ٹوکا اور گجنی

جوں جوں ویزا ختم ہونے اور ملک واپس جانے کا وقت قریب  آتا جا رہا ہے، ویسے ویسے ہمیں ہوش آ رہا ہے کہ سی وی بھاری کر لی جائے. اسی لیے آج کل عوامی لیکچرز، اپنی فیلڈ سے متعلق کتب و جرائد،  کے ساتھ ساتھ قلیل مدتی کورسز پر بھی زور ہے. یہ سب اس لیے کہ واپس جا کر کہانی سنا کر ہم اپنا کام نکال اور کچھ پیسے بنا سکیں. اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ مصنف کا عملی سیاست میں آنے کا ارادہ ہے. ویسے بھی اپنی دال سیاست میں زیادہ نہیں گلنی کہ اپنا نام شاہد پر ختم ہوتا ہے۔

ان قلیل مدتی کورسز میں آج کل کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ایک آن لائن پروگرام کے تحت ‘اسلامی ممالک میں آئینی ارتقاء’ نامی کورس پڑھنے کا موقع ملا. کورس ہے تو اپنی فیلڈ یعنی مارکیٹنگ سے دور لیکن بلا کا دلچسپ ہے معلومات میں کافی اضافہ اور اس چیز کو سمجھنے میں خاصی مدد ملی کہ کیسے ہم مسلمانوں نے اسلام کو اپنا الو سیدھا کرنے کا آلہ بنا دیا ہے. خیر ہفتہ کے روز لیکچر میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے معاشیات کا تذکرہ تھا. اب اتنے فنانشل اعداد اورمعاشی گردکمے دیکھ دو ہستیوں کی یاد آئی… ٹوکا اور گجنی۔
پنجاب یونیورسٹی کے پہلے سیمسٹر میں مصنف کو اپنی تقریباً جوانی کا پہلا عشق ہوا۔ یہ عشق فنانس نامی مضمون کے ساتھ ہوا۔ اور یہ تھا بھی کسی ہندی فلم کا سا ہی کہ جس میں غریب مسکین ہیرو کھجل خراب ہوتا رہتا ہے لیکن ہیروئین اسے جوتی پر بھی نہیں لکھتی۔ بس عشق پروان چڑھا اور جاتے جاتے اس محبت کی ایک نشانی چھوڑ گیا اور وہ پہلے سمسٹر کی نشانی آخری تک ہمارے ساتھ رہی۔ ویسے بھی محبت کی کچھ نشانیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ایدھی کا جھولا بھی کسی کام نہیں آ سکتا۔
اگلے سیمسٹر میں فنانس ایک نئی شکل میں سامنے آئی اس بار اسکو پڑھانے کا کام حافظ عبدالرشید کے پاس تھا. موصوف کو کورس اور نمبر ‘ٹکنے’ میں محارت کی وجہ سے ‘ٹوکا’ کہا جاتا تھا. یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ ‘ایل پی سی گروپ‘ نے انکی  خدمات کے بدلے ان کو ‘موجو جوجو’ کا خطاب دیا۔ سر کلاس میں آکر ایسے پڑھاتے کہ سمجھو کوئی بھونچال آگیا ہو. یار لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ تیز اس لیے پڑھاتے تھے کہ وہ سوال رٹ کر آتے تھے اور جلدی اس بات کی ہوتی کہ کہیں بھول نہ جائے۔
  پورے سیمسٹر میں جو بات سمجھ آئی وہ یہ تھی کہ ‘اسے اپنے کیلکولیٹر کی میموری بنا کر رکھ لیں’۔ خیر یہ سوال تحقیق طلب ہے کہ ھونکوں کی طرح پورا سیمیسٹر ہر لیکچر سر پر سے گزارنے اور ‘استاد محترم’ کا مذاق اڑانے کے علاوہ کچھ نہ کرنے پر بھی ستر نمبر کیسے آ گئے؟
اگلے سیمسٹر میں ہم پر ظہیر احمد بٹ صاحب نازل ہوئے۔ ویسے تو انکی شخصیت ایک پورے بلاگ کی متقاضی ہے لیکن یہ کہہ دیتا ہوں کہ موجودہ سمیت کئی وزراء و مشیر خزانہ بٹ صاحب کے شاگرد یا ہم جماعت ہیں. بٹ صاحب نے جو پڑھایا وہ ایسا اعلی تھا کہ ٹوکا صاحب کی قدر ہونے لگی۔ گجنی بٹ صاحب کا نام بالکل بھی نہیں تھا. کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو چاہ کر بھی آپ برا نہیں کہہ سکتے انکی عزت خود بخود کرنے لگتے ہو اور لا شعوری طور پر ایک انس سا محسوس کرنے لگتے ہو ظہیر احمد بٹ صاحب بھی ایسی ہی شخصیت ہیں۔
گجنی نام تھا ہمارے مینیجیریئل اکنامکس کے پروفیسر کا. موصوف کا حافظہ ایسا باکمال تھا کہ لطیفوں والے پروفیسر کیا بیچتے ہیں۔ ان کی اسی شارٹ ٹرم میموری کی وجہ سے پورا ہیلی کالج ان کو گجنی کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اپنے مضمون میں سے ہی لفظ ڈھونڈ کر جغتیں کرنے کا فن بھی جانتے تھے۔ انکی یاداشت کا فائدہ ہم نے ایسے اٹھانا کہ اگر ہماری حرکتوں کی وجہ سے ہمیں کلاس بدر کر دیا گیا تو ہم دس منٹ بعد خود ہی واپس آ گئے۔ اور گجنی صاحب نے اتنا ہی کہا کہ پانی پی آئی ہو تو اب ٹائلٹ کی بریک نہ مانگنے لگ جانا کسی مارجنل کرو کے بچے۔ ان صاحب کا بھی مزاق خوب اڑایا لیکن آخری لیکچر کے روز کچھ ایسا ہوا کہ اب بھی لکھتے وقت دل میں ٹیس سی اٹھتی ہے۔
کلاس سے جاتے جاتے جیب سے اپنا فون نکال کہنے لگے کہ میں آپ سب لوگوں کی فوٹو کھینچ لوں؟ آخر میں بھی تو آپ کا استاد ہوں. یہ کہتے وقت انکی آنکھوں میں وہ نمی تھی کہ جس کو انسان بڑی مشکل سے روکتا ہے۔ یہ منظر کچھ ایسا تھا کہ آج تک بھول نہ سکا۔ اس مضمون کی سمجھ نہ آنے اور کم نمبروں کے آنے کے دکھ سے زیادہ گجنی صاحب کا مذاق بنانے کی پشیمانی ہے۔ ویسے یہ بھی نا ہنجاری کی حد ہے کہ مجھے انکا اصل نام بھی یاد نہیں۔
آج جب ان اعداد اور معاشی جدولوں سے نبرد آزما ہوں تو سوچ رہا ہوں کہ تب اگر مزاق اڑانے کی ہمت کے ساتھ  تھوڑی اور ہمت کی ہوتی تو آج ان چیزوں کو سمجھنا شائد آسان ہوتا۔ وہ ہمت تھی یہ کہنے کی کہ جناب مجھے سمجھ نہیں آ رہا میری اس معاملے میں مدد کر دیں مجھے حل رٹنے کی بجائے مسئلے کی جڑ شناسی سکھا دیں۔ لیکن کبھی یہ ہمت نہ ہوئی۔
اسکی بڑی وجہ شاید انا ہے کہ اگر مصنف یہ درخواست کر دے تو یار لوگ باتیں سنائیں گے اور کند ذہنی کا تعنہ دیں گے یہ بھی ممکن ہے کہ استاد صاحب جواب میں جغت مار اگلی بار ہمت کرنے سے توبہ کروا دیں۔ نتیجہ وہی رٹا پروگرام اور مضمون کی روح جاننے کی دوڑ صرف امتحان کے نتائج تک۔
  استاد کا رتبہ واقعی بلند ہوتا ہے لیکن ہم اسے اتنا بلند بنا دیتے ہیں کہ ان سے کام کی بات کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور آگے پیچھے انکے نام بگاڑنے میں ہم سب سے آگے۔
ہم سب کی تعلیمی زندگی میں ٹوکا اور گجنی جیسے لوگ آتے ہیں۔ ہم ان کی قدر اس لئے نہیں کرتے کہ ہماری نظر میں وہ اپنا کام درست طریقہ سے کرنا نہیں جانتے۔ لیکن کیا مجھ جیسے طلبہ نے کوشش کی انکو ایک موقع دینے کی کہ لو بھائی مجھے سمجھا دو بہتر طریقے سے۔ ہر عمل کا رد عمل بھی ہوتا ہے اگر ہمارا اپنا عمل دیہاڑی ٹپانا ہی ہو تو رد عمل بھی ایسا ہی ہوگا نتیجہ یہی ہوگا کہ کچھ سال میں اچھا خاصہ پر عزم استاد بننے کی بجائے گجنی یا ٹوکا تیار ہو جاتا ہے۔
Advertisements

9 Comments

Filed under ملے تھے جو راہ میں

9 responses to “ٹوکا اور گجنی

  1. مصنف واللہ لفاظی تو آپ سے سیکھے، اتنا سنجیدہ پیغام دیکر تو مجھے بھی غمگین کردیا آپ نے۔
    ایک بات پوچھوں، آپ بھی کیا پٹھان ہوتی ہے؟ یہ بات اس فقرے کو پڑھ کر پوچھ رہا ہوں:(“اس بار اسکو پڑھانے کا کام حافظ عبدالرشید کے پاس تھی”)

  2. گمنام

    That is too good n soo true.but another factor is our managment which make gajni n toka.

  3. سچی گل اے پا ج لیکن اگر یہاں یورپ میں پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ اصل میں یوں پڑھانا چاہیے اور پاکستان میں سوال نہ پوچھنے کی پشیمانی نہیں ہوتی۔
    ویسے آپس دی گل ماشااللہ سے ہاتھ پکا ہوتا جا رہا ہے آپ کا امید ہے جب آپ کو ایواٹ ملے گا تو آپ اس خاکسار کا ذکر بھی کریں گے کہ کیسے ہم نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو لکھنا سکھایا :p

  4. ہاہاہا میں تو راجپوت ہوتی ہے جودھ پور سے میرا فون شائد پٹھان ہوتی ہے جو اکثر ایسی حرکتیں کر جاتا ہے۔ اصل کہانی یہ ہے کہ مسودے میں لفظ 'زمہداری' لکھا تھا۔ چھاپنے سے پہلے لگا کہ اس کے ہجے درست نہیں ہیں تو زمپداری کو تو کام کر دیا تھی کو تھا کرنا سستی مارے بھول یا مصنف۔

  5. بات وہی ہے شاہ جی پاکستان میں ہمیں فکر نہیں ہوتی ہم سب دن گزاری کرتے ہیں بس۔ باقی تعریف کا شکریہ آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی اپنے آپ میں ایک “صدارتی ایوارڈ” ہے۔

  6. ہمارے معاشرے میں سوال کرنے کو واقعی مذاق سمجھا جاتا ہے، اور جو سوال کرتے ہیں ان کا مقصد جواب سے زیادہ انٹرٹینمنٹ ہوتی ہے۔ اس لئے تو آج تک پاکستانیوں کے کنسپٹ کلئیر نہیں ہوسکے۔
    بہت اعلیٰ۔

  7. عبدالرشید ٹوکا سے ایک دو لیکچرز میں پڑھائی کے علاوہ دیگر موضوعات پر بات ہوئی تو پتہ چلا کہ بڑے ہی ہنس مکھ قسم کے انسان ہیں، تاہم یہ مواقع تب ہی میسر آئے جب انہیں سوال کا رٹا ہوا جواب بھول گیا۔

    گجنی تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ۔ ۔ ۔ آخری بار انہیں دبئی چوک کے قرب و جوار میں 1983 ماڈل کی شیراڈ چلاتے دیکھا تھا، حق مغفرت کرے عجیب آزاد مرد تھا!

  8. املاء کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے قطع نظر ہلکے پھلکے انداز میں سنجیدہ تحریر ۔ لیکن محتاط رہیں کہ “مصنف” وطن واپسی پر اگر استاد کی پوسٹ پر تعینات ہو جائے تو کیا نام دیا جا سکتا ہے ۔ ویسے فارن ریٹرن کا تمغہ ہی کافی ہے۔ اور اگر یہی “حالات ” رہے تو میری طرف سے ” سٹائل ذرا ہٹ کے “

  9. ایک دفعہ بچپن میں امی کے سامنے کہ دیا تها مسسز سلطان کا سکرو ہل گیا ہے. ابهی بهی وہ بات یاد آتی ہے تو گال پر مرچیں محسوس ہوتی ہیں امی کے سجے ہاته کے پٹهے لافے کی.
    بس شاید اسی لیئے ڈگری مل گئ ورنہ میں تو کسی قابل کا انسان نئ. بے ادب جیا بندہ.
    وہ والے استاد اور وہ دور اور وہ استاد شاگرد کا رشتہ اب شاید ڈهونڈے بهی نہ ملے.
    آپ نے خاصا جزباتی اور ناسٹیلجک کر دیا.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s