چند دھیلے، میلے اور میلی سوچیں۔

بشکریہ نعمان آصف

نیو پورٹ شہر جسے کل صبح ہم نے خیرباد کہا وہاں آخری چند دن کافی ہنگامہ خیز گزرے وہاں گزرے شب و روز کا خلاصہ پھر کبھی لکھوں گا خیر یہ پچھلے جمعہ کے روز کا قصہ ہے کہ نماز پڑھ کر مسجد سے نکلا تو پھر سے نیوپورٹ کا موسم اپنا ازلی رونا رو رہا تھا یعنی بارش ہو رہی تھی ملازمت پر جانے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا اور اپنا بالکل ارادہ نہیں تھا کے اب مزید پیدل کھجل ہواجائے۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو دس پاؤنڈ کا نوٹ برآمد ہوا. چونکہ بس میں کرایہ سکوں میں اور عین مکمل رقم دینی ہوتی ہے لہٰذا اس نوٹ کو تڑوانے کی غرض سے ایک اعداد انرجی ڈرنک یعنی قوت افزا مشروب خریدا اس عمل کے باوجود درکار ریزگاری حاصل نہ ہوئی اور بس سٹاپ پر لگی لمبی قطار جسکی وجہ بلیک فرائیڈے بتائی گئی اپنا دل خاصا برا ہوا اور ارادہ کیا کے پیٹ کے ایندھن کا کچھ علاج کیا جائے کام پر بھی جاتے رہیں گے. کچھ دیر کے بعد میں مک ڈانلڈ میں کھڑا تھا اور اپنے سامنے موجود لمبی چوڑی فہرست میں سے اپنے جوگے صرف دو قابل نوش اشیاء یعنی فش برگر اور سفید چنوں کے برگر میں سے کس کا انتخاب کیا جائے سوچنے لگا۔

سوچ کا گھوڑا خاصا منہ زور اور آزاد ہوتا ڈالو اسکو کسی راستے پر پہنچ کہیں کا کہیں جاتا ہے لہٰذا سوچوں کی آوارہ گردی مجھے پاکستان لے گئی جہاں کیا کھایا جائے اکثر مسئلا نہیں رہتا تقریبا ہر گلی کی نکڑ پر کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے اور اپ کے پاس اگر جیب میں دھیلا ہے تو موجود آپشنز کا میلا لگ جاتا ہے، بس اس میلے اور اس میں موجود چیزوں کی یاد نے چنوں کے برگر کا مزہ کافی خراب کر دیا اور لگی یاد آنے اپنے ہاں کے کھانوں کے ذائقوں کی. دل میں ایک ہوک سی اٹھی کہ یہ بھی کیا زندگی ہے جہاں ہر چیز پڑھ پڑھ کر لینی پڑھتی ہے کہ اپنے استعمال کے لئے موضوع ہے بھی یا نہیں. اپنے ہاں کتنی موج تھی کہیں بھی بھوک لگی تو موٹر سائکل کو کنارہ کشی اختیار کروائی، پیسے خرچے اور کھا پی لیا۔

جب تک میں اپنے کھانے کے آخری نوالوں پر تھا میری سوچوں نے ہی میرے کمینے پن پر میرا احتساب شروع کر دیا. اب میری اپنی ہے سوچ مجھے شرمندہ کر رہی تھی اور وجہ میری ناشکری تھی پیٹ بھر کے کھا لینے کے بعد بھی میں اس پر راضی نہ تھا۔  یہ ہماری ناشکری ہی ہے کہ  وسائل کے ہونے پر بھی خوش نہیں ہوتے جبکہ اسی دنیا میں ہر سال ساٹھ لاکھ بچے بھوک کے ہاتھوں مر جاتے ہیں. اسی دنیا کی تقریبا چودہ فیصد آبادی کی پاس پیٹ بھر کھانے کو نہیں۔ میرا ملک کہ جہاں کے کھانوں کے ذائقوں کا سوچ کر میں اداس ہو گیا اسی ملک میں لوگوں کے وسائل کا حال یہ ہے کے ایک سیلاب اتا ہے اور چھپن لاکھ لوگ اسکا براہ راست نشانہ بن جاتے ہیں۔ وہی ملک جسکی ساڑھے آٹھ کروڑ کے قریب آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔

آج ہم ترقی اور خوشالی کے نام پر اتنے آگے نکل آئے ہیں کے انسانیت کی حثیت صرف دکھاوے کے کھوکھلے دعووں تک ہی ہے۔ ورنہ یہاں کسی کی بھی نیند پر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا کے ہمسایہ کہیں آج خالی پیٹ نہ سو گیا ہو. اگر جب میں دھیلے موجود ہوں تو میلے میں کچھ اور کو بھی شامل کر لینا چاہیے اس سے جو خوشی اور اطمنان حاصل ہوگا وہ ان میلی سوچوں کو شاید صاف کر دے ورنہ ہماری اپنی سوچ اکثر ہمارا احتساب کرنے کے در پے ہوتی ہے۔

Advertisements

2 Comments

Filed under سوچ بچار

2 responses to “چند دھیلے، میلے اور میلی سوچیں۔

  1. کیا خوب کہا آپ نے ”پاکستان ۔ ۔ ۔ جہاں کیا کھایا جائے اکثر مسئلا نہیں رہتا تقریبا ہر گلی کی نکڑ پر کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے”۔ میں خود تو نہیں گیا تھا لیکن سرکارِ پاکستان نے مجھے دیس بدر کر رکھا تھا ۔ میں بھی اُس دور میں یہی محسوس کرتا تھا۔
    میں جب بھی کو اچھا یا بیش قیمت من پسند کھانا کھاتا ہوں تو کھاتے کھاتے ہلک میں پھنسنا شروع ہو جاتا ہے اور باوجود روکنے کی کوشش کے آنسو اُمڈ آتے ہیں ۔ میں زیرِ لب مُسکراتے آپ کی تحریر پڑھ رہا تھا کہ آپ کے اس فقرے نے مجھ پر وہی کیفیت طاری کر دی ”وسائل کے ہونے پر بھی خوش نہیں ہوتے جبکہ اسی دنیا میں ہر سال ساٹھ لاکھ بچے بھوک کے ہاتھوں مر جاتے ہیں“۔ میں نے لڑکپن میں کہیں پڑا تھا کہ مسلمان وہ ہے جو کھا کر سوئے تو اس کے پڑوس میں کوئی بھوکا نہ سویا ہو
    http://www.theajmals.com

  2. بہت ہی سچ لکھا آپ نے۔ پردیس میں کیا کھایا جائے ایک بہت مسئلہ ہوتا ہے۔ لکھتے رہیئے، پڑھ کر اچھا لگا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s