Oxford Main aor Hum…

صبح چھ بجے شروع ہونے والا سفر اب دو بجے ختم ہونے والا تھا. جو بس ہم نے لندن سے پکڑھی تھی اب تنگ گلیوں سے گزرنے ک بعد اپنی منزل پر آ چکی تھی. بس سے بھر نکل کر سامان سمبھالا اور ساتھ آنے والوں کی خیر خبر دریافت کی، ایک نظر چاروں طرف دوڑائی- یہ آکسفورڈ شہر تھا. ٣٨ کالجوں پر مشتمل برطانیہ، بلکہ دنیا کی عظیم ترین درس گاہ، جہاں سے فارغ ال تحصیل لوگوں کی فہرست میں کی عالمی شخصیات بھی شامل ہیں. میرا یہاں آنا ایک کانفرنس کے سلسلے میں ہوا. پاکستان یوتھ لیڈرشپ کانفرنس، جسکا اہتمام
نیشنل یونین آف پاکستانی سٹوڈنٹ المنائی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی پاکستان سوسایٹی نے کیا تھا.  اس سے پہلے اس PYLC دو مرتبہ ہو چکی ہے. یہ دوسرا موقع ہے کہ آکسفورڈ اس کی میزبانی کی. اس کانفرس میں برطانیہ میں موجود مختلف   یونیورسٹیوں اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی لوگ، بلخصوص نوجوان، شامل ہوتے ہیں تاکہ پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے لئے یہ چند بہترین دماغ مل کر کچھ سوچ سکیں کوئی حل تجویز کر سکیں. شایدمیں بھی وہاں پر اسی لئے تھا کہ اسی بھنے میرا نام بھی اچھے دماغوں میں شامل ہو سکے.
اسی بس میں ھمارے ساتھ وہ ساتھ بھی موجود تھے جو پاکستان سے اس کانفرنس میں شرکت کے لئے اے تھے. یہاں سے ہماری پہلی منزل یوتھ  ہاسٹل تھی جہاں ہمارے قیام کا بندوبست کیا گیا تھا. ہاسٹل میں عجب پاکستانی منظر تھا. برطانیہ آنے کے بعد یہ پہلا تھا کہ میں نے اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی ایک ہے جگہ دکھے. خیر قصہ مختصر ایسے ہے ہو سکتا ہے کہ کمرے ک حصول کے لئے جو ہمیں مسلہ درپیش ہوا کیونکہ وو ایک علیحدہ مگر دلچسپ کہانی ہے. 
اپنے اپنے سامان کو ٹھکانے لگانے کے بعد اب ہم سب لوگ شہر کا ایک دورہ کرنے کے لئے نکلے. آکسفورڈ سےانجینرینگ  کی تعلیم حاصل کر رہے محمّد علی جاوید، اور طبیعات و فلسفہ کی طلبہ نورلہرہ نے ہمرے لئے رہنما کا کام سر انجام دیا. اس شہر کے بارے میں بہترین بات جو میں کہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ ایک یونیورسٹی ہے جس نے اپنے اندر ایک شہر آباد کر رکھا ہے. اس شہر میں ایک قلعہ بھی ہے جہاں جانے کا مجھے موقع نہ مل سکا. خیر پیدل ہے اس شہر کا دورہ کیا جس میں مختلف کالجوں سے ہمارا گزر ہوا. ہر کالج کا یہاں اپنا نظام ہے، تعلیم کے ساتھ ساتھ ہر کالج کسی نہ کسی وجہ سے مشور ہے. کوئی اپنے اندر بہنے والی جھیل کی وجہ سے، کوئی مالی فراخدلی کی وجہ سے، کوئی اپنے چاہنے والوں اور نفرت کرنے والوں کے مشترکہ گروپ کی وجہ سے مشہور ہے. یہاں ہر شہر کی طرح سٹی سنٹر بھی ہے جہاں پر ہر وہ دکان موجود ہے جو ام طور پر ہر برطانوی شہر میں پائی جاتی ہے.
شہر قدیم ہے اور کہیں کہیں اس میں جدت کی ملاوٹ نظر آتی ہے. جیسے کے اس میں پے جانے والے کلب جو یہاں کی “نائٹ لائف” کی علامت ہیں. کہیں پی دریا تھیمس کی کچھ آوارہ لہریں بھی اس شہر میں سے گزرتی دکھائی دیتی ہیں. اس شہر میں سے گزرنے والی زیادہ تر سڑکیں نسبتاً تنگ ہیں. اس شہر میں زیرزمین کتب کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے. جس تک رسائی کا ذریعہ بودلیان لائبرری ہے. کہتے ہیں کہ اسی ذخیرے کی وجہ سے یہاں زیرزمین ریلوے کا نظام نہیں بنایا جا سکا. اس لائبرری سے کتاب حاصل کرنے میں اکثر ایک دیں لگ جاتا ہے کیونکہ اگر وہ کتاب زیرزمین ہی تو عملے کو ڈھونڈ کے لانے کے لئے وکٹ درکار ہوتا ہے. اسی لائبرری کے ساتھ شیلدونیان تھیٹر موجود ہے جو کہ ١٦٦٤ میں قائم کیا گیا. اسی جگہ پر شکسپیر کے لکھی ہوی کھل پیش کیے جاتے تھے. اب یہاں پر طلبہ کی گریجویشن اور میٹریکولیشن کی تقریب اس تھیٹر میں ہوتی ہیں. اس شہر میں موجود اشمولین نامی ایک عجائب گھر موجود ہے جسے آرٹ کا سب سے قدیم عجائب گھر ہونے کا اعزاز حاصل ہے. ہمارا گزر ہے بس ہو سکا اس عظیم عمارت کے سامنے سے وقت کی کمی کی وجہ سے اندر سے اس عجائب گھر کو دیکھنے کا شرف حاصل نہ ہو سکا، یہی حال ہمارے ساتھ سائنس    عجائب گھر کی دفع ہوا، اس عمارت میں بھی نہ جا سکے اور نہ ہے اس کے دلان میں موجود ڈاینوسارس کے پاؤں کا نشان دیکھ پاۓ.
یہ پیدل سفر اکسفورڈ شہر کے ٹاؤن حال آکر ختم ہوا جہاں پر کانفرنس کا با قایدہ آغاز ہوا. 
٣ دن جو وہاں گزرے یادگار تھے لیکن کانفرنس کی وجہ سے شہر میں تفصیلاً آوارہ گردی نہ کرنے کی وجہ سے ایک تشنگی سی ہے جو شاید دوبارہ جانے سے ہے دور ہو سکے. ایک احساس مجھے وہاں کے تعلیمی ماحول کو دیکھ کر آیا، کہ کس وجہ سے آج مغرب ہم سے آگے ہے. جس زمانے میں ہمارے حکمران محلات کھڑے  کر رہے تھے یہاں کے دور اندیش لوگوں نے یہ یونیورسٹی کھڑی کردی جو آج بھی لوگوں میں علم اور آگاہی پیدا کر رہی ہے، اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کے جو چند ایک تعلیمی ادارے ہمارے پاس موجود ہیں ہم انکا ماحول ہیدرست نہیں کر پا رہے. شاید اسی لئے کے اسلام نے پہلا حکم پڑھنے کا دیا تھا اور ہم کس لیے اس حکم کو مانیں جبکہ کرنے اور بہت کچھ ہے ہمارے لئے.  
P.S> this piece was written in February right after the journey for a newspaper, when after so long it couldn’t get the place in that paper it is here as it can not be stopped to appear here 😀
Advertisements

3 Comments

Filed under Thoughts, Travelogues, Views

3 responses to “Oxford Main aor Hum…

  1. I really liked it! Good job!

  2. Pingback: آکسفورڈ گردی – حصہ اول | رائے نامہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s