ریاضی کے قاعدے – ابنِ انشاء

 ابنِ انشاء

ریاضی کے قاعدے

ابتدائی حساب
حساب کے چار بڑے قاعدے ہیں
جمع، تفریق، ضرب، تقسیم
پہلا قاعدہ

جمع

جمع کے قاعدے پر عمل کرنا آسان نہیں خصوصاً مہنگائی کے دنوں میں سب کچھ خرچ ہو جاتا ہے کچھ جمع نہیں ہو پاتا جمع کا قاعدہ مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہے
عام لوگوں کے لئے ؟؟؟؟؟ کیونکہ انکم ٹیکس والے لےجاتے ہیں، تجارت کے قاعدے سے حاصل جمع اور زیادہ ہو جاتا ہے
رشوت کے قاعدے سے حاصل جمع زیادہ سے زیادہ آئے بشرطیکہ پولیس مائع نہ ہو ۔
قاعدہ وہی اچھا جس میں حاصل جمع زیادہ سے زیادہ آئے بشرطیکہ پولیس مائع نہ ہو ۔
ایک قاعدہ زبانی جمع خرچ کا ہوتا ہے، یہ ملک کے مسائل حل کرنے کے کام آتا ہے

تفریق

میں سندھی ہوں تو سندھی نہیں ہے
میں بنگالی ہوں تو بنگالی نہیں ہے
میں مسلمان ہوں تو مسلمان نہیں ہے
اس کو تفریق پیدا کرنا کہتے ہیں
حساب کا یہ قاعدہ بھی قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے
تفریق کا ایک مطلب ہے منہا کرنا
یعنی نکالنا ایک عدد میں سے دوسرے عدد کو
بعض عدد از خود نکل جاتے ہیں
بعضوں کو زبردستی نکالنا پڑتا ہے
ڈنڈے مار کر نکالنا پڑتا ہے
فتوے دے کر نکالنا پڑتا ہے
ایک بات یاد رکھیئے
جو لوگ زیادہ جمع کر لیتے ہیں
وہی زیادہ تفریق بھی کرتے ہیں
انسانوں اور انسانوں میں
مسلمانوں اور مسلمانوں میں
عام لوگ تفریق کے قاعدے کو پسنبد نہیں کرتے
کیونکہ حاصل تفریق کچھ نہیں آتا
آدمی ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے

ضرب

تیسرا قاعدہ ضرب کا ہے
ضرب کی کئی قسمیں ہیں
مثلا ضرب خفیف، ضرب شدید، ضرب کاری وغیرہ
ضرب کی ایک اور تقسیم بھی ہے
پتھر کی ضرب۔ لاٹھی کی ضرب، بندوق کی ضرب
علامہ اقبال کی ضرب کلیم ان کے علاوہ ہے
حاصل ضرب کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ ضرب کس چیز سے دی گئی ہے یا لگائی ہے
آدمی کو آدمی سے ضرب دیں تو حاصل ضرب بھی آدمی ہی ہوتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ زندہ ہو
ضرب کے قاعدے سے کوئی سوال حل کرنے سے پہلے تعزیرات پاکستان پڑھ لینی چاہیئے ۔

تقسیم

یہ حساب کا بڑا ضروری قاعدہ ہے سب سے زیادہ جھگڑا اسی پر ہوتے ہیں
تقسیم کا مطلب ہے بانٹنا
اندھوں کا آپس میں ریوڑیاں بانٹنا
بندر کا بلیوں میں روٹی مانٹنا
چوروں کا آپس میں مال بانٹنا
اہلکاروں کا آپس میں رشوت بانٹنا
تقسیم کا طریقہ کچھ مشکل نہیں ہے
حقوق اپنے پاس رکھیے
فرائض دوسروں میں بانٹ دیجئے
روپیہ پیسہ اپنے کیسے میں ڈالیے
قناعت کی تلقین دوسروں کو کیجئے
آپ کو مکمل گر یاد ہو
تو کسی پہاڑا مع گر یاد ہو
تو کسی تقسیم کی کانوں کان خبر نھیں ہو سکتی آ خر کو ۱۲ کروڑ کی دولت کو ۲۲خاندانوں نے آپس میں تقسیم کیا ہی ہے۔
کسی کو پتہ چلا؟

سوالات

۱۔ تفریق کے قاعدے سے دودھ میں سے مکھی نکالو ؟
۲۔ آدمی ضرب مسلسل کی تاب کہاں تک لا سکتا ہے ؟
۳۔ جو اندھے نہیں وہ بھی ریوڑیاں اپنوں ہی میں کیوں بانٹتے ہیں ؟
Advertisements

Leave a comment

Filed under ادبی ٹوٹے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s