روم میٹ



یہ جو روم میٹ ہوتا ہے یہ آپ کا دوست بھی ہوتا ہے بھائی بھی اور کبھی کبھی تو ماں یا باپ بھی۔ اگر کبھی آپ بیمار ہو جاتے ہو تو اللہ کے بعد آپ بڑی حد تک اپنے روم میٹ کے رحم و کرم پر ہوتے ہو۔۔۔” یہ بوہرہ صاحب کے الفاظ تھے جو کہ نہ جانے ہیؤمن ریسورس مینیجمنٹ کے کس موضوع پر گفتگو کرتے کرتے پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل اور روم میٹس تک جا پہنچے۔ ہم چونکہ کمرہ جماعت میں عام طور پر اتنے ہی ذہنی طور پر حاضر رہتے تھے کہ جتنے اپنے جناب نوید قمر صاحب پارلیمانی اجلاس کے دوران۔ اچانک چونک کر میں نے ہو رہی گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کی تو اوپر والا جملہ منظر میں فیڈ اِن ہوا۔ ہاسٹل میں پائے جانے والے روم میٹس کی اقسام کی بات چل نکلی تو کئی اقسام سامنے آئیں اپنی پاداشت میں وہی موصوف جگہ بنا سکے کہ جو زمانہ ہاسٹل میں دوسروں کے زیر جامے چرانے میں مہارت رکھتے تھے۔ اب کچھ عرصہ پہلے تک تو وہ موصوف ایک عدد ہائی کورٹ کے جج بن چکے تھے۔ مصنف امید کرتا ہے کہ اب بھی وہ اپنا شوق پورا فرماتے ہوں گے- انصاف چرا کر۔

بوہرہ صاحب کی اکثر باتوں کی طرح اسکو بھی ہم نے کافی سنجیدگی سے لے لیا۔ پنجاب یونیورسٹی ختم ہوئی اعلی تعلیم کے نام پر ہم برسٹل کی مغربی انگلستان یونیورسٹی تشریف لے آئی۔ قسمت میں چونکہ لکھی ایک عدد روم میٹ کے ہاتھوں تھی لہذا تلاش روز گار ہمیں لندن لے آئی۔ لندن کو یورپ کا سب سے مہنگا شہر مانا جاتا ہے بات بھی درست کے جتنے میں نیوپورٹ میں ہمیں باقاعدہ مکان ملا تھا اتنے میں یہاں ایک عدد کمرہ ملتا ہے۔ جب یہاں آنا ہوا تو کمرہ اس ہستی کے ساتھ ملا جو کہ رشتے میں تو ہمارے دور دراز کے چچا ہوتے ہیں لیکن عمر کے تقاضے کے زیر اثر ہمارے کزن کہاتے ہیں۔

موصوف کا “اصلی” والا تعلق ہماری طرح فیصل آباد سے ہی ہے لیکن چونکہ فیصل آباد لاہور اور کراچی سے چھوٹا شہر ہے لہذا اس سے تعلق ظاہر کرنا ان کی غالباً شان کے خلاف ہے اسی لئے وہ یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ انکا ازلی اور ابدی تعلق کراچی سے ہے۔ یہی روش موصوف کی برطانیہ میں بھی رہی جب یہ بھی ہماری طرح نیوپورٹ میں یار لوگوں کے ساتھ رہا کرتے تھے تب بھی اپنے لندن کے دوست جو کہ “کول” لوگ ہیں ان میں اپنی رہائش برسٹل مشہور کی ہوئی تھی۔

سیانے کہتے ہیں کہ خدا کسی کو خوش فہمی نہ دے ہم بھی اپنی طرف سے سیانے بنتے ہوئے یہ کہنا چاہیں گے کہ خدا کسی کو اس قسم کا احساس کمتری بھی نہ دے جس میں موصوف مبتلا ہیں۔ موصوف کے کپڑوں کے معاملے میں پسند سے لیکر بال بنانے کے انداز میں ہر فیل میں یہ اثر جھلکتا ہے کہ وہ اپنے علاوہ سب کچھ بننا چاہتے ہیں۔ یعنی میرا منہ لال نہ صحیح میرے پاس چنڈ تو ہے۔ موصوف جب اس ملک میں تشریف لائے تو یہ بھی ہماری طرح ہی اردو کے گانے سنا کرتے تھے اور انگریزی گانے بھی وہی سنتے تھے جو عام انسان میں کی سمجھ میں آ جائیں۔ پھر گلوبل گیدرنگ نامی اجتماع سے واپس آنے کے بعد ٹرانس موسیقی کی شان میں رتب السان ہو گئے۔ جیسے ہی یہ اندازہ ہوا کہ ٹرانس تو ہر چھانگا مانگا “دیسی” سنتا ہے تو اسے بھی ترک کر دیا ایسا ہی سلوک انہوں نے گیپ اور ہولیسٹر برانڈ کے کپڑوں کے ساتھ کیا۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق موصوف “اِن ہاؤس” نامی کوئی جناتی موسیقی سن کر روح کو غزا فراہم کرتے ہیں۔ لیکن خدا جانتا ہے کہ حواس میں اس قسم کی موسیقی کو کس طرح 10 منٹ سے بھی زیادہ برداشت کیا جا سکتا ہے۔

موسیقی سننے کے ساتھ ساتھ موصوف کو موسیقی بنانے یعنی ڈی جے بننے کا بھی شوق ہے۔ اب چونکہ موصوف اپنی تشریف تک زور لگاتے ہیں کہ وہ بھی کسی طرح “کول” ہو جائیں تو اس کام سے کیسے دور رہ سکتے تھے۔ مزید یہ کہ موصوف “لونڈے” بھی ہیں اور لونڈا ہونے کے شرائط  میں ہر وہ کام شامل ہے جو کے خلافِ فطرت ہو۔ دن بھر سونا رات میں جاگنا اور اپنا شوق موسیقی فرمانا چاہے منہ سے نکلتے “خوشبودار دھوئیں” سے کوئی بیزار ہو یا ہوا میں گھلتی “سر درد افزا” موسیقی سے کسی کی نیند حرام ہو ہمیں اسکی پرواہ نہیں۔ لیکن انسانئت کے ناطے صبح سرخ آنکھوں کی وجہ دریافت کر لیتے ہیں۔

ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جن کو لکھنے بیٹھا جائے تو شائد کی بورڈ بھی رونا شروع کر دے۔ میرے بیمار ہونے پر میرے مزاج پرسی تو دور کی بات انکی تندرستی میں بھی انکے سارے کئے کرائے ہمیں ہی سنبھالنے پڑجاتا ہے کیوں کہ رشتہ داری اور تعلق داری کا خیال بھی ہماری ہی ذمہداری بنتی ہے۔

شوق پالنا اور شوق کو پورا کرنا ہم سب کا انسانی حق ہے، اور اس پر تنقید کرنے کا حق بھی ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ مسئلہ ہے ناک کا کیونکہ جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے وہیں سے میرے انسانی حقوق کی حد شروع ہوتی ہے۔ کول ہونے کی جو لازمی شرائط میرے نزدیک ہیں وہ بڑی حد تک میری ذات کے لئے ہی ہیں اس سے باقی اختلاف کر سکتے ہیں۔ اپنے شوق کو دوسروں پر مسلط کرنا بھی کسی انسانی حق کے زمرے میں نہیں آتا۔ انسان کو ترقی کرنا بھی اسکا حق ہے نئی چیزیں سیکھنا بھی کوئی بری بات نہیں لیکن نیا جان کر نیا سیکھ کر پرانے کو برا بھلا اور فرسودہ قرار دینا بھی کوئی سمجھداری نہیں۔ اصل ہر حال میں اصل ہوتا ہے جس سے جتنا بھی فرار اختیار کیا جائے وہ اتنا ہی آپ کی چھیڑ بن سکتا ہے۔

انسان جو ہوتا ہے جن حالات کو اپناتا ہے وہ تمام تر کوشش کے باوجود بھی آپکا اپنا نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حال بنا ہی خاص طور ہر آپ کے لئے نہ بنا ہو۔ اپنے اصل سے فرار اور “ان” جیسا ہو جانے کی کوشش میں انسان کہیں کا بھی نہیں رہتا۔ کچھ ایسا ہی حال کئی روم میٹس کا ہوتا ہے جو محنت کے بعد پارٹی کی بجائے پارٹی ہی پارٹی کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ جن کو اپنے ہم رنگ، ہم نسل، ہم مذہب، ہم وطن تو جاہل، رجعت پسند، اور پسماندہ ذہن معلوم ہوتے ہیں انہی کو اغیار کی ہر ادا میں ایک سیکھ نظر آتی ہے۔ لیکن قابل ماتم بات یہ ہے کہ اکثر وہی ادا اور وہی سیکھ انکی نظر میں آتی ہے کہ جسکا کوئی منہ متھا بھی نہ ہو۔ بات ترجیحات کی ہے اور یہی ترجیحات انسان کو صحیح معنوں میں کول یا پھر فول بنا دیتی ہیں۔
Advertisements

7 Comments

Filed under کردار کشی

7 responses to “روم میٹ

  1. جہاں قابلیت شاہ سے وفاداری ہو تو انڈروئر چرانے والے کا جج بن جانا بھی اچھا ہے دعا کریں انڈر وئیر اتروانے والا جج نہ بن جائے بس
    باقی روم میٹ تو بس ایک ہی اچھا ہوتا ہے زندگی میں اور وہ ہم خود ہوتے ہیں

  2. میں تو اپنے بھائیوں کے ساتھ روم شئیر نی کر سکتا دوسرے روم میٹس کے ساتھ کے کروں گا :ڈ:ڈ:ڈ

  3. واہ بہترین عکاسی کی ہے آپ نے۔ میں بھی پچھلے کئی سالوں سے اپنے روم میٹ کے ساتھ رہ رہا ہواور بوہرہ صاحب کے الفاظ بالکل درست ہیں۔ میرے جتنے بھی روم میٹس آئیں میرے بہترین دوست بن گئے ہیں اور میری زندگی میں اُن کے علاوہ کوئی ہے بھی نہیں ۔انسان کی اعلیٰ ظرفی اور کم ظرفی کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب آپ ایک ساتھ کچھ وقت گزاریں۔ بہت سارے ایسے لوگ بھی ملے جن سے ملنے کو اب دل بھی نہیں کرتا اور کچھ کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔

  4. روم میٹوں اور اپارٹمنٹ میٹوں پہ ہم کچھ کہنا تو بہت چھوٹی بات ہے تصویری ثبوت بھی پیش کر سکتے ہیں لیکن مفاد عامہ کی پالیسی کے تحت اجتناب برت رہے ہیں
    بس اتنا ہی کہیں گے کہ شکر کر، کچھے ای چوری کرتا تھا

  5. اب تو ایسی عادتیں خراب ہو گئی ہیں کہ
    گروپ ٹریول کرتے ہوئے۔
    اضافی قیمت دے کر اکیلے کمرے میں لمبی تان کے سوتا ہوں۔
    کسی کے ساتھ کمرہ بندی اب مشکل ہے۔

  6. اور اس اچھے روم میٹ کو اتنا بھی شریف انسان نہیں ہونا چاہیئے ورنہ بد معاش روم میٹ لبرٹی لینے لگتے ہیں۔

  7. انکل آپ کی یہی باتیں تو آپ کو عظیم بنا دیتی ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s