اداس بہار

کریدا ہے آج یاروں نے زخم وہی
جسے لیے اور
چھپائے پھرتا ہوں میں.
اکیلے میں تو اسے
سہلائے جاتا ہوں.
جلوتوں میں اسے
کر دیتا ہوں نقاب پوش.
لیکن آنکھ والے پا لیتے ہیں جھلک.
اور پوچھتے ہیں
کہ ماجرہ کیا ہے.
کہہ دیتا ہوں اداسی ہے بس
اور کچھ نہیں،
کچھ یادیں ہیں شائد
یا اثر موسم کا ہے.
میں سدھر جاؤں گا
وقت لگے شائد.
سن کر یہ بات
میرا زخم ہرا کرنے کو
مجھے سمجھاتے ہیں
کہ میں ہی غلط ہوں.
یہ چمکتی دھوپ دیکھو
کھڑکی چیرتی ہوئی
وہ پھول دیکھو
دروازے سے لگتے ہوئے.
تازہ ہوا کو بھر لو اپنے اندر
دیکھو اک بار پھر سے سب منظر
مسکرا دیتا ہوں بس
کہ بحث کر نہیں سکتا
تنہائی کا غم نہیں
یہ اداسی پھر اداسی ہے
یہی دھوپ
کھڑکی سے جھانکتی
چڑاتی ہے مجھے
یہ پھول یہ ہوا بھی
کوئی دوست نہیں
سنا بہت ہے کہ یہ موسم ہے
سب سے حسیں.
دیکھا بھی ہے مانا بھی ہے
پر میں شائد راضی نہیں.

اداسیوں کا دور دورا ہے

جانے کسے موسم بہار بھاتا ہے.

Advertisements

1 Comment

Filed under شاعری کی کوشش

One response to “اداس بہار

  1. رج کے چاکلیٹ کھائیں۔ افاقہ ہوگا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s