بیگانے بنگالیوں میں

جس کمپنی میں مصنف رزق و روزگار کے لئے کھجل  ہو رہا ہے وہ بنگلادیشیوں کی ہے. ویسے آج کل پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ تاثر ختم کیا جائے اور اسے بین الاقوامی کمپنی بنایا جائے. خیر انکی ترقی کے قصیدے اس تحریر کا موضوع نہیں ہے بس یہ بتانے کو تمہید باندھ رہا ہوں کے پورے دفتر میں مصنف واحد پاکستان بارن پاکستانی ہے. اور اسی ایک حادثے کی وجہ سے جب بھی پاکستان کی کوئی پٹھی سدھی خبر عام ہوتی ہے تو سارے میرے دوالے ایسے ہو جاتے ہیں کہ جیسے نوائے وقت والوں کے بعد اگر کوئی پاکستان کا سگا ہے تو وہ ہم ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ الیکشن کے دنوں میں دماغ کا ملک شیک ثواب کا کام سمجھ کر کیا ان بنگالیوں نے، جن میں پیش پیش وہ موصوف تھے جن کا تعلق خلیفہ لیاؤ تحریک سے ہے اور اسلام کے اس مجاہد نے تو مشرف انکل کو ہی ملک کے مسائل کا حل قرار دے دیا کہ اسلام میں جمہوریت کی گنجائش نہیں ہے اور ہمیں یہ راس بھی کہاں آتی ہے. ایک اور بھائی صاحب نے کوئی پورا ایک ہفتہ مجھے ‘مطالعہ پاکستان ایک بنگالی کی نظر میں‘ پر سیر حاصل لیکچر دئیے جسکا غالباً واحد مقصد میرے منہ سے یہ نکلوانا تھا کہ شیر بنگال جناب فضل الحق؛ جناح صاحب سے بڑے لیڈر تھے. ایک تو مولویوں کے عید و رمضان کے چاند کی طرح اپنے اپنے قائد نے بھی ہمیں خوب کھجل کیا ہوا ہے۔

استقبالیہ

بنگلا دیش کا لفظ شاید پہلی بار تب سنا جب والدہ محترمہ نے نانا ابو مرحوم کے جنگی قیدی ہو جانے اور اس کے بعد کے واقعات سنائے. تب سے یہ ملک میرے لئے کافی دلچسپی کا موضوع رہا ہے. لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ ایک دن یہ دلچسپی بنگالیوں کے ہتھے ایسا چاڑے گی کہ بس۔۔۔ یہاں برطانیہ میں ہر سال برٹش بنگلہ دیشی ہو از ہو نامی رسالے کا اجراء اور ایوارڈ کی تقریب ہوتی ہے جس میں بنگلہ دیشی کمیونٹی میں اہم شخصیات کا تعارف اور ان کے اقوال زریں وغیرہ ہوتے ہیں۔

ہماری کمپنی کا برانڈ سمپل کال اس سال کے سپانسر میں سے ایک تھا لہذا ایک عدد پاس ہم کو بھی مل گیا. اس قسم کی تقاریب کا خاصہ تجربہ ہے. لہذا اول سوچا کہ اپنے تجربے کا بنگالی ترجمہ کیا دیکھنا؟ پھر سوچا کہ چلو چلتے ہیں کہ معقول رنگوں کی ساڑھیوں میں منہ متھے لگتی بنگالنیں ہی تک لیں گے اور ہو سکتا ہے کے عشائیہ کے میٹھے میں بنگالی رس گلے ہوں۔

دیگر مفت بروں کے ساتھ ہم بھی تقریب میں شرکت کے لئے اسکندریہ پیلس پہنچے یہ مقام بھی ایک وجہ تھی شرکت کی کہ چلو یہ بھی دیکھ لیں گے کہ حضرت روم میٹ رحمت اللہ علیہ نے ایسا منظر کھینچا تھا کہ لندن میں یہ جگہ مصر کا فلیور دیتی ہے. عمارت کا انٹیریئر واقعی مختلف ہے لیکن ابو الھول کا مجسمہ، پائن کے درخت اور دیواروں پر چند لکیریں کھینچنے سے مصر نہیں بنتا. اور یہ آخری موقع تھا کہ اس کے بعد ہم نے حضرت روم میٹ رحمت اللہ علیہ کی باتوں پر یقین کرنا چھوڑ دیا کہ
ہر نئی حقیقت نے جھنجھوڑ کر کہا 
سنا تھا جو سب خوشنما فسانہ تھا
 ابو الھول کا مجسمہ، پائن کے درخت اور دیواروں پر چند لکیریں کھینچنے سے مصر نہیں بنتا

ہال میں داخل ہونے لگے تو ایک عدد سیاہ ساڑھی میں لپٹی قدرے دراز قد دوشیزہ نے مسکرا کر خوش آمدید کہا اب جس بندے
کو بجلی کھسرا بھی منہ نہ لگاتا ہو ایسے خوش آمدید پر ڈل نہ جائے تو لعنت ہے اس ڈیزائن کے تھڑے ہوئے پر. خیر ہم نے خدا کا شکر ادا کیا کہ شام غارت ہونے سے بچ گئی۔

اپنی میز پر جا بیٹھے معذرت چاہتا ہوں بیٹھے ہم کرسی پر تھے میز پر اپنا نام لکھا تھا. لاہوری ہونے کا ثبوت دینا چونکہ لازمی تھا لہٰذا لگے دیدے پھاڑ ہال میں موجود رونق کی حاضری لگانے. پروگرام شروع ہوا تو اپنی جاسمین منظور کا کوئی  مردانہ بنگالی ورژن میزبانی کے فرائض انجام دینے لگا دل چاہا کہ انکو جا کر کہوں کہ ‘پائن تاڈا سونڈ سسٹم بھانیں نواں جے ساڈے تے کن پرانے ای نیں کم ہولی کر لوو گے تے میربانی’۔

ایک کے بعد ایک لوگ اپنا اپنا ایوارڈ لینے آتے رہے جن میں سے کچھ نے ہی متاثر کیا ورنہ زیادہ تر تو ‘تم نہ اسٹیج پر میری تعریف کرنا میں تمہاری تعریف کروں گا’ والا ہی چکر تھا. مزاح پیدا کرنے کو لطیفے یا جملے استعمال کئے گئے وہ ایسے تھے کہ دل کیا ان سب کو جرمانہ کر دوں پھر جذبات پر قابو کیا کہ اب راج نہیں رہا رائے صاحب۔

جن لوگوں نے متاثر کیا ان میں بنگلہ دیش کمیونٹی کی جانب سے پہلے خاتون کاؤنسلر محترمہ برونس منظیلہ الدین تھیں

محترمہ منظیلہ الدین 1988 میں
 پہلی بنگلادیشی خاتون کاؤنسلر منتخب ہوئیں۔

محترمہ کا کام اور انکی انکساری واقعی متاثر کن تھی اور دوسرا اس نوجوان، صابر اسلام، نے جو اب بھی عمر میں مجھ سے کم ہی ہوگا لیکن موصوف نے کیا شاندار کام کئے. مثال کے طور پر جناب نے اپنی پہلی کامیاب کاروباری مہم اس عمر میں مکمل کی کہ جب ہم یہ سوچنا شروع کرتے ہیں کہ اگلے سال میٹرک سائنس میں کرنی ہے یا آرٹس میں. پہلی کتاب اس عمر میں لکھی کہ جس عمر میں ہم اکثر ایس ایم ایس کی شاعری فارورڈ کرنا زندہ دلی کی معراج مانتے ہیں. آج یہ لڑکا دنیا بھر میں لیکچر دیتا ہے اور اس کی عمر ابھی یہ ہے کہ جس عمر میں ہم ابا جی سے نئے فون کی فرمائش کے لئے موزوں اسکرپٹ سوچتے ہیں۔

ایک تحریک آزادی (اپنی والی نہیں بنگلادیش کی) کے کارکن جسکو پیار سے سب بادشاہ بھائی کہہ رہے تھے نے بھی ایوارڈ وصول کیا اور اپنی تقریر میں اپنے قائد اور اپنی تحریک کی قصیدہ گوئی کی کہ مجھے اپنا آپ ولن محسوس ہونے لگے۔

پوری تقریب میں کسی کی کہی ہوئی کوئی بات جو مجھے پسند آئی وہ محترمہ روشن آراء کی تھی کہ ‘ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہم اپنی باتوں اور اعمال سے دوسروں کا حوصلہ کیسے بڑھا سکتے ہیں نہ کہ ہماری باتیں اور اعمال دوسروں کے حوصلے کم کرنے کا سبب بنے‘۔

ہمارے ایم ڈی صاحب نے بھی خطاب کیا
 اور اسکی طوالت سے تنگ آ کر کسی نا ہنجار نے لیزر بیم سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی
 اور یوں تقریر ختم ہوئی۔

تقریب میں کھانا کھلنے سے پہلے شیریں نامی ایک عدد گلوکارہ کو اسٹیج پر بلایا گیا۔ اپنا فن پیش کرنے سے پہلے تعارف میں بی بی نے رسمی جملے کہے کہ مجھے بچپن سے گانے کا شوق ہے اور میں دو سال کی عمر سے گا رہی ہوں۔ محترمہ کا گانا بنگالی میں ہونے کی وجہ سمجھ تو نہ آیا لیکن ایک بات کا یقین ہو گیا کہ بچپن میں ہم پر ہونے والی  تنقید کو زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہیے اسی طرح بے تحاشا تعریف کو بھی سر پر سوار نہیں کر لینا چاہیے خاص کر جب وہ ماں کی طرف سے ہو کہ ہائے میری بچی کتنا اچھا گاتی ہے۔

اسی گانے کے دوران کھانا چن دیا گیا مٹن، فش، اور چکن میں سے مصنف صرف چکن ہی کھا سکا کہ دیگر کی بنگالی ترکیب زائقہ کی حس سے زیادہ سونگھنے کی حس پر بھاری تھی۔ اس میں تیل اتنا کہ جیسے اپنا کولہو ہو باورچی کا. ہم میٹھے کا انتظار کرنے لگے کہ ایک چوڑیوں بھرا ہاتھ آگے ہوا اور ہمارے سامنے ایک پیالی رکھ گیا۔ پیالی میں موجود مادہ دیکھ ہم نے سوالیہ نظروں سے اس دوشیزہ کو دیکھا تو جواب ملا گلاب جامن اور قلفی۔ ایک ہی پیالی میں دونوں کی باہمی محبت دیکھ ہم مخمصے میں پڑ گئے۔ رازق کا نام لے کر ایک چمچ بھرا اور چند لمحوں بعد مصنف کا منہ گرم گلاب جامن اور ٹھنڈی قلفی سے بھر گیا دیکھنے اور سوچنے میں یہ جگل بندی جتنی عجیب معلوم ہوتی ہے اتنی ہی کھانے میں لا جواب تھی۔

کرتا دھرتا

تقریب کے بعد جب واپس جانے لگے تو حسینہ ممتاز  نظر آئیں جو کہ گلا پھاڑو بھائی صاحب کی معاون میزبان تھیں۔  مصنف نے عادت سے مجبور آگے ہو کر کہہ دیا کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو آپکو بتانا تھا کہ آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں. جواب میں انہوں نے بنگال کی سگنیچر بڑی بڑی زنانہ آنکھیں پھڑپھڑا کر شکریہ ادا کیا اور جاننا چاہا کہ مجھے انکی ہوسٹنگ کیسی لگی اور اس پر فل سٹاپ نہ کرتے ہوئے مزید مجھے اپنے کسی بنگالی چینل پر آنے والے نیوز پروگرام کا وقت وغیرہ بھی بتایا کہ دیکھیے گا۔  ہم نے دل میں سوچا کہ ایک تو یہ ان اینکروں کے اندر کا مبشر لقمان زرا سی دیر نہیں لیتا باہر آنے میں ۔

خیر ہم نے باہر آنے میں بھی دیر نہ کی اور واپسی کی راہ لی اور تمام راستہ ایک اور خلیفہ لیاؤ مہم والے بنگالی بھائی کا بیان برداشت کیا کہ لفٹ لی ہے سیاسی ملک شیک برداشت کرنا پڑے گا۔ گھر آ کر دیر تک تقریب کے بارے میں سوچتا رہا کہ اس تقریب کا حاصل کیا تھا سوائے اس کے کہ ایلیٹ کلب کے ممبران مل لیتے ہیں ایک دوسرے کی کامیابی پر مبارکباد دے لیتے ہیں.  بور قسم کی تقاریر میں ناہنجار بنتے ہوئے مقرر کو لیزر بیم سے ستا لیا۔ لمبی چوڑی تقریریں جھاڑ لیں جو پچھلے سال ایوارڈ کے وصول کنندہ تھے اس سال کے سپانسر بن گئے اور یہی سلسلہ اگلے سال بھی چلے گا۔ ٹی وی اور اخبارات میں مشہوری مل گئی۔ مگر کیا واقعی ان سب سے ان کے حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے کہ جن کو ایلیٹ کلب میں شمولیت میں بھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس قسم کی محافل پاکستانی ہوں یا بنگلہ دیشی انکا فلیور اور ان کا اصل حاصل ایک سا ہی ہوتا ہے۔ اور اس خیال کے ساتھ مصنف لمبی تان کر سو گیا۔

مصنف رات میں دور سے لندن شہر کو دیکھتے ہوئے۔

Advertisements

24 Comments

Filed under انگلستان, سوچ بچار

24 responses to “بیگانے بنگالیوں میں

  1. پائن تاڈا سونڈ سسٹم بھانیں نواں جے ساڈے تے کن پرانے ای نیں کم ہولی کر لوو گے تے میربانی
    یار ایک سے ایک لاجواب جملہ
    بہت عمدہ اور زبردست
    جتنی تعریف کرو اتنا کم
    آئی ریپیٹ، فیوچر از یورز بڈی 🙂

  2. بہت خوب رائے صاحب!

  3. خوب بیان کرتے ہو پیارے بھائی۔

  4. محترمہ روشن آرا نے بہت خوبصورت بات کہی جو کہ آپ نے بیان فرما دی۔ ویسے آپ کی کہی ہوئی باتیں بھی بہت اعلی معیار کی تھیں پڑہنے میں خوبصورت و عمدہ اور سمجھنے میں بہت اعلی ۔ بنگالیوں کو آپ کا شُکر گُزار ہونا چاہئے کہ اُن کی تقریب کو آپ نے خوبصورت لفاطی سے چار چاند لگا دئے۔

  5. زبردست تحریر جناب۔
    ایک بات کلئیر نہیں ہوسکی، آیا برطانیہ میں رہنے والے بنگلہ دیشی بھی پاکستان سے اتنی ہی محبت کررتے ہیں جتنی بنگلہ دیش میں رہنے والے؟ یا اس سے تھوڑی کم :ڈ

  6. اتنی رواں اور کلاسیکل تحریر۔ مزا آ گیا۔ ڈفر نے دل کی بات کہی کہ مستقبل آپ کا ہے۔ شکریہ

  7. کیا بات ہے جی. ساری پڑھ کر ہی شاہ لیا. بہت خوب

  8. واہ۔زبردست انداز میں احوال ِ محفل

  9. میرے خیال میں یہ پڑهتے پڑهتے میں ہم نے بهی یہ بانگلہ محفل اٹینڈ کر ہی لی. لیکن رائے صاب بهات موسلی نہ کهایا تو تشنگی سی رہی ہو گی. ان کا اور بونگالی کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے.
    اس تقریب کا حال پڑه کر کئ اٹینڈ کی گئ تقاریب یاد آئیں جن کا مقصد تا حال سمجھ نئ آ سکا. آپ بهی اس وشیئے میں آنکھ بند کر کے ساڑهی دیکهیں اور رشوگلہ شوندیش انجائے کیجئے.

  10. تعریف کے لئے شکریہ۔

  11. فیوچر کے ساتھ ساتھ کچھ کیش بھی مل جاتا تو۔۔۔۔

  12. کوشش کی تھی کہ جو انہوں نے انگریزی میں کہا اسکا بہترین ترجمہ کر سکوں۔ باقی شتر گزار نہ ہی کرائیں آج کل بڑے ہتھ چھٹ ہوئے پڑے ہیں۔

  13. اس طرح سے جنرلائز نہ کیا جا سکتا ہے نہ کرنا چاہیے۔ باقی آج تک مجھے تو وہ آلہ نہ ملا کہ جس سے محبت ماپی جا سکے 🙂

  14. تعریف کے لئے بہت شکریہ

  15. مصنف امید کرتا ہے کہ پانی بھی پی لیا ہوگا :پ

  16. ایدا ہن ترجمہ وی دس دیو۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s