کاش آج میں اپنے دیس میں ہوتا

جب بھی پردیس میں عید آتی ہے
یاد اپنے دیس کی بہت آتی ہے
جب عید پڑھ کے لوٹتا ہوں
میں اپنے سنسان کمرے میں
یاد اپنے گھر کے دہلیز آتی ہے
جہاں جب میں عید پڑھ کے آتا تھا
میری ماں پہلے سے کھڑی ہوتی تھی
میری ماں میرا ماتھا چوم کے
مجھے عید مبارک کہتی تھی
اور خوب دعائیں دیتی تھی
آج بھی میری ماں
اسی دہلیز پہ بیٹھی ہو گئی
اور جب سب عید پڑھ کے
گھر لوٹ آئے ہوں گے
میری ماں کی آنکھوں میں
آنسو آگئے ہوں گئے
آج بھی میری ماں نے
میرے لیے خوب دعائیں کی ہوں گئی
پھر سارا دن
گم سم ہو کے عید گزاری ہو گئی
کاش آج میں پردیس میں نہ ہوتا
کاش آج میں اپنے دیس میں ہوتا
اور آج بھی میری ماں نے
میرا ماتھا چوم کے
مجھے عید مبارک کہا ہوتا
از ” محمد یاسرعلی “
Advertisements

Leave a comment

Filed under ادھار کی شاعری

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s