کمرشل روزے

ہمارے ملک کی ایک شاہراہ کا منظر: ثواب، کمرشلازم، اور ریٹنگ سب ساتھ ساتھ چلتا ہے اپنے ہاں کون کہتا ہے کہ ہم میں اتفاق نہیں۔



امید کی جاتی ہے کی سیانا ہی ہوگا مگر ہاں شاعر ضرور تھا کہ جس نے یہ نصیحت نما شعر کہہ دیا کہ؛


 نہ طبیعتوں میں شگفتگی نہ دلوں کو اب قرار ہے

 مگر احترام چمن کرو کہ بہار پھر بہار ہے۔


 سوچا ہم نے بھی ایسا ہی تھا کہ چپ کر کے کان لپیٹ اور سر سٹ کے یہ مہینہ گزاریں گے کہ بہار پھر بہار ہے۔ یہ بھی سوچا تھا کہ کیا ہوا جو اپنے اندر اب وہ جذبہ باقی نہ رہا جو اس مہینے کے آغاز سے پہلے ہی خوشی بن کر ہمارے ارد گرد پایا جاتا تھا. ایک کشش سی تھی اس مہینے میں جو اس کی رونق می‍ں بھی ایک سکون بھر دیتی اور اسکی تنہائیاں با رونق بنا دیتی تھی۔ پھر ہوا یہ کہ ہم بڑےہو گئے اور ہمارے شوق اور جذبات بھی بڑے ہو گئے اب وہ رمضان کو لیکر ہم میں بچوں کی سی خوشی کہاں رہی. خیر ان سب باتوں کے باوجود ہم نےسوچا کہ سر سٹ کے اور کان لپیٹ کر کچھ نیکیاں کمائی جائیں کیونکہ بہار تو پھر بہار ہے۔

 نیت پر عمال کا دارو مدار تو ہوتا ہے لیکن عمل کی نیت کے ساتھ ساتھ ایک عدد کوشش بھی ضروری ہوتی ہے جو کہ نیت کا کچھ عملی ثبوت دے سکے.ہم نے کوشش بھی کی کہ صالح ہونے کی سعی کرتے ہیں اور لغویات سے دور رہتے ہیں، پر کتھے! آج کے اس کمرشل دور میں انشاء جی کا بھی دل شہر میں لگ جائے ہم تو پھر برائے نام مصنف ہیں. جب بندے کو لگ جائے لغویات کا چسکا تو بندہ کتنی دیر تک اپنے آپ کو حاجی ثناءاللہ بنائی رکھے۔

 ہر سال کی طرح اس سال کا رمضان بھی تقریبا گزر گیا ہے، ہماری نیکیوں کا کاؤنٹ کچھ بھی ہو ہم نے اس بات پر سیر حاصل بحث ضرور کی کہ رمضان کا درست تلفظ کیا ہے۔ اب بندہ پوچھے کہ کونسا کل کو امتحان میں یہ سوال آنا ہے۔ اگر مذہب اپنا اپنا ہے تو تلفظ بھی اپنا اپنا صحیح۔ لیکن کیا کریں صاحب ہمیں تو اس قسم کی بحثوں میں اتنا ہی لطف آتا ہے کہ جتنا ہمیں اللہ حافظ و خدا حافظ کی بحث میں۔

بات کرنی تھی روزوں کے کمرشل پہلو کی اور عادت سے مجبور اپنی ہی بللیاں مارنی شروع فرما دیں مصنف نے۔ خیر رمضان بارے ہرکسی کی طرح اپنی بھی کچھ یادیں ہیں۔ وہ تھنڈے ایام میں آنے والے روزے وہ سادگی کا پہلو جو اس میں پایا جاتا تھا اب یادوں کا ہی حصہ ہے، ٹھنڈے ایام تو کوئی دس سال میں واپس آ جائیں لیکن سادگی اب ناپید ہی سمجھا جائے۔ وجہ اسکی ہمارے روئیوں میں آنے والی وہ تبدیلی ہے جو کہ پیچھلی دہائی میں انے وا سامنے آئی۔

ایک تو ہمارے ملک پر یہ بڑا فضل رہا ہے کہ جو بھی سجیلا جوان آمر بن کر آیا اس نے اسکو تحفہ ضرور دیا، کسی نے نام نہاد صنعتکاری کا، کسی نے ملک کے دو ٹکروں کا، کسی نے اصلی و خالص اسلام کا، اور اپنے مشی انکل کی تو بات ہی کیا ہے موصوف نے جہاں کہیں مہربانیاں کیں وہیں ہمیں کمرشل بھی کر گئے۔

موصوف کی مہربانی اور ‘معاشی ترقی’ کی پالیسی نے ہمیں سیونگ اکانومی سے کنزیومر اکانومی بنا دیا۔ کہ کھل کے خرچا کرو اللہ کے بعد بنک کا قرضہ اور کریڈٹ کارڈ مالک ہے۔ اس سے جہاں نام نہاد خوشحالی اور میعار زندگی میں بہتری آئی وہیں ہمارے معاشرے میں نمود و نمائش کا عنصر بڑھ گیا۔ آج کے دورمیں ہم میں نیکی کم اور دکھاوا زیادہ پایا جاتا ہے، تقوی جو اصل بنیاد ہے اسے ہم نے دکھاوے کی چمک دمک سے بدل لیا ہے۔ ہم آج اس دور میں زندہ ہیں جہاں سماجی کام یعنی سوشل ورک بڑی حد تک سوشل میڈیا کا منہ بھرنے کو کیا جاتا ہے۔ جہاں کسی کو سڑک پار کرنے میں مدد کرنا احساسِ زمہ داری سے زیادہ سوشل میڈیا پر ‘کول’ لگنے کے سبب کیا جاتا ہے۔

کچھ یہی حال ہمارے مین سٹریم میڈیا کا بھی ہے ایک تو ہماری تفریح کا بیڑہ ایسا غرق کیا ہے ٹاک شوز کی بھرمار نے کہ ہماری حس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے کہ تفریح ہوتی کیا ہے۔ تفریح میں لطافت رہی نہیں ڈرامے کے نام پر مونوٹونیئس کہانیاں ہیں، فلم کی تو قبر پر ویسے فاتحہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری تفریح میں مذہبی پہلو ہو نہ ہو ہم نے مذہب کو تفریح بنا دیا ہے۔

پھر مصنف پر ‘سیکسسٹ’ ہونے کا الزام لگ جاتا ہے مگر کیا یہ کمرشل گین کے لئے کیا جانے والا ڈرامہ نہیں تو اور کیا ہے۔

ہمارے ہاں رمضان ٹرانسمشن کے نام پر ہونے والا تماشہ تفریح نہیں تو اور کیا ہے، انعامات ایسے بانٹیں جاتے ہیں کہ جیسے مسکینوں میں دیگ بانٹی جاتی ہے اس پر میزبان کی فرعونی مسکراہٹ، باقی چیزوں کی طرح اس میں بھی ہم نے بھیڑ چال کا رویہ اپنایا ہوا ہے۔ خربوزوں کی طرح ہمارے چینل بھی رنگ پکڑتے ہیں، ایک کا لال دیکھ اپنا تھپڑ مار لال کرنے پر آمادہ ہیں۔ اور یہ سب کیا جاتا ہے ریٹنگ کے نام پر کہ، ‘جی کیا کریں بِکتا ہی یہ ہے’۔ افسوس کہ ایک طرف عوامی رائے کو تبدیل و ہموار کرنے کے دعوے دوسری جانب ایسی بےبسی۔
گئے دنوں کا رمضان یاد آتا ہے کہ رمضان ٹرانسشن میں جناب وجیہہ السیماعرفانی صاحب کا پی ٹی وی پر روشنی اصل میں روشنی سے متعارف کرواتا تھا اور ایس ٹی این پر ڈاکٹر غلام مرتضی ملک صاحب کا پروگرام جس میں خاصی سنجیدہ گفتگو ہوا کرتی تھی۔ اور کہاں آج کے دور کی ہڑبونگ اور آج کے کمرشل علما، کہیں یقیناً کچھ گڑ بڑ تو ہے اور اس گڑبڑ کو اچھے الفاظ میں زوال آمادگی کہا جاتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کے آپ نے ان کمرشل روزوں کا کافی لطف لیا ہوگا ویسے بھی انکی ایک آسانی تو ہے خود سے عبادت و ریاضت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، بس ٹی وی لگا کر شو دیکھ لو کئیوں نے تو اسکو بھی عبادت کا حصہ گردان دیا ہے۔ تو کون طاق راتوں میں قیام کرے ہمارے سلیبرٹی علماء ہیں ناں روح پرور دعا کروانے کو۔ آخر کیا کریں جی کمرشل دور ہے غالباً دعا و عبادت بھی یہی چلتی ہے اب۔
Advertisements

3 Comments

Filed under سوچ بچار

3 responses to “کمرشل روزے

  1. بالکل درست کہا ہے۔ پہلے تعلیم بانٹنے کے لئے پروگرام ہوا کرتے تھے اور اب صرف تحائف اور وہ بھی خالص مارکیٹینگ کے لئے۔۔ اللہ ہدایت دے۔۔

  2. بہت خوب دلچسپ اور تلخ تجزئیہ لکها ہے. . شاید یہی وہ فتنوں بهرا دور ہے جس میں ہر طرف سے ہم پہ فتنوں کی یلغار ہے اور زیادہ نقصان دہ وہ فتنے ہیں جو نیکی کی شکل میں پیش کئے جاتے ہیں .

  3. بات تو حق کی کی ہے آپ نے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s