Dowry and Innovation

76c98690-0c82-11e6-96c0-67356a4ec227

Picture Courtesy: hindustantimes.com

Continue reading

Leave a comment

Filed under Advertising, Marketing, Reviews, فلسفہ بازی, سوچ بچار

#AzlanKaReview – Ishq Postive, It’s not that negative

Ishq Positive - Film Review

Continue reading

Leave a comment

Filed under Films Songs Drama Reviews, Movies, Uncategorized

دیس کی سچائی اس کی برائی میں نہیں ہے!

hqdefault.jpg

Continue reading

Leave a comment

April 29, 2016 · 3:09 pm

4 Must Watch TED Talks for Every Marketer

TED-Talks.jpg

Continue reading

Leave a comment

Filed under TED Talks

Azlan Ka Review – Bachaana #BachaanaTheFilm

 

ICN 3.jpg

Continue reading

Leave a comment

Filed under Films Songs Drama Reviews, Reviews

Let The Poster Boy Have Another Chance #BringAmirBack

138729.jpg

Picture Courtesy: AFP

Continue reading

Leave a comment

Filed under Cricket, Uncategorized

کراچی میں اسکول آف ٹوماری کے نام سے پاکستان کے اولین بین الاقوامی تعلیمی و ثقافتی فیسٹیول کا شاندار آغاز

کراچی میں اسکول آف ٹومارو کے نام سے بین الاقوامی تعلیمی و ثقافتی فیسٹیول کا  شاندار آغاز بیچ لگژری ہوٹل میں ہوا۔ بیکن  ہاؤسگروپ کی جانب سے منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول پاکستان   میں اپنی نوعیت کا یکتا  فیسٹیول ہے کہ جس میں پاکستان اور دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرین مستقبل میں اسکول اور تعلیمی کیسی ہو گی کے ساتھ موجودہ دور میں تعلیم و تدریس کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے بحث مباحثہ کررہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ فیسٹول ایک عوامی ایونٹ ہے ۔
فیسٹیول کا آغازمحترمہ نسرین قصوری چیئر پرسن بیکن ہاؤس اور جناب قاسم قصوری چیف ایکزیکٹیو بیکن ہاؤس کے  خطاب سے ہوا جس کے بعد  عوامی سیشن کا آغاز ہوا۔ فیسٹیول میں ایک وقت میں چار سیشنز جاری ہیں جن میں آرٹ  و کلچر، میڈیا و ٹیکنالوجی، ماحول، اسکول و سماج، عالمی سیاست و سلامتی کے تعلیم  پر اثرات، اور نجی و پبلک تعلیمی اداروں کی شراکت داری پر 
بات کی گئی۔

کانفرنس سے خطاب  کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز ہودبوئے کا کہنا تھا کہ ہر بچہ سائینسدان ہوتا ہے کیونکہ جستجو  ہر بچے میں ہوتی ہے۔ بیکن ہاؤس  کے اکیڈیمک ڈائریکٹر ڈاکٹر برگ کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں جستجو کا طریقہ کا یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔  ڈاکٹر عشرت حسین نے تعلیم اور امن کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسکول کو محفوظ بنانے کے لئے جو کچھ کر رہے ہیں اس عمل میں ہم نے یہ بات بالکل فراموش کی ہوئی ہے کہ اس کا بچوں کی نفسیات پر کیا اثر ہوتا ہے۔  دور مصائب میں تعلیم کے موضوع پر بات کرتے ہوئے  معروف ٹی وی اینکر سدرہ اقبال کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں ہتھیار جنگ کے لئے نہیں بلکہ جنگیں ہتھیاروں کے لئے تیار کی جاتی ہیں۔
سبل مفتی  کا روبوٹکس کی ورکشاپ  پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی آج کل کی اہم ضرورت ہے اور اس ساے کار نہیں کیا جا سکتا۔ بدر خوشنود جو کہ تیرہ سال سے کم عمر بچوں کو فیس بک استعمال کرنا چاہیئے یا نہیں  پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم اگر چند  احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے  ہوئے ہم اپنے بچوں کو آن لائن محفوظ بنا سکتے ہیں۔
محترمہ روحی حق کا کہنا تھا کہ کہانی سننا زبان سیکھنے  کا بہترین زریعہ ہیں چونکہ یہ دلچسپ ہوتی ہیں لہذا ان کی مدد سے بچوں کو کافی کچھ سکھایا   اور سمجھایا جا سکتا ہے۔ سینئر صحافی عامر احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تجسس اور جستجو ہی  آپ کو جغرافیہ ااور تاریخ کا اچھا طالب علم بنا سکتے ہیں اور تہذیب ثقافت کسی بھی قوم کا طرہ امتیاز ہے۔
سندھ کے وزیر تعلیم  نثار کھوڑو بھی کانفرنس میں شریک تھے اور پرائیویٹ اسکولوں کی پاکستان میں  تعلیم کے حوالے سے ان کی خدمات پر بات کرتے ہوئے  انہوں نے کہا ، کہ پرائیویٹ اسکول  اس ملک میں معیاری تعلیم کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہیں اور یہ وقت کی ضرورت ہے کہ سرکاری اسکولوں کی تعلیم کو بہتربنانے کے لئے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں  کی شراکت داری کو عمل میں لا کر تعلیم کے کل معیار کو بہتر کیا جا سکے۔
فیسٹیول پر خطاب کرنے والے دیگر مقررین میں محترمہ لیلہ قصوری، مشہور ماہر ماحولیات افضل چوہدری،  ڈاکٹر راجر شینک،  ڈاکٹر ڈیوڈ کول،  معروف فنکار راشد رانا، ممبر قومی اسمبلی نفیسہ شاہ معروف سیاستدان و ٹی وی اینکر فواد چوہدری، انسانی حقوق کی اکٹوسٹ طاہرہ عبداللہ،     معروف ٹی وی اینکر شہزیب خانزادہ، اور بھارت کے معروف مزاحیہ فنکار سنجے راجورا، معروف اداکار عمیر رانا، اور نادیہ جمیل شامل تھے  جنہوں نے آنے والے دور میں تعلیم کی صورت حال پر دلچسپ گفتگو کی۔ کافرنس کے دوران ماروی مظہر نے ہیریٹیج اویرنس پروگرام کی ورکشاپ منعقد کی اور فل اسٹیم کے نام سے ایک نمائش بھی منعقد کی گئی کہ جس میں سائینس، ٹیکنالوجی، میڈیا اور ارٹ سے متعلق اشیا ء کی نمائش کی گئی۔  
فیسٹیول میں کانفرنس کے ساتھ ساتھ بچوں اور فیملیز کے کے دلچسپ  ، بھرپور، اور توجہ طلب ایکٹیویٹیز اور نمائش بھی شامل تھی جس کو کراچی کے شہریوں کی جانب سے شاندار  رسپانس ملا   فیسٹیول میں کراچی بھر سے  اڑھائی لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی  ۔ یہ فیسٹیول اتوار کے روز بھی جاری رہے گا۔ 

Leave a comment

Filed under http://schemas.google.com/blogger/2008/kind#post, اسکول آف ٹومارو، #SOT2015