آکسفورڈ گردی حصہ دوئم

سینٹ پیٹرز کالج کی طرف جاتے ہوئے

ہم نندیا پور کی سیر میں مشغول تھا کہ وہ وقت آن پہنچا جب ہم جیسے گناہ گاروں کی نیند اپنے نقطہ عروج پر اور جزبہ ایمانی نقطہ انجماد پر ہوتا ہے یعنی فجر کا وقت. سندھی لہجے میں کہا گیا ‘بھائی جان’ میری سماعت کی نظر ہوا اب بھائی جان کہنےوالی آوازمردانہ تھی لہزا ہم نے زیادہ برا نا مانا. برا اس مقصد پر آیا کہ جسکے لئے ہماری نیند خراب کی گئی. یہ ہمارے روم میٹ محترم تھے، ان  جناب کو غسل خانے میں جانا تھا اور کہنے لگے کہ “دروازے کے سامنے کچھ رکھ دیں تاکہ کھل نا سکے”. اس کی کنڈی بارے میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں. ہم نے بتہرا کہا کہ بھائی ہم سوئے مرے ہوئے ہیں آپ پوری آزادی سے جاؤ لیکن وہ نہ مانے. اب شکل ہی ایسی ہو تو کوئی شرافت کا یقین نہیں کرتا لہزا ہم نے دروازے کے آگے بستہ رکھا اور نیند کے اگلے راؤنڈ کے لئے کوالیفائی کیا. صبح جب آنکھ کھلی تو روم میٹ کو سویا ہوا پایا تو سوچا کہ عجیب آدمی ہے نہا دھو کر پھر سے سو گیا۔

بریکفاسٹ
بریکفاسٹ

سوٹ پہن ٹائی باندھ ہم باؤ بن کے کھانے کے کمرے میں پہنچے تو ناشتا بھی باؤ یعنی انگلش بریکفاسٹ تھا کہ جس میں تلا ہوا انڈہ ابلاہوا لوبیا
کرائسٹ چرچ کالج
کرائسٹ چرچ کالج

جلی ہوئی کھمبیاں اور ایک عدد آلو پیاز کی ٹکی یعنی ہیش براؤن شامل تھی. خیر جو بھی تھا وہ بریکفاسٹ تھا ناشتا نہیں کیونکہ  ہمارے نزدیک ناشتہ کی کم از کم ڈیفینیشن یعنی تعریف پراٹھا ہے. ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ایک قبول صورت دوشیزہ میز کے پاس آئی اور میرا پروگرام جاننا چاہا. ہم نے بھی زیرِ لب کہہ دیا جو مزاجِ یار میں ہو. ہم نے اسکے بعد ناشتا بغیر تکلیف کے کیا اور بوتھی پر کسی بھی قسم کا کوئی نشان نہ ہونا اس بات کی علامت تھی کہ ‘ہماری کہی ہوئی ہم تک ہی رہی’. دراصل وہ محترمہ ہماری گائیڈ تھیں اور ریسٹ ہاؤس میں اس وقت موجود تمام مندوبین کو انکے متعلقہ اجلاس تک پہنچانا انکی زمہ داری تھی جو انھوں نے بخوبی نبھائی نام بھول جانے کی بیماری پر ایک بار پھر غصہ آ رہا ہے کہ پوچھنے کے باوجود انکا نام بھول گیا۔ اب باقی ہیں تو بس بے نام سی یادیں۔

راستے میں ایک جواں سال ‘بچے’ سے ملاقات ہوئی جوکہ ‘خلیفہ لیاؤ’ مہم میں تازہ بھرتی ہوا معلوم ہوتا تھا. ایک اس بیچارے سے اس بات کی خوشی نہیں سنبھالی جا رہی تھی کہ “میں لائف میں پہلی بار اتنا فارمل ڈریس اپ ہوا ہوں” اس پر ان نازک کاندھوں پر نظام بدلنے کی زمہ داری دیکھ کر اپنا ایمان تازہ ہو گیا پر موسم کی ٹھنڈک نے اسے تر کر دیا. ایک اور دلچسپ اور قابلِ ذکر ملاقات ایک سفید فام امریکی خاتون سے رہی ان کو ساتھ ساتھ چلتا دیکھ عادت سے مجبور پوچھ ہی لیا کہ “خالہ جی کدھر؟” (خالہ جی کا استعمال مصنف نے مبالغہ آرائی طور پر کیا ہے)۔ جو جواب ملا اسکا خلاصہ یہ ہے کہ محترمہ کا تعلق امریکہ سے ہے جبکہ انکے خاوند  پاکستانی ہیں اور
جب ہم محو گفتگو تھے۔
جب ہم محو گفتگو تھے۔

یہاں پر ‘کمیٹی برائے ماحولیاتی امور’ کی صدارت کرنے کے لئے تشریف لائیں ہیں۔ یہیں سے ہم نے ‘پانی میں مداھانی’ ڈال لی، ویسے بھی خوبصورت  خواتین سے لمبی بات نہ کرنے کو کس بد بخت کا دل کرتا ہے، اور ہم مختلف امور پر بات کرنے لگے۔ بات جا پہنچی سرمایہ دارانہ نظام  پر جس سے امریکی ہونے کے باوجود وہ خاصی خائف تھیں۔  اس نطام بارے باتیں کرتا دیکھ اسی جواں سال بچے کے لبوں پر  ایک عدد معنی خیز مسکراہٹ دیکھنے کو ملی اور جسکی مجھے امید تھی وہ موصوف بول پڑے۔ اور خاتون سے پوچھا کہ کیا وہ مسلمان ہیں؟ “جی ہاں مگر ابھی میں نے باضابطہ اعلان نہیں کیا” اس امریکی خاتون نے جواب دیا۔ اس کے بعد ان دو ‘بہن بھائی’ میں کیا گفتگو ہوئی اسکی میں تاب انگلش بریکفاسٹ کے بعد تو کم از کم اتنی صبح نہیں لا سکتا تھا۔ مختصر یہ کہ دونوں ایک نطام سے خائف تھے دوسرے کے پاس ایک ہی حل تھا سو اس پر ایک عدد وعظ جاری ہوگیا۔

پتا نہیں کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ صبح کی سیر بہت اچھی چیز ہوتی ہے ہم نے تو جب بھی کی کوفت ہی اٹھائی اور کھجل ہی ہوئے آکسفورڈ کی مختلف
سینٹ پیٹرز کالج کا اندرونی منطر
سینٹ پیٹرز کالج کا اندرونی منطر

گلیوں میں سے گزرتے ہوئے ہم آخر کار سینٹ پیٹرز کالج پہنچے جہاں پر کمیٹی برائے داخلی امور کا اجلاس ہونا تھا۔

یہ کالج نیؤ ہال  روڈ پر واقع ہے سڑک کا نام سن کر پہلی چیز اپنی لاہور کی ہال روڈ یاد آئی مگر ادھر نہ کوئی ‘سپیکر’ کی دکان نہ کوئی ‘سی ڈی’ کی دکان اور نہ ہی بے ہنگم رش اس ویرانی کو دیکھ کر مجھے وحشت سی ہوئی اور دل میں خیال آیا “روندے ہال روڈ بنان نوں”۔  کہانی کچھ ایسے ہے کہ  جس جگہ آج یہ کالج واقع ہے وہاں کبھی آکسفورڈ کے دو قدیم سرائے ہوا کرتے تھے۔  ایک کا نام روز ہال تھا جبکہ دوسرے کا نام نیؤ ہال تھا بس اسی کے نام پر یہ سڑک بنائی گئی۔ یہ دونوں ہال تیرویں صدی میں بنے اور ہمیشہ سے یونیورسٹی کا حصہ تھے۔  کالج کی موجودہ شکل میں جدید تاریخ کا آغاز 1929 میں سینٹ پیٹرز ہال کی تعمیر سے ہوا۔ لیورپول کے بشپ، فرانسس جیمز شاواس، برطانیہ میں بڑی یونیورسٹیوں میں تعلیم  کی بڑھتی ہوئی  لاگت پر میں فکر مند تھے۔ لہزا انہوں نے سینٹ پیٹر ہال کی تجویز  دی کہ جہاں وہ زہین طلبہ تعلیم حاصل کر سکیں جو عام حالات میں آکسفورڈ کے تعیلمی اخراجات برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ 1961 میں آکسفورڈ یونیورسٹی نے سینٹ پیٹرز ہال کو مکمل کالج کا درجہ دینے کی منطوریدے دی۔

کالج میں داخل ہوئے تو اسکو ویران پایا۔ ادھو ادھر نطر دوڑائی اور اپنے ڈولتے ہوئے   قدموں کو گریجویٹ گراس سے بچاتے ہوئے اس کمرے میں جا گھسے جہاں سر درد کا سامان ہماری راہ تک رہا تھا

کمیٹی کا اجلاس شروع ہوتے ہی کمرے کا درجہ حرارت بڑھ گیا، ‘خلیفہ لیاؤ’ مہم والوں نے تجویز دی کہ جن مسائل یا موضوعات پر بحث کرنے کے لئے اجلاس ہو رہا اس کی بجائے نظام پر بہث کی  جائے۔ آنے والے انتخابات پر بات کرنے کے لئے اٹھنے والی آوازوں پر انھوں نے “کلونیئل مائنڈ سیٹ” یعنی نوآبادیاتی ذہنیت کا فتوی جاری کر دیا۔ کراچی و بلوچستان کے حالات اور ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کاروائیاں بھی ان کے نزدیک مسائل نہیں تھے۔ کمیٹی کی صدارت چونکہ ایک نا تجربہ کار شخص کر رہا تھا جسے اس قسم کی یلغار کی توقع نہیں تھی لہزا ہم نے نظام پر بحث کرنے میں کئی گھنٹے برباد کئے۔ نہ وہ ہماری سننے کو تیار تھے اور اگر کوئی بول پڑتا تو اس پر مہر لگ جاتی۔ ایک تبصرے پر تو ہم نے بھی سیکئولر کا خطاب لے لیا اور دل میں سوچا اس سے بہتر ہمیں گالی ہی دے دی جاتی کم از کم اسکا جواب تو ہوتا اپنے پاس۔  خیر غوری صاحب اور ہم جیسے چند اور نوآبادیاتی زہنیئت اور سیکیئولر “فتنوں” کی کارستانی کے نتیجے میں آخر کار ان مسائل پر  پر بات ہونے لگی جنکے لئے اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ عام حالات میں تو ہم سیاسی گفتگو کے دوران غصہ کرنے کے قائل نہیں اپنی اسی خصلت کی وجہ سے یار لوگ اس بات کا یقین نہیں کرتے کہ ہماری سیاسی وابستگی تحریکِ انصاف سے ہے۔ دورانِ بحث میرے روم میٹ نے ہتک امیز انداز میں پی ٹی آئی کے اندرونی انتخابات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں درزی اور رکشہ ڈرائیو نہیں بلکہ انٹلیکچول اور دانشور درکار ہیں۔ اس بات پر جہاں باقی ارکان نے احتجاج کیا وہیں ہمارے اندر کا ‘مویا مکا’ انصافیئن  جاگا اور اپنی باری کاانتطار کئے بغیر لگا لتاڑنے کہ کسی کی عقل و دانش کو اسکے پیشے سے ماپنا کہاں کی عقل و روایت ہے۔

بینظیر بھٹو کی پینٹنگ آکسفورڈ میں
آکسفورڈ یونین ڈیبیٹ چیمبر میں لگی کسی پاکستانی کی واحد تصویر۔

اسی روز کھانے کے وقفے کے بعد بڑھتی فرقہ واریئت کے مسئلے پر بحث ہوئی اس میں بھی بے ربط دلائل کا دور دورا رہا  بحث میں معیار کا شدید فقدان تھا۔ اس سے قبل بھی میں اس قسم کی کانفرنسوں میں شامل ہو چکا ہوں مگر اس قسم کا عقلی دلائل کا فقدان اور بحث کا ایسا معیار پہلے میرے تجربے میں نہ تھا اس سب نے میری مایوسی میں اضافہ کیا۔ ویسے بھی آج کل جب نہ چاہتے ہوئے بھی میں مایوسی کی طرف کا سفر بڑی تیزی سے طے کر رہا ہوں اس پر اس بحث نے ‘ایک اور دھکے’ کا کام کیا۔ اس سب پر ہمارا روائتی ‘خبت  عظمت” اور  تمام مسائل کو لے کر “حالت ِ انکار” وہ چیزیں ہیں کہ جو ہمیں حل کی طرف آنے ہی نہیں دیتیں۔
بڑھتی ہوئی فرقہ واریت پر بات کرتے ہوئے سب نے کہا کہ اسلام میں تشدد نہیں ہے اور مجھے اس بات پر سو فیصد ایمان ہے مگر  آج کا مسلمان شدت پسند ہو گیا ہے اس بات کو تو تسلیم کیا جائے کہ کچھ تو غلط ہے جسکو ٹھیک کرنا درکار ہے۔ ہم میں سے کچھ نے لانگ ٹرم (یعنی کثیر مدتی) حل دیئے کچھ نے شارٹ ٹرم جو کے ایک اچھی بات ہے، میرے پاس ایک شارٹسٹ ٹرم (قلیل ترین مدت) سلوشن (حل) ہے اور وہ یہ کہ ہمیں اس حالت، انکار سے نکلنا ہوگا اور ان مسائل کو مسائل سمجھنا پڑے گا۔
 یہ میرے الفاط تھے اور اس قسم کے ہی کچھ تبصروں نے ہم پر “سیکیؤلر” کی مہر لگا ڈالی۔  سہ پہر میں جب کمیٹی کی اس روز کی کاروائی مکمل ہوئی تو ہم اپنی یہ نئی سند اٹھائےآکسفورڈ ڈیبیٹ چیبر کی جانب چل پڑے کہ جہاں عمران خان نے کانفرنس کے مندوبیین سے خطاب کرنا تھا۔

جاری  ہے۔۔۔ 

Advertisements

7 Comments

Filed under آکسفورڈ گردی

7 responses to “آکسفورڈ گردی حصہ دوئم

  1. Thats Really good. I am becoming fan of you. Kafi arsy k bad koi shagufta tehreer prhny ka moqa mila ha

  2. جناب اتنی نریف نہ کریں کہ ہم مغرور ہو جائیں.

  3. بہترین جناب۔
    پر کہاں اتنے دانشوروں میں جا پھنسے ویسے تو ہر پاکستانی پیدائیشی دانشور ہوتا ہے پر یہ تو سند یافتہ بھی ساتھ تھے۔۔۔۔

  4. بس جی جانا ہوتا رہتا ہے کیونکہ ہم بھی پاکستانی ہیں اور پیدائشی دانشور بھی۔ بس سند نہیں تھی وہ خلیفہ لیاؤ مہم والوں نے دے ڈالی۔ اب “کمینہ کنزرویٹو” کے ساتھ ساتھ یہ ایک اور سند ہو گئی ہاں یہ والی ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے وصول کی۔

  5. یار ساری باتیں ایک طرف
    کام کی تسویر تو نے کوئی بھی نی پوسٹی
    اپنے آپ رنگین آنچلوں کے جھرمٹ میں
    اور ھمارے واسطے رنگساز کی دکان کا پتہ
    دیٹس ناٹ فئیر
    اور یہ
    آکسفورڈ یونین ڈیبیٹ چیمبر میں لگی کسی پاکستانی کی واحد تصویر۔
    کا آرٹسٹ کوئی خانساب تو نی ھے؟

  6. یار میں کیسا بھی صحیح میرا کیمرہ پردہ کرتا ہے خیر اسکی بھی عمر کا تقاضا ہے شید.
    ویسا بڑا تو استاد آدمی ہے تیری وجہ سے مجھے بھی اب شک ہو را.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s