آکسفورڈ مشاعرہ میں


کسی بھی ادبی محفل کے لیے ہم کئی برس پہلے ہی ان فٹ قرار دیئے جا چکے تھے وہ بھی ایسے کہ جیسے ایک فلیٹ فٹیا فوج کے لیے. پنجاب یونیورسٹی کے ایام میں بزم ادب کو بے ادب کرنے والوں میں مصنف کا شمار بھی ہوتا تھا حتی کہ ایک بار تو بزم ادب میں ایک شاعر نے اپنا کلام ہوا میں گھولنے سے پہلے اسٹیج سے آواز دی کہ مصنف جو جو جغت مارنی ہے ابھی مار لو کلام میں نہ بولنا۔

ہماری ان فٹنس کا اعلان کچھ ایسے ہوا تھا کہ سولہ نمبر ہاسٹل ہمارا دوسرا گھر ہوا کرتا تھا پڑھائی کے سلسلے میں اکثر اپنے ایک عزیز دوست کے کمرے میں رک جایا کرتا یہ الگ مسئلہ ہے کہ وہاں پڑھائی کے علاوہ سب کچھ ہوتا تھا. ویسے بھی امتحان کی رات سے پہلے پڑھائی کرنا ہیلیئنز( ہیلی کالج کی پیداوار) کے آئین کے تحت نا قابل معافی جرم ہے۔

ایسی ہی کسی بیٹھک کے دوران اسی دوست نے پوچھا کہ پندرہ نمبر ہاسٹل (ہیلی کالج کی مخلوق کی سب سے زیادہ تعداد اسی میں مقیم تھی غالباً کسی اور ادارے کا طالب علم وہاں نہیں ہوتا تھا بھارت کی طرح بے ہنگم آبادی ہیلی کالج کا بھی مسئلہ تھا) میں ایک پروگرام ہے چلو گے. اللہ جانتا ہے کہ کچھ کھانے کو مل جاوے گا کہ امید پر ہم نے ہامی بھر لی اور یہ پوچھنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ پروگرام کی اسٹوری کیا ہے۔


 خیر اس کمرے میں پہنچے کہ جہاں پروگرام تھا دروازہ کھلا تو زمین پر پھیلی سفید چادر درمیان میں سجی اگر بتیاں اور ارد گرد پنجاب کی دھوپ سے ویسٹ انڈیزی ہوئے نوجوان یخ چٹے کرتے پہنے بیٹھے نظر آئے۔


یہ منظر دیکھ اپنا تو دل بھر آیا اور ایک ہوک اٹھی کہ بے چارہ اچھا آدمی تھا اور مریا کنج سی بہشتی جیسے رسمی جملے بولے جائیں. فورا دو زانوں بیٹھ کر ہم نے کہا چلو دعا کر لو اور ہاتھ اٹھائے۔ سب نے عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا۔ پہلے تو لگا کہ شاید جینز کی زپ بند کرنا  ہم حذب عادت پھر بھول گئے ہیں. جب تسلی ہو گئی کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں تو ان سے پوچھا کیا ہوا بھائی. پتا چلا کہ مشاعرے کا مقام ہے. ہم نے واہیات نیچر کا قہقہہ بلند کیا اور کہا لو میں سمجھا کوئی آف ہو گیا ہے اور مرحوم کی یاد میں رسم قل یا چہلم کا اہتمام ہے۔

یہی وہ موقع تھا جب ہیلی کالج کے تمام شعراء کرام نے ہمیں کسی بھی ادبی محفل کے لئے ان فٹ قرار دے دیا۔ 

دور حاضر کے مشہور شاعر اور لکھاری مستقبل کے مشہور مصنف کے ساتھ

ادب کی اب لکھی ہمارے ہاتھ تھی تو ہم بن گئے مصنف اور لگ گئے ادب کی ‘خدمت’ کرنے۔

 اسی سال جون میں ایک دن برقی سندیسے نے پیغام دیا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا سالانہ اردو مشاعرہ ہو رہا ہے اور ہم بھی شریک ہو سکتے ہیں. پہلے تو سوچا کہ اپنا کیا کام ایسے کاموں سے مگر پھر مشاعرے کے مہمان خصوصی کی نام پڑھا۔ دماغ میں دو نام آئے کسوٹی اور بارہواں کھلاڑی. جناب افتخار عارف کا نام پڑھتے ہی ٹرین کی ٹکٹ بک کی. اور مقررہ دن ہم 40 منٹ کی مسافت طے کر کے آکسفورڈ شہر پہنچے. آکسفورڈ کے دوستوں سے ملاقات تو ہمیشہ ہی اچھا تجربہ ہوتا ہے لیکن افتخار صاحب سے ملاقات واقعی زبردست تجربہ تھا۔


منتظمین میں سے کسی نے پوچھا کہ کچھ پڑھو گے؟  ہم نے اپنے سگنیچر احمق پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہاں کتاب ہے بستے میں وہ پڑھتا آیا ہوں راستے میں۔ پھر محترمہ نے تشریح کی کہ انکا مطلب مشاعرے میں کچھ کلام پڑھنے سے تھا۔

اپنے مسل پر ہم نے بڑی کوئی شاعری کر رکھی ہے مگر وہ ایسے پائے کی ہے کہ خود پڑھ کر ٹیمز میں کود جانے کو دل کرنے لگتا ہے لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ اپنا کلام سنا کر اجتماع کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے۔

بارڈر کے پرلے پاسے کے دو شعراء


ہونی کو کون ٹال سکتا ہے تالئوں کی گونج میں ہم بھی اسٹیج پر جا پہنچے
ہم نے ان حالات میں مصنف کی ناک بچانے کے لئے غوری صاحب کو فون کیا اور ان کو حالات سے آگاہ کرتے ہوئے انکا ایک کلام ادھار لیا اور ادھار کو واپس کرنے کا طریقہ موصوف کی فون پر افتخار عارف صاحب سے بات کروانا تھا۔

پروگرام کے آغاز میں منہ بولے شعراء نے اپنا کلام یا اپنا پسندیدہ کلام پیش کرنا تھا. آغاز میں بارڈر کے پرلے پاسے کے دو شعراء نے کلام پیش کیا اسے دورانئے میں ایک عدد سررپرائز بھی تھا جو کہ کچھ یوں تھا۔



خیر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے تالئوں کی گونج میں ہم بھی اسٹیج پر جا پہنچے اب مشاعرہ پڑھنے کا تجربہ تو تھا کوئی نہیں لہذا تقریری تجربہ استعمال کرتے ہوئے آغاز ایک لطیفے سے کرنا چاہا. اب ہم سے بڑا لطیفہ کیا ہو سکتا ہے لہذا ہم گویا ہوئے۔


اپنا بھائی جی یہ جو کلام میں پیش کرنے لگا ہوں یہ میرا کلام نہیں ہے۔ ایک دوست کا ہے جواس کو چھپوانے سے گریزاں ہیں لہذا گناہ ثواب ان کے سر. اور اپنا کلام میں اس لئے نہیں سنا رہا کہ اسے سن کر آپ لوگوں کا کوئی پونے تین ماہ تک شاعری سے دل اچاٹ رہے گا، یا پھر مجھے گولی مارنے کو دل کرنے لگے گا۔


جب ہم نے دیکھا کہ ‘ماحول’ بن گیا ہے تو ہم نے کاغذ ایسے سیدھا کیا جیسے خاں صاحب ہارمونیم سیدھا کرتے ہیں. اور اپنی طرف سے معتبر بنتے ہوئے مندرجہ زیل کلام ٹھوک دیا۔



مشاعرے کی مشقت کے بعد اکے ستے شعراء کرام


اپنے منہ کو تعریف نہیں کافی داد ملی تھی ویسے اسکے بعد باقائدہ شعراء نے اپنا کلام پیش کیا اب انکے بارے میں لکھ کر انکی بڑائی کم نہیں کرنا چاہتا مندرجہ زیل ویڈیو ریکارڈنگ میں کلام سنا جا سکتا ہے.  اب تک جو ہم نے آپ کا وقت ضائع کیا اس کے لئے معذرت نہیں تو کٹا دیں اس بات کا پرچہ مصنف پر. 


Advertisements

13 Comments

Filed under ادھار کی شاعری, شاعری کی کوشش

13 responses to “آکسفورڈ مشاعرہ میں

  1. ali

    کلام بعد میں سنا جائے گا تحریر پہلے پڑھ لی۔ ویسے اگر ہمت کر کے ان سب کا کلام نوٹ کر دیتے تو سب کا بھلا ہو جاتا سوائے آپ کے

  2. آواز تمہاری کیوں هے بهاری
    علاج کرا زکام ہے شاید

  3. ABC

    its always a pleasure reading your blog. thoroughly enjoyed. specially the term signatured Ahmaq pan

  4. گمنام

    مزہ آیا، جانی پڑھ کے۔ ہلکا پھلکا۔ زمانے اور زندگی کی بک بک سے الگ تھلگ۔

    مبشر اکرم

  5. اگر انکا لکھا کلام نوٹ کرتا تو اپنا لکھا تو کوئی کمپوڈر بھی نہ سمجھ سکے کجا کہ مصنف آج چھ ماہ بعد سمجھ سکتا لہزا ہم وڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ کے گاہک ہیں

  6. بس مبشر بھائی اخبار اور ٹیلی ویژن ترک کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ سوچنے اور لکھنے کو کافی کچھ اور بک بک سے بہتر مل جاتا ہے. تبصرے کا شکریہ

  7. جاگتے ہیں گر پہلا کام یہ کرو
    آواز تو بھاری رہے گی نہ شاید

  8. جاگتے ہی دل کی قلم تهام لی
    صفحہ دل پہ کسی کا نام ہے شاید

  9. تحریر عُمدہ مگر شعرا کے کافی کوشش کے باوجود بھی نہیں چل رہے شائد نیٹ کی سپیڈ کا مسئلہ ہے

  10. سبين

    بے حد دلچسپ تحرير ايسی تحرير پڑھنے کو آنکھيں ترستياں ہيں ۔ مصنف سے گزارش ہے کہ
    باقاعدہ طور پر کالم نگاری فرما کر شکريہ کا موقعہ عنايئت فرما ئیں۔

  11. بہت پُرلطف تحریر لکھی بھئی۔ پڑھ کر مزہ آیا۔
    پہلی دفعہ کسی اردو بلاگ پر اس طرح کی ڈیجیٹل تحریر دیکھ کر اور زیادہ مزہ آیا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s