ایکسپورٹ امپورٹ ـ از ابن انشاء

ایک یورپین ایک روز ہماری روحانیت کی تعریف کررہاتھا ہم نے کہا۔اے بھیاہمارے ساتھ سوداطئے کرلے یہ روحانیت توہم سے لے لے، ہم تجھے اپنے صوفی بھی بخشتے ہیں،تصوف کی دولت بھی تیری نذر ہے۔ہمارے ہاں شاعربھی بڑابڑاپڑاہے۔ وہ بھی سپردم بتومایہ خوش را،یہ سب لے کر تواپنی روح کی پاکیزگی کااہتمام کر۔اتنے میں ہم تیرے ٹریکٹر ،تیری ملیں،تیری حرفتیں،تیرے ٹیکنیکل کالج اورتیرازرمبادلہ استعمال کرتے ہیں۔
ہمارانسخہ مشرق ومغرب کو حتی الوسع ہم سطح کرنے کیلئے یہی ہے کہ ہم اپناتصوف مع قوالوں کے اوراپنی شاعری مع اس کے سوزوگداز کے اکسپورٹ کرین اورسائنس وٹکنالوجی درآمد کریں۔ کچھ ان لوگوںکی رفتار سست ہو، کچھ ہماری تیز ہو، جب برابرآجائین گے تو پھر سوچیں گے کہ اب کیاکرناہے۔حضرت حفیظ جالندھری نے فرمایاہے۔
ہاں ملے غیر کوبھی درد کی دولت یارب
“.ایک میراہی بھلاہو مجھے منظور نہیں

ابن انشاء
Advertisements

Leave a comment

Filed under اقتباسات, ادبی ٹوٹے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s