آکسفورڈ گردی – آخری حصہ

عمران خان کی تقریر کا ایک منظر

ہم صراط مستقیم پر چلتے ہوئے آکسفورڈ یونیئن پہنچے ہماری اس حرکت کو ہماری راست بازی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ سینٹ پیٹرز کالج سے یونیئن کا صراط ہےہی بڑی حد تک مستقیم. احاطے میں خاصہ رش تھا اتنا رش دیکھ کر ہمارے منہ سے بے ساختہ نکل گیا “ایتھے کی نرگس نے آنا” (یہاں کیا نرگس آرہی ہے) ارد گرد عوام نے جس انداز سے دیکھا ہمیں انکی سیاسی وابستگی اور ہماری جان کے خطرے کا اندازہ ہوا. اس سے پہلے کہ ‘پیر کامل’ کی شان میں گستاخی پر ہمیں ایک نیا خطاب ملتا ہم احاطے میں داخل ہوئے پاس سے ایک تیز رفتار گاڑی یوں گزری کہ ہمارا ‘ترہ’ نکل گیا اور گاڑی میں سے جب عمران خان نکلا تو ہمیں ایک عدد جھرجھری سی محسوس ہوئی. اب اس کیفیت کی وجہ احساساتِ نسواں نہیں بالکہ موصوف کا حلیہ تھا. جہاں ہم نے اوور کوٹ اور سوٹ کے اندر وہ تھرمل پہن رکھی تھی جو افواج سیاچن کی سردی میں پہنتی ہیں وہیں اس جوان کے بچے نے صرف ایک کوٹ پہنا ہوا تھا اور جو قمیص زیب تن تھی اسکے بھی کالر سمیت دو بٹن کھلے ہوئے تھے. ڈبیٹ چیمبر کا دروازہ کھلا اور ہم کسی کھڑکی توڑ قسم کی فلم والے رش کی دھکم پیل برداشتنے کے بعد ڈیبیٹ ہال میں داخل ہوئے۔
آکسفورڈ یونین کا پورا نام آکسفورڈ یونین سوسائیٹی ہے جسکا آغاز 1823 میں ہوااور یہ انگلستان کی تیسری سب سے پرانی یونیورسٹی یونین ہے۔ اس یونین اور اسکے ڈیبیٹ چیمبر کی وجہ شہرت اس کے زیر اثر ہونے والی تقاریر اور بحث و مباحثے کی محافل ہیں۔  اسی یونین کی 1976 میں بینظیر بھٹو صدر منتخب ہوئیں ارو موجودہ صدر نے بار ہا یہ بات یاد دلائی یہاں تک کہ یونین کی جانب سے عمران خان کو جو یادگار تحفہ دیا گیا وہ تصویر بھی اس زمانے کی تھی جب بی بی یونین کی صدر تھیں اور اس تصویر میں موجود بھی۔ اب خدا بہتر جانتا ہے کہ اندر و اندری عمران خان نے “دیٹ آکورڈ مومنٹ” کیسے یضم کی۔ جب زکر صدور کا ہو ہی رہا ہے تو موجودہ صدر کا زکر نہ کرنا میرے اپنے ساتھ زیادتی ہوگی۔ خاتون کا نام تو یاد نہیں پر یہ ضرور یاد ہے کہ انکا تعلق روس سے ہے اور انکو دیکھنے کے بعد ان تمام کہانیوں پر یقین آ گیا جن میں پرستان کا محلِ وقوع روس  بتایا گیا ہے۔ تعارف کے بعد عمران خان کی وہ تقریر شروع ہوئی جو اس سے قبل میں کوئی پینتیس مرتبہ سن چکا تھا وہی باتیں  ترتیب کے فرق سے دوبارہ کہیں گئیں۔ تقریر کے

قاسم اور سلیمان - فرزندانِ عمران خان
 قاسم اور سلیمان – فرزندانِ عمران خان

حوالے سے نئی اور اہم بات ہال میں جمائما خان اور عمران خان کے دونوں بیٹوں کی موجودگی تھی۔  اور عین پچھلی قطار میں بیٹھے غوری صاحب کے چہرے پر موجود لالی بھی میرے لئے ایک نیا منظر تھا۔ اپنے کالم میں عارف انیس ملک نے اپنی طرف سے بڑی فنکاری سے یہ لکھا کہ جیسے وہ جمائما کے ساتھ والی کرسی پر ہی براجمان تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موصوف مخالف سمت میں لگی ہوئی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے کہانی سازی کر رہے تھے۔
تقریر کی اہم بات جو مجھے لگی وہ پی کے آئی (پاکستان نالج انیشیایٹو) کا افتتاح تھا جو کہ پاکستان سوسائیٹی کے سابق صدر عدنان رفیق کی کاوش ہے۔ پی کے ائی کا قیام اس لئے عمل میں لائا گیا کہ کانفرنس کے ہر سال انعقاد کے ساتھ ساتھ کوئی عملی کام بھی کیا جا سکے۔ بات ہو رہی تھی تقریر کی، تقریر میں تو کچھ خاص جیسا میں عرض کر چکا ہوں نہیں تھا میری دلچسپی کا سامان سوال جواب کے دور میں تھا۔ خدا کی ذات گواہ ہے کہ میں نے سادگی کا ایسا مظاہرہ تو کئی بار دیکھا ہوگا مگر منافقت کا ایسا مظاہرہ میں نے اپنی آنکھوں سے اور اتنی قریب سے کبھی نہ دیکھا تھا۔ جہاں ایک بھولے بادشاہ نے خان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے حلف برداری کی تقریب کے لئے شیروانی کا ماپ دے دیا ہے وہیں کئیوں نے تعریفوں کے اوور ہیڈ باندھ ڈالے۔ لے دے کر صرف ایک ہی سوال کام کا تھا وہ بھی سوال کم اور تجویز زیادہ تھی کہ پارٹی کا طاہرلقادری کی طرف جھکاؤ کو قابو میں لایا جایا۔ باقی سب جو تھا وہ منافقت تھی کھلی منافقت وہ جو عام حالات میں خان کا نام سننا پسند نہیں کرتے اور اپنے آپ کو اسکا سب سے بڑا ناقد ثابت کرتے ہیں، جب سوال پوچھنے پر آئے تو بچھتے چلے گئے اور سوال کم “ہوں ہوں ہیں ہیں۔۔۔۔ جی خان صاحب، وہ خان صاحب” زیادہ تھی۔ افسوس ہوا کہ جنکو سوال پوچھنے کا موقع ملا انہوں نے اسکو ضائع کر دیا۔ اگر پس پردہ تنقید کی بھٹی چلا رہے ہو تو ایک آدھا دانہ وہاں بھی پیش کر دیتے اور ہاتھ آئے لیڈر سے وہ سوال کرتے کہ جس کا جواب دینے کی صورت میں سب کے علم میں کچھ اضافہ ہوتا۔

تقریر کے بعد عمران خان جسطرح شوں کر کے تشریف لائے تھے اسی طرح شوں کر کے غائب بھی ہو گئے اور ہمارے قابو سردی میں ٹھٹرتے ہوئے مقبول ٹی وی اینکر معید پیرزادہ آ گئے۔ بات چیت کا آغاز انہوں نے ہی سلام کے جواب میں سوال داغ کر کیا کہ کیسی لگی عمران کی تقریر۔ یہاں سے بات چیت کا آغاز ہوا اور کچھ اور ساتھی بھی شامل ہو گئے کیونکہ سردی میں خاصہ اضافہ ہو گیا تھا لہزا ہم نے کہیں بیٹھ کر کافی پر بات چیت کرنے کا ارادہ کیا اور قریبی میک ڈانلڈ کی ایک عدد میز پر ایسے قابز ہوئے کہ سٹور کے مینیجر کو آ کر درخواست کرنی پڑی کہ اگر ہم لوگ تشریف اٹھا لیں تو وہ سٹور بند کر سکیں۔ دوران گفتگو جو موضوع سب سے زیدہ زیر بحث رہا وہ تھا گڈ گورننس کا جمہوریت اور آمریت سے لا تعلقی۔ ہم سب کہیں نہ کہیں مانتے تھے اور ہیں کہ گڈ گورننس کا سچ میں ان سے کوئی تعلق نہیں یہ دونوں نظام اچھی اور بری گورننس دے سکتے ہیں لیکن ہائے عشقِ جمہوریت۔ بس اسی عشق میں بحث لمبی ہوتی گئی اور ماڈرنازم، نوآبادیاتی دور،  حالیہ عالمی منظر نامہ ، اور نا جانے کون کونسا موضوع ہم نے چھیڑ ڈالا۔
مصنف مشہور ٹی وی اینکر معید پیرزادہ اور دیگر دوستوں کے ساتھ
مصنف مشہور ٹی وی اینکر معید پیرزادہ اور دیگر دوستوں کے ساتھ

رات کے کھانے کا اہتمام آکسفورڈ اسلامک  سینٹر میں تھا کھانے کے بعد ہم نے بجائے اپنے ریسٹ ہاؤس واپس جانے کے یوتھ ہاسٹل کی راہ لی جہاں بحث کا ایک اور دور ہماری راہ تک رہا تھا۔ سیاسی گفتگو کرنے کا کم از کم  اس وقت ہمارا موڈ نہیں تھا لہزا ہم نے کان لپیٹ کر ایک کونے میں بیٹھ، پی ٹی آئی کے ایک عدد نوجوان کو دیوار سے لگتے دیکھا۔ لیکن آفرین ہے اس جوان پر اس

کرکٹرز آرم
ریسٹ ہاؤس کے قریب واقع دلچسپ نام والا پب

نے جواں مردی سے اپنے چاروں مخالفین کامقابلہ کیا۔ اور سچ کہوں تو مجھے وہ نوجوان پی ٹی آئی کی قیادت سے کہیں زیادہ متاثر کن لگا جسکے پاس دلیل اور ٹھنڈا دماغ جیسے موثر ہتھیار تھے۔ جبکہ اسکے مخالفین میں سے ایک بھائی صاحب تو غالبا کافی پی کر ٹن ہوئے بیٹھے تھے کبھی انکا کہنا تھا کہ عمران لیڈر نہیں ہے، پھر کہنے لگے کہ عمران سیاست دان نہیں ہے۔ اس روش کو دیکھ کر ساتھ بیٹھے پپو کو کہنی مار کر ہم نے کہا کہ اب کچھ دیر بعد اسنے کہنا ہے کہ عمران بندا نہیں سکوٹر ہے۔

دیر رات کو جب بحث ختم ہوئی تو وہیں کامن روم کے صوفے پر کچھ دیر کمر سیدھی کرنے کو لیٹے کہ اچانک وہ عوام ادھر آ دھمکی جسکا کام ان کانفرنسوں میں رات گئے تک تفریح کے نام پر ہلڑبازی کی عالمی چیمپیئن شپ کے لئے کوالیفائی کرنا ہوتا ہے۔ انکو اندر آتا دیکھ ہم نے اپنا سامان اٹھایا کہ وہاں ‘شرفاء’ کا مزید کوئی کام نہیں تھا۔ خیر تفریح کے معاملے میں  ہر شخص کی اپنی پسند  ہوتی ہے جو زاتی رویئے اور طبیعت  پر منحصر ہوتا ہے جو مجھے ہلڑ بازی لگتا ہے لازمی نہیں کہ وہ سچ میں ہلڑ بازی ہی ہو تفریح نہیں۔ جس طرح زاتی رائے سب کا حق ہے اسی طرح اپنی پسند کی تفریح بھی۔ یہ وہ خیالات تھے جو کامن روم سے نکلنے کے بعد کافی دیر تک ہمارے دماغ میں گھومتے رہے۔ صبح ہونے سے پہلے ہم ریسٹ ہاؤس کی طرف چل پڑے، راستے میں نظر ایک بار پھر پورٹ میڈوز کی جانب اٹھی اپنا وعدہ یاد آیا اور ہمارے قدم بھی اس جانب اٹھ گئے۔ چہل قدمی کا وہ لطف آیا کہ رات بھر کی بے خوابی بھی بھول  گئی  اور جب افق کے ایک کونے سے سورج کو

نکلتا دیکھ اور گرد و نواح کا رنگ بدلتے دیکھا تو کافی دیر تک اس منظر میں گم رہا اور اس منظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے کی کوشش کرڈالی۔

پورٹ میڈوز پر سورج نکلنے کا منظر
پورٹ میڈوز پر سورج نکلنے کا منظر

کمیٹی کے آخری اجلاس کے لئے ہم ایک بار پھر سینٹ پیٹرز جمع ہوئے اور اس بار موضوع بلوچستان کا مسئلہ تھا۔ بحث اس روز بھی ایک دن پہلے جتنی ہی فائدہ مند تھی۔ اور میری دلچسپی اس وقت ہی کم ہو گئی جب کمیٹی میں ایک بھی بلوچ یا بلوچستان کا شہری نا پایا۔ ان حالات میں ساری بحث مجھے “ماما” بننے کے مترادف ہی لگی۔ یہی وجہ تھی کہ ہم درمیان میں اٹھ کر چلے گئے اور بے مقصد سٹی سینٹر میں گھومنے لگے۔ کچھ دیر بعد غوری صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے اور ہم نے مل کر آوارہ گردی کی اور ہم نے تاریخ اور ہماری دلچسپی کے امور پر سوالات پوچھے جن کے جوابات کی تلاش اور امید ہمیں غوری صاحب جیسے شخص سے ہی تھی۔ کمیٹی نے مسائل کے حل میں کیا تجویزیں دیں ہم اس سے لا تعلق تھے یہی وجہ تھی کہ تمام کمیٹیوں کے باہمی اجلاس کے لئے بھی نہ گئے اور مختلف کتابوں پر بحث کرتے رہے اور جب ہم نے غوری صاحب کو الوداع کہا اس وقت تک ہم دونوں کے پاس ایک فہرست تھی کہ کونسی کتب اور کونسی فلمیں دیکھیں جائیں۔ غوری صاحب نے اپنی ریل گاڑی پکڑی اور ہم صبح کے بھولے کی طرح واپس ڈبیٹ چیمبر آ گئے۔

اتوار کی شام وہی ہال تھا وہی کانفرنس تھی مگر جہاں ایک روز قبل ‘انےوا’ رش تھا وہاں آج الو بول رہے تھے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن کی تقریر میں دانش و عقل تو موجود تھی مگر سننے کو ہال میں  زیادہ لوگ نہ تھے۔ اور اس سہ پہر پوچھے گئے سوال بھی کرخت بلکہ کچھ زہر آلودہ تھے۔ اعتزاز صاحب کی قابلیت کو پرکھنے کا واحد معیار انکی سیاسی وابستگی تھی۔ شائد اسی کے زیر اثر انہوں نے بھی کچھ سوالوں کو ایسا گول کیا کہ میسی اور ٹورس کے گول کیا بیچتے ہیں۔ کانفرنس ختم ہوئی اور ہم نے سب کو الوداع کہنا شروع کیا۔ دل ابھی واپس جانے کا نہیں تھا شائد اسی لئے کیمبرج سے آئے کچھ دوستوں کو میمبرز بار میں دیکھا اور ان میں جاکر گھل مل گئے۔ اس گھلنے ملنے کا نتیجہ یہ نکلا کے رات بھر گپوں اور علمی بحثوں کا دور ایسا چلا کہ صبح تین بجے ہم آکسفورڈ ٹیوب کے آڈے پر کھڑے بس کا انتطار کر رہے تھے۔ اس وقت شدت سے احساس ہوا کہ نہر کنارے بلا کر ماہی اگر موسم سرما میں ماہی آنے میں دیر کر دے تو آپکی ٹھنڈ میں کلفی بھی ہوسکتی ہے۔  واپسی پر اپنے بستے اور بس میں سوئی ہوئی “رونق” کے علاوہ ہمارے ساتھ ہمارے پسندیدہ شہر کی یادیں اور کیمبرج شہر گھومنے آنے کی دعوت تھی۔ لندن میں واپس آتے ہی ہمارا حال بوڑھ کے نیچے واپس آ جانے والی کھوتی والا ہوا۔ جب بس نے ہمیں ماربل آرچ کے پاس اتار دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہم ککڑ فروشی فرماتے ہیں۔

تخلیھ

اب رات کے جس پہر یہ تحریر مکمل ہوئی ہے ہم اپنا سامان شہر لیڈز کے لئے باندھ رہے ہیں جہاں اسی قسم کی ایک عدد اور کانفرنس میں شرکت کے لئے جا رہے ہیں لیڈز کا سفرنامہ اور کانفرنس کا حال اگلے ہفتے سے نئے سلسلے میں شائع کیا جائے گا۔
Advertisements

1 Comment

Filed under آکسفورڈ گردی

One response to “آکسفورڈ گردی – آخری حصہ

  1. […] (اگلے حصے میں ڈبیٹ چیمبر، عمران خان کی تقریر کا احوال، ی… […]

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s