فوجی حکمت سے پتنگ بازی کا جنم

تاریخِ عالم میں پتنگ اڑانے کا اولّین تحریری حوالہ سن 200 قبل مسیح میں ملتا ہے جب چین میں سپہ سالار ہان سینگ نے دشمن کے ایک شہر کے باہر پڑاؤ ڈال رکھا تھا لیکن وہ براہِ راست حملے کا خطرہ مول لینے کی بجائے ایک سرنگ کھود کر شہر میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کتنی لمبی سرنگ کھودنی پڑے گی؟

اپنے پڑاؤ کے مقام سے شہر کی فصیل تک کا فاصلہ ناپنے کے لئے چینی سپہ سالار نے ایک پتنگ اڑائی اور ڈور کو ناپ کر فاصلہ معلوم کر لیا۔

چین سے پتنگ سازی کا یہ فن کوریا پہنچا۔ وہاں بھی ایک جرنیل کی کہانی ملتی ہے جسکی فوج نے آسمان پر ایک تارا ٹوٹتے دیکھا اور اسے برا شگون سمجھ کر میدانِ جنگ سے منہ موڑ لیا۔

جرنیل نے اپنی فوج کا وہم دور کرنے کے لئے سپاہیوں کو بہت سمجھایا بجھایا لیکن وہ مان کے نہ دئیے۔

آخر جرنیل نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے ایک بڑی سی سیاہ پتنگ تیار کی اور اسکی دم سے ایک شعلہ باندھ کر رات کے اندھیرے میں اسے اڑایا تو فوج کو یقین آگیا کہ آسمان سے جو تارا ٹوٹا تھا وہ واپس آسمان کی طرف لوٹ گیا ہے، اور اسطرح محض ایک پتنگ کے زور پر جرنیل نے اپنی فوج کا حوصلہ اتنا بلند کر دیا کہ وہ لڑائی جیت گئی۔

فوج کے بعد یہ کارگر نسخہ بودھ راہبوں کے ہاتھ لگا جو بدروحوں کو بھگانے کے لئے عرصہء دراز تک پتنگوں کا استعمال کرتے رہے۔

قرون وسطیٰ کی پتنگ بازی
قرون وسطیٰ کی پتنگ بازی

چین اور کوریا سے ہوتا ہوا جب پتنگ بازی کا یہ فن جاپان پہنچا تو عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ وہ دن رات اسی میں مشغول نظر آنے لگے۔

چنانچہ اُس زمانے میں جاپان میںایک سخت قانون نافذ ہوگیا جس کے تحت صرف شاہی خاندان کے افراد، اعٰلی سِول اور فوجی افسران اور چند مراعات یافتہ معزز شہریوں کو پتنگ اڑانے کی اجازت دی گئی ۔

مشرقِ بعید سے پتنگ بازی کا مشغلہ کب اور کسطرح ہندوستان پہنچا، اس بارے میں تاریخ کوئی واضح اشارہ نہیں دیتی البتہ اس ملک میں پتنگ بازی کی اولّین دستاویزی شہادتیں مغل دور کی مصوری میں دکھائی دیتی ہیں۔

سولھویں صدی کی ان تصویروں میں اکثر یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے کہ عاشقِ زار اپنے دل کا احوال کاغذ پر لکھ کر ایک پتنگ سے باندھتا ہے ، پھر یہ پتنگ ہوا کے دوش پر سوار ہوکر کوچہء محبوب کی فضاؤں میں پہنچتی ہے اور معشوقہء دلنواز کی چھت پر منڈلانے لگتی ہے۔

اہلِ یورپ نے پتنگوں کا احوال پہلی مرتبہ تیرھویں صدی میں مارکو پولو کے سفر ناموں میں پڑھا۔ اس کے بعد سترھویں صدی میں جاپان سے لوٹنے والے یورپی سیاحوں نے بھی پتنگ بازی کے رنگین قِصے بیان کئے۔

ایشا کے برعکس یورپ اور امریکہ میں بیسویں صدی کے آغاز تک پتنگوں کا استعمال تفریح کی بجائے موسمیاتی تحقیق اور جنگی جاسوسی کے لئے ہوتا رہا البتہ پچھلے بیس پچیس برس کے دوران مغربی ملکوں میں اسے تفریح کے طور پر بھی اپنایا گیا ہے اور امریکہ میں تو اب پتنگ بازوں کی ایک قومی انجمن بھی بن چکی ہے۔

لیکن گزشتہ ربع صدی کے دوران جس ملک میں یہ تفریح ایک صنعت کی شکل اختیار کر گئی ہے وہ ہے پاکستان ۔

پاکستانی پنجاب میں اس وقت لاکھوں افراد کا روزگار “گُڈی کاغذ” بانس‘ دھاگے اور مانجھے سے وابستہ ہے اور لاہور شہر اس وقت دنیا بھر میں بسنت کی تقریبات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

ابھی کل کی بات ہے کہ معززینِ لاہور پتنگ بازی کو گلی محلے کے آوارہ گردوں کا شغلِ بیکاری کہہ کر مسترد کر دیا کرتے تھے لیکن پھر وہ وقت بھی آیا کہ محلّے کی تاریکی سے نکل کر یہ کھیل محل کی نورانی چھت تک جا پہنچا۔

لاہور کی ” نائٹ بسنت ” ایک عجوبہء روزگار چیز بن چکی ہے جب سرچ لائٹوں کی روشنی میں شہر کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا ہے۔ اس منظر کو دیکھنے کے لئے بیرونی ملکوں سے اتنی تعداد میں لوگ لاہور آتے ہیں کہ پنجتارے ہوٹلوں میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔

گلی محلّے کے کھیل کو عمائدین میں اتنی پذیرائی کیسے مل گئی؟

اسکا جواب شاید ملک کی حالیہ تاریخ میں مل سکتا ہے۔

بھٹو دور کے خاتمے پر‘ سن اسّی کی دہائی میں ادب‘ آرٹ‘ کلچر اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد ہو چکی تھیں۔ فلم اور تھیٹر بھی سخت ترین سینسر کی زد میں تھے۔

گھٹن کے اس ماحول میں تفریح کی فطری خواہش اتنی شدید تھی کہ پتنگ بازی

کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور یوں گلیوں کی یہ بھکارن محلوں کی رانی بن گئی۔

Advertisements

Leave a comment

Filed under History

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s