لوڈشیڈنگ کی آڑ میں سماجی‘ اقتصادی اور ثقافتی افراتفری کیوں؟

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار پھر سیاسی حکومت کا ڈانواں ڈول ہوتا ہوا تختہ قومی توانائی کانفرنس کے ذریعے سے متوازن کر دیا ہے‘ لیکن پنجاب میں لوڈشیڈنگ کی آڑ میں سماجی‘ اقتصادی اور ثقافتی افراتفری پیدا کر کے عوام کا جینا محال کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کی تجویز کے مطابق پنجاب حکومت نے ہفتے میں دو سرکاری چھٹیوں کا اعلان کر دیا۔ شاپنگ سینٹرز رات آٹھ بجے بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔ سینما اور تھیٹر بھی رات آٹھ بجے اور دیگر اقدام بھی کئے گئے‘ لیکن لوڈشیڈنگ میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے‘ جبکہ اصولاً اتنی محنت کرنے کے بعد کچھ تو فرق پڑنا چاہئے تھا‘ لیکن صرف عوام کو بیروزگار اور پریشان کرنے کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی ذمہ دار وفاقی اور پنجاب حکومت دونوں ہیں۔
وفاقی توانائی کانفرنس میں کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی‘ جو اس امر کا جائزہ لے کر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرتی کہ گزشتہ حکومت کے دور میں چوبیس گھنٹے بجلی کیسے ملتی تھی‘ جبکہ اس وقت شرح نمو سوا سات فیصد تھی‘ جو اس وقت صرف دو فیصد رہ گئی ہے۔ یعنی عام لفظوں میں ستر فیصد کارخانے بند ہیں اور بجلی استعمال نہیں کر رہے۔ پھر اس امر کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے کہ چشمہ کے ایٹمی بجلی گھر کی ایمرجنسی مینٹیننس یعنی ان دنوں میں کیوں رکھی جاتی ہے‘ جب بجلی کا بحران اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ ایٹمی بجلی گھر کیلئے تو ہمارے پاس ایندھن پر ہوتا ہے۔ اس بات کی تحقیق ضرور ہونی چاہئے کہ ایمرجنسی منٹیننس کیلئے اسے بند کرنے کا حکم کسی نے کیوں دیا؟
پنجاب حکومت سے امید تھی کہ دانشمندی کا مظاہرہ کر کے لوڈشیڈنگ بھی کم کرے گی اور معمولات زندگی بھی متاثر نہیں ہونے دے گی‘ لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی بدقسمتی کہ اسے جو ٹیم ملی وہ کسی اور سے ملی ہوئی ہے یا پھر اس کے پاس وژن نہیں ہے۔ ایک معمولی مثال لیجئے سرکاری دفاتر میں صبح نو سے تین بجے تک آٹھ گھنٹے کام ہوتا تھا اور گیارہ بجے سے پہلے اے سی چلانے کی اجازت نہیں تھی‘ جس کی وجہ سے بجلی کی کچھ نہ کچھ بچت ہوتی تھی‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اے سی چیک کئے جائیں تو انکشاف ہو گا کہ ساتھ فیصد ونڈو اے سی صرف بجلی ضائع کر رہے ہیں۔ پنجاب میں بھی دو دن کی چھٹی کی آڑ میں سرکاری ملازمین کے ہفتہ وار اوقات میں دو گھنٹے کا اضافہ کر دیا گیا۔ (چھ دنوں کے اوقات کار کے لحاظ سے) اب دفاتر صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک کھلتے ہیں‘ جس کی وجہ سے اے سی چلانے کے اوقات اور بجلی کے استعمالکی مدت میں اضافہ کر دیا گیا اور کوئی دفتر بھی چار بجے اے سی بند نہیں کرتا جس کی وجہ سے لاہور کی سماجی‘ اقتصادی اور ثقافتی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ دفاتر کے اوقات 8 سے ایک بجے کر کے بجلی کی بہت بڑی بچت کی جا سکتی ہے
Taken from Nawa e Waqat
Advertisements

Leave a comment

Filed under Uncategorized

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s