جھیل کے پرندے کا نیا سال

بشکریہ اینیکسل سٹوڈیو
کہتے ہیں کہ جھیل کے پرندوں جیسی طبیعت رکھنے والے کہیں ایک جگہ ٹک نہیں سکتے۔ انسان کی حثیت سے ہماری طبیت کبھی بھی ایک جیسی نہیں ہوتی. حالات اور واقیات ہماری طبیعت کی تاثیر پر گہرا اثر ڈالتے ہیں. کئی لوگ جو آج خشک طبیعت ہیں انکا ماضی بہت ممکن ہے کہ زندہ دلی میں گزرا ہو. یہ سب تو ایک کھیل ہے کہ کون کب اور کیسے اپنے گھٹنے حالات کے اگے ٹیک دیتا ہے. خیر جیسا کہ پچھلی تحریر میں ذکر کیا کہ دو سال ڈھیٹوں کی طرح  نیو پورٹ میں گزارنے کے بعد تلاش روزگار اور اپنی قسمت میں لکھے لندن شہر کے دھکے کھانے یہ آوارہ روح اب اس جھیل کنارے آ بیٹھی ہے. پچھلا ایک ہفتہ تو سامان کو آمد و رفت میں گزر گئے، ساتھ ہی گھر میں رہنے والی باقی عوام سے علیک سلیک کی سوائے ایک محترمہ کے کیوں کہ انکی ذات برادری سے ہماری پرانی “محبت” ہے ہم انکو دیکھ کر جیسے ہی آس پاس موجود کوئی اینٹ کوئی پتھر تلاشتے ہیں ویسے ہی یہ ذات برادری ہپمیں دیکھتے ہی بھاؤ بھاؤ  کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔

پیر کے روز میں آوارہ گردی کی غرض سے شہر گھومنے نکلا حلوہ پوری کے ناشتے کی کامیاب تلاش کے بعد میں لندن کے وسط میں موجود نیشنل آرٹ گیلری چلا گیا. آرٹ سے خصوصا یہ “بیل  بوٹے” بنانے والے آرٹ سے مجھے ہمیشہ سے ہی لگاؤ رہا ہے کافی محنت بھی کی میں نے اسے سمجھنے میں اسی لئے اب آم  بڑی اچھی اور متناسب شکل و صورت کا بنا لیتا ہوں. میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ گیلری میں ہم خود گئے تھے نہ کہ اس کا سہرا یار لوگوں کو جاتا ہے اور نہ ہی آرٹ گیلریوں میں جنازوں کی سی خاموشی سے ہمیں  خوف آتا . حیران کن طور پر وہاں گزرے دو گھنٹے میں بالکل بور نہیں ہوا بلکہ وہاں موجود فنی شاہکاروں (یہاں فنی اردو والا ہے انگریزی والا نہیں) کو دیکھ کر میں خاصا محظوظ ہوا اس کی واحد وجہ یورپی آرٹ کا “مخصوس” پہلو بالکل بھی نہیں ہے. عمارت بذات خود بڑی شاندار تھی اور  میں گیلری میں نصب ایک بینچ پر بیٹھا چھت کو تکتا رھا اہر سوچھ رہا تھا کہ اس پر کتنے ڈبے رنگ روغن  استعمال ہوا ہوگا۔ انھی خیالوں میں تھا کہ ایک دوست نے پوچھ ہی لیا کہ بھائی اس شاندار تعمیر کے لئے پیسے کہاں سے آئے. اب چونکہ ہم پر سیاسی گفتگونہ کرنے کی پابندی عائد ہے ورنہ بتا دیتے کہ جس ملک میں نہ تیل ہے نہ گیس اس نے کیسے پوری دنیا میں “محنت مزدوری” کر کے یہ دولت اکٹھی کی۔

آرٹ گیلری کے بعد کچھ دیر پاس ہے موجود چائنا ٹاؤن میں بے مقصد پھرتا رہا. چائنا ٹاؤن ایک چوٹی سی مارکیٹ ہے جہاں چینی خانے اور چینی مصنوعات کے ساتھ ساتھ چینی عوام کثرت سے پائی جاتی ہیں. اس تمام تر آوارہ گردی کے بعد میں دریاِ تھیمز کے کنارے چلا گیا. نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے جشن کی تیاریاں جاری تھیں. میں کافی دیر وہاں بیٹھا لوگوں کو آتے جاتے اور راستوں کو بند ہوتے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ یہ سب صرف ایک تاریخ کے چند ہندسوں کی تبدیلی کی خوشی میں کیا کچھ ہو رہا ہے. کافی دیر تک میں بھی انسانوں کی اس بہت بڑی جھیل کہ جسکا پانی ٹھہرا ہوا تھا بیٹھا رہا۔ جب لندن میں موجود دنیا کی ایک بڑی تعداد تھیمز کے کنارے جما ہو چکی یہ جھیل کا پرندہ وہاں سے اڑ لیا اور گھر واپس آگیا جب پچھلے سال اسی مقام پر کئے کئی وعدے پورے نہ ہو سکے تو نیا سال کیسا اور اسکا جشن کیسا۔

ایک سال کے دوران انسان اور انسانیت کی پستی کی طرف جاتی ہوئی ترقی نے جو کارنامے گزشتہ سال کئے کچھ ایسے ہی اس سال بھی ہوں گے. مجھ سے دنیا میں موجود، بیچارگی، قتل و غارت، لوٹ مار، بھوک اور نہ جانے کون کون سے انسانی کارنآموں پر کھڑے ہو کر نئے سال کا جشن نہ منایا گیا. لہٰذا یہ پرندہ واپس اپنے گھونسلے میں آ گیا اور آتش بازی کی ہر آواز کے ساتھ اپنے حقیقی مالک کے حضور دعا کرتا رہا کہ اسے بھی وہ بےحسی عطا ہو کہ جس کے بعد میں بھی ہر جشن منا سکوں. اسے بھی وہ عقل اور شعور عطا ہو جو کم سے کم ہم عامیوں کا خاصا نہیں ہوتا۔
Advertisements

2 Comments

Filed under Uncategorized

2 responses to “جھیل کے پرندے کا نیا سال

  1. Zia Shaukat

    بہت خوب لکھا ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s