سیاست کا لنڈا بازار (شوکت علی مظفر)



انسان کہلانے کیلئے امریکی ہونا شرط ہے جبکہ سیاستدان ہونے کیلئے پاکستانی ہونا۔ انسانوں اور سیاستدانوں میں وہی فرق ہے جو صابن اور جھاگ میں ہوتا ہے۔صابن سے جھاگ بنایا جاسکتا لیکن جھاگ سے صابن نہیں بنایا جاسکتا اور یہی کچھ سیاستدان کرتے ہیں ، وہ عوام کو انسانی حقوق فراہم کرنے کے دعوے کرتے ہیں ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دعویٰ کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں جتنے مسائل ہیں اتنے ہی سیاستدان ہیں اور سب بڑا مسئلہ عوام خود ہیں۔ ہر بندہ اپنے اندر سیاسی صلاحیتیں پیدائش کے ساتھ ہی لے کر دنیا میں نمودارہوتا ہے۔ آتے ہی رونا شروع کردیتا ہے کہ اسے ”روٹی، کپڑا اَور مکان“ چاہئے۔ جیسے ہی ننھا سیاستدان جھولے میں لیٹتا ہے، ہاتھ میں فیڈر پکڑ کر پیتا بعد میں ہنستا پہلے ہے کہ کیسا رو رو کر سب کو بے وقوف بنالیا۔ جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے سیاست کے جراثیم بھی بڑھ جاتے ہیں، اسکول اس شرط پر جاتا ہے کہ اسے نیا یونیفارم ملے نہ ملے لنچ باکس اور خرچی ضرور ملنی چاہئے۔کالج میں سیاست کے انداز نرالے ہوجاتے ہیں، لنچ باکس اور خرچی سے زیادہ اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ مخالف جنس کا ”ووٹ “ اپنی طرف کیسے مائل کیا جائے۔ یہاں ووٹ کی اصطلاح عموماً دل اور پیار استعمال کی جاتی ہے۔ 

اصل سیاست شادی کے بعد شروع ہوتی ہے جب ایک بہو کو ساس کے وَار سے بچنے کیلئے سیاسی چالیں چلنا ہوتی ہیں ، جبکہ ساس اپنے ”باغی بچے“ کا ووٹ اپنے حق میں کرنے کیلئے بہورانی کے مختلف کارناموں کی تختیاں دکھاتی رہتی ہیں۔ جبکہ اصل سیاسی امیدوار شوہر ہوتا ہے جو بیک وقت دو مختلف پارٹیوں کو بے وقوف بنانے کے ساتھ ساتھ بچہ لوٹا قسم کے سیاسی جھمیلوں سے بھی نبرد آزما رہتا ہے۔ بہر حال آج ہم نے سیاست کے لنڈا بازار سے سیاستدانوں کی مختلف اقسام چھانٹی کرنے کی کوشش کی ہے، کسی سیاستدان کی نشانی کسی سے بھی اتفاقیہ مل جانا اس کی اپنی ذمہ داری ہے:


عوامی سیاستدان

یہ سیاستدان ہمیشہ عوام کے حق میں بات کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی عوام سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ جب تک اقتدار میں رہیں عوامی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی بھی کام ایسا نہیں کریں گے جس سے ان کی اپنی ذات کو فائدہ نہ ہو۔ عوامی سیاستدان خود کو بھی ایک عام فرد کے درجے پر سمجھتے ہوئے پہلے اپنے گھر سے خیرات بانٹنا شروع کرتا ہے اور جب اپنے رشتہ داروں کی تمام فرمائشیں اور ضرورتیں پوری ہوجاتی ہیں تو پھر عوام کی طرف دیکھ کر دوبارہ نئے جذبے سے اپنے رشتہ داروں کے مسائل حل کرنے میں جت جاتا ہے۔ ایسے سیاستدان ہمیشہ اپنا بیان ، حلقہ اور پارٹی بدلنے میں دیر نہیں لگاتے۔


ہرفن مولا سیاستدان

اس قسم کے سیاستدان عوام کے مسائل حل کرنے میں سب سے آگے آگے ہوتے ہیں لیکن جوں ہی مسئلہ حل ہوتا نظر آجائے یہ سب سے پیچھے دکھائی دیں گے اور مسئلہ حل کرنے والوں کی ٹانگیں کھینچا شروع کردیں گے۔ ٹانگیں کھینچنے میں ناکامی ہو تو مسئلے کو کھینچ کر بڑا کردیں گے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ مسائل حل ہونے کیلئے نہیں ہوتے ، کیش کر نے کیلئے ہوتے ہیں۔ 


جلالی سیاستدان

یہ سیاستدان مائیک سامنے دیکھتے ہی جلال میں آجاتے ہیں۔ عوام کو رعب میں لینے کیلئے مائیک پر ہاتھ مار کر انہیں گرانے کی اس طرح کوشش کرتے ہیں جس طرح پہلوان مخالف پہلوان کو ٹنگڑی ڈال کر گراتا ہے۔ بعد میں مائیک ٹوٹنے کا خرچہ بھرتے ہوئے ان کے آنسو نکل آتے ہیں جنہیں ان کے رفقاءکار عوام کی بدحالی دیکھ کر غمزدہ ہونا بتاتے ہیں جب کہ مخالفین مگرمچھ کے آنسو قرار دیتے ہیں۔ 


نامعلوم سیاستدان

یہ سیاستدان اکثر نامعلوم حرکتیں رہتے ہیں جو آئے روز میڈیا کی زینت بنی رہتی ہیں۔ یہ جادوگر قسم کے سیاستدان ہوتے ہیں، سب کے سامنے ہوتے ہوئے بھی کسی کو نظر نہیں آتے۔ زیادہ تر ٹیلی سیاست سے کام چلاتے ہیں ، دوسرے سیاستدانوں کے اشارہ ¿ ابرو پر ان کے حامی کچھ بھی کرسکتے ہیں تو نامعلوم سیاستدانوں کو تو اشاروں کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، ان کے سانسوں کے اتار چڑھاﺅ سے ماحول بنتا اور بگڑتا ہے۔ آج کل سیاست میں اِن کا ہی بول بالا ہے کیونکہ بول بچن ہی ان کی پہچان ہوتی ہے۔


لیچڑ سیاستدان

اس طرح کے سیاستدان عموماً بڑے عہدوں پر پائے جاتے ہیں اور کرسیوں پر چپک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ انہیں کاموں سے چڑ اور فنڈ سے محبت ہوتی ہے۔ کرسی چھن جائے تو روتے بعد میں ہیں پہلے سرکاری سامان ٹرک میں لوڈ کر محفوظ مقام پر منتقل کرواتے ہیں۔ اتنا موت سے نہیں ڈرتے جتنا کرسی چھن جانے سے ڈرتے ہیں۔ کرسی چھن جائے تو دوستوں کو دشمن اور دشمنوں کو دوست بنالیتے ہیں۔ 


معصوم سیاستدان

ایسے سیاستدان، سیاست کو عبادت کادرجہ دیتے ہیں۔ جو وعدہ کرتے ہیں پورا کرتے ہیں لیکن عقل مند اتنے ہوتے ہیں کہ کوئی وعدہ نہیں کرتے۔ مسائل کو چٹکیوں میں حل کردیتے ہیں لیکن پہلے عوام کو یہ ثابت کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ مسئلہ اصل میں ہے کیا؟ عوام کے غم میں ہر وقت گھلتے رہتے ہیں۔ غریب عوام کو پریشانی میں نہیں دیکھ سکتے، اسی لیے زیادہ تر دوروں پر رہتے ہیں۔جب حالات اور ماحول ساز گار ہو تو ملک کا دورہ بھی کرلیتے ہیں۔یہ اتنے معصوم ہوتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر کرپشن ہوجائے تب بھی اسے غلطی سمجھتے رہتے ہیں، ایسی غلطیاں دہرانا بھی ان کے نزدیک بھولپن قرا ر پاتا ہے۔ 


شی میل سیاستدان

ایسے سیاستدان باتیں مردوں جیسی کرتے ہیں لیکن عملی طور پر عورتوں سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں۔ سیاست میں لین دین کو برا سمجھتے ہیں اس لیے بیان دینے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ساری زندگی شادی نہیں کرتے لیکن شادی کا نام سن کر ان کہ شرماہٹ دیکھنے لائق ہوتی ہے، لیکن خود کسی لائق نہیں ہوتے۔پروٹوکول انہیں سخت نا پسند ہوتا ہے، ہر معاملے کو تنہائی میں نمٹانے کے خواہش مند ہوتے ہیں اس لیے جو بھی معاملہ نمٹانے بیٹھےں بس بیٹھے ہی رہ جاتے ہیں۔ نیم حکیم خطرہ ¿ جان ہوتے ہیں لیکن ایسے نیم سیاستدان خطرہ جانشین ہوتے ہیں۔ ایسے سیاستدان کارنامہ انجام دینے کی بجائے نام کی تختی لگانے سے پرہیز کرتے ہیں کیونکہ جتنا پیسہ تختی پر آتا ہے، اس سے یہ اپنی جیب گرم کرلیتے ہیں۔ 


فی میل سیاستدان

جس طرح عورت کائنات کر رنگ ہے اسی طرح سیاست بھی عورت کے بغیر نامکمل ہے۔ فی میل سیاستدان معاشرتی مسائل سے زیادہ اپنے چہرے کے کیل مہاسوں کیلئے پریشان ہوتی ہے۔ سڑکوں کی تعمیر کا ٹھیکہ پاس کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیتی ہیں کہ انہوں نے خود تو اس سڑک سے نہیں گزرنا، اگر گزرنا ہو تو پھر جمپ نہ رکھنے کی شرط لازمی رکھتی ہیں۔ فی میل سیاستدان اخبارات سے دور بھاگتی ہیں، کیونکہ اخبار والے ان کی بات پوری سنتے ہی نہیں، سنتے ہیں تو پوری چھاپتے نہیں۔ پھر بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر اخبار میں بہت سی سرخیاں ہوتی ہیں جبکہ انہیں ایک وقت میں صرف ایک ہی سرخی استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔ 


ملنگ سیاستدان

جو زندگی سے تنگ ہوجاتا ہے وہ ملنگ ہوجاتا ہے اور سیاست کے دربار میں بھی بہت سے ملنگ سیاست دانوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ایسے سیاستدان قوم کی تقدیر دعاﺅں سے بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں، دعا اس لیے نہیں کرتے کہ کہیں قبول ہی نہ ہوجائے۔ انہیں کرسی مل جائے تو اسے بھی گدی سمجھتے ہیں، یعنی اس پر بھی اپنی اولاد کا حق سمجھتے ہیں۔ انہیں سیاست کی خدمت کرنے کا کہا جائے تو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں۔ 


رنگیلے سیاستدان

یہ سیاستدانوں کی وہ قسم ہے جو سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان کی ٹانگیں قبر میں بھی ہوں تو بھی آنکھیں وینا کی خبر پر ہوں گی۔ سیاست میں آنے سے پہلے یہ بسوں میں سفر سفر کرکے نوکریاں ڈھونڈنے کے عادی ہوتے ہیں اس لیے سیاست میں آکر جہاز میں اگلی سیٹوں پر یہ سوچ کر بیٹھتے ہیں کہ یہ لیڈیز کی جگہ ہے۔ فیملی سیاست سے اس لیے الرجک ہیں کہ اس میں فی میل اپنے گھر کی ہوتی ہیں ۔ خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دینے کی خاطر اپنی ذاتی پارٹی بنا لیتے ہیں۔ اکثر ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے، اتنا برا کہ کسی سیاستدان خاتون سے ہی ان کی شادی ہوجاتی ہے اور بالآخر دونوں کا سیاسی کیریئر ختم ہوجاتا ہے۔ 
Advertisements

Leave a comment

Filed under ادبی ٹوٹے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s