دکن سے پرے جنوبی بھارت میں اردو

جب بھی بھارت میں اردو کے بارے میں بحث ہو تو جنوبی بھارت کے ساتھ انصاف صحیح طرح طور پر نہیں ہوتا. تمام تر توجہ شمالی بھارت کے حصے میں آتی ہے خصوصاً اتر پردیش کے کردار کو داد ملتی ہے. جبکہ جنوبی بھارت کا کردار یکسر نظر انداز ہو جاتا ہے.
جنوبی بھارت میں اندرا پردیش کے شہر حیدرآباد کا نام ہی اردو کے حوالے سے زہن میں آتا ہے. جبکہ کرناٹکا اور ٹمل ناڈو کے وسیع علاقے میں بھی اردو بولنے، لکھنے اور سمجھنے والوں کی کافی تعداد موجود ہے. ٹمل ناڈو میں ویلور کے گردونواح کا علاقہ اردو ادب میں اپنے کردار کے حوالے سے خاصہ اہم ہے. ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ویلور کے کچھ علاقوں میں آج بھی اردو رسائل کی فروخت شمالی بھارت کے کئی شہروں بشمول آگرہ اور الہ آباد سے زیادہ ہے.
اس طرح کے حقائق کے با وجود توجہ کا مرکز ریاست یوپی ہی رہتی ہے. توجہ کی یہ تقسیم اس قدر غیر منصفانہ ہے کہ  بہار، اندرا پردیش، اور ماہراشٹرا کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے.
آج کے بھارت میں کرناٹکا کا علاقہ گلبرگا کا علاقہ اردو کے حوالے سے ایک اہم لیکن گمنام مرکز ہے. اس جگہ کی اردو کے حوالے سے اہمیئت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کرناٹکا میں ہزاروں کی تعداد میں اردو میڈیئم اسکول موجود ہیں جبکہ اس کے برعکس ریاست یوپی میں ایک بھی اردو میڈیئم اسکول موجود نہیں۔
مشہور بھارتی ادیب علیم صبا نویدی کی کتاب ‘ٹملناڈو میں اردو’ ایک تاریخی دستاویز ہے. یہ کتاب نہ صرف ٹمل ناڈو میں اردو کے حوالے سے اہم علاقوں کی نشاندھی کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ علاقےمیں اردو ادب کے حوالے سے اہم  حقائق کی نشاندھی کرتا ہے. مسلم کلچر کا ٹمل ناڈ کے بعض علاقوں پر اثر بھی اس کتاب کا ایک پہلو ہے.
ٹمل ناڈو کے مسلمان زیادہ تر ٹمل بولتے ہیں لیکن جہاں اردوبولی جاتی ہے اس میں دکن  کا رنگ اور اثر پایا جاتا ہے.یہ کتاب بتاتی ہے کہ اردو کا سب سے پہلا اخبار 1822 میں کلکتہ سے چھپنا شروع ہوا جسکا نام ‘جامِ جہاں’ تھا. جبکہ برصغیر میں اردو کا دوسرا اخبار ‘جامعالاخبار ‘ 1823 میں مدراس میں چھپنا شروع ہوا. اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اردو صحافت کی داغ بیل اس علاقہ میں دہلی اور لکھنؤ سے بہت پہلے ہی پڑ گئی تھی. مزےکی بات یہ ہے کہ مدراس میں پہلا ٹمل اخبار اردو اخبار کے کئی سال بعد 1955 میں چھپنا شروع ہوا. مزید یہ کہ اس ٹمل اخبار کو عیسائی مشنری نے جاری کیا تھا.
اس کتاب میں ٹمل ناڈو میں اردو شاعری اور ادب سے متعلق ببی کافی معلومات ہے کہ کیسے یہاں پر غزل،مثنوی، .نظم گوئی اور فنِ خطاطی نے ترویج پائی. اس کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنوبی بھارت میں کس طرح مدارس نے اردو کی درس و تدریس کے لئے کتنا اہم کام کیا.
علیم صبا نویدی جو بذاتِ خود ایک مشہور لکہاری اور ورسٹائل اردو شاعر ہیں نےاس کتاب میں جنوبی بھارت سے اردو کے اہم شاعروں کا زکر کیا ہے جنکا تعلق مدراس،وانیمندی، ویلور، کرشناگری، مادورائی، عمراباد، نیلور اور بینگلور سے تھا. ٹمل ناڈو میں اردو غزل تین صدیوں سے لکھی اور کہی جا رہی ہے. ٹمل ناڈو میں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں ٹمل کے ساتھ ساتھ اردو رسمالخط بھی عام استعمال میں ہے.
حالیہ مردم شماری کی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ ٹمل ناڈو کی ریاست میں اردو بولنے والوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے اور یہ تعداد شمالی بھارت کی بڑی اور اہم ریاست راجھستان سے زیادہ ہے کہ جہاں کی چھ لاکھ کے قریب آبادی اردو کو اپنی مادری زبان مانتی ہے.
اردو ایک وسیع اور علاقہ جات سے بالاتر زبان ہے یہ نہ صرف شمال جبکہ جنوب کی بھی زبان ہے. اب شائد وقت آ چکا ہے کہ اردو کو یکسر شمال اور خاص کر اترپردیش ہی کی زبان نہ کہا جائے جنوبی بھارت کے کردار کو بھی اسکے حصہ کا خراجِ تحسین دیا جائے.
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہو… کے لئے اس زبان کو علاقوں سے منسلک کرنے کی روائت کو ختم کرنا ہوگا.
تخلیھ
عام زندگی میں تو ہم خاصے سنجیدہ انسان ہیں اور یہاں وہاں تانک جھانک فرمانے سے گریز ہی کرتے ہیں۔ لیکن معلومات عامہ میں اضافے کے لئے آن لائن زندگی میں بڑی سنجیدگی سے ہر طرف تانک جھانک فرما لیتے ہیں۔ بس اسی تانک جھانک کے زیر اثر ہمسائیوں کے ہاں اردو کے بارے میں ایک انتیہائی دلچسپ مضمون پڑھنے کو ملا اسی کا ترجمہ کرنے کی جسارت کرڈالی ہے۔ اس سنگین اقدام کی اجازت دینے کے لئے میں اس تھریر کے اصل لکھاری کا مشکور ہوں. آصل (انگریزی) تحریر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
مزید یہ کہ بعض شہروں کے نام میرے لئے بالکل نئے تھے اگر اردو میں لکھنے میں غلطی ہو گئی ہو تہ اس کے لئے معزرت اور تصحیح کی درخواست ہے۔

تصویر اور معلومات بشکریہ
Advertisements

4 Comments

Filed under اردو، معلومات

4 responses to “دکن سے پرے جنوبی بھارت میں اردو

  1. بہت مفید تحریر ہے اگر ممکن ہو سکے تو اس کتاب کو پی ڈی ایف کی صورت آن لائن لے آئیں تاکہ بہت سوں کا بھلا ہو جائے۔

  2. Great translation. Feels really nice to read in Urdu. Thank .
    you

  3. بہت معلوماتی اور حقائق پر مبنی مضمون لکھا ہے، شیئرنگ کا شکریہ

  4. thanks to you for allowing me to translate it. btw bro is that possible that i can find that book somewhere online in pdf from or something?

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s