بوہرہ صاحب کا نظریہِ ملاوٹ

زمانہ طالبعلمی کے کی وقعات اور اس دور میں کہی سنی باتیں اکثر یاد رہ جاتی ہیں اکثر ایسی ہوتی ہیں کہ اس وقت یا تو سمجھ نہیں آتی یا پھر ہم جان بوجھ کران واقعات اور باتوں کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں جو ایک پنجابی محاورے کے مطابق بات کو کانوں کے پیچھے پھینکا جاتا ہے. آج سہ پہر سماجی روابط کے کارِخیر کے دوران کسی کی ایک بات نے ایک شخصیت کی اور اسکی کچھ باتیں یاد دلا دیں. اس ہستی کا نام ہے ڈاکٹر زوالفقار احمد بوہرہ(ڈاکٹر لکھنے کی جسارت اس امید پر کر رہا ہوں کہ اب تک انکا پی ایچ ڈی مکلمل  ہو چکا ہوگا). پنجاب  یونیورسٹی کی ہیلی کالج میں بوہرہ صاحب کے نام سے جانے جانی والی یہ شخصیت کافی مشہور ہیں اور ہر اس شخص کو جسے جمعیت سے کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ ہے وہ بوہرہ صاحب کو کوئی زیادہ اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتا. چھ  فٹ کو چھوتا ہوا قد رعب دار چہرہ اور گھورتی ہوئی سبز آنکھوں والے اس شخص سے جب پہلی باراسطہ پڑا اسی روز سے ہم ان سے کنی کترانے لگے. ان دنووں ہم پر بھی بھوت سوار تھا خواہمخواہ میں اینٹی جمعیت بننے کا اور جلتی پر تیل کا کام عمران خان والے قصے نے کر دیا۔

بوہرہ صاحب کا دفتر ہمارے کمرہ جماعت کے راستے میں آتا تھا. ہیلی کالج ہمیشہ سے پنجاب یونیورسٹی میں آبادی کے لحاذ سے سب سے بھا “صوبہ” رہا ہے اور چند ایک ایسے صوبوں میں سے تھا جہاں پر آبادی کا ایک بڑا حصہ صنف نازک پر مبنی ہو، روز کمرہ جماعت میں آتے جاتے ایک چیز کا مشاہدہ کیا کے بوہرہ صاحب کے کمرے میں ہروقت صنف نازک کی بھرمار ہوا کرتی۔ ایک دن اس کے پیچھے موجود خاص وجہ جاننے کے لئے اپنے فسٹ ایئر سے چلے آرہے دوست رمضان سے پوچھا کہ بھائی یہ کیا چکر ہے؟  ہم آج بھی خاصے واحیات ،بدتمیز اور منہ پھٹ ہیں تو کالج دنوں میں کیا ہوتے ہوں گے اس بات سے ھمارے یار دوستوں کے نفیس گفتگو کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے. رمضان نے سوال سنتے ہے کہا “کچھ نہیں رائے صاحب املی سستی ملتی ہے اس کمرے میں”. اس جواب کے بعد اپنا سٹیٹس “ہن آرام ای” والا ہو گیا۔

پانچواں سمیسٹر شروع ہوا تو یہ خوشخبری ملی کہ بوہرہ صاحب اس عرصہ  میں ہمیں “تنظیموں کے رویے” یعنی ارگنائزیشنل بی ہیوئر پڑھایئں گے. یہاں سے بوہرو صاحب سے باقاعدہ رفاقت کا وہ دور شروع ہوا جو کے چھٹے سمیسٹر میں “انسانی وسائل کے انتظام” یعنی ہیومن ریسورس مینجمنٹ کی شکل میں بھی جاری رہا . یوں اس ایک سال کے عرصے میں میری سوچ میں کافی تبدیلیاں آئیں ان میں سے ایک تو جو رائے ہم نے بلا وجہ بوہرہ صاحب بارے قائم کی تھی اس پر افسوس ہوا. دوسری تبدیلی یہ آئی کہ اب مخالفت میں سوچ سمجھ کر اور موقف کو سمجھ کر کرتا ہوں یعنی وہ جو اینٹی جمییت والا کیڑہ تھا وہ فوت ہو گیا.  پہلے دن بوہرہ صاحب نے اپنے لیکچر کا آغاز یہ کہہ کر کیا، “دنیا میں سب سے بڑی آرگنائزیشن فمیلی ہے جو کہ ہر جگہ پائی جاتی ہے” اپنے تعصب کی وجہ سے میں نے دل ہی دل میں کہا “وہٹ نان سینس اب گھر کے امور کی بنیاد پر “او بی”(ارگنازیشنل بی ہیوئر) پڑھایا جائے گا” اور سچی بات یہ ہے کہ ہوا بھی ایسے ہی. لیکچرز کے دوران زیرِبحث موضوع کی مثال اکثر گھر میں پیش آنے والے واقعات سے دی جاتی اسی لئے یار لوگوں نے مشہور کر دیا کہ “او بی کیا ہے، سر بوہرہ کے گھر کی باتیں۔

ایک دن ایچ ار ایم کی کلاس میں نہ جانے کیا ڈسکس ہو رہا تھا لیکن مثالوں مثالوں میں بات جا پہنچی رائٹ مین فار رائٹ جاب کی طرف اور طول پکڑتی گئی بحث کے دوران ہی بوہرہ صاحب نے اپنا نظریہ ملاوٹ کہہ ڈالا. اس وقت تو جان بوجھ کر اسے ماننے سی انکا ر کر دیا لیکن پچھلے پانچ سالوں میں جب کیمپس سے باہر اور اس سے زیادہ جب ملک سے باہر زندگی گزاری ہے تو بوہرہ صاحب کے نظرئے کو صادق پایا. بوہرہ صاحب کے جو الفاظ مجھے آج بھی یاد ہیں وہ کچھ یوں تھے. “پتر یہ جو بڑے کہتے ہیں نا کے ذات برادری سے باہر شادی نہیں کرنی اور نسل چے ملاوٹ نہیں کرنی، وہ بلکل درست کہتے ہیں.” غالبا ہم سب ماتھوں پر پڑتی تیوریاں دیکھ کر انہوں نے مزید کہا، “اور ہاں  بیشک کسی گورے کو کسی کالے پر فوقیت حاصل نہیں بلکہ بچو میرا ایمان ہے اس خطبے کے ایک ایک لفظ پر پھر بھی میں کہوں گا کہ وہ بڑے نسل کی ملاوٹ والی بات سہی کرتے ہیں”۔

اس سے پہلے ھمارے گروپ نے کئی بار بوہرہ صاحب سے بحث کر کے یہ خوب جان لیا تھا کہ دھول کا ذائقہ کس قسم کا ہوتا ہے لہٰذا بے انتہا “کھرک” کے باوجود ہماری ٹولی چپ کر کے سنتی رہی کہ ابھی مزید “موتی” آنے ہیں. باقی جو سب باتیں هوئیں انکا خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ تنظیم میں موجود ڈھانچے کی ہر اکائی کا اپنا وجود اور کام ہوتا ہے جسے اس کام کا ماہر شخص ہی کر سکتا ہے جسے اس اکائی میں موجود ماحول کی سمجھ ہو اور اسے ادارے کے مجموعی قواعد اور اقدار کا علم ہو اور وہ اس بات سے بھی واقف ہو کہ اس ترقی جو کے ہر کاروباری ادارے کا مقصد ہوتا ہے اس کے حصول کے بعد اس سلسلے کو جاری کیسے رکھنا ہے. اب اگر یہاں اس ایک اکائی میں کوئی ایسا پرزہ لگا دیا جے جسکو تمام ماحول کو سمجھننے میں دقت آئے اور اقدار اور طبیعیت کے فرق کی وجہ سے تصادم ہونے کا خدشہ ہو تو ایک ایسی ملاوٹ ہو جاتی ہے کہ جس کے نتیجے میں ترقی خاصی مشکل ہے اور اگر ہو بھی جائے تو اسے آگے کیسے لے کر چلنا ہے اس پر ایک نیا تصادم کھڑا ہو سکتا ہے. اداروں میں خلفشار پیدا ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ  اکائیاں بغاوت کر کے الگ ہونے لگیں اور ادارے کے ساتھ ساتھ اپنا بیڑا بھی غرق کر لیں۔

ہر کام کو کرنے کا ایک طریقہ اور وقت ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں بھی تبھی کارآمد ہوتی ہیں جب ماحول کی صحیح سمجھ بوجھ ہو ورنہ بیوقوفی اور عقلمندی میں صرف وقت کا فرق ہوتا ہے. یہی حال ھمارے بڑے والے ادارے یعنی فیملی کا ہوتا ہے. اس روئیےمتصب کہا جائے تو غلط تو نہیں ہوگا لیکن مکمل طور پر درست بھی نہیں. ہم لوگ بعض اوقات جذبات میں آکر ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جن کے نتائج ھمارے ماحول میں فٹ نہیں بیٹھتے اور شروع ہو جاتا ہے تصادم نتیجہ کیا نکل سکتا ہے تھوڑا سا سوچ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے. لہٰذا ان بڑوں کی یہ ملاوٹ سے روکنے والی بات بلکل درست ہے. مستثنیات ہر جگہ ہوتی ہیں لیکن کبھی بھی یہ قوانین نہیں بنتیں. یہ رویہ یہ باتیں متعصب تو لگتی ہیں لیکن ہیں خاصی عملی قسم کی۔ مختلف عادت مختلف اقدار اور مختلف معیاراکثر تصادم پیدا کردیتے ہیں جنکا اثر اکثر وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ اور ہونے والی “ترقی” کے نتائج کی صورت میں نکلتا ہے. اور ہو چکی ملاوٹ کے نتائج اثر دکھا چکے ہوتے ہیں۔

آج کئی سال بعد اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے مجھے بوہرہ صاحب اور انکا یہ لیکچر یاد آ گیا ، اس وقت جو بات مجھے خاصی جارحانہ حد تک متعصب لگی تھی آج ان پانچ چھ سالوں میں اپنے ارد گرد ہونے والے کئی وقعات کے بعد واقعی عملی معلوم ہوتی ہیں. تصادم زدہ ترقی اور اس کے کئی نتائج سے یہ ملک، یہ شہر بھرا پڑا ہے جہاں میں آجکل آباد ہوں. جہاں ماحول کی مناسبت کا خیال رکھے بغیر جا بجا پیواندکاری نظر آتی ہے اور اکثر نتائج دیکھ کر افسوس سے گردن ہلانی پڑتی ہے.  ایک بات کا میں اپنی محدود سمجھ سے اضافہ کرنا چاہوں گا کہ یہ ماحول اور ملاوٹ کا میعار صرف ذات برادری نہیں ہونا چاہیے نہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ ہےماحول  خیالات اور اقدار کا جو کہ اس ملاوٹ اور پیوندکاری کے اصل اجزا ہیں. ہاں البتہ خاندان ذات برادری کا اثر ان اجزا پر ضرور ہو سکتا ہے۔

Advertisements

11 Comments

Filed under ہیلی کالج, پنجاب یونیورسٹی, بوہرہ صاحب

11 responses to “بوہرہ صاحب کا نظریہِ ملاوٹ

  1. رائے صاب۔ یہ ملاوٹ سے گریز عموماً شارٹ ٹرم میں مشکلات سے بچنے کے لیے ھوتا ھے۔ ورنہ لانگ ٹرم میں سارے کھوتے گھوڑے ایک ھی ھو جاتے ھیں۔

  2. کاشف بھائی سب سے پہلے تو آپ کا پرھنے اور پہلی بار تنصرہ کرنے کا شکریہ۔
    اپکی بات درست ہے کہ لانگ ترم میں کھوتے گھوڑے ایک ھی سو جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی تب ہی ہوتا ہے جب ماحول اور حالات کی وقت پر سمجھ آ جائے، ملاوٹ ویسے ہر طرح کی بری نہیں ہوتی لیکن کار فرما اجزاء کی مقدار اسکے اچھے یا برے ہونے کا سبب بنتی ہے۔ نہیں تو حال اسی کھتے والا ہوتا ھے جو شادی کع چعک کع کیش کرانے لندن آ تو جاتا ہے لیکن گھوڑوں میں گھل مل نہیں پاتا۔

  3. Faiza

    A very interesting piece of writing. very few typing mistakes. otherwise it was delight to read. have all the potential to open many topics to discuss . especially in a world where every such concept is attributed to being conservative. no matter how much realistic it is in its spirit.
    but any way, i would still recommend Azlan sahib that you keep writing. because you can do it. and do it well 🙂 good luck

  4. Thanks for your comments Faiza, sorry about the typing errors as i am writing urdu after a loooong break and as i never typed this language before and dont do it very frequently erors are here but i am trying hard to overcome these “imla” ki ghaltian.
    i have to say even the conservative idea of today was liberal idea at some point in past.
    and thanks for the kind wods means a lot 🙂

  5. آپ کے موضوعات کا انتخاب بہت عمدہ ہوتا ہے۔ عمدگی سے لکھی ہوئی تحریر۔

  6. بس جی کوشش کرتے ہیں کہ کم سے کم بونگی ماری جائے اور انگیزی والے سے جس حد تک ہو سکے کم ساڑ نکالا جائے

  7. خوبصورت لکھا ہے پیارے بھیا۔ قابل بحث موضوع ہے۔ لیکن کسی حد تک متفق ہوں ۔

    اور سب سے خوبصورت بات جو اس تحریر میں نظر آئی “” دوسری تبدیلی یہ آئی کہ اب مخالفت میں سوچ سمجھ کر اور موقف کو سمجھ کر کرتا ہوں “”

    لکھتے رہئے اور خوبصورتیاں بانٹتے رہئے

  8. Sara Khalili

    Nice work, Azlan 🙂

  9. Ammar IbneZia

    ہر انسان کا ایک زاویۂ نظر ہوتا ہے اور مسائل تب کھڑے ہوتے ہیں جب ہم اپنے زاویۂ نطر کو حتمی اور درست زاویہ سمجھ کر اسی کی بنیاد پر ہر معاملے کو پرکھیں۔ یوں مخالفت برائے مخالفت کا آغاز ہوتا ہے۔
    آپ کی تحریر پڑھ کر لطف آیا۔

  10. بہت شکریہ عمار بھائی امید ہے آئندہ بھی رائے دیتے رہیں گے۔

  11. گویا اپنی رائے سے رجوع کرتے رہنا چاہئیے۔ اور تجربے کے ساتھ رائے بدل جاتی ہے۔ اعلٰی ظرف اور عقلمند لوھ اس کا اعتراف کرنے میں سبکی محسوس نہیں کرتے۔
    بوہرہ صاحب کی باتیں اور دلائل کی صداقت ہزارہاسال سے کی انسانی زندگی میں مظہر ہے۔ ملاوٹ اور خاصکر دو مختلف اقدار اور ثقافت عام طور پہ شدید ناکامی اور نفرت کا بعث بنتی ہے۔ اور جہاں وہ بظاہر کامیاب نظر آئی وہاں بھی ایسی ملاوٹ کو کسی ایک طرف یا دونوں اطراف سے انتہائی قربانی کی وجہ سے اسے کامیابی ملی۔ کامیابی کے لئیے ایسی ملاوٹ کے پیچھے دی گئی قربانی عام طور پہ عام لوگ دیکھ نہیں پاتے اور اسے اشتنٰی قرار دے کر اسے توصیفی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ جو میری رائے میں ناکامی کی ہی ایک صورت ہے ۔ خاصکر اس صورت میں جب یہ ملاوٹ اسنانی رشتوں پہ مبنی ہو ۔ کہ زندگی بھر قربانی دینا زندگی کا نام ہی نہیں ۔
    آپ نے مختصر ور زبردست طریقے سے عام فہم زبان میں بہت عمدہ نکتے کی وضاحت کی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s