کہانی ایک عید کی – منشی پریم چند

منشی پریم چند

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی ہے۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پُرتبسم۔ درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھو کتنا پیارا ہے، گویا دنیا کو عید کی خوشی پر مبارک باد دے رہا ہو۔ گائوں میںکتنی چہل پہل ہے۔ عیدگاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں، سوئی دھاگہ لینے جارہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہوگئے ہیں اسے تیل اور پانی سے نرم کررہا ہے۔ جلدی جلدی بیلوں کو پانی دے دیں۔ عیدگاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہوجائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں رشتے، قرابت والوں سے ملنا ملانا۔ دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ بچے سب سے زیادہ خوش ہیں، کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک، کسی نے وہ بھی نہیں، لیکن عیدگاہ جانے کی خوشی ان کا حصہ ہے۔ روزے بڑے بوڑھوں کے لیے ہوں گے بچوں کے لیے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے رہتے تھے۔ آ ج وہ آہی گئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عیدگاہ کیوں نہیں چلتے۔

انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ؟ سوّیوں کے لیے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں یا نہیں، انہیں کیا فکر۔ وہ کیا جانیں ابا جان کیوں بدحواس اس گائوں کے مہاجن (بڑا آدمی) چوہدری قاسم علی کے گھر دوڑے جارہے ہیں۔ ان کی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ بار بار جیب سے اپنا خزانہ نکال کر گنتے ہیں۔ انہی دو چار پیسوں میں دنیا کی ساری نعمتیں لائیں گے۔ کھلونے اور مٹھائیاں اور بگل اور خدا جانے کیا کیا۔

اور سب سے زیادہ خوش ہے ’’حامد‘‘۔ وہ سات آٹھ سال کا غریب صورت بچہ ہے، جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہوگیا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مرگئی۔ کسی کو پتا نہ چلا کہ کیا بیماری ہے۔ کہتی کس سے؟ کون سننے والا تھا؟ دل پر جو کچھ گزرتی تھی، سہتی تھی، اور جب نہ سہا گیا دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں سوتا ہے اور اتنا ہی خوش ہے۔ اس کی دادی اسے کہتی ہے کہ اس کے ابا جان بڑی دور روپے کمانے گئے ہیں۔ بہت سی تھیلیاں لے کر آئیں گے، امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں۔ اس لیے حامد خوش ہے۔ امید تو بڑی چیز ہے۔ پھر بچوں کی امید… ان کا تخیْل (تصور)… تو رائی کے پربت بنالیتا ہے۔

حامد کے پائوں میں جوتے نہیں ہیں۔ سر پر ایک پرانی ٹوپی ہے جس کا گوٹا سیاہ ہوگیا ہے۔ پھر بھی وہ خوش ہے۔ جب اس کے ابا جان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گی تب وہ دل کے ارمان نکالے گا۔ تب دیکھے گا محمود اور محسن، نوری اور سمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں۔ دنیا اپنی مصیبتوں کی ساری فوج لے کر آئے، اس کی ایک نگاہِ معصوم اسے پامال کرنے کے لیے کافی ہے۔

حامد اندر جاکر امینہ سے کہتا ہے:

’’تم ڈرنا نہیں اماں! میں گائوں والوں کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، بالکل نہ ڈرنا۔‘‘ لیکن امینہ کا دل نہیں مانتا۔

گائوں کے بچے اپنے اپنے باپ کے ساتھ جارہے ہیں۔ حامد کیا اکیلا ہی جائے گا! اس بھیڑبھاڑ میں کہیں کھو جائے تو کیا ہوگا؟ نہیں امینہ اسے تنہا نہ جانے دے گی۔ ننھی سی جان تین کوس چلے گا پائوں میں چھالے نہ پڑجائیں گے!

مگر وہ چلی جائے تو یہاں سوئیاں کون پکائے گا؟ بھوکا پیاسا دوپہر کو لوٹے گا، کیا اس وقت سوئیاں پکانے بیٹھے گی؟ رونا تو یہ ہے کہ امینہ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس دن فہیمن کے کپڑے سیے تھے، آٹھ آنے پیسے ملے تھے۔ اس اٹھنِّی (آدھا روپیہ) کو ایمان کی طرح بچاتی چلی آئی تھی… اس عید کے لیے۔ لیکن کل گھر میں آٹا نہ تھا اور گوَالَن (دودھ بیچنے والی)کے پیسے چڑھ گئے تھے۔ دینے پڑے۔ حامد کے لیے دو پیسے کا روز دودھ تو لینا ہی پڑتا ہے۔ اب کل آٹھ پیسے بچ رہے ہیں۔ تین پیسے حامد کی جیب میں اور پانچ امینہ کے بٹوے میں، یہی بساط ہے۔ اللہ ہی بیڑا پار کرے۔

دھوبن، مِہتَرَانِی (بھنگن) اور نَائِن (نائی کی بیوی) سب ہی تو آئیں گی۔ سب کو سوئیاں چاہئیں۔ کس کس سے منہ چھپائے گی، اور منہ کیوں چھپائے؟ سال بھر کا تہوار ہے۔ زندگی خیریت سے رہے۔ ان کی تقدیر بھی تو اس کے ساتھ ہے۔ بچے کو خدا سلامت رکھے۔ یہ دن بھی یوں ہی کٹ جائیں گے۔

گائوں سے لوگ چلے، اور بچوں کے ساتھ حامد بھی تھا۔ سب کے سب دوڑ کر آگے نکل جاتے۔ پھر کسی درخت کے نیچے کھڑے ہوکر ساتھ والوں کا انتظار کرتے۔ یہ لوگ کیوں اتنے آہستہ آہستہ چل رہے ہیں۔ شہر کا سَوَاد (آس پاس) شروع ہوگیا۔ سڑک کے دونوں اطراف امیروں کے باغ میں پختہ چہار دیواری بنی ہوئی ہے۔ درختوں میں آم لگے ہوئے ہیں۔ حامد نے کنکری اُٹھاکر ایک آم پر نشانہ لگایا۔ مالی اندر سے شور مچاتا ہوا باہر آیا۔ بچے وہاں سے ایک فَرلَانگ (220 گز کا فاصلہ) دوڑ کر چلے گئے۔ خوب ہنس رہے ہیں۔ مالی کو کیسا اُلّو بنایا! بڑی بڑی عمارتیں آنے لگیں۔

’’یہ عدالت ہے۔‘‘

’’یہ مدرسہ ہے۔‘‘

’’اتنے بڑے مدرسے میں کتنے سارے لڑکے پڑھتے ہوں گے۔‘‘

’’لڑکے نہیں ہیں جی۔ بڑے آدمی ہیں۔‘‘

پھر آگے چلے۔ حلوائیوں کی دکانیں شروع ہوئیں۔ آج خوب سجی ہوئی تھیں۔

’’اتنی مٹھائیاں کون کھاتا ہے؟‘‘

’’دیکھو نا ایک ایک دکان پر منوں ہوں گی۔‘‘

’’سنا ہے رات کو آدمی ہر ایک دکان پر جاتا ہے اور جتنا مال بچا ہوتا ہے وہ سب خرید لیتا ہے۔ اور سچ مچ کے روپے دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی چاندی کے روپے۔‘‘

محمود کو یقین نہ آیا۔ ’’ایسے روپے جنات کو کہاں سے مل جائیں گے؟‘‘

محسن: ’’جنات کو روپوں کی کیا کمی، جس خزانہ میں چاہیں چلے جائیں، کوئی انہیں دیکھ نہیں سکتا۔ لوہے کے دروازے تک نہیں روک سکتے۔‘‘

’’جناب! آپ ہیں کس خیال میں؟ ہیرے جواہرات ان کے پاس رہتے ہیں۔ جس سے خوش ہوگئے اسے ٹوکروں جواہرات دے دیے۔ پانچ منٹ میں کہو ’’کابل‘‘ پہنچ جائیں۔‘‘

حامد: ’’جنات بہت بڑے ہوتے ہوں گے؟‘‘

محسن: ’’اور کیا، ایک ایک آسمان کے برابر ہوتا ہے۔ زمین پر کھڑا ہوجائے تو اس کا سر آسمان سے جالگے۔ مگر چاہے تو ایک لوٹے میں گھس جائے۔‘‘

سمیع: ’’سنا ہے چوہدری صاحب کے قبضے میں بہت سے جنات ہیں۔ کوئی چیز چوری ہوجائے، چوہدری صاحب اس کا پتا بتادیں گے اور چور کا نام تک بتادیں گے۔ جمعراتی کا بچھڑا اس دن کھو گیا تھا۔ تین دن حیران ہوئے، کہیں نہیں ملا۔ تب جھک مارکر چوہدری کے پاس گئے۔ چوہدری نے کہا: مویشی خانہ میں ہے۔ اور وہیں ملا۔ جنات آکر انہیں خبریں دے جایا کرتے ہیں۔‘‘

اب ہر ایک کی سمجھ میں آگیا کہ چوہدری قائم علی کے پاس اس قدر دولت ہے اور کیوں وہ قرب وجوار کے مَوَاضِعَات (کئی گائوں) کے مہاجن ہیں۔ جنات آکر انہیں روپے دے جاتے ہیں۔

آگے چلیے… یہ پولیس لائن ہے۔ یہاں پولیس والے قواعد کرتے ہیں۔ رائٹ لپ، رائٹ لپ۔ پھام پھو، پھام پھو!

بستی گھنی ہونے لگی۔ عیدگاہ جانے والوں کا مجمع نظر آنے لگا۔ ایک سے ایک زرق برق پوشاک پہنے ہوئے۔ کوئی تانگے پر سوار، کوئی موٹر سائیکل پر، چلتے تھے تو کپڑوں سے عطر کی خوشبو اڑتی تھی۔

دَہقَانوں (کسانوں) کی یہ مختصر سی ٹولی اپنی بے سروسامانی سے بے حس اپنی خستہ حالی میں مگن، صابر و شاکر چلی جارہی تھی۔ جس چیز کی طرف تاکتے، تاکتے رہ جاتے… پیچھے سے گاڑی کے بار بار ہارن کی آواز ہونے پر بھی خبر نہ ہوتی۔ محسن تو موٹر کے نیچے جاتے جاتے بچا۔

وہ عیدگاہ نظر آئی۔ جماعت شروع ہوگئی ہے۔ اوپر املی کے درختوں کا سایہ ہے۔ نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے جس پر جَاجَم (وہ چادر جو دری کے اوپر بچھاتے ہیں) بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسری، خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جاجم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں۔ جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی، یہاں کوئی رتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا، اسلام کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہوگئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے۔ لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں۔ ساتھ دو زانوں بیٹھ جاتے ہیں، اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہوجائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔

کتنا پُراحترام، رعب انگیز نظارہ ہے، جس کی ہم آہنگی (ساتھ) اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ گویا اُخوّت کا ایک رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کیے ہوئے ہے۔

نماز ختم ہوگئی ہے۔ لوگ باہم گلے مل رہے ہیں۔ کچھ لوگ محتاجوں اور سائلوں کو خیرات کررہے ہیں جو آج یہاں ہزاروں جمع ہوگئے ہیں۔ دہقانیوں نے مٹھائی اور کھلونوں کی دکانوں پر یُورَش (دھاوا) کی۔ بوڑھے ان دل چسپیوں میں بچوں سے کم محظوظ نہیں ہیں۔ یہ دیکھو ’’ہِنڈَولَا‘‘ (جھولا) ہے۔ ایک پیسہ دے کر کبھی آسمان پر جاتے معلوم ہوںگے، کبھی زمین پر گرتے… یہ ’’چرخی‘‘ ہے۔ لکڑی کے گھوڑے، اونٹ، ہاتھی مَیخوں (کیلوں) کے لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک پیسہ دے کر بیٹھ جائو پچیس چکروں کا مزہ لو۔ محمود اور محسن ہنڈولے پر بیٹھے ہیں۔ نوری اور سمیع گھوڑوں پر۔ ان کے بزرگ اتنے ہی طفلانہ اشتیاق سے چرخی پر بیٹھے ہیں۔ حامد دور کھڑا ہے، تین ہی پیسے تو اس بے چارے کے پاس ہیں۔ ذرا سا چکر کھانے کے لیے وہ اپنے خزانے کا ثُلُث (تیسرا حصہ) نہیں صرف کرسکتا۔ محسن کا باپ اسے بار بار چرخی پر بلاتا ہے لیکن وہ راضی نہیں ہوتا۔ بوڑھے کہتے ہیں اس لڑکے میں ابھی سے اپنا پرایا آگیا۔ حامد سوچتا کیوں کسی کا احسان لوں۔ عسرت نے ضرورت سے زیادہ ذَکِیْ الحِس (بہت حساس) بنادیا ہے۔

سب لوگ چرخی سے اترتے ہیں۔ کھلونوں کی خریداری شروع ہوتی ہے۔ سپاہی اور گجریا اور راجہ رانی اور وکیل اور دھوبی اور بِھشتی (پانی پلانے والا) اور سپاہی بے امتیاز ران سے ران ملائے بیٹھے ہیں۔ دھوبی راجا رانی کی بغل میں ہے اور بھشتی وکیل صاحب کی بغل میں۔ واہ کتنے خوب صورت، بولا ہی چاہتے ہیں۔

محمود سپاہی پر لٹو ہوجاتا ہے۔ خاکی وردی اور لال پگڑی، کندھے پر بندوق، معلوم ہوتا ہے ابھی قواعد کے لیے چلا آرہا ہے۔ محسن کو بھشتی پسند آیا۔ کمر جھکی ہوئی ہے۔ اس پر مشک ہے۔ مشک کا دہانہ ایک ہاتھ سے پکڑا ہوا ہے۔ دوسرے ہاتھ میں رسّی ہے۔ کتنا بشاش چہرہ ہے۔ شاید کوئی گیت گارہا ہے۔ مشک سے پانی ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ نوری کو وکیل سے مناسبت ہے۔ کتنی عالمانہ صورت ہے۔ سیاہ چغہ، نیچے سفید اُچکن (شیروانی سے ملتا جُلتا لباس)… اُچکن کے سینہ کی جیب میں سنہری زنجیر، ایک ہاتھ میں قانون کی کوئی کتاب لیے ہوئے ہے۔ معلوم ہوتا ہے ابھی کسی عدالت سے جَرح (کسی حقیقت کو جاننے کے لیے سوالات کرنا) یا بحث کرکے چلے آرہے ہیں۔ یہ سب دو دو پیسے کے کھلونے ہیں۔

حامد کے پاس کل تین پیسے ہیں۔ اگر دو کا ایک کھلونا لے لے تو کیا لے گا؟ نہیں نہیں کھلونا فضول ہے، کہیں ہاتھ سے گرپڑا تو… سارا چور چور ہوجائے۔ ذرا پانی پڑجائے تو… سارا رنگ دھل جائے۔ ان کھلونوں کو لے کر وہ کیا کرے گا؟ کس مصرف کے ہیں؟

محسن کہتا ہے: ’’میرا بھشتی روز پانی دے جائے گا صبح و شام۔‘‘

محمود: ’’اور میرا سپاہی گھر کا پہرہ دے گا۔ کوئی چور آئے تو فوراً بندوق سے فائر کردے گا۔‘‘

نوری: ’’اور میرا وکیل روز مقدمے لڑے گا اور روز روپے لائے گا۔‘‘

حامد کھلونوں کی مذمت کرتا ہے۔ مٹی ہی کے تو ہیں، گریں تو چکناچور ہوجائیں۔ لیکن ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ذرا دیر کے لیے انہیں ہاتھ میں لے سکتا۔

یہ بِسَاطِی (چادر پر چیزیں رکھ کر بیچنے والا) کی دکان ہے۔ طرح طرح کی ضروری چیزیں ایک چادر پر بچھی ہوئی ہیں۔ گیند اور سیٹیاں اور بِگَل (منہ سے بجانے کا ایک باجا) اور بھونرے اور ربر کے کھلونے اور ہزاروں چیزیں۔ محسن ایک سیٹی لیتا ہے۔ محمود گیند۔ نوری ربر کا بَط (بطخ) جو چوں چوں کرتا ہے اور سمیع ایک خَنجَرِی (چھوٹی ڈفلی)۔

حامد کھڑا ہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ جب اس کے رفیق کوئی چیز خرید لیتے ہیں تو وہ بڑے اشتیاق سے ایک بار اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے کے لیے لپکتا ہے۔ لیکن بچے اتنے دوست نواز نہیں ہوتے۔ خاص کر جب ابھی دل چسپی تازہ ہے۔ بے چارہ یوں مایوس ہوکر رہ جاتا ہے۔

کھلونوں کے بعد مٹھائیوں کا نمبر آیا۔ کسی نے ریوڑیاں لی ہیں، کسی نے گلاب جامن، کسی نے سوہن حلوہ، مزے سے کھا رہے ہیں۔ حامد ان کی برادری سے خارج ہے۔ کم بخت کی جیب میں تین پیسے تو ہیں۔ کیوں نہیں کچھ لے کر کھاتا۔ حریص نگاہوں سے سب کی طرف دیکھتا ہے۔

محسن نے کہا: ’’حامد یہ ریوڑی لے جا، کتنی خوشبودار ہیں۔‘‘ یہ محض شرارت ہے۔ محسن اتنا فیاض طبع نہ تھا پھر بھی وہ اس کے پاس گیا، محسن نے دو میں سے دو تین ریوڑیاں نکالیں۔ حامد کی طرف بڑھائیں، حامد نے ہاتھ پھیلایا۔ محسن نے ہاتھ کھینچ لیا اور ریوڑیاں اپنے منہ میں رکھ لیں۔ محمود اور نوری اور سمیع خوب شور مچا مچا کر ہنسنے لگے۔ حامد کھسیانا ہوگیا۔

محسن نے کہا: ’’اچھا اب ضرور دیں گے۔ یہ لے جائو حامد اللہ کی قسم!‘‘

حامد نے کہا: ’’رکھیے رکھیے… کیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟‘‘

سمیع: ’’تین ہی تو پیسے ہیں، کیا کیا لو گے؟‘‘

محمود: ’’تم اس سے مت بولو حامد۔ میرے پاس آئو۔ یہ گلاب جامن لے لو۔‘‘

حامد: ’’مٹھائی کون سی بڑی نعمت ہے۔ کتاب میں اس کی برائیاں لکھی ہیں۔‘‘

محسن: ’’لیکن جی میں کہہ رہے ہوں گے کہ کچھ مل جائے تو کھالیں، اپنے پیسے کیوں نہیں نکالتے؟‘‘

محمود: ’’میں اس کی ہوشیاری سمجھتا ہوں۔ جب ہمارے سارے پیسے خرچ ہوجائیں گے تب یہ مٹھائی لے گا اور ہمیں چِڑَھا چِڑَھا کر کھائے گا۔‘‘

حلوائیوں کی دکانوں کے آگے کچھ دکانیں لوہے کی چیزوں کی تھیں۔ کچھ گِلٹ (ظاہری خوبصورتی) اور ملمع کے زیورات کی۔ بچوں کے لیے یہاں دل چسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ حامد لوہے کی دکان پر اک لمحہ کے لیے رک گیا۔ دست پناہ رکھے ہوئے تھے۔ وہ دَست پَنَاہ (چمٹا) خریدے گا۔ اماں کے پاس دست پناہ نہیں ہے۔ توے سے روٹیاں اتارتی ہیں تو ہاتھ جل جاتا ہے۔ اگر وہ دست پناہ لے جاکر ماں کو دے دے تو وہ کتنی خوش ہوں گی۔ پھر ان کی انگلیاں کبھی نہ جلیں گی۔ گھر میں ایک کام کی چیز ہوجائے گی۔ کھلونوں سے کیا فائدہ۔ مفت کے پیسے خراب ہوتے ہیں۔ ذرا دیر ہی تو خوشی ہوتی ہے۔ پھر تو انہیں کوئی آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھتا، یا تو گھر پہنچتے پہنچتے ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائیں گے یا چھوٹے بچے جو عیدگاہ نہیں جاسکے ہیں ضد کرکے لے لیںگے اور توڑ ڈالیں گے۔ دست پناہ کتنے فائدے کی چیز ہے…! روٹیاں توے سے اتارلو… چولہے میں سینک لو… کوئی آگ مانگنے آئے چولہے سے آگ نکال کر دے دو… اماں کو کہاں فرصت ہے کہ بازار آئیں، اور پھر اتنے پیسے کہاں ملتے ہیں۔ روز ہاتھ جلا لیتی ہیں۔

اس کے ساتھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سبیل پر سب کے سب پانی پی رہے ہیں۔ کتنے لالچی ہیں۔ سب نے اتنی مٹھائیاں لیں۔ کسی نے مجھے ایک بھی نہ دی۔ اس پر کہتے ہیں میرے ساتھ کھیلو۔ میری تختی دھولائو۔ اب اگر میاں محسن نے کوئی کام کرنے کو کہا تو خوب خبر لوں گا۔ کھائیں مٹھائیاں۔ آپ منہ سڑے گا۔ پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی۔ آپ ہی چَٹَورِی زَبَان (لذیذ چیزیں کھانے کی عادت) ہوجائے گی۔ تب پیسے چرائیں گے اور مار کھائیں گے۔ میری زبان کیوں خراب ہوگی۔

اس نے پھر سوچا: ’’اماں دست پناہ دیکھتے ہی دوڑ کر میرے ہاتھ سے لے لیں گی اور کہیں گی: میرا بیٹا اپنی ماں کے لیے دست پناہ لایا ہے۔ ہزاروں دعائیں دیں گی۔ پھر اسے پڑوسنوں کو دکھائیں گی۔ سارے گائوں میں واہ واہ مچ جائے گی۔ ان لوگوں کے کھلونوں پر کون انہیں دعائیں دے گا۔ بزرگوں کی دعائیں سیدھی خدا کی دَرگَاہ (دربار) میں پہنچتی ہیں اور فوراً قبول ہوتی ہیں۔ میرے پاس بہت سے پیسے نہیں ہیں جب ہی تو محسن اور محمود یوں مزاج دکھاتے ہیں۔ میں بھی ان کو مزاج دکھائوں گا۔ وہ کھلونے کھیلیں اور مٹھائیاں کھائیں۔ میں غریب سہی، کسی سے کچھ مانگنے تو نہیں جاتا۔ آخر ابا جان کبھی نہ کبھی تو آئیں گے ہی… پھر ان لوگوں سے پوچھوں گا کتنے کھلونے لوگے؟ ایک ایک کو ایک ٹوکری دوں گا اور دکھائوں گا کہ دوستوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ جتنے غریب لڑکے ہیں سب کو اچھے اچھے کرتے دلوا دوں گا اور کتابیں دے دوں گا۔ یہ نہیں کہ ایک پیسہ کی ریوڑیاں لیں تو چِڑَھا چِڑَھا کر کھانے لگے۔ دست پناہ دیکھ کر سب کے سب خوب ہنسیں گے۔ احمق تو ہیں ہی سب۔ اس نے دکان دار سے ڈرتے ڈرتے پوچھا: ’’یہ دست پناہ بیچو گے؟‘‘

دکان دار نے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ کوئی آدمی نہ دیکھ کر کہا: ’’وہ تمہارے کام کا نہیں ہے؟‘‘

’’بکائو ہے یا نہیں؟‘‘

’’بکائو ہے جی! اور یہاں کیوں لادکر لائے ہیں۔‘‘

’’تو بتلا تے کیوں نہیں، کتنے پیسے کا دو گے۔‘‘

’’چھے پیسے لگیں گے!‘‘

حامد کا دل بیٹھ گیا۔ کلیجہ مضبوط کرکے بولا: ’’تین پیسے لوگے؟‘‘

اور آگے بڑھا کہ دُکان دار کی گُھرکِیَاں (ڈانٹ ڈپٹ) نہ سنے، مگر دکان دار نے گھرکیاں نہ دیں۔ دست پناہ اس کی طرف بڑھادیا اور پیسے لے لیے۔

حامد نے دست پناہ کندھے پر رکھ لیا، گویا بندوق ہے اور شان سے اکڑتا ہوا اپنے رفیقوں کے پاس آیا۔

محسن نے ہنستے ہوئے کہا: ’’یہ دست پناہ لایا ہے۔ احمق! اس کا کیا کرے گا؟‘‘

حامد نے دست پناہ کو زمین پر ٹیک کر کہا: ’’ذرا اپنا بھشتی زمین پر گرادو۔ ساری پسلیاں چور چور ہوجائیں گی بچے کی۔‘‘

محمود: ’’تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے؟‘‘

حامد: ’’کھلونا کیوں نہیں ہے۔ ابھی کندھے پر رکھا بندوق ہوگیا۔ ہاتھ میں لے لیا تو فقیر کا چمٹا ہوگیا۔ چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑ لوں۔ ایک چمٹا جمادوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے… تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں اس کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ میرا بہادر شیر ہے یہ دست پناہ!‘‘

سمیع متاثر ہوکر بولا: ’’میری خنجری سے بدلو گے؟ دو آنے کی ہے۔‘‘

حامد نے خنجری کی طرف حقارت سے دیکھ کر کہا: ’’میرا دست پناہ چاہے تو تمہاری خنجری کا پیٹ پھاڑ ڈالے۔ بس ایک چمڑی کی جھلی لگا دی۔ ڈھب ڈھب بولنے لگی۔ ذرا سا پانی لگے تو ختم ہوجائے۔ میرا بہادر دست پناہ آگ میں، پانی میں، آندھی میں، طوفان میں برابر ڈٹا کھڑا رہے گا۔‘‘

میلہ بہت دور پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ دس بج رہے تھے۔ گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ اب دست پناہ نہیں مل سکتا۔ اب کسی کے پاس پیسے بھی تو نہیں رہے۔ حامد ہے بڑا ہوشیار!

اب دو فریق ہوگئے۔ محمود اور محسن اور نوری ایک طرف۔ حامد یکہ و تنہا (اکیلا) دوسری طرف۔ سمیع غیر جانب دار رہے گا۔ جس کی فتح دیکھے گا اس کی طرف جا ملے گا۔ مناظرہ شروع ہوگیا۔ آج حامد کی زبان بڑی صفائی سے چل رہی تھی۔ اتحادِ ثَلَاثَہ (تین) اس کے جارحانہ عمل سے پریشان ہورہا ہے۔ ثلاثہ کے پاس تعداد کی طاقت ہے۔ حامد کے پاس حق اور اخلاق کی۔ ایک طرف مٹی، ربر، لکڑی کی چیزیں ہیں۔ دوسری جانب اکیلا لوہا، جو اس وقت اپنے کو فولاد کہہ رہا ہے۔ وہ رُوئَیں تَن (جس کے جسم پر ہتھیار کا اثر نہ ہو) ہے۔ صف شکن ہے۔ اگر کہیں شیر کی آواز کان میں آجائے تو میاں بھشتی کے اوسان خطا ہوجائیں۔ میاں سپاہی مٹی کی بندوق چھوڑ کر بھاگیں… وکیل صاحب کا سارا قانون پیٹ میں سما جائے۔ چغے میں منہ چھپا کر زمین پر لیٹ جائیں… مگر بہادر، یہ رستم ہند لپک کر شیر کی گردن پر سوار ہوجائے گا اور اس کی آنکھیں نکال لے گا۔

محسن نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہا: ’’اچھا تمہارا دست پناہ پانی تو نہیں بھر سکتا؟‘‘

حامد نے دست پناہ کو سیدھا کرکے کہا: ’’یہ بھشتی کو ایک ڈانٹ بتائے گا تو وہ دوڑا ہوا پانی لاکر اس کے دروازے پر چھڑکنے لگے گا۔ جناب پھر اس سے چاہے گھڑے، مٹکے، کُونڈَے (آٹا گوندھنے کا برتن) بھر والو۔‘‘ محسن کا ناطقہ بند (بولنے کی ہمت نہ رہی) ہوگیا۔ نوری نے کمک پہنچائی:

’’بَچَّا (حقارت کے طور پر بولتے ہیں) گرفتار ہوجائیں تو عدالت میں بندھے بندھے پھریں گے۔ تب تو ہمارے وکیل صاحب ہی پیروی کریں گے۔ بولیے جناب!‘‘

حامد کے پاس اس وار کا دفعیہ اتنا آسان نہ تھا۔ دفعتاً اس نے ذرا مہلت پاجانے کے ارادے سے پوچھا:

’’اسے پکڑنے کو کون آئے گا؟‘‘

محمود نے کہا: ’’یہ سپاہی بندوق والا!‘‘

حامد نے منہ چڑھا کر کہا: ’’یہ بے چارے اس رستم ہند کو پکڑیں گے؟ اچھا لائو ابھی ذرا مقابلہ ہوجائے۔ اس کی صورت دیکھتے ہی بچے کی ماں مر جائے گی۔ پکڑیں گے کیا بے چارے۔‘‘

محسن نے تازہ دم ہوکر وار کیا: ’’تمہارے دست پناہ کا منہ روز آگ میں جلے گا۔‘‘

حامد کے پاس جواب تیار تھا: ’’آگ میں بہادر کودتے ہیں جناب! تمہارے یہ وکیل اور سپاہی، بھشتی ڈرپوک ہیں۔ سب گھر میں گھس جائیں گے۔ آگ میں کودنا وہ کام ہے جو رستم ہی کرسکتا ہے۔‘‘

نوری نے انتہائی جَودَت (ذہانت) سے کام لیا: ’’تمہارا دست پناہ باورچی خانہ میں زمین پر پڑا رہے گا۔ میرا وکیل شان سے میز کرسی لگا کر بیٹھے گا۔‘‘

اس حملے نے مُردوں میں بھی جان ڈال دی۔ سمیع بھی جیت گیا۔ بے شک معرکے کی بات کہی، دست پناہ تو باورچی خانے میں پڑا رہے گا۔ حامد نے دھاندلی کی: ’’میرا دست پناہ باورچی خانے میں نہیں رہے گا۔ وکیل صاحب کی کرسی پر بیٹھے گا تو جاکر انہیں زمین پر پٹخ دے گا اور سارا قانون ان کے پیٹ میں ڈال دے گا۔‘‘

اس جواب میں بالکل جان نہ تھی۔ بالکل بے تکی سی بات تھی، لیکن قانون پیٹ میں ڈالنے والی بات چھا گئی۔ ایسی چھا گئی کہ تینوں سْورمَا (دلیر) منہ تکتے رہ گئے۔ حامد نے میدان جیت لیا۔ گو ثلاثہ کے پاس ابھی گیند اور سیٹی اور بطخ ریزرو (Reserve) میں تھے مگر ان مشین گنوں کے سامنے ان پٹاخوں کو کون پوچھتا۔ دست پناہ رستم ہند ہے، اس میں کسی کو چوں چرا کی گنجائش نہیں۔

فاتح کو مفتوحوں سے وقار اور خوشامد کا خَرَاج (ٹیکس) ملتا ہے۔ وہ حامد کو ملنے لگا، اوروں نے تین تین آنے خرچ کیے اور کوئی کام کی چیز نہ لے سکے۔ حامد نے تین ہی پیسوں میں رنگ جما لیا۔ کھلونوں کا کیا اعتبار، دو ایک دن میں ٹوٹ جائیں گے۔ حامد کا دست پناہ تو فاتح رہے گا ہمیشہ۔

صلح کی شرطیں طے ہونے لگیں۔ محسن نے کہا: ’’ذرا اپنا چمٹا دو، ہم بھی دیکھیں۔ تم چاہو تو ہمارا وکیل دیکھو۔‘‘

حامد کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ فَیّاض طَبع (مزاجاً سخی ہونا) فاتح ہے۔ دست پناہ باری باری سے محسن، محمود، نوری اور سمیع سب کے ہاتھوں میں گیا اور ان کے کھلونے باری باری سے حامد کے ہاتھ میں آئے۔

کتنے خوبصورت کھلونے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے بولا ہی چاہتے ہیں، مگر ان کھلونوں کے لیے انہیں دعا کون دے گا؟ کون کون ان کھلونوں کو دیکھ کر خوش ہوگا جتنا اماں جان دست پناہ کو دیکھ کر ہوں گی۔ اسے اپنے طرزعمل پر مُطلَق (بالکل) پچھتاوا نہیں ہے۔ پھر اب تو دست پناہ رستم ہے اور سب کھلونوں کا بادشاہ۔

راستے میں محمود نے ایک پیسے کی ککڑیاں لیں۔ اس میں حامد کو بھی خراج ملا، حالاں کہ وہ انکار کرتا رہا۔ محسن اور سمیع نے ایک ایک پیسے کے فالسے لیے ، حامد کو بھی خراج ملا۔ یہ رستم ہند کی برکت تھی۔ گیارہ بجتے بجتے سارے گائوں میں چہل پہل ہوگئی۔ میلے والے آگئے۔

محسن کی چھوٹی بہن نے دوڑ کر بھشتی اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور مارے خوشی کے جو اچھلی تو میاں بھشتی نیچے آرہے اور عَالَمِ جَاوِدَانِی (آخرت) کو سدھارے۔ اس پر بھائی بہن میں مار پیٹ ہوئی۔ دونوں خوب روئے۔ ان کی اماں جان یہ کہرام سن کر اور بگڑیں۔ دونوں کو اوپر سے دو دو چانٹے اور رسید کیے۔

میاں نوری کے وکیل کا حشر اس سے بھی بدتر ہوا۔ وکیل زمین پر یا طاق پر تو نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کی پوزیشن کا لحاظ تو کرنا ہی ہوگا۔ دیوار میں دو کھونٹیاں گاڑی گئیں۔ ان پر ایک چیڑ کا پرانا پٹرا رکھا گیا۔ پٹرے پر سرخ رنگ کا ایک چیتھڑا بچھا دیا گیا جو بمنزلہ قالین تھا۔

وکیل صاحب عالم بالا پر جلوہ افروز ہوئے۔ یہیں سے قانونی بحث کریں گے۔ نوری ایک پنکھا لے کر جھلنے لگا۔ معلوم نہیں پنکھے کی ہوا سے یا پنکھے کی چوٹ سے وکیل صاحب عالم بالا سے دنیائے فانی میں آرہے اور ان کے جسد خاکی کے پرزے ہوگئے۔ پھر بڑے زور و شور کا ماتم ہوا اور وکیل صاحب کی میت پارسی دستور کے مطابق گھور پر پھینک دی گئی تاکہ بے کار نہ جاکر زَاغ و زَغَن (کوّا اور چیل) کے کام آجائے۔

اب رہے میاں محمود کے سپاہی۔ محترم اور ذی رعب ہستی ہے۔ اپنے پیروں پر چلنے کی ذلت اسے گوارہ نہیں۔ محمود نے اپنا بکری کا بچہ پکڑا اور اس پر سپاہی کو سوار کیا۔ محمود کی بہن ایک ہاتھ سے سپاہی کو پکڑے ہوئے تھی اور محمود بکری کے بچہ کا کان پکڑ کر اسے دروازے پر چلا رہا تھا اور اس کے دونوں بھائی سپاہی کی طرف سے ’’چھونے والے واگتے لہو‘‘ پکارتے چلتے تھے۔ معلوم نہیں کیا ہوا میاں سپاہی اپنے گھوڑے کی پیٹھ سے گر پڑے اور اپنی بندوق لیے زمین پر آرہے۔ ایک ٹانگ مَضرُوب (ٹوٹ) ہوگئی۔ مگر کوئی مضائقہ نہیں۔ محمود ہوشیار ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر نگم اور بھاٹیا اس کی شاگردی کرسکتے ہیں اور یہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو آناً فاناً جوڑ دے گا۔ صرف گُولَر (پیپل کے درخت کا پھل) کا دودھ چاہیے۔ گولر کا دودھ آتا ہے۔ ٹانگ جوڑی جاتی ہے۔ سپاہی جوں ہی کھڑا ہوتا ہے ٹانگ پھر الگ ہوجاتی ہے۔ عمل جراحی ناکام ہوجاتا ہے۔ تب محمود اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دیتا ہے۔ اب وہ آرام سے ایک جگہ بیٹھ سکتا تھا۔ اب وہ گوشہ میں بیٹھ کر بانس سے بنے چھپر کی آڑ میں شکار کھیلے گا۔

اب میاں حامد کا قصہ سنیے۔ امینہ اس کی آواز سنتے ہی دوڑی اور اسے گود میں اٹھاکر پیار کرنے لگی۔ دفعتاً اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر وہ چونک پڑی۔

’’یہ دست پناہ کہاں تھا بیٹا؟‘‘

’’میں نے مول لیا ہے تین پیسے میں۔‘‘

امینہ نے چھاتی پیٹ لی۔ ’’یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے کہ دوپہر ہوگئی۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا، لایا کیا… یہ دست پناہ… سارے میلے میں تجھے کوئی اور چیز ہی نہ ملی۔‘‘

حامد نے خطا ورانہ انداز سے کہا: ’’تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں؟‘‘

امینہ کا غصہ فوراً شفقت میں تبدیل ہوگیا اور شفقت بھی وہ جو پُر بیان ہوتی ہے اور اپنی ساری تاثیر لفظوں میں منتشر کردیتی ہے۔ یہ بے زبان شفقت تھی۔ درد اور التجا میں ڈوبی ہوئی۔

اْف! کتنی نَفس کُشِی (نفسانی خواہش کُچلنا) ہے! کتنی جَاں سَوزی (جان جلانا) ہے! غریب نے اپنے طِفلَانَہ اِشتِیَاق (بچکانہ شوق) کو روکنے کے لیے کتنا ضبط کیا ہوگا! جب دوسرے بچے کھلونے لے رہے ہوں گے، مٹھائیاں کھا رہے ہوں گے… اس کا دل کتنا لہراتا ہوگا۔ اتنا ضبط اس سے ہوا کیوں کر! اپنی بوڑھی اماں کی یاد اسے وہاں بھی… میرا لال میری کتنی فکر کرتا ہے، اس کے دل میں ایک ایسا عُلوِی جذبہ (بلند حوصلہ) پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دنیا کی بادشاہت آجائے اور وہ اسے حامد کے اوپر نثار کردے، اور تب ایک بڑی دل چسپ بات ہوئی۔ بڑھیا امینہ ننھی سی امینہ بن گئی، وہ رونے لگی۔ دامن پھیلا کر حامد کو دعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔ حامد اس کا راز کیا سمجھتا، اور نہ شاید ہمارے بعض قارئین ہی سمجھ سکیں گے۔

Advertisements

Leave a comment

Filed under ادبی ٹوٹے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s