اپنی حسرتوں پر…

گانے کے بول تو یہ کہتے ہیں کہ حسرتوں پر اور ان حسرتوں پر کہ جن کے پورے ہونے کی امید باقی نہ رہے آنسو بہا کر سو جانا چاہیے. مگر ہم تو وہ قوم ہیں جو پہلے ہی سوئی پڑی ہے یہ جاگتی ہے کبھی کبھی مگر رونے کی بجائے کوسنے دینے لگتی ہے. ویسے جو ہم دیتے ہیں اس کے سامنے کوسنے ایک رائی معلوم ہوتا ہے. خیر قصہ مختصر پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ جنون انا للہ وانا الیہ راجیون ہو چکا ہے، اور امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی مجاہدین وطن واپس بذریعہ ہوائی جہاز آئیں گے ویسی کرتوت انکی پجی ٹوٹی کشتی میں آنے والی ہے.
دیگر امور کی طرح کھیل اور خاص کر کرکٹ بھی کاز اینڈ ایفیکٹ کی کھیل ہے لیکن ہم اس بات کو کبھی بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہماری ہار جو کہ ایفیکٹ ہے اس کا کاز ہماری خالص قسم کی ناقص کارکردگی تھی نہ کہ کسی کی سازش، اور کم از کم کھیل میں حق و باطل کی جنگ والا سلسلہ تو کبھی بھی نہیں ہوتا. ہاں یہ ضرور ہے کہ پاکستان کی جیت کے لئے جو دعائیں یا اوراد ہم کرتے ہیں انکا ثواب ہمیں ضرور مل جاتا ہے. ویسے بھی ہماری عبادات کی ساری دوڑ ثواب اور دعا کی معراج پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح تک ہے. 
بات صحیح ہے یا غلط مگر اپنا زاتی تجربہ برا رہا لہذا ہم بھی دم کٹی لومڑی کی سی باتیں کرنے لگے. 2003 کے ورلڈ کپ میں جب ہماری ٹیم انتہائی شان سے باہر ہوئی تو اس کھیل سے دل اٹھ سا گیا کہ ورلڈ کپ اور ہمارے میٹرک کے امتحانات ایک ساتھ شروع ہوئے اکثر سوچا کرتا ہوں کہ اس خلوص نیت سے امتحانات کے لئے دعا مانگی ہوتی تو شائد 700 کا ہندسہ چھو ہی لیتے. خیر زندگی میں ناکامیاں تو چلتی ہورہی ہیں اور انکو تھوپنے کو ہمیں کسی نہ کسی کا سر مل ہی جاتا ہے. 
پاکستان میچ ہارا، ہمارے کھلاڑی میچ کے بعد نہا دھو روٹی کھا کچھا پہن لمبی تان کر سو رہے ہوں گے، مگر قوم کا سہ روزہ ماتم جاری و ساری ہے. کھیل کی شکست کھیل کے میدان تک ختم نہیں ہوتی زاریاں تک بھی پہنچ جاتی ہے. ہمارا ہر معاملے کی طرح کھیل پر غم و غصہ بھی فضول نوعیت کا ہے. زاتی خیال ہے کہ میچ کا سوگ گھنٹے بھر سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر ہمارا رد عمل شدید نوعیت کا ہوتا ہے اس پر ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ کرکٹ قوم کا رومان ہے اور اسی وجہ سے ہمارے موڈ پر گہرا اثر کرتا ہے اسی لیے ہم آپے سے باہر ہو جاتے ہیں جبکہ حقیقت کا رونا یہاں بھی وہی ہے کہ ہم زہنی طور پر نہ انفرادی سطح پر اتنے عاقل و بالغ ہوئے ہیں اور نہ ہی معاشرتی سطح پر کہ ایسے موقعوں پر وہ رویہ اختیار کریں جو مثالی بھی ہو اور میانہ رو بھی. 
لیکن ہمارا کیس رہا مختلف ہم نے کرنا ہوتا ہے احتجاج ہر کام میں اور دکھانا ہوتا ہے شدید رد عمل. ہم. بھی بیان دے دیتے ہیں کہ ایسی کرکٹ ٹیم کو ٹماٹر مارنے چاہیے مگر کیا یہ ٹماٹروں کی بے توقیری و بے حرمتی نہ ہوگی کہ وہ ایسی نکمی ٹیم کو مارے جائیں.  دکھ کا اظہار کرنا غصہ آنا دونوں انسانی حقوق اور فطرت کا حصہ ہیں مگر دونوں کا اظہار انسان کو انسان ثابت کرتا ہے با شعور ثابت کرتا ہے. ہم حسرتوں پر آنسو بہا کر سونے کی بجائے کوسنے دینے پر اتر آتے ہیں کہ آنسو بہانا کمزوری کی علامت ہے اب بندہ بٹھا ان بہادر سیانوں کو لے نیویں تھاں پر اور پوچھے کے گالی دینے میں کیا بہادری ہے؟ 
کھیل ہے اسکو اتنا بھی حواس پر طاری نہ کریں حواس کو دیگر منہ متھے لگتے سر سواد کے کاموں کے لیے بچا کر رکھیں. 
Advertisements

Leave a comment

Filed under Uncategorized

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s