لاہور سے تعلق

مسجد وزیر خان لاہور

لاہور سے تعلق ٹوٹ جانے کے بعد آدمی زندہ تو رہتا ہے لیکن ایسے جیسے اچھی بھلی موٹر کو گیس پر منتقل کرا لیا جائے، چلتی تو رہتی ہے لیکن اس میں وہ روانی نہیں ہوتی، حرکت تو ہوتی ہے لیکن تھرسٹ نہیں ہوتا۔ لاہور سے جدا ہونے والے لوگ بڑے بڑے ترق یافرہ ملکوں میں اچھی اچھی عمدہ نوکریوں ہر خوش حال اور فارغ البال تو ہوتے ہیں لیکن ان کو سوکھے کا مرض ہو جاتا ہے۔ ہر وقت ریں ریں کرتے آہیں بھرتے رہتے ہیں۔ نوکری، چاکری، دولت شہرت، ان کے مرض کا مداوا نہیں کرتی ساری عمرلاہور کو یاد کرتے گزر جاتی ہے، اور لاہور آ نہیں سکتے۔ بس آیا ہی نہیں جاتا۔


اشفاق احمد 

Advertisements

Leave a comment

Filed under لاہور ڈائری

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s