زبان سنبھال کے

کچھ روز قبل ایک فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک کردار نے دنیا کے بارے میں ایک لفظ کہا یہاں وہ لفظ لکھنا خاصا غیر مناسب ہو جائے گا. لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ دنیا واقعی وہ ہے جو موصوف نے کہا. اس میں رنگ بھی ہیں جو خوشی کو ظاہر کرتے ہیں، وہیں ظلم جبر دکھ و ماتم کی دھند اور کالے بادل بھی. کبھی کبھی اس دنیا کی یہ ڈائورسیٹی اتنی دلچسپ لگنے لگتی ہے اور کبھی ہم اسکو یکسر فراموش کر دیتے ہیں. لیکن ایک بات تمام شکوک و ابہام سے بالا ہے کہ یہ  سب اس خالق کی بے نیازی ہے کہ جس نے کیا کچھ نہیں عطا کیا اور کس کس کو کس کس شکل میں عطا کیا۔ اسی بے نیازی اور دنیا کی ڈائورسیٹی کا احساس اب ہو رہا ہے کہ جب ہفتہ بھر کی اکٹھی کی ہوئی اخباری خبریں رپورٹس اور ڈاکومنٹری دیکھ اپنے اتوار کا حق ادا کر چکے ہیں. ایک دلچسپ خبر نے سوچ کی سوئی گزشتہ کچھ واقعات سے جوڑی زیر لب ایک کمینی سی مسکراہٹ پھیل گئی اور ہم نے سوچا کیوں نہ یہ سب لکھ لیا جائے کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
خبر یہ تھی کہ جرمنی میں اسکولوں کے نصاب میں اسلام سے متعلق مضمون کو شامل کیا گیا. اس مضمون کا مقصد اسلام کے  بارے میں بنیادی آگاہی حاصل کرنا ہے کہ جس کے نتیجے میں معاشرے میں سے بے چینی کو ختم کیا جا سکے جو باقی یورپ کی طرح جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے بڑھ رہی ہے. اس مضمون کی وجہ سے ممکن ہے کہ جرمن سمجھ جائیں کہ عام مسلمان بھی اتنا ہی معصوم ہوتا ہے کہ جتنا کوئی بھی اور عام آدمی. ہاں اپنے ہاں معصوم کی تعریف تھوڑی مختلف ہے کیونکہ ہم ہیں اسلام کی لیبارٹری اور ہم پر لازم ہے تجربے کرنا لہذا ابھی تجربات جاری ہیں کہ خود کش حملوں اور دہشت گردی میں مرنے والے عام افراد معصوم ہیں یا نہیں۔
بات کہیں اور نکل چلی ہے واپس آتا ہوں اپنی کمینی مسکراہٹ کی جانب. کچھ روز پہلے فیس بک پر ایک عدد تصویر دیکھنے کا موقع ملا. ویسے مصنف نے یہ موقع آپ کو بھی دیا ہے تحریر کے شروع میں وہ تصویر ڈال کر. تصویر شائع کرنے والے موصوف کا تبصرہ تھا کہ وہ یہ بورڈ اور ان پر لکھی عربی دیکھ حیران بلکہ شاک ہو گئے ہیں. اسلام آباد کے وسط میں واقع ایک پارک میں ایسی تختی انتہائی غیر مناسب ہے کہ یہاں بمشکل ہی کوئی عربی آتا ہو اور نہ ہی اسلام آباد میں کوئی عربی آباد ہیں۔
موصوف نے بات تو کافی پتے کی کردی لیکن ایک رولا مچ گیا. اصولی بات تو یہ ہے کہ تختی انگریزی میں بھی نہیں ہونی چاہئے ہاں اردو کے ساتھ پوٹھوہاری میں لکھ دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں. لیکن وہ جو عربی امداد اور انگریزی امداد ہم نے لے رکھی ہے اسکو حلال کیسے کیا جائے. بے چارے کو شاک میں دیکھ مجھے اتنی ہمدردی ہوئی کہ میں نے ایک لمحے کو فیصلہ کر لیا کہ اب سے نماز انگریزی میں پڑھا کروں گا کہ میں انگلستان  میں رہتا ہوں یہاں عربی آتے تو ہیں لیکن کوئی اتنی بڑی تعداد آباد نہیں ہے زیادہ تر انگریزی بولی جاتی ہے تو کیا ضرورت ہے ایک ایسی زبان سیکھنے کی جو کہ نہ تو یہاں بولی جاتی ہے کہ جہاں ہم رہ رہے ہیں اور نہ ہی وہاں کہ جس ملک سے میرا تعلق ہے. جذبات کے اس گندے نالے میں بہتے ہوئے آئندہ جمعہ ‘سیون کنگز چرچ’ میں ادا کرنے کا اردہ کرتے کرتے رہ گیا اور عقل کو ہاتھ مارنے کی سوچی۔
عام آدمی کا دکھ یہی ہوتا ہے کہ اسے دو شدتوں کے درمیان کھجل ہونا پڑتا ہے. اپنے ہاں دونوں شدتیں کافی متحرک ہیں ایک ہماری نسبت مشرق وسطیٰ اور عرب سے جوڑتی ہیں تو دوسری ہمیں جنوبی ایشیا کی جانب. ایک کا کہنا ہے کہ ثقافت، زبان، اطوار سب میں عربی جھلک ہونی چاہئے تو دوسری اسے اسلامائزیشن کا نام دیتی ہے. دونوں طرفین در حقیقت شدید خوف زدہ ہیں اور اس ڈالر و ریال کی لڑائی میں عام آدمی کو روز نئی کہانی سننے کو ملتی ہے۔
کوئی بھی زبان خواہ اس کا تعلق کسی بھی خطے سے ہو انتہائی خوبصورت اور اہم ہوتی ہے. زبان رابطے کا ذریعہ ہے نہ کہ تعصب کا. مگر ہمارے ہاں وہ جو اردو کے ساتھ ساتھ ہندی و دیگر جنوبی ایشیائی زبانوں  کی اہمیت اور اس میں لکھے ادب کی اہمیت کی بات کرتے ہیں( تصویر والے موصوف اردو سے ہندی اور ہندی سے اردو ٹائپنگ کے شاندار کاریگر ہیں. ) وہیں دوسری زبان سے خفگی کا اظہار بھی کرتے ہیں اور یہ خفگی عربی کے ساتھ ساتھ فارسی سے بھی ہے کہ ایران جنوبی ایشیا کا حصہ نہیں ہے۔  ہمارے ہاں خدا حافظ اور اللہ حافظ کہنے کی فضول بحث چھیڑ دی جاتی ہے. ویسے یہ سیکولر والا خدا غالباً فارسی کا لفظ ہے۔
ہمارے ہاں اس قسم کی بحث نے فائدہ تو کیا دینا عدم برداشت میں اضافہ کر دیا ہے. دایاں بازو تو ہمیشہ سے اپنی برداشت کی وجہ سے بدنام ہے لیکن حال اپنے کھبے پاسے کا بھی وہ ہے کہ جیڑا پنو لال اے جی. نتیجہ اس بحث کا یہ ہے کہ:

اب بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ۔

وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ۔
جیسے میں نے پہلے کہا کہ زبان ایک اہم اور شاندار چیز ہے اس کے پیچھے ماضی و ثقافت کے انتہائی گہرے رنگ ہوتے ہیں. لیکن ہمارے ہاں زبان غیر کا نام دے کر دوسری زبان سے نفرت کروائی جاتی ہے یا پھر گنواروں کی زبان کہہ کر مادری زبان کو فراموش کرنے کی روش عام ہے. عربی بڑی حد تک زبانِ غیر ہے لیکن جس ہستی کی وجہ سے میرا تعلق اس زبان سے جڑا وہ ہستی کسی صورت غیر نہیں. یہ اس ہستی کی زبان ہے کہ جس کی وجہ سے میرا وجود ہے.  کم فہمی و لا علمی کہہ لیں کہ اس ہستی کی شان کے متقاضی محبت کیسے کی جاتی ہے نہیں جانتا لیکن اتنا پتہ ہے کہ ادب ضروری ہے محبت کے لئے لہذا اسی ادب کے نام پر اس زبانِ غیر سے محبت ہے۔
اپنی اپنی سوچ و حیرت و شاک اپنی جگہ لیکن ایک زبان سے صرف اس بات پر متنفر ہونا کہ یہ کسی اور خطے کی زبان ہے یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے. ہم بڑے شوق سے انگریزی سیکھتے ہیں کہ کاروبار کی زبان ہے، چینی زبان سیکھتے ہیں کہ اسکی بھی معاشی اہمیت ہے، جرمن،  فرانسیسی، اطالوی، اور دیگر زبانیں سیکھتے ہیں کہ انتہائی خوبصورت زبانیں ہیں،  باذوق لوگوں کی زبانیں ہیں،  یا پھر جن ممالک میں بولی جاتی ہیں وہاں نوکری حاصل کرنے کے لئے بڑی حد تک لازمی ہیں. اب اس تناظر میں اگر کوئی عربی اپنی معلومات میں اضافے کے لئے سیکھتا ہے تو وہ اسلامائزیشن یا عربنائزیشن کیونکر؟ کیا ہم نے گلوبلازیشن کے نام پر امیرکنائزیشن کو قبول نہیں کیا؟ ( برطانیہ کو بھی گلوبلازیشن سے یہی شکایت ہے ویسے)۔
ایک بورڈ پر لکھی عربی ہم سے ہضم نہ ہوئی جبکہ اسی ملک کی اشرافیہ اس بات کو ہضم کئے ہوئے ہے کہ اسی ملک کی آبادی کی ایک بڑی تعداد عربی تو کیا کوئی بھی زبان لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتی. گزارش سارے اس رونے کی یہ ہے کہ جناب اپنے اپنے حصے آئے ڈالر و ریال خوب حلال کیجئے لیکن کسی منہ متھے لگتی منطق کے ساتھ اور تھوڑی سی زبان سنبھال کے۔
Advertisements

10 Comments

Filed under سوچ بچار

10 responses to “زبان سنبھال کے

  1. بہت خوب اور انتہائی خوبصورت تحریر ہے
    لکن امید ہے یہ جرمنی میں اسلام کو سلیبس میں شامل کرنے کی خبر کسی کو پتہ نہ لگے ورنہ ہمارے ہاں دھرنے اور ہڑتال ہو سکتی ہے کہ یہ کونسی اسلامی تعلیمات کو شامل کیا گیا ہے اور بات بڑھی تو شاید حکومتی سطح پے احتجاج ہو اور بلآخر جرمن اس کو نکل دیں اور دوسرہ حصہ بہت وسیع موضوع ہے اور آپ نے اس کا عمدہ احاطہ کیا ہے لکن شاید ہماری عربی یا انگریزی زبان سے (مضمون میں بیان کردہ ) تعلق کی وجہ ہم پے گورے کی حاکمیت اور عربی کا عجمی سلوک بھی ہے اور تصویر کے ساتھ اٹھاے گے سوال میں وزن ہے.

  2. بہت اعلی بہت خوب
    بس مصنف کی کمینی مسکراھٹ ہمارے منہ متھے بھی لگ گئی۔

  3. بہت خوب جناب “جہڑا پندو لال اے”

  4. بہت عمدہ
    اور بہترین جواب۔۔۔۔۔ اس کمینہ پن کے علاوہ اور کوئی علاج نہیں

  5. bht aala musanif bhai 🙂

  6. ہمارے ہاں Bedford کی ویگن چلتی ہے پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر ' تقریبا ہر دوسری ویگن کے پیچھے برطانیہ کا جھنڈا بنا ہوتا اور ساتھ میں GB گریٹ برٹن بھی لکھا ہوتا –
    آپ نے دیکھا ہوگا کینیڈا اور امریکا کے جھنڈے والی شرٹس تو عام ہیں پاکستان میں ' سر پر باندھنے والا بیندانہ تو مکمل جھنڈا ہوتا ان ممالک کا – – –

    تو یہ چیزیں تکلیف نہیں دیتیں ان لوگوں کو ' ہاں جیسے ہی کسی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر ' الباکستان ' نظر آتا تو ان کی ریح خارج ہو جاتی ' واویلا شروع کر دیتے ہائے پاکستان گیا ہاتھ سے ' ہائے لوگو دیکھ لو پاکستان کا کیا حشر کیا جا رہا ' ہائے اب تو اپنی کپیاں بھی شائد ختم ہو جائیں وغیرہ وغیرہ

    مصنف یار دیکھ کتنی بڑی صاف واضح دلیل ہے
    اعلی تعلیم نے بھی ان کو ایماندار نہ بنایا ' اپنا عمل چاہے جو بھی ہو مگر بولیں تو سچ نا اور برابری کی بنیاد پر – اگر باہر کی ثقافت و زبان اچھی لگتی تو تخصیص کیوں ؟

  7. ”زبان رابطے کا ذریعہ ہے نہ کہ تعصب کا“ خوبصورت بات، جاندار تحریر

  8. بہت جاندار تحریر جناب، ویسے عربی زبان اور حجازِ مقدس سے محبت تو ایک فِطری سی بات ہے۔ عربی زبان سیکھنا بھی بہت بہتر ہے۔ مگر بات مرعوبیت کی ہے ۔ عربی ہو یا انگریزی ہم لوگ بہت زیادہ مرعوب ہونے لگتے ہیں ۔ ہماری اپنی ثقا فقت ، تہذیب اور تاریخ ہے، ہماری تہذیب میں بہت ڈائورسٹی ہے ، اِس سے خود کو کاٹ لینا یا اُس پر توجہ نہ دینا اصل غلطی ہے، عربی اور فارسی کا لٹریچر بہت قدیم اور بُلند پائے کا ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ مرعوبیت کا ہے ۔ کبھی انگریز کی انگریز سے کبھی عربوں سے۔

  9. بہت اچھا لکھا،

  10. ایک انتہائی مفید تحریر ،جس میں معاشرے کے ایک اہم نکتے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s