3 pieces by 3 poets


Ibn e Insha

جوگ بجوگ کی باتیں جُھوٹی، سب جی کا بہلانا ہو

پھر بھی ہم سے جاتے جاتے ایک غزل سن جانا ہو

ساری دنیا عقل کی بیَری، کون یہاں پر سیانا ہو
ناحق نام دھریں سب ہم کو، دیوانا دیوانا ہو
نگری نگری لاکھوں دوارے، ہر دوارے پر لاکھ سخی
لیکن جب ہم بھول چکے ہیں، دامن کا پھیلانا ہو
سات سمندر پار کی گوری، کھیل ذرا کرتار کے دیکھ
ہم کو تو اس شہر میں ملنا، اُس کو تھا ملوانا ہو
تیرے یہ کیا جی میں آئی، کھینچ لیے شرما کے ہونٹ
ہم کو زہر پلانے والی، امرت بھی پلوانا ہو
ساون بیتا، بھادوں بیتا، اجڑے اجڑے من کے کھیت
کوئل اب تو کوک اٹھانا، میگھا مینہہ برسانا ہو
ایک ہی صورت، ایک ہی چہرہ، بستی، پربت، جنگل، پینٹھ
اور کسی کے اب کیا ہونگے، چھوڑ ہمیں بھٹکانا ہو
ہم بھی جُھوٹے، تم بھی جُھوٹے، ایک اسی کا سچّا نام
جس سے دیپک جلنا سیکھا، پروانا جل جانا ہو
سیدھے من کو آن دبوچیں، میٹھی باتیں، سُندَر بول
میر، نظیر، کیبر اور انشا، سارا ایک گھرانا ہو

————



Ahmed Faraz

اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا

اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا

اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا
اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا

اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی

اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی

اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں

اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں

اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا

اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا

اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا

اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا

ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں

یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں

اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں

اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں

ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں

ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں

ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں

یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں

یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے

یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے

اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں

کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں

آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے

اس جشن میں میں بھی شامل ہوں نوحوں سے بھرا کشکول لیے

————————–



Amjad Islam Amjad


کرو، جو بات کرنی ہے

اگر اس آس پہ بیٹھے، کہ دنیا

بس تمہیں سننے کی خاطر
گوش بر آواز ہو کر بیٹھ جائے گی
تو ایسا ہو نہیں سکتا
زمانہ، ایک لوگوں سے بھرا فٹ پاتھ ہے جس پر
کسی کو ایک لمحے کے لئے رُکنا نہیں ملتا
بٹھاؤ لاکھ تُم پہرے
تماشا گاہِ عالم سے گزرتی جائے گی خلقت
بِنا دیکھے، بِنا ٹھہرے
جِسے تُم وقت کہتے ہو
دھندلکا سا کوئی جیسے زمیں سے آسماں تک ہے
یہ کوئی خواب ہے جیسے
نہیں معلوم کچھ اس خواب کی مہلت کہاں تک ہے
کرو، جو بات کرنی ہے


Advertisements

Leave a comment

Filed under Urdu Poetry

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s