آیندہ کا پاکستان

کوئی چار ماہ پہلے کا واقعہ ہے کہ ایک بیٹھک کے دوران ہماری بھی بولنے کی باری آئی. اب چار لوگوِں کو سامنے بیٹھا دیکھ وہ بھی ایسے جو نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری سننے بیٹھے ہوں تو ہمارے اندر مویا مکا سکول و کالج کے زمانے کا مقرر اور اور یونیورسٹی کے زمانے کا استاد ایسا انگڑائی لے کر جاگتا ہے کہ یش چوپڑا کی فلم کی ہیرویئن بھی تعارفی سین میں کیا جاگتی ہوگی. بس باری آئی اور ہم نے انے وا بولنا شروع کردیا اس بولے جانے میں قوم کا لفظ کوئی پونا درجن بار استعمال کیا. کسی نے ٹوک کر پوچھا کہ میاں یہ قوم کی تعریف تو کرو کہ کیا ہوتی ہے. ہمارا ہاتھ سیدھا ہوا پڑا تھا تو ایک عدد تعریف جڑ دی. بس اسی تعریف کو بنیاد بنا کر ہماری ورچوئل لترول شروع ہوئی۔

یوں تو استادوں نے ہمیں سمجھایا ہوا ہے کہ سردی اور بے عزتی جتنی محسوس کرو اتنی زیادہ لگتی ہے. اور ہم کہاں استادوں کی سننے والے تھے اس دن کر بیٹھے محسوس اور نتیجہ یہ نکلا کہ اس دن جو باتیں مجھے اور “میری قوم کی تعریف” کو سننے کو ملیں انکو سن کر کافی برا لگا. اب ہم کبوتر تو ہیں نہیں جو آنکھیں بند کر کے بستی انجوئے فرماتے لہزا ہم نے بھی مشاہدہ شروع کیا اور جو نتائج نکلے ان سے یہ ثابت ہوا کہ وہ صاحبان درست تھے اور ہماری عقلی لترول بالکل جائز ہوئی تھی۔

 دنیا بھر میں پائی جانے والی اقوام میں کچھ اقدار اور عوامل ہوتے ہیں جو ایک جھنڈ کو قومی دھارے میں باندھ کر ایک جسم ایک قوم بناتے ہیں. کھینچ کھانچ کر ہم بھی برائے نام قوم تو شائد بن گئے لیکن اسکے لئے درکار سماجی معاہدہ جو ہوتا ہے اسکے فارم پر کرنا بھول گئے۔ آج جب پورے چار ماہ بعد میں اپنی کی گئی لفظ قوم کی تعریف اور حقائق کو، خاص طور پر پچھلے ایک ہفتے کے معمولات و واقعات کو، دیکھتا ہوں تو مجھے میری خام خیالی اور حقیقت میں موجود انتہائی واضح فرق منہ چڑاتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ آج ہمیں قوم کے “لیبل” تلے رہتے ہوئے پینسٹھ سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے مگر آج بھی ہمیں جب بھی موقع ملے ہمیں دوسروں پر الزام تراشنے اور انگلیاں اٹھانے کا تو ہم اسکو بالکل ضائع نہیں کرتے پھر چاہے وہ بیچارا بھی اسی لیبل سے وابستہ لیکن مختلف سوچ رکھتا ہو۔

 حالیہ انتخابات بھی اس روش کی ایک مثال ہیں۔ انتخابات شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے ہی ایک وبائی مرض کی طرح سیاسی وابستگی نے ہمیں ایسے تقسیم کر دیا جیسے کسی مزار کے باہر چاول تقسیم ہوتے ہیں۔ ہر کسی کو اپنے حصے کی پڑ گئی اور ہر کوئی اپنے آپ کو زیادہ حقدار ثابت کرنے میں ایسا لگ گیا کہ رہے نام مولا کا۔ جس طرح دوسروں کی مزہبی وابستگی پر فتوات جاری فرما دینا ہمارے ہاں “گل ای کوئی نیی” اسی طرح ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو ملک دشمن کا خطاب دے ڈالا اور جواب میں وہی خطاب ان سے بھی حاصل فرمایا۔ انتخابات ہو چکے نتایج جیسے تیسے ہی صحیح آ گئے لیکن ہم اس بات سے بے خبر کہ ہم نے انجانے میں ملک پر کتنا بڑا احسان کر دیا ہے ہم عادت سے مجبور نتائج پر لڑ رہے پیں۔ نتائج پر تحفظات، اختلاف رائے، دکھ، اور شادمانی کا اظہار ایک فطری امر ہے اور سماجی و جمہوری حق بھی لیکن یہاں بھی ہم اپنی قومی عادت سے مجبور حدود کو ایسے پھلانگ گئے کہ جیسے پھلانگنے کا بھی حق ہوتا ہے۔ نہ ہی ہم میں اتنی اخلاقی پختگی نتائج سے پہلے تھی اور نہ ہی اب کہ ہماری طرح کسی دوسرے کے بھی جزبات ہو سکتے ہیں اور وہ بھی مجروح ہونے کے دہانے پر اسی طرح ہوتے ہیں کہ جس طرح ہمارے۔

 انتخابات شفاف اور اتنے آزادانہ نہیں ہوئے کہ جسکی امید کی جا رہی تھی یہاں پر حقیقت کی چپیڑ یہ ہے کہ ہم ایک ملک میں آباد ہیں جنت میں نہیں جہاں پر ہر چیز کاملیت کی معراج پر ہو۔ دھوکہ دہی اور انتخابی دھاندلی پر سینہ کوبی کرنے سے پہلے ہمیں ان عوامل کو بھی دیکھنا ہوگا جو ہمارے اندر موجود ہیں اور ان عوامل کو دیکھنے کے لئے کوئی “سینی ورلڈ” کی ٹکٹ درکار نہیں صرف جرات درکار ہے اپنے گریبان میں منہ دینے اور خود احتسابی کی۔ ہماری اپنی “جملہ حقوق محفوظ” قسم کی بے ایمانی اور اس قسم کی دیگر خصلتیں جو ہمارے ہاں ایکسپورٹ کوالٹی اور وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں انکو بیٹھ کر رونا ہوگا اور سوچنا ہوگا کہ ان سب کی موجودگی میں اتخابات آزاد و شفاف کیسے ہو سکتے تھے۔ وہ جو “بِک” گئے وہ بھی ہم میں سے ہی تھے کوئی مریخ سے آئی مخلوق نہیں تھی۔

 ساٹھ فیصد کے لگ بھگ ووٹرز کا گھر سے نکلنا اور پولنگ بوتھ پر بوتھی دکھانا اپنے اندر ایک احسان ہے جو ہم نے ملک پر کر ڈالا۔ ایک ایسا ملک جو دہشت کی چاپ ہر وقت سنتا رہتا ہے جہاں ایک ایسی سوچ بھی موجود ہے جو “اصلی اسلام” کی امین ہے جو کہ ووٹ ڈالنے کو اتنا ہی غیر شرعی گردانتے ہیں کہ جتنا دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کو۔ وہیں ووٹ دینے کی اہل آبادی میں سے بڑی تعداد نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ تبدیلی بیلٹ کے زریعے درکار ہے ہمیں بُلٹ کے زریعے نہیں۔ ہم ایک بے چین اور جلد باز قوم ہیں، اول اگر ہم قوم بھی ہیں تو، ہم ہر کام کو اتنی ہی دیر میں حل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں کہ جتنی دیر پلک جھپکنے اور چٹکی بجانے میں لگتی ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ہم “لمبے بوٹوں” اور “انقلاب” کے رومان میں مبتلا ہیں۔ درحقیقت ہمیں شائد معلوم بھی نہیں کہ انقلاب کس گائے کا نام ہے اور وہ کس قسم کا چارہ کھاتی ہے۔ تبدیلی ایک بتدریج، مرحلہ وار اور کرمک عمل ہے اورتبدیلی کا آغاز انسان کے اندر سے ہوتا ہے لیکن ہم اس بات سے یا تو غافل ہیں یا جان بوجھ کر “کاکا منا” بنے ہوئے ہیں۔

انتخابی نتائج کو دیکھتے ہوئے تبدیلی نامی چڑیا کی بھی ایک عدد جھلک ملتی ہے اور امید محسوس ہوتی ہے کہ مرحلہ وار عمل جاری ہے۔ ووٹ کی طاقت سے کئی فرعون منہ کے بل گرے بیٹھے ہیں وہ جو ہر حال میں اپنے آپ کو حاکم مانے بیٹھے تھے پھر چاہے کارکردگی صفر ہی کیوں نہ ہو۔ بحیثیت قوم ہم نے یہ پیغام بھی بھیجا ہے کہ اب ہم میں اتنا شعور تو کچھ حد تک آ گیا ہے کہ اگر آپ ہماری امیدوں پر بطور ہماری امنگوں کے ترجمان پورا نہیں اترتے تو اگلی بار شکل شریف دکھانے کی بھی زحمت نہ فرمائیے گا۔

ہمارے ہاں ایک نئی پارٹی ابھر کر سامنے آئی ہے جسکو صحیح معنوں میں دوسری بڑی پارٹی کہا جاسکتا ہے، یہ وہی پارٹی ہے کہ پچھلی بار جسکی پارلیمنٹ میں ایک بھی سیٹ نہیں تھی۔ مرکز میں ایک مضبوط حکومت کی امید کی جا سکتی ہے جو حکومت شریک جماعتوں کی بلیک میلنگ سے آزاد ہوگی. ان سب باتوں کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں خاص کر حکومت میں موجود سیاسی جماعتیں مسلسل اس دباؤ میں ہوں گی کہ جو دعوے وعدے کئے تھے انکو پورا بھی کرنا ہے کہ اب عوام لاروں لپوں سے مزید رام نہیں ہو سکتی. یک صوبہ جماعت ہونے کا تعنہ بھی اپنا رخ بدل چکا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ عوامی اکثریت نے اس بار سیاستدانوں کو ووٹ دیا ہے نہ کہ کسی قبر، مظلوم، یا بے چارے کو. یہ اب وہ وقت ہے جب ہمیں عقلمندی اور اخلاقی پختگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا. فہم و فراست کو استعمال میں لا کر تمام اہم مسائل اور تحفظات کو اسی طرح حل کرنا ہوگا کی جیسسے لفظ فہم و فراست کا حق ہوتا ہے. نعرے بازی، لیبل سازی اور سڑک کے انصاف سے پرہیز کرتے ہوئے باہمی مسائل کو طریقے اور قرینے سے سمجھنا اور حل کرنا ہوگا. انصاف سڑک پر تب سجتا ہے جب عدالت نامی ادرہ موجود نہ ہو۔

ہماری حالت پہلے ہی خاصی پریشانکن ہے ان حالات میں نفرت بھرے ڈراموں کی مزید اقساط ہمارے لئے اتنی ہی مہلک ہیں جتنی شوگر کے مریض کے لئے آئے دن کی مٹھائی۔ اب ہم اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہمیں فی الوقت سیاسی وابستگی سے اوپر ہو کر سوچنا ہوگا اور پاکستان کو بہتر بنانے کی طرف قدم اٹھانا ہوگا۔ پھر چاہے اس بہتر پاکستان کا نام نیا ہو یا روشن کیونکہ ایک بہتر اور ترقی کرتا ہوا پاکستان ہی وہ اشتہار ہے جسکو دکھا کر تمام پارٹیاں ووٹ بٹورتی رہی ہیں۔

یہاں میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ الیکشن کمیشن جلد ہی اٹھتی ہوئی آوازوں کا صحیح معنوں میں نوٹس لے کر اپنی روزی حلال کرے۔ ویسے بھی فخرو بھائی کی بطور چیف الیکشن کمیشن تائناتی ان سب لوگوں کے منہ پر کسن تھا جو ایمانداری کی ماں کو روتے رہتے ہیں. ایمانداری بے شک ایک انتہائی اہم صفت ہے مگر اس ایمانداری کا صحیح جگہ پر استعمال ہونا اور اسکو استعمال کرنے کی طاقت رکھنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے. اب ایک درزی مثال کے طور پر بہت ایماندار ہے تو اسے صرف اسی بات پر فٹبال ٹیم کا مینیجر نہیں بنایا جا سکتا جبتک کہ وہ اس ذمہداری کا اہل نہ ہو۔ فخرو بھائی کو بھی بڈے وارے ایسے سیاپے میں پھنسا دیا کہ اب وہ بچارے یہ کہتے مسوس ہو رے کہ سالیو منو پیسے وی نا دیو میرے کپڑے وی نا دیو پر منو سا تے لین دیو۔

 ایک اور چیز جو میں آئیندہ کے پاکستان میں دیکھنا چاہوں گا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی اسی سنجیدگی اور اخلاقی پختگی کا مظاہرہ کرے کہ جسکی امید اور جسکا رونا ہم سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور حامیوں کے حوالے سے کرتے اور روتے ہیں۔
 (تصویر: بشکریہ بشکریہ گلوبل وائسز)

Advertisements

2 Comments

Filed under سیاسی سیاپے

2 responses to “آیندہ کا پاکستان

  1. گڈ ون
    اور انکل جی یہ ورڈ ویریفیکشن لوگوں کو تبصرہ نہ کرنے پر اکسانے والی بات ہے

  2. بھتیجا جی ہولی ہولی مارکیٹ میں درائٹیاں آئیں گی۔ ایک ایک کر کے چھیزیں ٹھیک کروں گا ورڈ ویری فیکیشن ہٹا دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s