی معصومیت چہرے پر یکجا کر کے کہا کہ سر نمبر مجھے یاد نہیں رہتے. سر نے اپنے کارڈ فولڈر سے والد صاحب کا وزیٹنگ کارڈ ڈھونڈ نمبر ملاتے ہوئے ایک بار ہم دونوں کی لٹکی گردنوں کو دیکھا اور فون واپس رکھ ایک ایک بید پر اکتفا کیا اور دفع ہو جانے کو کہا. اور جاتے جاتے اتنا کہہ گئے کہ بدمعاشو اچھا لکھ لیتے ہو اس کا کوئی اچھا استعمال بھی کر لینا کسی دن غلطی سے۔

یہ واقع نہیں در اصل تمہید ہے، اس پورے واقعہ میں بات کام کی وہی تھی جو ثاقب اسلم نے کہی. کل پوری دنیا فادر ڈے منانے میں مشغول تھی. مصنف کو چونکہ اس قسم کے ایام سے کچھ الرجی سی ہے لہذا سوشل میڈیا کا چکر لگانے پر پتہ چلا کہ بھئی آج تو یوم ابا جی ہے. ساری ٹائم لائن موقع کی مناسبت سے سجی ہوئی تھی ایسے وقت میں اس کمینے دل میں ایک ہی بات آئی کہ یا میرے مالک گر یہ فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ نہ ہوتے تو ہمارے لئے دنیا کو یہ دکھانا کتنا مشکل ہو جاتا کہ ہم اپنے والدین سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔

اس سوشل میڈیا، ای میل، ایس ایم ایس اور ان جیسی دوسری چیزوں نے جہاں دور بیٹھوں کو قریب کر دیا ہے وہیں شاید قریب والوں کو دور کر دیا ہے. جو کام بقول ثاقب کے دروازہ کھٹکھٹا کے کیا جا سکتا ہے اس کے لیے خط لکھنے پڑتے ہیں اور وہ بھی ایسے کہ کل عالم پڑھ سکے۔

کسی کے جذبات کی توہین مقصود نہیں لیکن کیا ہم لوگ روا روی میں کچھ زیادہ ہی آگے نہیں نکل گئے؟ عبادت کے لئے مشہور راتوں میں بھی اکثر دو نوافل زیادہ پڑھنے کی بجائے ہماری پہلی ترجیح سارا پیکج ‘مجھے معاف کر دینا پلیز’ کے پیغامات بھیجنا ہوتا ہے۔ وہیں ہمارا ایک مذہبی طبقہ ان راتوں کو بھی بدعت گردان دیتا ہے لیکن آج تک اس مدر ڈے فادر ڈے چاچا ڈے ماما ڈے پر بدعت کا بہتان نہ لگا۔

کہیں تو کچھ گڑبڑ ہے یا مصنف آج بھی جماعت دہم کا وہی شٹلی اسٹوڈنٹ ہے جو بدلتی دنیا کے تقاضے نہ سمجھ سکا۔
Advertisements

3 Comments

Filed under سوچ بچار

3 responses to “ہم، ہمارے پیغامات اور یومِ ابا جی

  1. یہ نہم دہم کا مرحلہ ہوتا ہے جب بچوں کی شخصیت کے خدوخال نمایاں ہونے لگتے ہیں اور اس پوست میں خوبصورتی اور سلاست سے آپ نے ان یادوں کو ری مکس کیا ہے ۔

  2. masanaf deesi kukar banany ka waqea nahayat khus asloobi say hazaf karty huy…well done man waiting to buy your first book with the hope that i ll need not to buy it coz you gonna gift it to me with autograph dont dare to mix up it with photograph.

  3. Bahut khoob! Bahut kam log he waqiyatan wish kertay ho gay..

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s