تقریب رونمائی میں




شیخ زید لیکچر ہال تالیوں کی گونج سے بھرا ہوا تھا، آخر سوال ہی کچھ ایسا تھا، پھر تالیوں کی گونج کو چیرتے ہوۓ یہ الفاظ سماعتوں سی ٹکرائے “میں کوئی سیاست دان نہیں جو حل بتا سکوں میں ایک لکھاری ہوں اور میرا کام مسائل کی نشاندہی کرنا ہے اور آواز اٹھانا ہے”. ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا. یہ احوال ہے گذشتہ پیر کا جب میں یار لوگوں کے بقول ازلی ویلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے لندن سکول اف اکنامکسمیں ایک عدد کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک تھا. لندن سکول اف اکنامکس کے زیر تعمیر مرکز برائے جنوبی ایشیا نے فاطمہ بھٹو کے ناول “دی شیڈو آف کریسنٹ مون” (ہلال چاند کا سایہ) کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا تھا اور میں اپنے ایک ہم دفتریے کی مہربانی سے اس میں شریک تھا۔

“یہ ناول لوگوں کے بارے میں ہے پاکستان میں بسنے والے ان لوگوں اور اس مقام کے بارے میں جس کے بارے میں آج تک نہیں لکھا گیا. دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے حوالے سے یہاں جو تصویر کشی ھمارے خیالات میں ہے وہ بی بی سی  یا سی این این وغیرہ کی خبریں یا اخباروں کی سرخیاں ہیں. لوگوں کی زندگیوں کا احوال نہیں، جب میڈیا خبر دیتا ہے کہ ممکنہ کم عمر دہشت گرد ایک ڈرون حملے میں مارے گیے تو اسکا آسان ترجمہ  بچوں کی ہلاکت ہوتا ہے، شاید، اس ناول میں بچوں کا ذکر ہے کم عمر ممکنہ دہشت گردوں کا نہیں.”. ناول  کے بارے میں پوچھے گیے سوال کے جواب میں 
فاطمہ بھٹو  نے کہا۔

ڈاکٹر  موکالیکا بینرجی جو کہ پروگرام کی میزبان کے فرایض انجام دے رہیں تھیں نے ناول  میں موجود کرداروں کے بارے میں پوچھا کہ کردار کا خاکہ کس طرح سے کھینچا تو مصنفہ کا کہنا تھا کہ کردار بعض اوقات خود اپنا آپ ڈھال دیتے ہیں، آپ انکو تخلیق کرنے کی کوشش میں انکے بارے میں نئی نئی باتیں  جاننے لگتے ہو اور دریافت کا ایک سلسلہ آپکو ان کے بارے میں مزید جاننے پر اکساتا ہے  اور آپ ان کو کاغذ پر اتارتے رہتے ہو.” فاطمہ بھٹو  نے اپنے ناول  کے ایک کردار مینا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “مینا کے کردار نے مجھے لکھتے وقت کافی پریشان کیا، یہ میر علی میں رہنی والی ایسی لڑکی ہے جسکا کام جنازوں میں شریک ہونا ہے وہ ہر روز اخبار میں اس قسم کی خبریں تلاش کرتی ہے کہ جس میں کسی جنازے یا سوئم کا ذکر ہو، اس کے جنون کے پیچھے وجہ جاننے کے لئے میں نے مزید لکھا اور اپنےاس کردار کے بارے میں مزید اگاہ ہوتی گئی۔”
یہ ناول  غیر فِکشن واقعات کو فیکشن کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش ہے. مصنفہ کا کہنا تھا کہ “اصلی یا غیر فکشن واقعات کو فکشن کی قالب میں ڈھالنا خاصا مشکل تجربہ رہا کیونکہ اس عمل میں اپ کو اپنی بات سے زیادہ اس بات کا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ کردار کیا کہنا چاہتا ہے وہ کیا سوچتا ہے اپنے آپ کو کردار کہ حالات و واقعات کے حوالے سی اگاہ کرنے کے بعد اسکے بارے میں کہنا ہوتا ہے، کردار جو کہہ رہا ہے وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے اس کے پیچھے اسکی سوچ اور احساس کا رنگ بھی شامل کرنا پڑتا ہے ورنہ کردار کے کہے الفاظ میں اور ایک اخبار میں چھپے بیان میں فرق نہیں رہتا”۔
پاکستان اور سیاست کے حوالے سے بات کرتے ہوئی کہا’ “پاکستان میں رہتے ہوئے آپکا سیاسی نہ ہونا تقریبا نا ممکنات میں سے ہے، میرے نام کی وجہ سے بار بار مجھ سے سیاست کے حوالے سے سوالات کیے جاتے ہیں، جبکہ سیاست صرف پارٹی میں شمولیت، جلسے جلوس،ٹاک شوز میں تکرار، اور فوٹو سیشنوں کا نام نہیں، مسائل کے بارے میں آواز اٹھانا بھی اگر سیاست کا حصہ ہے تو یہی میری سیاست ہی. ہمارے ہاں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم کام کی روح کو سمجھنے کی بجائے رسومات پر زور دیتے ہیں. ہمارے لیے شاید جمہوریت کی معراج ہر پانچ سال میں ایک کاغذ پر انگوٹھا لگا دینا اور پھر سوئے رہنا ہے، ہمیں لگتا ہے کہ آزادی صرف ایک جدید شاپنگ مال میں گھوم پھر لینا ہی ہے۔”
پروگرام کے آخری بیس منٹ ہال میں موجود خواتین و حضرت کے سوالات کے لیے مختص کیا گیا تھا. اور اس سیشن میں کئی اچھے سوالات بھی سننے کو ملے جو کہ اکثر ایسے پروگراموں میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے جس میں پاکستانی شریک ہوں اور موضوع پاکستان کے حوالے سے ہو۔
سوال جواب کے سیشن کا منظر

پاکستان میں جو ادب اس وقت تخلیق ہو رہا ہے اس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا “پاکستانیوں کی جانب سے جو ادب یا لٹریچر آ رہا ہے وہ بلا شبہ کافی اچھا ہے، لیکن ایک دکھ یا المیہ ہے جس کی کچھ حد تک میں بھی ذمہدار ہوں کہ حال میں انگریزی ادب کو اردو پر ترجیح دی جاتی ہے جس سے اردو ادب میں ہونے والا شاندار کام اپنے حصے کی داد اور رسائی سے شاید محروم رہ جاتا ہے، ھمارے ہاں لٹریچر فیسٹیول تو منعقد ہوتے ہیں لیکن ان میں انگریزی ادب کا غلبا اور چند شخصیات کا زور زیادہ ہوتا ہے”۔

سامعین میں سے سوال آیا کہ آپکا کہنا ہے کہ “پاکستان میں صحافیوں اور لکھاریوں کو اکثر خطرہ رہتا ہے تو کیا آپکو نہیں لگتا کہ آپکا نام اس حوالے سے آپکی حفاظت کرتا ہے”، تو جواب کچھ یوں تھا، “نام حفاظت کا ضامن نہیں ہوتا میرے ہی خاندان کےکئی افراد کا عوامی قتل ہوا، میرا نام میری کتنی حفاظت کرتا ہے یہ سوال شاید قبل از وقت ہے.”
 ملک میں جمہوریت اور سیاسی وابستگی کے حوالے سےسوال کے جواب میں کہا، “پاکستان میں جمہوریت اور حالیہ انتخابات کے بعد پاکستان کیسا ہے… پہلے جیسا ہی کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا سب کچھ ویسے ہی چل رہا ہے اور شاید اب جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ جمہوریت خود بنتی جا رہی ہی. میرا تعلق اس وقت تو کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے، یا میں کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتی، میں عوام کی بات کرنے کی کوشش کرتی ہوں اور میری پارٹی عام لوگ ہیں، میں انکو سپپورٹ کرتی ہوں۔”
کتاب کہ حوالے سے سفر کا کتنا اہم کردار تھا کا جواب دیتے ہے کہا “سفر بہت اہم ہوتا ہے اور اس حوالے سے حد بندیاں مضحکہ خیز ہوتی ہیں۔”
پاکستان کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں کہا، “یہ بات کافی بچگانہ یا درسی کتب والی لگے گی لیکن پاکستان واقعی میں ایک آرزو ایک خواہش کا نام ہے یہ واقعی میں ایک ملک ہے جو کہ ہے بھی اور نہیں بھی. یہ جغرافیائی لحاظ سے تو جنوبی ایشیا ہمیں ہے لیکن اسکی روح ہر اس جگہ ہے جہاں ایک پاکستانی کا دل دھڑکتا ہے. (اس جواب کے بعد ہال پر تالیاں بجانا اگر فرض نہیں تو واجب لازمی ہو گیا تھا). پاکستان کے مسائل کو سمجھننے کے لیے پاکستان کو سمجھنا ضروری ہے اخباری سرخیوں میں پاکستان نہیں ملے گا، اسی لیے پاکستان کے مسائل کے حل کی اگر کوئی تحریک ہے تو وہ ایک پاکستانی ہی بہتر لیڈ کر سکتا ہے اس کے بارے میں ایک پاکستانی ہی بہتر سوچ سکتا ہے. دور دراز سے آنے والے پلان اور پروگرام سطحی باتوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔”
حقوق نسواں کے حوالے سی بات کرتے ہے کہا کہ “جیسے میں نے پہلے کہا کہ پاکستان خبروں کا نام نہیں وہاں زندگی اتنی بھی اجیرن نہیں، لوگ وہاں بھی زندہ ہیں اور اپنے حق کیلیے کام کر رہے ہیں. حقوق نسواں کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تحریک بڑی حد تک بلکہ مکمل غیر متشدد ہے. اس حوالے سے جتنے بھی نام سامنے آتے ہیں انہوں نے اپنی لڑائی تشدد کا راستہ اختیار کیے بغیر لڑی”۔
اب اتنے سارے قابل فہم سوالات کے بعد پاکستانی تڑکا یا جنوبی ایشیائی ٹچ تو بنتا تھا لہٰذا کسی نے کانسپریسی تھیوری کے حوالے سے سوالات کیے جس میں بھٹو  خاندان میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذکر تھا، پروگرام کی میزبان ڈاکٹر بینرجی نے یہ سوال رکوا دیا. ایک موصوف نےمشرق وسطی اور عرب ممالک میں جمہوریت کے حوالے سے پوچھا کہ یہاں بات تو بہت ہوتی ہے لیکن جمہوریت ہے نہیں اس میں دین قصوروار ہے یا مذہب (یعنی کہ سبحان اللہ بندہ ماتم شروع کر دے ایسے سوال کی شان میں) جواب یہ تھا کہ، “مذہب یا اسلام کے ساتھ تو کچھ بھی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی حوالے سے قصوروار ہے، رہی بات جمہوریت نہ آنے کی تو اس کی وجہ سراسر سیاسی ہے۔ یہ تمام ممالک نوآبادیاتی نظام سے کچھ سال پہلے ہی آزاد ہوئے ہیں، اگر واقعی آزاد ہوئے ہیں تو، لہٰذا انکو اپنا نظام مرتب کرنے میں وقت لگے گا اور اگر اسلامی ممالک جمہوریت کے حوالے سے اپنا کوئی نظام یا اپنا کوئی ایدیشن لے کر آتے ہیں تو وہ یقینا باقیوں سے مختلف ہو گا اور شاید بہتر بھی۔”
ہال میں حسان خان نیازی بھی موجود تھے جو کہ عمران خان صاحب کے بھانجے واقع ہوئے ہیں۔ موصوف سے اپنی یاری دوستی اور خان صاحب کے لیے احترام اپنی جگہ لیکن موصوف نے بھی شاید ماموں محترم کی طرح رضاکارانہ طور پر منطق کا استعمال ترک کر دیا ہوا ہے. موصوف کا سوال تھا کہ کیا وجہ ہے اتنا خوبصورت لکھنے والی خاتون اتنا منفی کیوں لکھتی ہے۔ پاکستان کے بارے میں اتنی منفیئت کیوں ہوتی ہے اس کے لکھے ہوئے میں. سوال کا جواب تو بعد میں آنا تھا ہمارے دماغ میں لچ فرائی ہونے لگا۔۔۔کوئی چند گلیاں دور کنگ کالج میں خان صاحب کا گذشتہ برس خطاب شروع ہی ایسے ہوا تھا کہ پاکستان کہ حالات خراب نہیں بلکہ بہت زیادہ خراب ہیں. تمام تر الیکشن مہم اپنی پارٹی نے ستیاناس وغیرہ کے الفاظ سے کی پھر منفیت کا سوال یعنی ایک اور سبحان اللہ… جواب یہ آیا کہ “کیا اپ منفیت کی تعریف کر سکتے ہیں کہ ہوتی کیا ہے؟ یا صرف اختلاف رائے کا نام منفیت ہے؟ الزام یہ لگتا ہے اکثر ہم لکھاریوں پر کہ ہم گندے پوتڑے بازار میں دھونے لگتے ہیں تو کیا یہ پاکستان کا یا اس کی حکومت کا کام نہیں کہ ان گندے پوتڑوں کو گھر کے اندر موجود مشین میں دھوئے اور صاف رکھے، پاکستان پر تنقید کرنے کا حق مجھے بھی ہے اور کوئی یہ حق اس لیے نہیں رد کر سکتا کہ مجھے پاکستان سے محبت بھی ہے.” اس کے بعد نیازی صاحب نے اہم سوال کے نام پر ایک زاتی سوال کرنا چاہا جس پر ڈاکٹر بینرجی نی انہیں روک دیا۔
مصنف کتاب پر دستخط کرواتے ہوئے

سوال جواب کے سیشن کے بعد تالیوں کی گونج میں پروگرام ختم ہوا . پروگرام کے بعد ہال کے باہر کتاب پر فاطمہ بھٹو سے دستخط کروانے کا اہتمام تھا، مصنف بھی اسی لمبی قطار میں کھڑا ہو گیا اور جلد ہی باری بھی آ گئی. سلام دعا کہ بعد فاطمه بھٹو  نے کتاب خریدنے پر شکریہ ادا کیا اور مصنف نے کتاب پر دستخط کرنے کے لئے، کتاب کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کتاب واپس لے کر اگے چل دیئے کہ دیگر ہم قطار بھی منتظر تھے. محترمہ کو چند فٹ کے فاصلے سے دیکھنے کے بعد احساس ہوا کہ انکی پہلی کتاب اور انکے اخباری آرٹیکل پڑھ کے ہم جو انکی لکھائی کے فین ہو گئے تھے وہ ہم نے واقعی ٹائم ضائع کرنے والی بات کی۔

باہر نکلتے وقت ڈاکٹر بینرجی سے بات کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے جنوبی ایشاء مرکز کے باقائدہ افتتاح میں شرکت کی دعوت دی اسکے علاوہ لندن سکول اف اکنامکس کے جنوبی ایشیاء کے بلاگ پر اردو کے حوالے سے کہا کہ وہ مصنف سے رابطہ کریں گی. یہاں اس بات کا احساس ہوا کہ اردو بلاگر ہونے کےکافی فوائد ہیں، کم از کم ایسی دعوتیں اور ایسا ردعمل زمانہ انگریزی بلاگنگ میں تو نہ آیا۔

مصنفہ کے ہاتھوں بقلم خود دستخط شدہ کتاب
اسکے بعد ہم نے ہالبرن کے انڈرگراؤنڈ اسٹیشن کی راہ لی کہ گھر کو چلا جائے باہر کافی ٹھنڈ

ہالبرن کے راستے میں لنکنز ان کی راہداری

تھی اب ہم جاوید چوہدری تو ہیں نہیں کہ کوٹ کا کالر کان تک چڑھا لیتے کہ اللہ نے اس کام کے لیے مفلر دیا ہے۔ سو لندن کی ٹھنڈی ہواؤں سے بھری شام میں ہم نے واپسی کی رہ لی ہم دفتریئے کے سوالات اور اس کے تجزیے کو اگنورتے ہوئے مصنف یہی سوچ رہا تھا کہ ہم کسی کو اس کا کام ہی کیوں نہیں کرنے دیتے. ان گنت امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں، اگر کوئی مسائل کی بات کر رہا ہے تو بجائے ان مسائل کو سمجھننے کے ہم اسی کا گلا دبوچنا شروع کر دیتے ہیں جو انکی نشاندہی کرتا ہے کہ ہن ماما ایدا حل وی دس… پھر تمام رستہ دماغ میں الفاظ کی کشتی ہوتی رہی اور بار بار یہ الفاظ اپنا زور دکھاتے رہے کہ، “میں کوئی سیاست دن نہیں جو حل بتا سکوں میں ایک لکھاری ہوں میرا کام مسائل کی نشاندہی کرنا ہے اور آواز اٹھانا ہے۔” 

Advertisements

18 Comments

Filed under انگلستان

18 responses to “تقریب رونمائی میں

  1. بہت عمدہ ۔۔۔ مصنف کی تحاریر پختگی کی جانب گامزن اور ۔۔۔۔ فاطمہ بھٹو اس پر تو خاندانی اثر ایسا ہے جو سر چڑھ کے بولتا ہے

  2. ali

    بہت عمدہ۔ بہت اچھا لگا پڑھ کر۔ ویسے ایسی مصنفہ سے ہمدردی ہونی بھی چاہیے مجھے بھی پوری ہمدردی ہے۔ باقی اردو بلاگنگ کی عزت کا سن کر خوشی ہوئی کوئی نہیں پاکستان میں کسی نے نہیں منہ لگایا تو لندن ہی سہی۔ شاید ہمیں بھی کسی دن کوئی بندہ بلاگر کے طور تسلیم کر لے امید پیدا ہو چلی ہے 🙂

  3. ali

    ٹیمپلیٹ کی تعریف کرنا تو بھول گیا۔ آج سے پہلے بڑی مشکل سے پڑھا آپ کا بلاگ لیکن اب بہت اچھا ہے۔ کم از کم میرے پاس تو زبردست آ رہا ہے

  4. اچھا لکھا ہے۔ امید ہے کتاب سے بھی چند اقتباس پیش کریں۔

  5. یہ میری تعریف کرتے کرتے مس بھٹو کی تعریف لازمی تھی؟

  6. ہمدردی کیوں؟ میں کچھ سمجھا نہیں شاہ جی۔

  7. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

  8. جی اگر کوئی قابل اقتباس چیز ملی تو ضرور۔

  9. شکریہ لیکن لگتا ہے کہ یہ ٹیمپلیٹ یورپ میں ہی ٹھیک چلتا ہے کیونکہ مشرق وسطی بھارت اور پاکستان سے شکایات موصول ہو رہی ہیں دقت کی۔

  10. Sabeen

    بہت خوب جناب !

  11. انٹرسٹنگ ایکٹیویٹی
    محترمہ کی لکهائ خاصی ڈاکٹری ہے. دل چاہ رہا اپنی ڈگری سے نام کاٹ کر ان کو پیش کروں.
    جہاں مسائل کا حل کی بات ہے بی انگ ہیومن ہم فطرتن بے صبرے ہیں ایک دم حل مانگتے ہیں سلو اینڈ سٹیڈی پر کون صبر کرے.
    کل کس نے دیکهی.
    یہی ہمارا مسئلہ یہی المیہ.

  12. واہ اوئے، تو تو مجھے بی بی سی کا مستقبل کا نیوز رپورٹر کم فیچر رائٹر زیادہ لگ را
    کیا کھانا پینا کر را آج کل؟ بڑی سپیٹ سے پالش ہو را

  13. المیہ غالبا یہ ہے کہ ہم غلط بندے سے غلط سوال کرتے ہیں اور احباب اختیار کے جذباتی نعروں کی زد میں آ جاتے ہیں.

  14. اللہ تیری زبان مبارک کرے اور بی بی سی میں نوکری لگ گئی تو ویزا تو مل جائے گا واہ.
    یار آج کل باس کی ڈانٹ کھا رہا ہوں دن میں چار پانچ بار اسکا اثر ہے شائد.

  15. Aray wah. Bhye parh k buhat maza aya.Bus ek baat samajh na aai k aap unki writing k fan thay toh yeh bhala time zaya karnay k kyun mutradif hua? I am sure fatima is a good writer. Looking forward to reading the book very soon. Special congrats on the urdu blogging appreciation! Feels great ..ainda aisi taqreebat me jana ho toh twitter pe haal ehwala zaroor share karo ..reach barhegi.

  16. مُصنف نے کِتاب کی تقریبِ رونمائی پر تو خوب تر لِکھ ڈالا ہے اور مُصنفہ کے خیالات سے بھی پڑہنے والوں کو آگاہ کیا ہے ۔ آخر میں مسائل پر بات کرنے والے کا گلا گھونٹنے کی بات بھی بہت خوب کہی ۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ مُصنف جلد از جلدا اس ناول کو پڑہ کر اس پر ایک عدد تفصیلی پوسٹ لِکھ کر ہمیں شُکریہ کا موقع ضرور دے گا۔ waiting.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s