لیڈز لفنٹری

کنگ ایڈورڈ اسٹریٹ- لیڈز
فون کی گھنٹی بجی اور ہم نے بھی عام انسانوں کی طرح کال وصول کی اور اسے کان سے لگا لیا “کیا کر رہے ہو مصنف؟” یہ غوری صاحب تھے۔ اب حق سچ کا دامن ہاتھ میں رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب تو یہی تھا کہ حسب  عادت چولیں مار رہا ہوں۔ لیکن منہ کے آگے فلٹر ڈالتنے ہوئے عرض کیا کہ کچھ خاص نہیں حکم کریں۔ یوں اس فون کال سے ہمیں لیڈز میں منعقد ہونے والی ایک سمِت (پاکستان ینگ لیڈرز سمِت) بارے معلومات ملی اور جب منتظمین سے بات ہوئی تو پتا چلا کہ وہ بھی ہم جیسے “جہاں دیدہ” اور تجربہ کار مندوبین کی تلاش میں ایسے نکللے ہوئے ہیں کہ جیسے سائکل پر بیٹھ کر گلی گلی لور لور نکلا جاتا ہے۔ قصہ مختصر ہم تھے، لیڈز کو جانے والی بس تھی، اپریل کی 12 تاریخ تھی اور ہمارے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی عجیب انسان نما مخلوق۔ نہ جانے کون ہوتے ہیں جنکی سفر میں دعائیں قبول ہو جاتی ہیں ہمیں تو جب بھی “ساتھ” ملا وہ صنف نازک کا متضاد ہی ملا اور اگر کبھی قسمت مہربان ہوئی بھی تو اس عمر رسیدہ مہربانی سے ہم ویسے ہی بھلے۔
خیر 5 گھنٹے کے تشریف ہموار کر دینے والے سفر کے بعد جب ہم باہر نکلے تو دھوپ اور تازہ ہوا ہماری منتظر تھی۔ غوری صاحب سے رابطہ کیا تو پتا چلا وہ بھی سٹی سینٹر میں موجود ہوٹل ‘ٹریول لاج’ کی طرف جا رہے ہیں ہمارا انتطام بھی وہیں تھا لہذا ہم نے بھی وہیں کی راہ لی۔ روائتی جوش و خروش سے ہماری سلام دعا ہوئی اور پھر ‘مصنفین’ نے کافی پر سیاست، ادب، فلم اور نہ جانے کس کس موضوع پر گفتگو کر ڈالی۔ تازہ دم ہونے کے بعد سٹی سینٹر گھومنے کی نیت سے نکلے۔
لیڈز مغربی یارکشائر کا ایک اہم شہر ہے جسکی وجہ یہاں کی ثقافت، اور معیشت میں اسکا اہم کردار ہے, لندن کے بعد یہ شہر کاروباری، قانونی، اور مالیاتی خدمت سر انجام دینے والے اداروں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ آبادی کے لحاظ سے برطانیہ کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ جتنی تاریخ رعب جھاڑنے کو ہم نے پڑھی ہے اسکے مطابق یہ شہر پانچویں صدی عیسوی میں ایلمٹ سلطنت کا حصہ تھا تب یہاں کے جنگلات کو ‘لویڈیز’ کا نام دیا گیا جو زمانے کی چپیڑیں ٹھڈے کھا کر ‘لیڈز’ بن گیا۔  17ویں صدی کے بعد ادھر بھی تجارتی سرگرمیوں نے انگڑائی لی اور اون کی صنعت یہاں کی وجہ شہرت بن گئی۔ مشہور زمانہ “مارکس اینڈ سپینسرز” نے بھی اپنی’انے وا’ ترقی کا آغاز اسی شہر کی’ کرکگیٹ مارکیٹ’ میں ایک عدد ٹھیلے سے کیا (اس اسٹال کی تصویر نیچے دیکھی جا سکتی ہے آج بھی یہ اسٹال ورثہ ہونے کی وجہ سے قائم ہے)۔ شہر میں دریا کے نام پر ایک عدد نہر ٹائپ کوئی چیز بھی پائی جاتی ہے ‘دریائے ائیر’کہتے ہیں۔ 

https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf شہر گھومنے کے دوران جن عمارتوں کو شرف نگاہ حاصل ہوا ان میں لیڈز ویسٹ منسٹر بلڈنگ، لیڈز لبرل کلب، لیڈز منسٹر(جو کہ چرچ تھا کسی وزیر کی رہائش گاہ نہیں)،  ٹرینیٹی سینٹر، ویکٹوریہ کوارٹر، کنگ ایڈورڈ اسٹریٹ شامل ہیں۔ میری توجہ دو عمارات نے ہی کھینچی ایک تھا پرانا ڈاکخانہ، جو آج بھی خاصہ شاندار نظر آتا ہے یہ آج بھی فعال ہے یہ تو ہم پتا نہیں کر سکے کیونکہ ہم ڈاک خانے کے اطراف میں لگے مجسموں کے’ آرے لگ’ گئے تھے۔ سنسر کی وجہ سے ان زنانہ مجسموں کی تصاویر شائع نہیں کی جا رہیں۔ 
وہیں پاس میں ہی ‘پرنس آف ویلز’ – ایڈورڈ المعروف بلیک پرنس کا مجسمہ بھی ہے جو کہ چنگیز خانی جیکٹ پہنے اپنے گھوڑے پر سوار ہے۔ یہیں غوری صاحب نے ان فاتحین اور جنگجووں کے مجسموں کے بارے میں معلومات دی کہ اگر گھوڑے کے دو پاؤں ہوا میں ہوں تو صاحب سواری جنگ میں جاں بحق ہوئے، اگر ایک ہوا میں ہو تو موصوف جنگ میں زخمی ہوئے پرمیدان جنگ میں نہ مرے۔ اگر چاروں پاؤں زمین پر ہوں تو آپ سمجھ لیں کہ موصوف صرف رنگباز تھے انہوں نے جنگجو ہو کر گنوایا۔ 
کارن ایکسچینج کی عمارت نے بھی ہمیں اس کھرک میں مبتلا کر دیا کہ معلوم کیا جائے کہ یہ عمارت کس کام آتی ہے۔ پتا یہ چلا کہ قرون وسطی میں ہی لیڈز ایک اہم منڈی بن گیا تھا اسکی وجہ یہاں کی زرعی پیداوار تھی۔ تبادلے کا نظام چلتا تھا لہذا اس تبادلے نے وسعت پائی اور جب باقاعدہ تجارت کا آغاز ہوا تو یہ عمارت گئے وقتوں کی یادگار کے طور پر قائم کر دی گئی۔ آوارہ گردی کے دوران نظر ایک ایسے چرچ  پر بھی پڑی جس پر ‘اوپن فار آل’ کے الفاظ درج تھے۔ یہ ‘مل ہل چیپل’ تھا، اور دروازہ بند ہونے کی وجہ سے میں مزید نہ جان سکا کہ یہ کس طرح اوپن فار آل ہے، ہاں وہاں دروازے پر تمام بڑے مذاہب کے نشانات اور علامات کندی ہوئی تھیں۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب کوین ہوٹل میں ہوئی، جہاں غالبا شہر کے ہر نام نہاد چاچے مامے نے تقریر جھاڑی اور تقاریر کے میعار پر میں نے اندرو اندری کئی بار سر پیٹ لیا۔ تقریب کی اہم بات وہاں پر مشہور صحافی اور پاکستانی صحافت کے چند با عزت لوگوں میں سے ایک طلعت حسین کی موجودگی تھی۔ میں نے سید صاحب کو کافی حد تک منکسر پایا، پچھلی میز پر عام طلبہ کے ساتھ بیٹھے رہے اور ان کے ساتھ بڑے اطمینان سے باتیں کرتے رہے۔ جب ہم نےپوچھا کہ آپکو کیسا لگتا ہے سیاسی ٹالک شوز کا باقاعدہ بانی ہونا تو ہاتھ باندھ کر کہنےلگے کہ بھائی غلطی ہو گئی مجھ سے اکثر اس بات پر افسوس کرتا ہوں۔ 
 محفل میں چھچھور پن کی کمی کو مبشر لقمان نے پورا کیا جو اس بات پر سیخ پا ہو کر ہال سے باہر چلے گئے کہ انکو ابھرتا ہوا ستارہ کیوں بولا گیا جبکہ وہ  پہلے ہی ایک ستارہ بلکہ اشٹار ہیں۔میں اور غوری صاحب اکتاہٹ کا شکار اپنے لطیفوں اور گپوں میں مصروف رہے مجھے اندازہ تھا کہ ہماری حرکات کو مبشر لقمان خاصے غور سے تاڑ رہے ہیں اور اس بات کا یقین تب ہو گیا جب موصوف نے اپنی تقریر کے دوران انھی لطیفوں میں سے چند استعمال کر ڈالے۔ مبشر لقمان کے “احتجاج” کا جواب انتظامیہ نے اس طرح دیا کہ انکو تقریر کی دعوت دیتے ہی میزوں پر کھانا چن دیا۔ باقیوں کا تو پتا نہیں مگر ہم نے پوری توجہ سے تکہ کباب کھائے، مٹن کے ساتھ انصاف کیا اور گاجر کے حلوے سے داڑھ گیلی کی۔
تقریب کے بعد طلعت حسین کے ساتھ کافی پینے اور گپ شپ کی غرض سے چل دیئے وہاں بھی ان سے وہی سوال کئے گئے جن کے جواب ان کو رٹ چکے تھے۔ ان سے کام کا شائد کوئی سوال نہ کیا گیا ہاں جذباتی انصافی بچوں کے جذبات طلعت صاحب کے مدلل جوابوں سے کافی مجروح ہوئے۔
ہوٹل واپسی پر میں اور غوری صاحب دیر تک انکی شاعری اور نظموں کا تذکرہ کرتے  کرتے سو گئے۔صبح ہم پر دو انکشاف ہوئے ایک یہ کہ ہم بھی سوتے میں خراٹے مارتے ہیں جن سے غوری صاحب سو نہ سکے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے صرف داخلی امور ہی نہیں بلکہ تمام کمیٹیوں کے اجلاس کی صدارت کرنی ہے۔ غوری صاحب اور چند اور آحباب کی رہنمائی سے ہم نے یہ کام بھی کر لیا۔ نتیجہ کے طور پر انتظامیہ ہماری اور غوری صاحب کی کافی مشکور تھی۔خیر بحث دلیل کا جو معیار تھا اس سے یقین ہو گیا کہ اگر ہمارے ملک کا دانشور اگر نجم سیٹھی، ملک کا عالم دین عامر لیاقت حسین، ملک میں لبرل ازم کا وکیل امتیاز عالم، انسانی حقوق پر بات کرنے والی عاصمہ جہانگیر ہے تو کیوں ہے اور کیوں ہم کیوں اسی کے مستحق ہیں۔
کمیٹی کا اجلاس لیڈز یونیورسٹی میں ہوا۔ جبکہ اس کے بعد طلعت حسین کے پروگرام کی رکارڈنگ اور چند ماہرین کے ساتھ سکائپ سیشن لیڈز میٹروپول یونیورسٹی میں ہوا۔ دن بھر کی وہی گھسی پٹی بحث کے بعد ہم میں تو ہمت نہ تھی کہ ہم مزید سر کھپاتے لہزا ہم ایک مشن پر نکل کھڑے ہوے۔
سمِت میں شرکت کے لئے حسین حقانی نے بھی آنا تھا جو کہ نہ آ سکے لیکن ان کے لئے جو کمرہ ‘ہلٹن ہوٹل’ میں بک تھا اس کا بکنگ کوڈ ہمارے ہاتھ لگ گیا اور ہم ہلٹن جا کر پکے منہ کے ساتھ حسین حقانی بن گئے اور ہلٹن کے پر سکون کمرے میں سکونت اختیار کی۔ دن بھر کی تھکاوٹ کا حل گوگل پر خاصے “غیر پارلیمانی” کی ورڈز کی سرچ پر وقت ضائع کر نکالا اور اسکو ختم یہ کہہ کر کیا کہ “چھڈ یار اے کم ای کتا اے”۔
رات کے کھانے کا انتظام ایک کمیونیٹی سینٹر میں تھا جسکا نام مجھے تو کیا یاد ہونا ٹیکسی ڈرائیور کو بھی نہیں معلوم تھا۔ کھانے میں تیل کی وافر مقدار دیکھ کر مجھے ڈر سا لگا کہ کہیں امریکہ تیل کی تلاش میں ادھر بھی حملہ نہ کر ڈالے۔ وہیں میز پر پروگرام بنا کہ شب ہفتہ /اتوار منانے چلتے ہیں۔ پہلا سٹاپ ‘القضی شیشہ پارلر’ تھا، جہاں تاریکی میں ڈوبی روشنی اور چھائے ہوئے دھوئیں میں ہم ادھر ادھر کی سوچنے لگے اور آحباب بیت بازی اور گیت بازی میں جت گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ احباب میں سے کئیوں کو بہت زور کا ڈانس آ گیا۔ ان کی اس ‘کھرک’ کو ‘مٹھی’ کرنے کے لئے ایک عدد بھنگڑا کلب کی راہ لی گئی۔ کلبوں کے معاملے میں ہمارا ذاتی تجربہ خاصہ مایوس کن ہے ہم ایک بار جا چکے ہیں اور اتنے بور ہوئے کہ صوفے پر بیٹھے جمائیاں لینے لگے۔
اس بار قصہ مختلف یوں تھا کہ وہاں پر بجنے والے گانے ہمارے خانے میں پڑ رہے تھے اور ہم دیوار سے ٹیک لگائے دنیا کو پاگل ہوتا دیکھنے لگے۔ “آجاؤ آپ بھی” یہ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک تھا جو شائد ڈانس سے بریک لے کر ہمیں بھی ‘نیک کام’ کی دعوت دینے آیا تھا۔ جب میں نے دعوت پر انکار کر دیا تو ایک اور سوال آیا، “کیا ہوا بھائی نیند آ رہی ہے جو ڈانس نہیں کر رہے”۔ ہم نے ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا، “، “نہیں ہم راجپوت ہوتے ہیں، ہمارا ڈانس سے کیا تعلق”۔ اس برجستہ جواب کی شائد انکو امید نہ تھی لہذا ہم پھر دیوار سے ٹیک لگائے اکیلے ہی تماشہ دیکھنے لگے۔ رات دیر تک شہر میں آوارہ گردی کرنے کے بعد ہلٹن واپس آ گئے اور لمبی تان کر سو گئے۔
https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swfآخری روز وہی معمول کی کمیٹی میں بحث رہی جس میں الیکشن اور تعلیم کے حوالے سے کوئی حل نکالنے کی کوشش کی گئی جبکہ میں اند ہی اندر ان سب پر ہنس رہا تھا کہ جیسے احباب اختیار نے ہماری مان بھی لینی ہے۔ ٹیلیوائز ڈیبیٹ میں ہم بھی پینل کا حصہ تھے لیکن ہم سوال نہ پوچھ سکے کیوںکہ لندن واپسی کی بس کا ٹائم ہو چلا تھا۔ خیر وہاں مشاہیرکا جو پینل تھا وہاں ضیاء دین یوسف زئی کو دیکھ کر عجیب بھی لگا اور انکی تقریر، اور کانپتے ہاتھ دیکھ کر غصہ بھی آیا کہ ہمارے زوال کا عالم یہ ہو چلا ہے کہ ہم نے کس کس کو دانشور بنا ڈالا ہے۔ پورا ارادہ تھا کہ ٹیلی وژن پروگرام کی رکارڈنگ سیشن میں ان سے وہ سوال پوچھوں جو کئی ماہ سے دل میں اچھل کود رہا ہے۔ لیکن کئی منٹ تک ہاتھ اٹھائے رکھنے اور طلعت حسین کی یقین دہانی کے بعد بھی جب ہماری باری نہ آئی تو ہم نے غوری صاحب سے مصافحہ کیا ( زیل جیو نیوز کی خبر کے آخر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مصنف اور غوری صاحب اس سیشن میں کتنی توجہ سے مصروف تھے)۔  ہم نے اپنا بستہ آٹھایا اور واپسی کی راہ لی۔

Pakistan Young Leaders Summit Leeds geo report from Rai M Azlan Shahid on Vimeo.

لندن پہنچنے تک ہمیں اطلاع ہو گئی تھی کہ غوری صاحب نے بعد میں “کم چک دیا تھا” انہوں نے وہی سوال کر ڈالا جو ہم بھی کرنا چاہتے تھے، جس سے ماحول کافی “کشت زعفران” بن گیا۔
ہم لندن واپسی کی بس میں تھے اور سوچ رہے تھے کہ  جانے کون ہوتے ہیں جنکی سفر میں دعائیں قبول ہو جاتی ہیں ہمیں تو جب بھی “ساتھ” ملا وہ صنف نازک کا متضاد ہی ملا اور اگر کبھی قسمت مہربان ہوئی بھی تو اس عمر رسیدہ مہربانی سے ہم ویسے ہی بھلے۔
Advertisements

9 Comments

Filed under Uncategorized

9 responses to “لیڈز لفنٹری

  1. یعنی لندن سے لیڈز کا فاصلہ پانچ گھنٹے کا ہے، گویا لہور سے ملتان جانے والی بات ہُوئی۔
    اور “موشر لکمان”صیب کی تقریر کے دوران حاضرین کی غیر انگلستانی حرکتیں
    ون ورڈ۔۔۔زبردست۔

  2. سٹال والی تصویر نی نظر آ ری
    اور بھائی تو لکھنے کا فن جانتا ہے
    ایم کالا باغ ڈیم شور کہ آنلینی سفر ناموں کا بابا کہلانے والا تو فیوچر میں
    بہت ہی مزیدار اور دل پشوری قسم کی پوسٹ ہے

  3. بہت عمدہ
    یار کوئی اسپیم نہیں چھوڑتا اردو بلاگنگ پر یہ ورڈوریفیکیشن تو ہٹا دیں

  4. آپ کونسا فانٹ استعمال کررہے، پڑھا نہیں جارہا، ہیں جی

  5. بہت عمدہ “نہیں ہم راجپوت ہوتے ہیں، ہمارا ڈانس سے کیا تعلق”۔اعلی لِکھا ہے جی۔

  6. Bohat acha likha gya ha….Laikin again shikwa ha k 'Kasht e Zafran' wala swal phir dba liya gya ha. Allah puchy ga

  7. تبصرہ کرنے کا شکریہ. ویسے تو راستہ کوئی ساڑھے تین گھنٹے کا ہے. لیکن بس نے چونکہ جگہ جگہ منہ مارنا ہوتا ہے تو لگ پانچ ہی جاتے ہیں.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s