فوٹو سیشن کی شادمانی اور عذاب کہانی

خیر سگالی کا اظہار تو ایک دوسرے کے ساتھ بہت ہو رہا ہے۔ فوٹو سیشن میں بھی پنجاب اور سندھ کے وزراءاعلیٰ بہت خوش و خرم دکھائی دیتے ہیں‘ ایک دوسرے کی مخالف پارٹیوں کے وزراءاعلیٰ ہونے کے باوجود آپس میں گھلے ملے اور شیر و شکر نظر آتے ہیں۔ باتیں بھی ڈھیر ساری عوام کی ہمدردی کی کرتے ہیں مگر حیرت ہے کہ اس اتحاد و اتفاق میں بھی مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ہے کہ کم ہونے میں ہی نہیں آ رہا۔ اذیت ہے کہ عوام کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی اور بے چینی ہے کہ جان کو روگ کی طرح چمٹ گئی ہے۔
چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے طے پانے والے این ایف سی ایوارڈ پر دستخطوں کی تقریب میں چاروں وزراءاعلیٰ‘ وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ایک دوسرے کے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے ملک‘ قوم اور عوام کے لئے خوشی خوشحالی کا پیغام دیتے نظر آ رہے تھے۔ ایسے دکھائی دے رہا تھا کہ اب سسٹم کی گاڑی صحیح ٹریک پر چل پڑی ہے۔ اصل مسئلے کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور اب عام آدمی کے دن پھرنے کے دن آ گئے ہیں۔ پھر انرجی کرائسس پر یہ سارے بڑے پھر ایک میز پر بیٹھے‘ تین روز تک سر پھٹول کرتے رہے اور فوٹو سیشن میں پھر عوام کے لئے خوشی خوشحالی کا پیغام دیتے نظر آئے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا حل عوام سے چاہے جیسے بھی ہو‘ بجلی کی بچت کرانے کا نکالا گیا۔ اس کے بعد اب تک مارا ماری جاری ہے مگر لوڈشیڈنگ بڑھی ضرور‘ ختم ہوئی نہ عوام کی اذیت میں کمی ہوئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بجلی کی بچت کے راستے سجھانے کے بعد دبئی سے ہوتے ہوئے لندن چلے گئے۔ چند روز کے لئے لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام کی چیخ و پکار سے محفوظ ہو گئے مگر واپس آئے تو طوفان ویسے کا ویسا پایا۔ اضطراب میں اضافہ ہوتا ہی دیکھا گویا الٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘ کچھ نہ دوا نے کام کیا۔
بھئی۔ اگر مستقل اور اصل علاج کی طرف توجہ دیں گے تو جان کنی میں مبتلا مریض کو کوئی افاقہ ہو گا۔ آپ کے محض فوٹو سیشن والے اتحاد و اتفاق سے تو آئی بلا کو نہیں ٹالا جا سکتا۔ آپ زخموں پر پھاہے رکھنے کی بس بات ہی کرتے رہیں گے اور گتھی کو سلجھانے کے لئے سرا ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کریں گے تو یہ گتھی تو اور بھی الجھ جائے گی
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
اگر کسی ایکسرسائز سے کوئی نتیجہ ہی برآمد نہیں ہونا تو اسے جاری رکھنے سے حاصل؟ آپ ایک بار طے کرکے وہ راہ کیوں اختیار نہیں کر لیتے جو مسائل کے دلدل سے نکالنے والی ہو۔
اب میاں شہباز شریف لندن سے کچھ مشورے لے کر پھر سے انرجی کانفرنس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لندن سے لاہور واپس پہنچے تو لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام کی ہاہا کار سن کر ”لک سیدھا“ کئے بغیر ہی کراچی روانہ ہو گئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے ساتھ فوٹو سیشن میں پھر عوام کے لئے اچھے مستقبل اور خوشی خوشحالی کا پیغام دیتے نظر آئے۔ ڈیڑھ ہفتہ قبل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طلب کردہ انرجی کانفرنس میں یہی وزراء اعلیٰ اپنے ہم منصب دیگر صوبوں کے وزراءاعلیٰ کے ساتھ طویل نشستوں میں مصروف تھے‘ سوچ بچار کر رہے تھے اور پھر ان طویل نشستوں اور گہری سوچ بچار کا نتیجہ ہفتے میں دو چھٹیوں‘ مارکیٹیں رات آٹھ بجے بند کرنے اور شادی کی تقریبات کو تین گھنٹے تک محدود کرنے کی صورت میں برآمد ہوا مگر اس فیصلے کا نتیجہ عوامی اذیت میں مزید اضافے کے سوا کچھ برآمد نہ ہوا۔
اب پنجاب اور سندھ کے وزراءاعلیٰ کو احساس ہوا ہے کہ ہم تو اپنی سطح پر باہم مل کر بھی اپنے اپنے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متبادل نظام سے کم از کم اگلے بیس سال تک اپنی ضرورت کی بجلی حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ذہن میں آئیڈیا آیا جو بالکل درست آئیڈیا ہے کہ سندھ اور پنجاب کی تمام شوگر ملوں کا فضلہ اکٹھا کرکے اس سے کم و بیش ساڑھے تین ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بھی اپنی جانب سے ایک درست سمت نظر آئی کہ سندھ میں موجود تھرکول کے قدرتی وسائل کا صرف دو فیصد استعمال کرکے پورے ملک کی 20 سال تک بجلی کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔ پھر ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ آپ دونوں اتنے سمجھدار ہیں اور بجلی کی قلت کے سنگین مسئلہ کا اصل حل بھی آپ کے پاس موجود ہے۔ قدرت نے آپ کو وسائل سے بھی مالامال کر رکھا ہے۔ پھر کیا آپ بس باتیں ہی کرتے رہیں گے۔ دردمندی اور فکرمندی کا اظہار ہی جاری رکھیں گے اور کوئی عملی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ آپ کو تو یہی تجاویز وزیراعظم کی طلب کردہ انرجی کانفرنس میں بھی پیش کرنی چاہئیں تھیں اور عوام سے بجلی کی جبراً بچت کرانے کی بجائے بجلی پیدا کرنے کا فیصلہ کرانا چاہئے تھا۔
اور حضور‘ اب تو پیپلز پارٹی والوں کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کی واحد تدبیر کالاباغ ڈیم کی تعمیر ہے۔ وزیر دفاع احمد مختار کو اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف کچھ بیرونی قوتیں کارفرما نظر آئی ہیں تو آپ سب (یعنی تمام وزراءاعلیٰ) وزیراعظم کے ساتھ ایک میز پر اکٹھے بیٹھ کر پھر سر پھٹول کریں اور کالاباغ ڈیم پر آپس میں اتفاق رائے قائم کرکے نادیدہ بیرونی قوتوں کو شکست دے دیں۔ لیکن اب تو خادم پنجاب نے اس حوالے سے چاروں صوبوں کی پخ لگا کر ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ پھر کالاباغ ڈیم کیوں بنے گا اور پاکستان کے‘ پنجاب کے مسائل کیوں حل ہوں گے۔ شوگر ملوں میں اس وقت کرشنگ سیزن چل رہا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی تمام شوگر ملوں کا فضلہ اکٹھا کیا جائے اور دستیاب ٹیکنالوجی کی مدد سے اسے تھرمل بجلی پیدا کرنے کے لئے بروئے کار لایا جائے اور پھر سندھ میں تھرکول کے ذخائر تو ہمہ وقت دستیاب ہیں۔ ان سے بجلی پیدا کرنے کے لئے جس بھی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے‘ وہ حاصل کی جائے اور بسم اللہ کر دی جائے۔ مگر حضور اب صرف فوٹو سیشن تک نہ رہئے فوٹو سیشن میں آپ کے چہروں پر رونقیں دیکھ کر عوام کے سوکھے پپڑیوں جمے چہروں پر بھی رونق نظر آنی چاہئے۔ ان کی متلاشی‘ منتظر نگاہوں میں بھی مسائل سے بے نیاز سہانے مستقبل کے کسی خواب کی جوت جاگنی چاہئے۔ وقت اب بہت محدود ہے اور تیزی سے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ کچھ کر لیں گے تو فائدے میں رہیں گے ورنہ ”یہ زندگی کا سفر رائیگاں تو ہے
Taken from Nawa e Waqat.“
Advertisements

Leave a comment

Filed under Uncategorized

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s