ویلے ٹائم ڈے

اسکو کہتے ہیں آؤٹ ڈور مارکیٹنگ ھم نے تو ایم ایس سی کر کے گنوایا

ہمیں تو بھائی عادت ہے “عیدوں بعد تانبا پھوکنے” کی، یہی وجہ ہے کہ اگر چھوٹی عید بارےکچھ لکھنا ہو تو اس کی باری اکثر بڑی عید کے قریب جا کر ہی آتی ہے. وجہ کو چاہے سستی کا نام دے لو یا مصروفیات کا فرق کچھ نہیں پڑتا. ویسے بھی پڑھتا کون ہے جو کوئی فرق پڑے گا. لیکن آج اپنے آئین کے خلاف جاتے ہوئے بر وقت اپنا ساڑ نکلال رہا ہوں. ہاں جی ساڑ کیونکہ  گزشتہ دو انگریزی تحاریر میں مجھ سے جو انسانیت کے لئے عظیم تحفے یعنی لاہور میٹرو بس کی شان میں جو گستاخی ہو گئی ہے اس کے بعد تو یہی الزام لگ رہا ہے کہ “ہر ویلے سڑیا ای ریا کر”. اس ویلے سے مجھے یاد آیا کہ آج تو ویلے ٹائم ڈے معذرت چاہتا ہوں ویلنٹائنز ڈے ہے. جیسے یہ دن ہمارے ہاں انتہائی ادب و احترام اور “مذہبی جوش و خروش” سے منایا جاتا ہے میں آج کے روز اس کی قصیدہ گوئی نہ کر کے مزید گستاخیاں اپنے نامہ عمال میں نہیں لکھوا سکتا. یہی وجہ ہے کہ اپنے ہی آئین کی نہ جانے کونسی شق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دفتری اوقات میں اپنی اوقات سے باھر ہوتے ہوئے اس تحریر کو مکمل کر رہا ہوں۔
جہاں تک میری بدنام زمانہ یاداشت کا تعلق ہے سب سے پہلے اس مقدس دن کا نام 1997 میں سنا تھا جب “دل تو پاگل ہے” نامی فلم منظر عام پر آئی اس سے پہلے تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے “ہمسایوں” کو بھی اس دن کی افادیت کا علم نہ ہوگا. 1999 جب 14 فروری کا سورج اتفاق سے اتوار کے روز چڑھا تو ڈبل پروگرام والا قصہ ہو گیا کیونکہ اسی روز لاہور میں ایک اور عظیم اور تاریخی تہوار یعنی بسنت منایا جا رہا تھا. ملک میں کونکہ بین الاقوامی فاسٹ فود چینز کھل چکی تھیں اور ہم بھی تو اکیسویں صدی سے کوئی ایک آدھی گلی ہی دور تھے لہٰذا اس سال خاصے شور شرابے کے ساتھ یہ دن منایا گیا یا شاید میں نے اسی سال ہوش سمبھالا تھا اور ہوش سمبھالتے ہی “کمینے کنزرویٹو” کی طرح اس قسم کی چیزوں کا اپنے ارد گرد مشاہدہ کرنے لگا جو ہوتی تو ذاتی نوعیت کی ہیں مگر سیاپا انکا اجتماعی سطح پر ہوتا ہے. بھائی لینے دینے ہیں پھول تو چپ کر کے لے دے لو ساری دنیا میں گیت گانے کی کیا ضرورت ہے. پتہ نہیں اسکا مقصد ہم جیسے ویلے نکمے “کلم کلوں” کاسینا ساڑنا ہوتا ہے کہ جنکے جذبات کی عکاسی کسی وا حیات شاعرنے کچھ ایسے کی ہے،

جدھر اپنا کرش ہے
سالا ادھر پہلے سے ہی بڑا رش ہے۔
میں اکثر اس دن سوچا کرتا ہوں کہ سینٹ ویلنٹائن کو الله جو بھی دے وہ اس بے نیاز ذات کا معاملہ ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انکل ویلنٹائن دنیا کو کام پر لگا گئے. اور کام بھی ایسا کہ جنوری ختم ہوتے ہی اکثر کو اس دن کی فکر لگ جاتی ہے. ملک کی مری مکی معیشت میں تیزی آتی ہے چاکلیٹ، سرخ قمیض، کالے سوٹ، اور سب سے زیادہ سرخ گلاب کے “شیئر” منڈی میں آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں. ہمارے ملک میں تو اس دن سے اتنی جذباتی لگن پائی جاتی ہے کہ انہی گناہ گار آنکھوں سے اکثر قبرستان سے خریدے گئے گلاب کے پھولوں کا تبادلہ ہوتے دیکھا ہے. کئی بیچاروں کو کھانا بھولا ہوتا ہے کام بھولا ہوتا ہے اور دماغ میں ایک ہی چیز سوار ہوتی ہے کہ کسی طرح وہ اس دن کی برکت سے محروم نہ رہ جائے. اگر رہ گیا تو کسی کو کیا منہ دیکھائے گا۔
میں جب پاکستان میں تھا تو لوگوں کو اس جذبے سے سرشار دیکھ کر اکثر ان پر رشک کرنے لگتا تھا اور صبح سی شام تک ہوتے اس تماشے کو خوب انجوئے فرماتا تھا. کیونکہ ارد گرد پھیلی ہوئی عقیدت بھی مجھ جیسے رند کو “راہ راست” پر نہ لا سکی، خیر راہ راست کے لئے “منزل” کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور اپنا خانہ ایسا خالی ہے کہ ہم “فار ایور الون” یعنی سندیافتہ ‘کلے’ ہیں، ہماری اس نا ہنجاری کی سزا یہ ملی کہ ہم اعلی تعلم کے نام پر ملک بدر ہو گئے. اور یہ تیسرا ویلنٹائن ڈے ہے جو ہم صحیح معنوں میں ویلے ٹائم ہی گزار رہے ہیں تین سالوں میں یہ دن بالترتیب برسٹل، نیوپورٹ اور لندن میں دکھا اور گزارا ہے. لیکن مجھے یہاں وہ ہلچل نظر نہیں آتی جتنی اپنے ہاں ہوا کرتی ہے آج کے مقدس روز. برسٹل والا دن تو ھمارے ایام ہائے یونیورسٹی کا تھا پھر بھی انتہائی پھوکا گزرا سب نے بندے کے پتوں کی طرح کلاس پڑھی اور یہ جا وہ جا. یہی حال گذشتہ سال رہا اور کچھ ایسا ہی بکواس دن میں آج صبح سے منا رہا ہوں۔
کیا فضول ملک ہے یہ اور کیا جذبات سے عاری لوگ ہیں یہ کہ انکو آج کے دن کی قدر نہیں، ان بد بختوں کو علم ہی نہیں ہے کہ کیسا دن ان پر آیا اور یہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے. جبکہ ھمارے ہاں اتنا ہلا گلا ہوتا ہے اخبارات “اشاعت خصوصی” نکالتے ہیں دن بھر ٹی وی پر اتنا لال رنگ دیکھنے کو ملتا ہے کہ خود پر بیل یا سنڈا ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے. انہی لوگوں کی مثالیں اور انہی لوگوں کے “طریقوں” کو اصلی اور خالص قرار دیا جاتا ہے اور پرچار کیا جاتا ہی کہ اگر کچھ بننا کچھ کرنا ہی تو ان جیسے بنو. پر یہ کیا جنکی مثالیں ہمیں دی جاتی ہیں انہیں تو اس دن کی قدر ہے نہیں. جبکہ ھمارے ملک میں تو خاص طور پر اس بات کا بھی اہتمام ہوتا ہے کہ اس مقدس دن کا نام ہم مس پرناونس نہ کر دیں ٹی وی پر نیودانشور ٹائپ لوگ آکر اس کے ہجے درست کرواتے ہیں اور بار بار اسکا نام درست انداز میں لینے کی مشق کرواتے ہیں. اس عظیم دن کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے. ہم لوگوں کو کہا جاتا ہے کے تعصب کی عینک اتار پھینکیں اور اس دن کی اہمیت کو سمجھیں اور اسکو صرف “منفی کاروائیوں” کا دن ہی نہ گردانیں یہ تو پیار محبت کا دن ہے سو پیار محبت کرو ویسے بھی “محبت” ایک ہی طرح کی تو نہیں ہوتی. ہیں جی!۔
مجھے تو ان تین سالوں کے تجربے کے بعد اس دن کی عزت کی پامالی پر رونا آ رہا ہے ہم ان لوگوں جیسا بننے کی کتنی محنت کرتے  ہیں انکے تہوار اتنے جذبے سے مناتے ہیں کہ اپنے تہوار اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں. اور یہ ہیں کہ چپ چاپ اس دن کو گزار کر کھڈے لین لگا دیتے ہیں. کہیں تو کچھ گڑ بڑ ہے. اب یہ تو ٹھہرے عظیم لوگ یہ تو غلطی کر نہیں سکتے ہم ہی سے کہیں کچھ غلطی ہو گئی ہو گی. شاید یہ دن سچ میں چپ چاپ منانے کے لئے ہی ہو لیکن ہم اپنے مینوفیکچرنگ نقص کی وجہ سےچامبل جاتے ہیں. شاید سچ میں آج کے روز پھولوں چاکلیٹوں اور دیگر تحائف کا تبادلہ بغیر کھپ ڈالے اور ساری دنیا میں گیت گائے بغیر ہی ہوتا ہو. شاید اس دن کی سرگرمیاں بڑی حد تک ذاتی نوعیت کی ہی ہوں. کہ حصہ لو تو مرضی آپکی نہ لو تو کوئی آپکو ترغیب نہیں دلائی جائے گی. یا پھر میں سارے مسئلے کو کسی بھی طرح سمجھ نہیں پا رہا ہوں کیونکہ انگور کھٹے ہیں اور ہم “ہر ویلے سڑے ہی رهتے ہیں”۔
Advertisements

11 Comments

Filed under سوچ بچار

11 responses to “ویلے ٹائم ڈے

  1. محترم رائے صاحب، ویلے ٹائم ڈے جیسی بدیسی عید (عربی اسے عید الحب کہتے ہیں)کی وطن عزیز میں افادیت اور جہاں کا خمیر ہے ادھر بے قدری کا بتا کر محظوظ کیا، پڑھ کر مزا آیا، شکریہ قبول کیجیئے۔

  2. Sundus kazmi

    LOL !!! nice blog!

  3. سلیم صاحب پسند کرنے کا شکریہ۔ بلکہ آپ شکریہ آپ بھی قبول کیجئے اپنے وقت میں سے کشھ وقت نکال کر یہ تحریر پڑھنے کے لئے۔

  4. Noorulain

    amazing

  5. بہت عمدہ کاوش ہے، اور آپکی تحریر سے واقعی یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں یہ دن نہ منانے والے اب ایک اقلیت میں ہیں۔ مزید لکھتے رہئے۔

  6. دو تین سال بعد جیسے عید بکر عید پر ملکی اکانومی گردش میں آتی ہے، بالکل اسی طرح ویلنٹائن ڈے نے بھی اکانومی کو گھمانا شروع کردینا ہے۔ آج کل تو ویسے بھی یہ تہوار “مجبوری” سے زیادہ فیشن بن گیا ہے۔

  7. بہت عمدہ۔
    دو ویلنٹائن ڈے میرے لندن میں قیام کے دوران آئے۔ اور میرے بالکل یہی احساسات تھے کہ خود گورے اس دن کو اس طرح نہیں مناتے جس طرح ہمارے پاکستان میں پہلے میڈیا پھر لوگ مناتے ہیں۔
    سوشل میڈیا پر جہاں اس دن کے چاہنے والے ہیں وہاں اسے خرافات سمجھنے والوں کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔

  8. بڑی پتے کی بات کہی آپ نے ہم تو سمجھتے تھے کہ اُدھرتو لوگ پتا نہیں کیا لُٹ مچاتے ہوں گے جی ۔ یہ بابا ویلنٹائین اِدھر ہماے مُلک میں ہپدا ہوتا تو آج کیا خوبصورت مزار ہوتا سفید سنگِ مررم سے مُزین۔

  9. جھوٹ نہ بول، تو تو چاہے ہی یہی کہ ہماری قوم بھی گوروں کی طرح مزے کر کے محبت کی سیڑھی چڑھنے کی بجائے نفرت کے بانس پہ ہی چڑھ جائے۔ اور اگر وہاں ایسا کچھ نی ہوتا تو کیا ضرورت تھی اپنی زندگی کے خوبصورت ترین سال گوروں کے دیس میں برباد کرنے کی؟ یہ تو گولڈن ”پیریڈ“ ہوتا اپنے پیارے وطن میں سیٹنگ کرنے کا

  10. بس یار استاد تیرا یہ شگرد ہے ہی نکما!

  11. بهیا! ہمارے جینز میں کوئی defect یے… باقی تحریر بہت اعلی 🙂

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s