میرے کالج سے… عمران خان کے کالج تک

ھیلی کالج براے کامرس اور کیبل کالج

زندگی میں کئی واقعات ایسے رونما ہو جاتے ہیں جو کئی سال گذرنے کے بعد بھی لاشعور میں اپنی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں. اور کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے ک ہمارا سامنا ان واقعات سے کسی اور مقام پر ہو جاتا ہے. لوگ بدل جاتے ہیں زبان مختلف ہوتی ہے حتاکہ سب ماحول بدل جاتا ہے. لیکن وہ ماضی کا ایک حصہ دوبارہ سے دماغی بحث کا موضوع بن جاتا ہے. ہر انسان کی طرھ میرا بھی ماضی ہے جو ک اچھے برے خوشگوار اور بھیانک واقعات سے مل کر بنا ہے

. فروری کا مہینہ ہمیشہ سے میرے لئے اداس شاموں سے بھرا ہوا ہوتا ہے آج تک میں اس کی وجہ نہیں جان سکا. اس سال فروری کے اس مہینے میں میرا سامنا میرے ماضی کے اس حصے سے ہوا جو مجھے پنجاب یونیورسٹی کی یادوں میں لے گیا. پنجاب یونیورسٹی کے ہیلی کالج براے کامرس میں گزرا وقت مارے یادوں کا ایک بہت بڑا ممبا ہے.

یہ ٢٠٠٧ کے ان دنوں کی بات ہے جب ملک کا سیاسی ماحول بوہوت زیادہ گرم ہو چکا تھا وکلاتحریک زوروں پر تھی جس کی وجہ ملک پر صادر تازہ ترین ایمرجنسی تھی. محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف جیسے بڑھے سیاسی کھلارھیوں کی ملک میں واپسی نے یکایک سیاسی ماحول کو ایک تیزی دے دی تھی. ان تمام تر واقعات میں ایک اور نام سامنے آنے لگا تھا اور وہ نام تھا عمران خان. وہ عمران خان اور اسکی تحریک انصاف جو آج ہر سیاسی بحث کا موضوع ہے کہ جسے آج ایک بڑھی تعداد میں لوگ شک بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں. ووہی عمران خان ان دونوں وکلا تحریک کا سرگرم تھا. تحریک کس تارہا سیاست کی نظر ہی اور کس کس سیاست دان نے اس سے اپنے سیاسی سپر سٹور کو چمکایا یہ ایک لمبی اور طویل بحث ہے.

یہ اس دن کی بات ہے کہ جب عمران خان نے پنجاب یونیورسٹی کے لاءکالج کا دورہ کرنا تھا اور وہا موجود قانون کے طالب علموں سے خطاب کرنا تھا. ہیلی کالج کہ جہاں کا میں طالب علم تھا لا کالج کا ہمسایہ ادارہ ہے. دونوں کالجوں ک درمیان کوئی با قایدہ دیوار نہیں بس کچھ جھاڑیاں ضرور ہیں. عمران خان کا دورہ اگلے دن اخباروں کی زینت بنا. نجی ٹی وی چینلز کی بندش کی وجہ سے کئی لوگوں کو خبر اگلے روز کی اخبار کی وجہ سے ملی مگر میں اس منظر کے عینی شاہدین میں سے تھا. کس طرح ایک مخصوص طلبہ تنظیم نے عمران خان کو زدوکوب کیا اور پولیس ک حوالے کر دیا. اس دیں کے بعد جمیعت طلبہ اسلام کے خلاف باقایدہ احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس ک نتیجے میں کئی نئی طلبہ تنظیمیں بننا شروع ہوئیں. اس واقعے کا ہی اثر تھا شاید کے انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے بنتے ہی طلبہ کی بڑھی تعداد نے اس میں شمولیت اختیار کی. اس ایک واقعے نے کسی طرح عمران خان کو ہیرو بنا دیا. ویسے بھی ہماری سیاست میں جیل جانا لیڈر کے لئے اشد ضروری ہے.

“کیبل کالج، آکسفورڈ”

اس ایک واقعے کی وجہ سے کئی واقعات نے جنم لیا اور آج بھی میری یادوں کا حصہ ہیں. تحریک انصاف کے لیے میرا سرگرم ہونا، انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے باقایدہ آغاز کے لئے عمران خان کے گھر ایک میٹنگ کے لیے جانا. عام انتخابات میں بیلٹ پیپر پر جلی حروف میں بائیکاٹ لکھنا. اور پھر یونیورسٹی کے بعد اچانک سیاسی سرگرمیاں سے دور ہو جانا. سسیاست پر اپنا غصہ بلاگ کی شکل میں نکلنا. اب جب بہت کچھ بدل گیا ہے میری سیاسی وابستگی ابھی بھی نہیں بدلی میں آج بھی تحریک انصاف کو ووٹ دینے والوں میں سے ہوں.
لیکن آج اچانک یہ سب واقعات کے یاد آنے کی اور ان کو تحریر کرنے کی وجہ کیا ہے آخر؟ اسکی وجہ وہ عمارت ہے کہ جہاں میں اس وقت بیٹھا ہوں.

کیبل کالج آکسفورڈ یونیورسٹی کا وہ کالج جہاں سے عمران خان نے اپنی تعلیم مکمل کی. میرا یہاں آنا پاکستان فیوچر لیڈرز کانفرنس کے سلسلے میں ہوا. میں یہاں پر کمیٹی براے تعلیم میں ایک نمائندے کی حیثیت سے شامل ہوں. کمیٹی کا اجلاس اسی کالج کے ایک حال میں ہو رہا ہے. ابھی جب خانے کا وقفہ چل رہا ہے میں اس درسگاہ میں چہل قدمی کر رہا ہوں. عمران خان کے کالج میں چلتے ہو یے مجھے اپنے کالج کے واقیات یاد آ رہے ہیں. میرے کالج سے لیکر عمران خان کے کالج تک کے سفر میں چار سال سے زیادہ کا عرصہ اپنے اندر کئی واقیات سمیٹے ہوے ہے. تب جس عمران خان کو تانگہ پارٹی کا لیڈر کہا جاتا تھا آج وہ ایک سونامی کا قاید کہلاتا ہے. وقت کبھی نہیں رکتا ہاں کچھ واقعات کو اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے.

“کیبل کلج کے دورے کی یادگار۔”

Advertisements

4 Comments

Filed under ہیلی کالج, پنجاب یونیورسٹی

4 responses to “میرے کالج سے… عمران خان کے کالج تک

  1. باقاعدہ لکھیں۔اچھی بات ہے بیچاری اردو بھی اپنی ہی زبان ہے 🙂
    عمران خان کی حمایت پر لکھنے کے لیے اب تیار ہو جائیں بہت سارے لوگ تیا پاینچہ کرنے آتے ہی ہوں گے 🙂

  2. amazing article -last picture is great as i bought one as well at PFLC . but ilike to heave me tea on it -p

  3. میں تو حاضری لگوانے آیا :ڈ

  4. […] میں اینٹی جمعیت بننے کا اور جلتی پر تیل کا کام عمران خان والے قصے نے کر […]

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s