پاک-بھارت مینجمنٹ سمت کے مشاھدات – لاہور ڈائری

ستمبر کے وسط میں مجھے دو سال بعد پاکستان جانے کا موقع ملا، یہ یقینا ایک خاصہ جزباتی موقع تھا۔ گھر سے دور اتنا لمبا عرصہ رہنے کے بعد دوبارہ گھر جانا ایک نہ قابل بیان چیزوں میں سے ایک ہے. شروع میں جو دو ہفتے کی چھٹی بہت معلوم ہو رہی تھی جب گذرنے پر آئی تو شاید پلک جھپکنے کا موقع نہ ملا. گھر والوں کے ساتھ وقت گزرانا دوستوں عزیزوں کو ملنا اور جان کو سب سے بری طرح لاحق ہونے والا عذاب شاپنگ وقت کو جلد ختم کرنے کو کافی تھا. دو ہفتوں کا وقت تو جھٹ پٹ گزر گیا مگر کچھ واقعات ایسے ہوئے جنکو اپنی یاداشت کے لئے لکھ رہا ہوں، کچھ وقعات ایسے بھی ہیں جو “شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات” والے مصرے سے رشتہ داری رکھتے ہیں.

٢٠ اور ٢١ ستمبر کو لاہور میں پاک بھارت مینجمنٹ سمت منعقد ہوئی جسکا اہتمام نٹ شیل فورم نے کیا تھا گو کہ میڈیا پر اسکے انعقاد کا سارا کریڈٹ امن کی اشا نے ہی وصول کیا. خیر امن کوئی اتنی بھی بری چیز نہیں ہے کہ جہاں اس کے ساتھ اشا کا ذکر آئے تو تیوریاں بدل لی جائیں. کچھ ایسا سوچ کر ہی میں نے اس سمت میں بطور رضا کار حصہ لینے کی حامی بھری کچھ یہ بھی امید تھی کے لگے ہاتھوں کچھ نیٹورکنگ بھی ہو جائے گی کو سماجی روابط بس انٹرنیٹ تک محدود کرنا ایک بونگی ہے اور وہ بھی شدید والی.
کانفرنس سے چار روز قبل تمام رضاکاروں کا ایک اجلاس بلوایا گیا جس میں تمام رضا کروں کو انکی دستیابی کے مطابق فرائض سونپ دئیے گئے. مشادات کا آغاز اسی اجلاس سے ہو گیا جب ایک راہ چلتے بھائی صاحب اجلاس کے کمرے میں گھس آئے اور انگریزی میں پوچنے لگے کے جو باہر امن کی اشا کا بورڈ لگا ہے اس کا مقصد کیا ہے اور یہاں ہو کیا رہا ہے. یہ مداخلت ناگوار تو تھی ہی مگر ان موصوف کا انگریزی کا استعمال کم از کم میرے لئے تو کوفت کا سامان تھا. ایک ایسا کمرہ جس میں سب پاکستانی بیٹھے ہیں علاقائی زبانیں نہ سہی مگر اردو سب سمجھ لیتے ہیں وہاں انگریزی میں سوال جواب کی تک اگر اپنے پلے کوئی پڑتی ہے تو وہ یہ ہےکہ ہم اردو کو بڑی حد تک سوتیلا کرچکے ہیں اور احساس ا کمتری میں عالمی چیمپین بننے کی ایسی راہ پکڑی ہوئی ہے کہ اردو بولنے میں ہمیں شرم اور انگریزی کو ہم نے وہ مورچہ بنا رکھا ہے جس میں ہم خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں. ایک بار ایک دوست نے اپنی تحریر میں لکھا تھا کہ ہم پنجابی لوگ اپنی اگلی نسل میں پنجابی ڈھگے بنا رہے ہیں، میں یہاں مبارکباد دینا چاہوں گا کہ ہم نے ترقی کر لی ہے اب پنجابی کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں اردو ڈھگے بھی تھوک کے حساب سے میسر ہیں.  اور اپنوں سے خیر کی جو امید مجھے ہے اس کے تحت بڑے وسوخ سے کہنا چاہوں گاکہ ان میں بھی ہم پنجابیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی.
 لکھنؤ سے آئے مندوب کے لاھور کے جغرافیہ بارے سوالوں کے جواب دیتے ہوۓ۔ کافی مغز ماری والا کام تھا مگر اردو کی جنب بھومی سے آۓ مہمان سے اردو سن کر کافی محضوض ہوا۔
کانفرنس نے تو ٢٠ ستمبر کو شروع ہونا تھا مگر مجھے سونپی گئی ذمداری میں سرحد پار سے19 ستمبر کو آنے والی مندوبین کو واہگہ بارڈر پر دندیاں نکلتے ہوے “ویلکم تو پاکستان” کہنا تھا. دندیاں نکلنا اپنے لئے کوئی مشکل کام نہیں مگر خواہمخواہ دن کے ١١ بجے جب لاہور کا ستمبری سورج ستم ڈھا رہا ہو تو انتہائی جھلوں والا کام لگ رہا تھا. خیر جس طرح سے مندوبین کا استقبال کیا گیا وہ ان کے لئے حیران کن تھا کیونکہ آنے والی مہمانوں کی امید تھی کو بارڈر پر ہوٹل کا عملا انکو وصول کرے گا اور میزبانوں سے ملاقات اگلے روز ہو سکے گی. نہ صرف واہگہ بارڈر بلکے ہر موقع پر رضاکاروں کے رویہ نے بھارتی مہمانوں کو بار بار متاثر کیا (یہاں متاثر کو اچھے معنوں میں پڑھا جائے ). ھمارے اخلاق سے متاثر کچھ خواتین و حضرات کے تبصروں نے ایک بار تو مجھے “سوچی پا” دیا کہ ایسا کونسا انوکھا کام ہوگیا ہے، اپنے ہاں مہمان نوازی کچھ اسی قسم کی ہوتی ہے ایسا خاص کیا ہے، جب ایک دو “سیانوں” سے پوچھا تو پتا چلا کہ بھارت میں ہونے والی کانفرنسوں میں مہمانوں کو اسطرح سے سر متھے پے نہیں بٹھایا جاتا جیسا ہم نے انکو بارڈر پار کرنے سے پہلے ہے بٹھا دیا تھا. بھارت کی جانب سے اختتامی کلمات کہنے والے مندوب نے بھی کہا کہ، “ہم نے بہت ترقی کر لی ہے جس پر ہمیں فخر بھی بہت ہے، مگر اس سب ترقی اور کئی میدانوں میں آگے بڑھ جانے کے باوجود ہم پاکستانیوں کی مہمان نوازی کا مکقابلہ نہیں کر سکتے”. سننے میں تو یہ بات بہت بھلی لگی تھی اور حزب توقع کافی تالیاں بھی بجی تھیں اس پر، مگر اب جب اس بیان کو تحریر کر رہا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انکل جاتے جاتے سنائی کر گے اپنے ترقی کی.
کانفرنس کے دوران زیادہ وقت کانفرنس ہال سے باھر گزرا کیوں کہ ہماری حد ذمداری ہال سے باھر تھی گو کہ اندر جانے سے ھمارے پر نہ جلے شاید اس لئے کہ وہ کبھی تھےہی نہیں. لیکن موقع پاتے ہی میں ہال میں چلا جاتا تھا اسی کا نتیجہ تھا کہ میں ڈاکٹر سنیل گپتا اور مہندرا اینڈ مہندرا کے جناب دوبے کا سیشن سن سکا. دوبے صاحب سے کھانے کے وقفے کے دوران ملاقات بھی ہوئی. اسی ملاقات کے دوران پتا چلا کہ یہ مہندرا اینڈ مہندرا کا ایم اینڈ ایم پہلے مہندرا اینڈ محمد ہوتا تھا جو کہ تقسیم کے بعد تبدیل ہو گیا. دوبے صاحب کے دورہ لاہور کے ایجنڈا میں محمد صاحب کے صاحب زادے سے ملاقات شامل تھا اور وہ سب کو ایک موبائل نمبر سے رابطہ کروانے کی گزارش کر رہے تھے. اس میں قابل تحریر بات یہ ہے کہ اس روز موبائل نیٹورک بندش کا شکار تھے. دوبے صاحب نے اپنے لاہور یونیورسٹی اف مینجمنٹ سائنسز کے دورے کے بارے میں بھی بتایا اور وہ خاصے متاثر لگ رہے تھے خاص کر وہاں پر موجود خواتین طلبہ کی تعداد ان کے لئے حیران کن تھی. اب انکو کیا پتا کہ اپنے ہاں آجکل امتحانات میں سارے نمبر تو لڑکیاں لے جاتی ہیں تو کیوں نہ تعلیمی اداروں میں انکی تعداد بھی لڑکوں کی نسبت زیادہ ہو.
ریلائنس گروپ کے پریذیڈنٹ کوشک روئے سے بھی ایک تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں گفتگو کا موضوع سیاست اور ہماری مشترکہ فیلڈ یعنی مارکیٹنگ کے درمیان گھومتا رہا. جنوبی ایشیا میں مارکیٹنگ سے متعلق کافی دلچسپ ٹپس ملیں جنکو مستقبل میں بروئے کار لانے کا ارادہ ہے. خیر سیاست پر گفتو کے دوران کوشک صاحب نے کہا، “ایک وقت تھا جب بھارت سے لوگ نہ امید تھے اور کئی لوگ بھارت سے کوچ کر گیے جو لوگ بچ گئے انہوں نے محنت کی اور آج اسکا نتیجہ یہ ہے کے میرا اپنا بیٹا امریکا سے تعلم مکمل کرنے کے  بعد ممبئی چلا آتا ہے کہ وہاں حالات زیادہ سازگار ہیں. آج کی نوجوان نسل کو بھارت پر فخر ہے اور وہ مثبت انداز میں چیزوں کو دیکھتی ہے”. اس نشست کے بعد کچھ در میں اپنے گریبان میں منہ دے کر پاکستان کے بارے میں سوچتا رہا تو مجھے حالات میں بڑی مماثلت نظر آئی لیکن مماثلت میں ادوار کا فرق تھا جو مثبت رویے اور بھارت کو لے کر فخر آج کی نوجوان نسل میں پایا جاتا ہے وہ کبھی ہم میں تھا، پہلے لوگ بھارت سے نا امید ہو کر بھارت چوڑ گئے تھے ہم آج اس کام پر لک بن کے عمل کر رہے ہیں (اور اس جرم میں بڑی حد تک میں نے خود کو بھی گنہگار پایا گو کہ نا ایمیدی والا گناہ ابھی تک تو اپنے سے سرزد نہیں ہوا)
قومی سواری میں سفر کے دوران کھڑکی سے باہر کا منظر
کانفرنس کے دوران بہت سے نیے دوست بھی بنانے کا موقع ملا اور کچھ پرانے چہرے دوبارہ متھے لگے. ٹیم میں موجود رضاکاروں میں ایک بات کا میں نے مشاہدہ کیا کہ وہ سب کافی ذمداری سے اپنا کام کر رہے تھے. ہم یعنی نوجوان نسل جو کہ سچی بات ہی بڑی حد تک بدنام ہو چکی ہے اپنی لاپرواہیوں اور غیر ذمدارانہ رویے کے لئے وہیں کچھ نوجوانوں میں کچھ اچھے عناصر دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور کچھ  حیرت بھی. کانفرنس تو کامیاب رہی مہمان آئے کانفرنس میں شرکت کی لاہور گھوما کچھ نے گالف کھیلی اور ہفتہ 22 ستمبر کو واپس چلے گئے. وہ لوگ تو چلے گئے مگر کچھ سوال میری جان کا سیاپا کرنے کو چھوڑ گئے. سرحد پار سے آنے والے مہمان جن میں کئی اپنی اپنی فیلڈ میں توپ چیزیں بھی تھیں  کومیں نے کافی حد تک انکساری پسند پایا وہ بڑی آسانی سے ھمارے ساتھ گھل مل گئے بیشتر کو میں نے انتہائی سادہ لباس میں ملبوس پایا انکا رویہ بھی ھمارے ساتھ ملنسار تھا. رویوں میں سرحد پار کرتے ہی آنے والی تبدیلیوں والے نظرئے کو اگر کچھ دیر کو الگ رکھ بھی دیا جائے تو وہ آنے والے غیر تھے اور انکا رویہ ھمارے ان اپنوں سے کہیں اچھا تھا جو مہنگے سوٹ پہنے قیمتی ٹائیاں باندھے کانفرنس میں شریک ہونے کو آئے تھے اور گردن کی اکڑ کی حالت یہ تھی کہ سلام کا جواب دینا بھی مناسب نہ گردانتے تھے. ایسی کانفرنسوں میں اکثر بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے شاید ان میں سے کسی نے یہ بھی سیکھ لیا ہو کہ عاجزی اور انکساری کتنی اہم ہوا کرتی ہی. ورنہ ہمساۓ کرتے رہیں گے ترقی اور ہم اپنی پھوکی آکڑ میں ہے گم رہیں گی.
سمت کے اختتام پر رضاکاروں کی “یاد گار” گروپ فوٹو
سوچا تو تھا کہ واہگہ سے واپس ہوٹل آنے کا واقعہ بھی تفصیل سے لکھوں گا لیکن تحریر پہلے ہی کافی طول پکرہ چکی ہے اتنا کہہ کر بات ختم کروں گا کہ یہ سفر میں نے ایل پی جی رکشہ پے کیا جس کی حالت کافی نازک تھی جو سفر40 منٹ کا تھا میں نے قریب2 گھنٹے میں کیا. سفر میں انگریزی والا ایسا سفر کیا کہ اب تک پسلیاں گن رہا ہوں کو پوری ہیں بھی یا نہیں. اگر پاکستان کی کوئی قومی سواری نہیں ہے تو میں مشورہ دینا چاہوں گا کہ رکشہ کو یہ درجہ دے دیا جائے آخر یہ بھی ھمارے قومی رویہ کی طرح خواہمخواہ جارحانہ طبیعت کا حامل ہے جبکہ کرتوت وچوں ہے کوئی نئیں۔
واھگہ سے ہوٹل تک کا اردو اور انگریزی دونوں کا سفر کرنے کے بعد شاندار استقبال کی فوٹو
Advertisements

Leave a comment

Filed under فیصل آبادیاں, لاہور ڈائری

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s