میرے خوابوں کا پاکستان

خیر آئی پاڈ کے ہیڈ فون تو گھر سے نکلتے ہی کانوں سے چپک چکے تھے. نیوبری پارک اسٹیشن پہنچ کر جب آنکھ اٹھا کر ٹرین کی آمد کا وقت دیکھا تو ایک میٹھی سی آواز کان میں پڑی۔
یہ کسی افسانے کا آغاز نہیں مصنف کی آج صبح کا منظر ہے. جو آواز کانوں میں پڑی “وہ وطن کی مٹی کو گواہ بنا رہی تھی”. بد یا خوش کسی نہ کسی قسمتی سے مصنف کاتعلق بھی اس نسل سے ہے جو ملی نغمے سن کربڑی ہوئی. اب تو عرصہ ہوا کہ کوئی سر سواد کا نیا ملی نغمہ سنا ہو. شائد اچھے گلوکاروں کو سرحد پار کے فلمی گیتوں سے فرصت نہیں. خیر بندے تو خیر ضیاء الحق صاحب چول ہی تھے لیکن ان کے دور میں ڈنڈے کے زور پر کافی زور و شور سے جشن آزادی منایا جاتا رہا. یہ جتنے بھی ملی نغمے مشہور ہیں انکی اکثریت اس دور کی پیداوار ہے۔
اگست کی تاریخوں کا اثر تھا جو دوران سفر ہم وطن کی مٹی بارے سفر پر جا نکلے. کوئی پچھلے سال تک تو ہماری کوشش تھی کہ نا امیدی سے دور رہا جائے. لیکن اس ایک سال میں شائد عقل آ گئی یا جانے کیا امید نام کا گھوڑا پہلے منہ زور ہوا پھر ایسا بے وفا ہوا کہ دوبارہ ہاتھ نہ آیا. ملی نغمے میں آج بھی سنتا ہوں جیسا کہ ماضی میں سنتا آیا لیکن اب نہ چاہتے ہوئے بھی سب کھوکھلے لگتے ہیں۔
 جو ہماری کرتوت ہے اس پر وطن کی مٹی کو گواہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے. اس زندہ و پائیندہ قوم نے اپنی جڑیں کیا خوب کاٹنی لگائیں ہیں. سب کے لئے سب کچھ ہے اس میں یہ ہے پاکستان کتنا اجنبی معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف رائے کے لئے تو جگہ ہے نہیں کرو تو فتوی یا گولی آپکی منتظر. ایک دھماکہ اکثر سجدے میں گرے ایسے لوگوں کی بھی جان لے لیتا ہے جو شائد خدا سے ارض وطن کے لئے کرم کی گھٹا مانگ رہے ہوں۔
کہاں تک سنو گے اور کہاں تک سناؤں گا کہ میرے خوابوں کا پاکستان اور حقیقت میں جو انیس تے اک سو انیس کا فرق کتنا وسیع ہے. کئی بار تو دل اتنا ناامید ہو جاتا ہے کہ یوں کی جگہ کیوں کہنے کو دل کر اٹھتا ہے کہ کیا آزادی دی قائد نے کہ دنیا واقعی حیران ہو گئی. مگر پھر تربیت کا اثر تھپڑ بن کے لگتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ مایوسی گناہ ہے۔
ہم نے پارسائی کا دعوی بھی ویسے کبھی نہ کیا لیکن ملک کو لے کر ہوئی مایوسی کے گناہ کی شرمندگی بھی بہت ہے. ویسے بھی بے بسی کا ایک اور نام شرمندگی و مایوسی ہے. بے بسی اس لئے کہ چاہ کے بھی کچھ ٹھیک نہیں کر سکتا اپنی حد تک کی زمہ داری سے کام کہیں آگے جا چکاہے. لیکن ہم نے اپنا بوجھ بھی کیا ڈھونا ہمیں تو اپنا آپ دوسروں کے آگے پارسا ثابت کرنے سے فرصت نہیں. ہم جزباتی بے وقوفیوں کی ایسی معراج پر ہیں کہ جسکا حاصل فقط زوال ہوتا ہے۔
میرے خواب کا پاکستان شاندار ہے خوبصورت ہے پر امن ہے اس میں برداشت ہے. کوئی بھی ملک کامل نہیں ہوتا مگر مسائل کم یا زیادہ ضرور ہوتے ہیں. میرے خواب کے پاکستان میں روٹی پیچھے کوئی زلیل نہیں ہوتا. اس میں عدل و انصاف کے پیمانے یکساں ہیں. جہاں میری جڑیں میرے نام نہاد اپنے نہیں کاٹتے جہاں اخلاقیات کا میعار ایک جیسا ہے.جہاں تعلیم کے لئے مقروض نہیں ہونا پڑے. جہاں ہنر کی قدر اور محنت کو اسکی اجرت وقت پر ملتی ہو۔
میرے خواب کے پاکستان میں میٹرو بس ہو نہ ہو پینے کا صاف پانی ضرور ہے بے کسوں کا پرسان حال ضرور ہے. وہاں مہنگائی میں اضافہ اور قوت خرید میں اضافہ ساتھ ساتھ چلتا ہے. وہاں اہل اقتدار ماضی کو کوسنے کی بجائے مستقبل کے لئے صحیح معنوں کام کرنے والے ہیں. جہاں سیاسی سرگرمی گالیوں اور کردار کشی پر محیط نہ ہو. جہاں سماجی کام محظ دکھاوا نہ ہوں۔
میرے خواب کے پاکستان میں ایمانداری کی قدر سیاسی، سماجی، و مزہبی وابستگی سے زیادہ ہے.
میرے خواب کے پاکستان میں قتل و غارت نہیں ہے فرقہ واریت نہیں ہے. اقلیت کا مزہبی استحصال اور اکثریت کا معاشی استحصال نہیں ہے. راوی کیا ہر دریا چین لکھتا ہے کیونکہ ان میں پانی بہتا ہے. اسی پانی سے بجلی بھی بنتی ہو اور کھیت سیراب ہوتے ہوں.
جہاں ملاوٹ نہ رشتوں میں ہو نہ رویوں میں ہو نہ اقدار میں اشیا خور و نوش تو پھر دور کی بات ہے. جہاں منافع سے زیادہ انسانی جان کی قدر ہو. میرے خوابوں کا پاکستان حوس کی درندگی سے محفوظ ہے. جہاں مرنے والے پر افسوس یہ جاننے کے بعد نہ  ہو کہ اسکو مارنے والے اچھے تھے یا برے، مرنے والے کا دکھ سب کو ہو نہ کے ایک مخصوس قوم ذات برادری یا پیروکاروں کو.
میرے خواب میں سوال پوچھنے کی بھی آزادی ہے اور حق گوئی کی بھی. طاقت علم و قلم و کتاب میں تلاش کی جاتی ہے نہ کہ کھوکھلے نعروں اور پر تشدد رویوں میں. جہاں کھیل کے میدانوں میں کھیل ہوتا ہے نشہ و جوا نہیں. جہاں مسجد مندر و کلیسا سب امن کا درس دیتے ہوں. جہاں اگر میں شر سے محفوظ ہوں تو مجھ سے دوسرے بھی۔
لیکن یہ سب خواب ہے ایک سہانا خواب. ایک سہانے خواب اور اسکی تلخ حقیقت کے فرق کا دوسرا نام مایوسی اور نا امیدی ہے. اگر بے جا امید کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا تو یقیناً نا امیدی بھی کوئی پھل نہیں دیتی. تیرہ اگست کی شام جب دکھی دل او مایوس سوچوں کے ساتھ یہ تحریر کی بورڈ بند کرنا شروع کی تو میری نا امیدی نے ہی مجھے ایک نئی امید دی، میرے ارد گرد موجود مثبت سوچ والے احباب نے میرا ایمان بچا لیا. اور کہیں خود کو بھی یاد آ گیا کہ “مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا۔”
میرے خوابوں کے پاکستان اوراس حقیقت میں جو فرق ہے اس میں قابل فخر چیزوں کی کمی ہے. لیکن کیا اس حقیقت میں کچھ بھی اچھا نہیں. اس حقیقت کے پاکستان میں ایک درویش صفت شخص ایدھی اور اسکی ایمبولینس سروس بھی ہے جو کہ دنیا کی سب سے بڑی نجی ایمبولنس سروس ہے. دنیا میں کتنے ملک ہیں جنہوں نے اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کیا اور اسکے بعد آنے والی ہر مصیبت اور اور الزام کا سامنا کیا. اسی حقیقی پاکستان میں  پچھلے پانچ سال کے دوران خواندگی کی شرح میں 250 فیصد اضافہ ہوا جو کہ کسی بھی ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ ہے.  دنیا کا چوتھا سب سے بڑا براڈبینڈ انٹرنیٹ نظام اسی حقیقت میں ہے. اس ملک نے دنیا کے پی سی وائرس کے خالق کے ساتھ ساتھ کم عمر ترین مائیکروسافٹ سندیافتہ بھی پیدا کئے. دنیا بھر کے میعاری فٹبالوں کا پچاس فیصد اس ملک میں بنتا ہے۔
اسی ملک کے ایک ملی نغمے کی دھن دنیا میں تیسری مشہور ترین دھن قرار پاتی ہے. یہ دنیا کے کم عمر ترین سول جج محمد الیاس کابھی ملک ہے. ایشیا میں کسی بھی بلند ترین مقام پر ریلوےاسٹیشن اور دنیا کی سب سے بڑی گہرے پانی کی بندرگاہ بھی اسی ملک میں ہے. لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائینسز میں مشرق وسطی، مشرق بعید، وسطی ایشیا اور جنوبی اشیا کے دیگر ممالک سےطلبہ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے آتے ہیں. یہ ملک دنیا بھر کے سائنسدانوں اور انجینیروں کا دس بڑے پولز میں سے ایک ہے۔
جو برائیاں اداس او مایوس ک دیتیں ہیں وہیں کچھ ایسی مثالیں بھی ہیں جو کہ اسی ناکام ہو چکی یا ہو رہی ریاست نے پیش کیں کہ جنکو دیکھ امید کی بجھتی ہوئی لو کو نئی زندگی ملتی محسوس ہوتی ہے۔ اگر ایک ناکام ہو رہی ریاست میں زندگی کے آثار موجود ہوں تو ایک صحیح معنوں میں زندہ قوم کیا نہیں کر سکتی۔
میری مایوسی اور نا امیدی بھی شاید میرے پیار اور خلوص کا ایک اظہار ہے کہ گلہ بھی اپنوں سے کیا جاتا ہے۔ آج شائد اس ملک میں کچھ ایسا نہ ہو کہ جس پر میں فخر کر سکوں آج شائد مجھے اس میں مایوسی ہی نظر آتی ہو مگر کیا مجھے یہ مایوسی کی زندگی ہی قبول کر لینی چاہیئے یا مجھے ہمت کر کے اس سمت میں سفر شروع کرنا چاہیئے جہاں میں فخر محسوس کر سکوں۔
ان سوچوں کے ساتھ آج میں اپنے دفتر کی کرسی سے اٹھا اور اٹھتے وقت میں خود سے وعدہ کر چکا تھا کہ آج چاہے مجھے پاکستانی ہونے پر فخر نہ ہو لیکن میں کوشش جاری رکھوں گا کہ میں وہ ٖفخر کا عنصر حاصل کر سکوں، اور اس حصول کے لئے جدوجہد کا آغاز مجھ سے ہوگا کہ بہت ہو چکا جب امید اور شکائت بھری نظروں سے دوسروں کو دیکھ لیا۔ 
Advertisements

7 Comments

Filed under سوچ بچار

7 responses to “میرے خوابوں کا پاکستان

  1. good read 🙂 may we all could do our part as Pakistanis.

  2. لکھا تو اچھا اور بہت اچھا،تعریفیں بھی کرلیں اور رونا بھی رولیا، ضیاء الحق کو گالی دے کر آپ نے بھی اپنے آپ کو ان عمومی لوگوں میں شامل کرلیا جو آنکھوں سے نہیں دیکھتے صرف کانوں سے سنتے ہیں، اگر آپ کی پیدائش سن 70 کے ارد گرد تھی تو پھر آپ کو بھٹو کے زمانے کی ساری افراتفری یاد ہوگی، وہی کچھ تھا جو اب پی پی کی پانچ سالہ حکومت چھوڑ گئی ہے، پھر جنرل ضیاء الحق ہی تھا جس نے ملک کو ایک قوم کا درجہ دیا، چودہ اگست ہو یا 23 مارچ چاہے وہ زکوات کا نظام ہو کہ اسلامیات کو نصاب میں مستقلاۃ شامل کرنا، یہ اس بندے کی دین سے محبت تھی، اپ جو مرضی کہہ لو مگر وہ مسجد میں دفن ہیں اور مسجد جنت کا حصہ ہے۔

  3. ماشاللہ بہت اچھی سوچ اور تحریر صفحے کے بیک گرونڈ کو بدلیں تحریری پڑھنے میں کافی دشوار ہوتی ہے

  4. بس بس وہیں انگلستان میں چنگے آپ بڑے آئے صاف پانی کی ٹھیکیدار
    😛

  5. گمنام

    Aap jaise chawwal bhi tu unhi ki he sooch ka nateja hai na … yahee tu sara masla hai… …

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s